پاکستان اور اسلام لازم وملزوم مگر ایک مظلوم ایک محروم

961
0

mirza-ghulam-ahmad-qadiani-allama-iqbal-imam-mehdi-tablighi-jamaat-isi-cia-afghan-jihad-gulbadin-hikmatyar-shakil-afridi-molana-masood-azhar-manzoor-pashtoon-molana-tariq-jameel-jannat-ki-hoor

پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا، اسلام اس کی بقاہے اور اسلام کے بغیر یہ فنا ہے لیکن جس اسلام کے نام پر یہ بنا ہے جو ایمان اس کی روح ہے جو دین اسلام اس کا ڈھانچہ ہے ،وہ بھی معدوم ہے اسلئے پاکستان مظلوم اور اسلام محروم ہے۔
انتخابات ہورہے ہیں لیکن اسکا نتیجہ کیا نکلے گا؟۔ کوئی جماعت کامیاب ہوگی اور کسی شخصیت کو وزیراعظم بنایا جائیگا۔ کسی تفریح گاہ میں مسافروں کا گھوڑے پر سواری کی طرح باری باری اسٹیبلشمنٹ کے گودی بچے تھوڑی دیر کیلئے بادشاہت کا مزہ چکھ لیتے ہیں اور پھر دھاندلی دھاندلی کا شور اٹھتا ہے۔ 70سالوں سے نہ ختم ہونے والا یہ سلسلہ چل رہاہے۔ پاکستان مظلومیت کی آخری حدوں کو چھور ہاہے اور اسلام اجنبیت سے محرومیت کی آخری حدوں کو چھورہاہے۔ انگریز نے نبوت کے دعویدار مرزا غلام احمد قادیانی کو اسلئے سپورٹ کیا تھا کہ اس نے جہادکی منسوخی کا اعلان کررکھا تھا۔ علامہ اقبالؒ نے اشعار میں کہا کہ’’ مجذوبِ فرنگی نے بہ اندازِ فرنگی مہدی کے تصور کو اس ملک میں بدنام کردیا ہے‘‘۔ کسی طبقے نے کہا کہ’’ تبلیغی جماعت نے جہاد کیخلاف عملی اور ذہنی طور پر مرزا غلام احمد قادیانی کے ناکام مشن کو کامیابی سے ہم کنار کردیا‘‘۔ دہشتگردوں کا سلسلہ شروع ہوا تو تبلیغی جماعت اس کی سب سے بڑی پناہ گاہ تھی۔ شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی اور مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمن نے سودی نظام کو اسلامی بینکاری کے نام سے جواز بخشا ہے۔
آئی ایس آئی اور امریکی سی آئی اے نے مجاہدین پالے تھے اور جہاد کی دنیا میں گلبدین حکمتیار کا بہت بڑا نام تھا۔ آج افغانستان میں گلبدین حکمتیار امریکی افواج کی گود میں بیٹھ گیا۔ مولانا مسعود اظہر اور حافظ سعید کے بارے میں پرویز مشرف الگ الگ رائے رکھتا ہے۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو امریکہ نے مانگا تو ایک عورت زاد بھی پرویز مشرف نے حوالہ کردی ، حالانکہ شکیل آفریدی کی طرح ایک پاکستانی کو امریکہ کے حوالے کرنے سے انکار بھی کیا جاسکتا تھا۔ وہ بھی بچوں کی ماں ایک خاتون۔ امریکہ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بجائے مولانا مسعود اظہر و حافظ سعید کو مانگا ہوتا تو بھی پرویزمشرف نے خوشی خوشی ان کو حوالہ کردینا تھا لیکن شاید امریکہ نے پاکستان کو بلیک لسٹ قرار دینے کی منصوبہ بندی کررکھی تھی۔
سودی نظام بھی مشرف بہ اسلام ہوگیا اور سود کی مد میں ادا کی جانے والی رقم دفاع کے بجٹ سے بھی زیادہ ہے ہر شاخ پر اُلّو بیٹھا ہے انجام گلستان کیا ہوگا؟۔ پاکستان قرضوں میں دب گیا اور اسلام کو سودی نظام نے رگڑ کر رکھ دیا ہے۔ہاتھی کے دانت دکھانے کے اور اور کھانے کے اور۔پاکستان کو کرپٹ فوجی جرنیلوں، بیوروکریٹوں، ججوں اور سیاستدانوں نے کھالیا ہے۔ اس کے ڈھانچے پر اب بھی گدھ منڈلارہے ہیں۔ ملٹی نیشنل کمپنیوں نے عوام کا بیڑہ غرق کرکے رکھ دیا ہے۔ اسلام اپنے بیٹے شیخ الاسلام کے باپ کا نام تھا جوکب کا مرچکا ہے۔ اسلام، ملک اور جمہوریت کے نام پر دھوکہ ہی دھوکہ ہے ، ایک تماشا لگا ہوا ہے جس میں جو اپنا منہ میٹھا کرلیتا ہے اس کو تماشا گاہ اچھا لگتا ہے اور جسکے ہاتھ کچھ نہیں آتا وہ چیختا چلّاتا ہے کہ لُٹ گئے، پِٹ گئے، مرگئے، غرق ہوگئے اور ظلم ہی ظلم ہے۔
