محسود تحفظ موومنٹ کے قائد منظور پشتون کو وزیر اعظم بنایا جائے. اجمل ملک

400
0

mehssod-tahaffuz-movement-manzoor-pashtoor-wazeer-e-azam-malik-ajmal-jambhooriat-imran-khan-pervaiz

طاقتور راؤ انوار کو کنارے لگانے میں محسود قوم کا کردار

طالبان اور فوج کے درمیان چکی دو پاٹوں میں پسنی والی محسوداور پختون قوم نے نقیب اللہ کے بارے میں شروع سے احتجاج نہ کیا اسلئے کہ اس کی بے گناہی کا پتہ نہ تھا۔ پختون کی بڑی خوبی یہی ہے کہ محسود(پختون) تحفظ موومنٹ کی ابتداء اس بات سے کی کہ کسی گناہگار کو کسی طرح بھی تحفظ نہیں دینگے لیکن بے گناہ نقیب اللہ محسود کیلئے جب وہ اُٹھ گئے تو کراچی پولیس و ریاست اور حکومتی سیاسی جماعت کے سب سے بڑے ڈان کو کنارے لگادیا۔ اگر محسود قوم گناہگاروں کو تحفظ دینے میں اپنی صلاحیت ضائع کر دیتی تو نقیب کی شہادت پر بھی کوئی خاطر خواہ کامیابی نہیں مل سکتی تھی۔
صلح حدیبیہ میں جھوٹی افواہ آئی تو رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرامؓ سے حضرت عثمانؓ کی شہادت کا بدلہ لینے کی بیعت لی، یہ بیعت رضوان صحابہؓ سے اللہ کے راضی ہونے کا تمغہ تھا۔ پھر نبیﷺ نے صلح حدیبیہ کا معاہدہ کیا، جب مشرکین نے معاہدہ توڑ ا تو پھر اس معاہدے کو قائم رکھنے کی کوشش بھی کرلی مگر نبیﷺ نے دوبارہ اس معاہدے کو قائم رکھنے کا کوئی وعدہ نہیں فرمایا اور پھر مکہ فتح ہوا۔
امریکہ نے جنگ مسلط کی توافغانستان وپاکستان کی عوام ، پختون قوم، خاص طور پر قبائل نے قربانی دی ، بدلے میں عزت ملتی مگر اچھے نتائج تو درکنار اُلٹا بدترین ذلت سے بھی دوچار ہونا پڑا۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا: و لنبلونکم بشئی من الخوف والجوع والنقص من الاموال والانفس والثمرات فبشر الصٰبرین’’اور ہم تمہیں آزمائیں گے، کچھ خوف سے، کچھ بھوک سے، کچھ اموال کی کمی سے اور جانوں کی کمی سے اور نتائج برآمد ہونے سے ،پس خوشخبری ہے صبر کرنے والوں کو‘‘۔ قبائل، پختون اور خاص طور پر محسود قوم کو جن آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا، اس کی تاریخ میں مشکل سے کوئی مثال ملے گی۔ لیکن جس صبر وتحمل سے محسود قوم نے وہ تمام مصائب برداشت کرلئے، خندہ پیشانی سے حالات گزار لئے، شکوہ نہ شکایت، کوئی بغاوت نہیں کی، کوئی اونچے بول نہیں بولے، ملک وقوم سے کوئی غداری نہیں کی، کبھی پیشانی پر بل نہیں آیا۔ قربانیوں کے نتیجے میں قوموں کو امام بنایاجاتاہے، یہی بشارت مشکلات کے بعد قوموں کو صبر میں ملتی ہے۔ آیت کو غور سے دیکھا جائے اور پھر محسود قوم کی قربانی کو ملاحظہ کیا جائے۔ علماء نے آیت کے ایک لفظ کا ترجمہ غلط کیا ۔ ثمرات سے مراد میوے نہیں، میوے اموال میں شامل ہیں بلکہ ثمرات اردو میں بھی اسی طرح سے استعمال ہوتا ہے، کسی اچھے عمل کا نتیجہ بظاہراچھا نہ ملے تو یہ ثمرات کا امتحان ہے۔اللہ نے فرمایا: ونرید ان نمن علی الذین استضعفوا فی الارض ان نجعلھم ائمۃ وان نجعلھم الوارثین’’اور ہمارا ارادہ ہے کہ جن لوگوں کو زمین میں کمزور بنایاجارہاہے کہ ان کو امام بنائیں اور ان کو زمین کا وارث بنائیں‘‘۔علامہ اقبالؒ نے محسود اور وزیر کا ضرب کلیم میں ’’ محراب گل افغان‘‘ کے عنوان سے ذکر کیاہے، آزمائش کے بعد یہ امامت کے قابل ماشاء اللہ بن گئے۔
دینا پڑے کچھ ہی ہرجانہ سچ ہی لکھتے جانا
مت گھبرانا مت ڈر جانا سچ ہی لکھتے جانا
باطل کی منہ زور ہوا سے جو نہ کبھی بجھ پائیں
وہ شمعیں روشن کرجانا سچ ہی لکھتے جانا
پل دو پل کے عیش کی خاطر کیا جینا کیا جھکنا
آخر سب کو ہے مرجانا سچ ہی لکھتے جانا
لوح جہاں پر نام تمہارا لکھا رہے گا یونہی
جالب سچ کا دم بھرجانا سچ ہی لکھتے جانا