منظور پشتین PTMکا قائد ہے، اللہ نہ کرے کہ وہ مشکلات کا شکار ہوں۔ اچھا خطیب ہے، اپنی قوم کا درد رکھتا ہے، بہادر ہے، اس کا نظریہ اسلام،پاکستان اور پختونوں کا بہترین اثاثہ ہے۔ اس کی للکار میں جان اور ایمان ہے۔ عوام کی عدالت میں سب سے آسان کام ان کی منہ پر ان کی تعریف کرکے دوسروں کے خلاف جذبات کو ابھارنا ہے۔ جب طالبان اور علماء ومفتیان امریکہ پر لعن طعن کرکے اسلامی غیرت کو ابھارتے تھے تو’’ ہرگھر سے طالب نکلے گا تم کتنے طالب ماروگے‘‘ ۔ پھر’’ افراد کے ہاتھوں میں اقوام کی تقدیر ہر خودکش ہے چمکتا ہوا تارا‘‘ سے امریکہ کا نقصان کیا یا نہیں کیا مگر اپنی قوم کا بیڑہ غرق کرکے رکھ دیا ۔ داعش کی طرف سے ایک نئی جنگ کا محاذ کھلنے والا ہے ۔ مولانا طارق جمیل حوروں کا جو نقشہ پیش کرتا ہے کہ 70لباس ہونگے، اس میں دھڑکتا ہوا محبت سے بھرپور دل مچلتا نظر آتا ہے، ایک سے دوسرا لباس اتارتے اتارتے اس کی خوبصورتی میں بے انتہاء اضافہ ہوجاتا ہے۔جنسی جذبات کوبھرپور طریقے سے بھڑکایاجاتا ہے جوانسان اپنے ضمیر،ایمان، انسانیت اور اقدار کو پامال کرتے ہوئے جبری جنسی تشدد اور بچیوں کو مارنے تک سے باز نہیں آتا،اگر اسکے سامنے حوروں کایہ نقشہ پیش کیا جائے تو وہ اس تک پہنچنے کیلئے خود کش کرنے سے کبھی گریز نہ کریگا۔
جب تین بار اسٹیبلشمنٹ کی کٹھ پتلی رہنے والا نوازشریف کہتاہو کہ انگریز نکل گیا مگر مٹھی بھر فوجیوں نے ہمیں دبوچ کررکھا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری بھی کھلے عام اسٹیبلشمنٹ کیخلاف شکایت کررہا ہو، مشہورمیڈیا کے چینل میں بیٹھے معروف صحافی بھی اپنی جان پر کھیل کر فوج کے خلاف اپنا بیانیہ پیش کررہے ہوں تو فوج کیلئے اسکے بغیر کوئی چارہ نہیں رہتا ہے کہ اپنے تحفظ کیلئے صحافیوں میں زید حامد، ڈاکٹر عامر لیاقت حسین اور ڈاکٹر شاہد مسعود جیسے لوگوں کا سہارا لیں۔داعش نے وار کیا تو اس کی روک تھام کیلئے سب سے مضبوط اور آہنی دیوار PTMہی کی ہوسکتی ہے۔ علاقہ گومل کا ایک نامی گرامی بدمعاش عطاء اللہ نے طالبان کا حملہ کئی بار اپنے گھر پر ناکام بنایا مگر ملازئی میں سیکورٹی فورس کے 40جوان ایک طالب کو نہیں مارسکے۔ 39کو موقع پر ذبح کردیا گیا اور ایک نے بھاگ کر جان بچائی تھی۔ فارس وروم کی سپر طاقتوں نے اسلامی جہاد کے جذبے کا سامنا نہ کیا تو ایک ایسی فوج جسکے سپاہی غربت کے مارے جان پر کھیل کر نوکری کررہے ہوں کہاں سے خود کش حملہ آوروں کے سامنے جان کی بازی لگانے کی صلاحیت رکھتی ہے؟۔ جو لوگ نیٹوافواج کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر کھڑے ہیں ان کا رخ جب ہماری طرف ہوگا تو اسلامی جذبے سے ان کا مقابلہ کرنا ممکن نہیں ۔ ہمارے پاس اسلام کے نام کے سوا کچھ نہیں ، معیشت، معاشرت، سیاست،سول و ملٹری بیوروکریسی، بہت غلیظ قسم کا عدالتی نظام اور طبقاتی ولسانی تفریق اور بس۔
منظور پشتین اپنی قوم سے مخاطب ہوتا کہ طالبان کی تحریک آئی تو تم نے والہانہ انداز میں قربانیاں نہیں دیں بلکہ اپنی قوم کو تباہ وبرباد کیا، پاکستانی ریاست نے تمہارے جذبات کا خیال رکھا مگر تم نے امریکہ کے بجائے پاکستان کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔ اگر اس وقت اپنے چوروں اور ڈکیتوں کو ، لوفروں اور لونڈوں کو جذباتیوں اور خیراتیوں کو کنٹرول کرتے تو ہماری ریاست بھی مشکلات کا شکار نہ ہوتی اور تم بھی دربدر نہ ہوتے تو قوم اسکی تلخ بات بھی سن لیتی اور ان میں شعور بھی اجاگر ہوتا۔ اسلام آباد دھرنے میں قوم بھاگ کھڑی ہوئی اور منظور پشتین کو حوصلہ دینے والا بھی کوئی نہ تھا۔ ہم نے شامِ غریباں کی کیفیت سے دوچار پست حوصلے میں جو روح پھونکی اسکی گونج آج انکے جلسوں میں سنائی دے رہی ہے۔ ہم ظاہری وباطنی اور اندورنی وبیرونی ایجنٹوں پر لاکھوں لعنت بھیج کر ببانگِ دہل کہتے ہیں کہ اسلام کو زندہ کئے بغیر پاکستان کو ماں کاکوئی لعل نہیں بچاسکتا۔ اسلام کو کسی نے نہیں علماء ومفتیان نے تباہ کیا ہے اور وہی اسلام کو بچا بھی سکتے ہیں۔