منظور پشتون اور نوازشریف و عمران خان میں بڑا فرق

منظور پشتون کا تعلق محسود قبیلے کے غریب گھرانے سے ہے۔غریب کا درد غریب سمجھ سکتا ہے۔ پاکستان کی جمہورعوام غریب ہے۔قومی اسمبلی اور سینٹ میں ممبروں کا تعلق امیراقلیت سے ہے۔ ایوب آفریدی کو ٹکٹ اسلئے نہ دیا کہ تحریک انصاف کا کارکن تھا بلکہ اپنے ٹکٹ کی خاطر خواہ قیمت ادا کی ہوگی ۔ نظریہ نہیں دولت اور سیاسی لوٹوں کی ہیرا پھیری سے ایوان چلتے ہیں اسلئے قوم کی تقدیر نہیں بدلتی۔ عمران خان اور ڈاکٹر طاہرالقادری نے پارلیمنٹ کا دروازہ توڑا، پی ٹی وی پر قبضہ کرلیا، پولیس افسر کی پٹائی لگادی، تھانہ سے ساتھی چھڑ لے گئے ، یہی نوازشریف نے بھی عدلیہ کیساتھ کیا۔ مولانا سمیع الحق کو سینٹ کا ٹکٹ دینے سے مکر گیا تو حکومت کے فنڈز سے مزید27کروڑ روپے مدرسہ کو دیدئیے۔ یہ سینٹ کی سیٹ کی قیمت بڑھ جانے کے بعد سرکار کے فنڈز سے جرمانہ تھا۔
پارلیمنٹ میں گھوڑوں کے خریدو فروخت کی اصطلاح بالکل عام ہے۔ جمہوریت کے علمبردار گھوڑے تو ڈکٹیٹر شپ کی پیداوار گدھے ہیں۔ گھوڑے اور گدھوں کے ملاپ سے خچر بنتے ہیں۔ جس رہنما کی بنیاد جمہوریت ہو اور ڈکٹیٹر شپ کے ملاپ سے تنزلی ہوجائے تو وہ خچر ہے اور اگر اس کی ابتداء ڈکٹیٹر شپ سے ہو اور پھر ترقی کی منزل طے کرکے اس کا ملاپ گھوڑے سے ہو تب بھی وہ خچر بنتا ہے۔ نوازشریف اور عمران خان دونوں کا تعلق درمیانے درجے سے ہے۔ جنرل ضیاء الحق کی پیداوار کون تھا ؟۔ اور جنرل پرویزمشرف کے ریفرینڈم کا حامی کون تھا؟۔
خچر کی حیثیت انسانوں میں تیسری جنس کھدڑے کی ہوتی ہے۔ کھدڑی قیادت کا تجربہ ہوگیا۔ نوازشریف کو معلوم ہے کہ منظور پشتون اور اس کی قوم نے برسوں سے کن مشکلات کا سامنا کیا ہے؟ لیکن زبان سے کسی نے اُف تک بھی سنا ہے۔ نوازشریف کو اتنی سزا ہوئی ہوگی کہ جتنا کھدڑے کو ختنہ کرنے سے ہوتی ہوگی لیکن شور مچاکر زمین وآسمان کی قلابیں ملادی ہیں۔ یہی حال عمران خان کا بھی ہوگا۔ اگر پاکستان بھر سے منظور پشتون کی طرح قوم کا درد رکھنے والے غرباء کو قومی اسمبلی میں منتخب کرکے بھیج دیا گیا تو پاکستان کی 70سالہ تاریخ بدلنے میں دیر نہیں لگے گی۔
پاکستان کے تمام قومی و صوبائی حلقوں سے باشعور نوجوانوں کی منظم تحریک سے ایک ایسی قیادت مہیا کرنی ہوگی کہ ریاست کے فوائد غریب، مظلوم اور بے بس عوام تک پہنچ سکیں۔ عوام، سیاسی پارٹیوں کے کارکنوں اور رہنماؤں کی اکثریت موجودہ سیاسی نظام اور خانوادوں سے بہت تنگ آچکے ہیں۔ کوئی متبادل کے بجائے وہی لوگ پارٹیاں بدل بدل کر پھر سیاسی اُفق پر نمودار ہوجاتے ہیں جس سے نجات کیلئے ایک ہی راستہ ہے کہ ہر جگہ منظور جیسے کوہی کامیاب کیا جائے۔
دنیا ہے کتنی ظالم ہنستی ہے دل دکھا کے
پھر بھی نہیں بجھائے ہم نے دئیے وفا کے
ہم نے سلوک یاراں دیکھا جو دشمنوں سا
بھر آیا دل ہمارا روئے ہیں منہ چھپا کے
کیونکر نہ ہم بٹھائیں پلکوں پہ ان غموں کو
شام و سحر یہی تو ملتے ہیں مسکرا کے
تا عمر اس ہنر سے اپنی نہ جان چھوٹی
کھاتے رہے ہیں پتھر ہم آئینہ دکھا کے
اس زلف خم بہ خم کا سر سے گیا نہ سودا
دنیا نے ہم کو دیکھا سو بار آزما کے
جالب ہوا قفس میں یہ راز آشکارا
اہل جنوں کے بھی تھے کیا حوصلے بلا کے

راؤ انوار بہانہ تھا مگر اصل نشانہ فوج کی کارگردگی ہی تھی

پاک فوج کے سپاہی بدلتے رہتے ہیں اور پاک فوج کی پالیسی بھی بدلتی رہی ہے۔ ایک وقت تھا کہ ریاست کی پالیسی یہ تھی کہ طالبان کو بہت رعایت دے رکھی تھی اور پھر سخت آپریش بھی ہوجاتا تھا۔ عوام کی سمجھ بات نہیں آتی تھی کہ وہ کریں تو کیا کریں؟۔ بہرحال ریاست اپنی حکمت عملی کو بہتر سمجھ سکتی ہے۔ وزیرستان کی عوام خاص طور پر محسود قوم نے اس سلسلے میں بہت مصائب کا سامنا کیا، قبائل میں پولیس کا نظام نہیں ، فوج کو اپنے فرائض انجام دینے پڑتے ہیں۔پختونخواہ کی حکومتوں میں اتنی صلاحیت بھی نہیں تھی کہ سیٹل ایریا میں پولیس کے ذریعے حالات کو کنٹرول کرتی، لیکن جب حالات قدرے بہتر ہوئے تب بھی عمران خان کی حکومت نے پولیس کے بجائے اپنی عوام کو فوج کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا ہے۔ فوج چیک پوسٹوں پر چیکنگ کے دوران پولیس سے ذرا مختلف رویہ رکھتی ہے جو عادت سے مجبوری بھی ہے کیونکہ فوج پولیس جیسی بن جائے تو فوج نہیں۔
قبائل کو چوکیوں پر فوج کے سپاہیوں کی طرف سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتاتھا تو وہ سمجھتے تھے کہ ہم اسکے مستحق ہیں، خود کش حملوں سے بچنے کی اسکے علاوہ کوئی تدبیر نہ تھی۔ البتہ حالات معمول پر آنے کے بعد قبائل کو درپیش مشکلات سے چھٹکارا دلانے کی ضرورت تھی مگرکسی نے اس احساس کی زحمت بھی گوارا نہیں کی۔ عمران خان تو حکومت اور عوام سے اس طرح سے دستبردار ہوگئے تھے جیسے ریحام خان اورجمائماخان سے دست بردار ہوئے ہیں۔ کسی بھی روک ٹوک اور پرسان حال کا خیال کبھی نہیں آیا۔ محمود خان اچکزئی، مولانا فضل الرحمن اور اسفندیار ولی نے بھی کبھی حال تک نہیں پوچھا تھا۔ منظور پشتون کے اندر اپنی قوم کا درد اُٹھا۔ راؤ انوار کا بہانہ مل گیا لیکن اپنی جنگ کیلئے قانون اور دستور کے اندر رہتے ہوئے شرافت کیساتھ لڑنے کا اظہار کیا۔ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے فوج کی شکایات حل کرنے کا وعدہ کرنے کے بجائے اپنا رونا شروع کردیا۔ آئی ایس پی آر نے جی ایچ کیو بلایا تو پاک فوج کے افسر نے کہا کہ ’’ ہمیں فوج سے معلوم ہوا ہے کہ تم لوگوں کی طرف سے کوئی دھرنا دیا گیا ہے اور وہاں دہشتگردی کے پیچھے وردی کا نعرہ بھی لگا ہے‘‘۔ نوجوانوں نے ملاقات کے بعد محسوس کیا کہ جب اسلام آباد میں کئی دنوں کے دھرنے کے باوجود بھی ہمارے حال سے پاک فوج بے خبر ہے تو وزیرستان اور پختونخواہ کے چیک پوسٹوں کا کیا حال معلوم ہوگا؟ اور پھر جب مولانا فضل الرحمن نے معصوم لوگوں کو سمجھایا تو امیرمقام کے کہنے پر بھی دھرنا ختم کیا۔
پاک فوج نے جب دیکھ لیا کہ اتنے مہذب طریقے سے اسلام آباد میں اپنا احتجاج نوٹ کروایا اور امیرمقام جیسے فارمی بیل کے کہنے سے احتجاجی دھرنے کو ختم کردیا تو جو رعایتیں مانگیں تھیں ،ان سب کو منظور کرنے کاپاک فوج کے ترجمان آئی ایس پی آر نے خود ہی اعلان کردیا۔جالب نے کہا
فرنگی کا جو میں دربان ہوتا
تو جینا کس قدر آسان ہوتا
مرے بچے بھی امریکہ میں پڑھتے
میں ہر گرمی میں انگلستان ہوتا
مری انگلش بلا کی چست ہوتی
بلا سے جو نہ اُردو دان ہوتا
جھکا کے سر کو ہوجاتا جو سر میں
تو لیڈر بھی عظیم الشان ہوتا
زمینیں میری ہر صوبے میں ہوتیں
میں واللہ صدر پاکستان ہوتا

منظور پشتون کا ٹکراؤ فوج کے بجائے نظام سے ہوگا

منظور پشتون نے سوشل میڈیا پر اپنے ابتدائی بیان میں کہاہے کہ ’’ ہم اپنی جنگ پاکستان کے دستور کے نیچے لڑیں گے، ہم کوئی بغاوت نہیں کررہے ہیں ، ہم ملک اور قوم کے وفادار ہیں‘‘۔ اس بیان کے بعد سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاک فوج کو عام عدالتوں میں گھسیٹا جاسکتا ہے؟، راؤ انوار کو توعدالت نے طلب کرکے رکھا ہے لیکن اگر فوج کے خلاف شکایت کی جائے تو کیا عدالت اس پر مقدمہ دائر کرسکتی ہے؟۔ اس کا جواب یہی ہے کہ پاکستان کے دستور میں ایسی کوئی شق نہیں ہے۔
جب نصیر اللہ بابر کی سرپرستی میں فیصلہ ہوا کہ ایم کیوایم کے دہشت گرد عدالتوں سے چھوٹ جاتے ہیں اسلئے پولیس مقابلے میں ان کو ماردیا جائے۔ اس وقت کے آئی جی پولیس افضل شگری نے پولیس سے اس قسم کا غیر قانونی کام کروانے کی مخالفت کی۔ باقی ریاست کے تمام اداروں کی طرف سے اس فیصلے کی توثیق کردی گئی۔ جیو اور جنگ کے معروف صحافی مظہر عباس نے میڈیا پر یہ بتایا کہ ’’ اس آپریشن میں ایک فوجی افسر نے عوام پر بے جا مظالم کئے تو اس کا کورٹ مارشل ہوا۔ اور فوجی عدالت نے اسے پھانسی کی سزا دی اور اس سزا پر عمل در آمد بھی ہوا، اس کو پھانسی پر لٹکایا گیا ‘‘۔
جب قبائل اور پشتونوں کی یہ تحریک دستور کے مطابق مظلوم کی مدد کیلئے اٹھے گی تو پاک فوج کو بھی اسکے جائز مطالبات ماننے میں کوئی انکار نہ ہوگا۔ جب اس تحریک کے فوج سے تعلقات بہتر ہونگے تو فوج پوری قوم کو ریلیف دینے میں بالکل بھی دیر نہیں لگائے گی۔ پھر طالبان کی شکل میں بدمعاش مافیا پالنے کی ضرورت بھی نہ رہے گی۔ فوج کے سپاہیوں اور افسروں کاتبادلہ ہوتا رہتا ہے اور جب ایک قوم یا قبیلے میں دہشتگرد پائے جاتے ہوں تو ان کو اپنی حفاظت کیلئے انہی میں سے کچھ لوگوں کو رکھنا پڑتا ہے اور جو لوگ اس طرح سے کٹھ پتلی بنتے ہیں تو وہ اس کا فائدہ بھی اٹھالیتے ہیں۔ جب اس تحریک کیساتھ پوری قوم کا فوج سے اعتماد بحال ہوجائیگا تو پھر پاکستان کی سطح پر بھی ان کو امامت دینے میں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں ہوگی۔طالبان کی حمایت پوری قوم کررہی تھی مگر پختون اور عام طور پر قبائل اور خاص طور پر محسود قربانی کے بکرے بن گئے۔ بعض لوگوں کے دل میں فوج سے بغض تھا اور وہ پھر سے اس تحریک کو قربانی کا بکرا بنانا چاہتے تھے لیکن تحریک کی قیادت تعلیم یافتہ جوان اور اسکے باشعور ساتھیوں کے ہاتھ میں تھی اسلئے یہ نہ ہوسکا۔ محمود خان اچکزئی کا پورا خاندان حکومت کی مراعات لیتا ہے لیکن وہ محسود قوم کے غریب کو تباہ شدہ گھروں کیلئے 4لاکھ نہ لینے کا حکم دے رہاتھا۔ مولانا زر ولی خان کے احسن العلوم گلشن اقبال میں مولانا فضل الرحمن نے مدارس کے علماء وطلباء کے جلسے کئے لیکن حکومت کی امداد منع کرنے پرشیخ الحدیث مولانازرولی نے مولانافضل الرحمن کی خوب خبرلی۔خود حکومتی امداد کے پیچھے دُم اٹھانے والے دوسروں کو منع کرینگے تو یہی ہوگا۔
جانا ہے تمہیں دہر سے ایمان ہے اپنا
ہم آکے نہیں جائیں گے اعلان ہے اپنا
انسان سے جو نفرت کرے انسان نہیں ہے
ہر رنگ کا ہر نسل کا انسان ہے اپنا
تم امن کے دشمن ہو محبت کے ہوقاتل
دنیا سے مٹانا تمہیں ارمان ہے اپنا
کیوں اپنے رفیقوں کو پریشان کریں ہم
حالات سے دل لاکھ پریشان ہے اپنا
اس شاہ کے بھی ہم نے قصیدے نہیں لکھے
پاس اپنے گواہی کو یہ دیوان ہے اپنا