مرزا غلام احمد قادیانی اور تبلیغی جماعت کے بانی میں بہت فرق تھا

644
0

mirza-ghulam-ahmad-qadiani-aur-tablighi-jamaat-k-baani-mein-boht-farq-thha

غلام احمد قادیانی نے شاہ اسماعیل شہیدکی کتابیں’’منصبِ امامت‘‘اور ’’الاربعین فی احوال المہدیین‘‘سے امام و مہدی اور مجدد کا دعوی کیا ۔منصب امامت کے ترجمہ پر مولانامحمد یوسف بنوریؒ کامقدمہ موجود ہے ۔ تلاش کے باجود ’’احوال المہدیین‘‘ کا سراغ نہیں ملا۔ نیٹ پر قادیانیوں کے مرکزربوہ سے شاہ اسماعیل شہید کی کتاب کا عکس دیا گیاہے۔ کتاب کی چند سطریں پڑھنے سے معلوم ہوا کہ عجمی سازش سے عربی لکھ دی گئی ہے۔کتاب کی اصل تو صفحۂ ہستی سے غائب ہے ، نقل بھی موجود نہیں۔اس کتاب میں مشہور بزرگ شاہ نعمت اللہ ولی کی پیش گوئیاں بھی ہیں۔ جس کا ایک شعر یہ ہے کہ ’’ اس شخصیت میں مہدی اور مسیح دونوں جھلک رہے ہونگے‘‘۔
شاہ نعمت اللہ کی پیش گوئیاں دستیاب ہیں۔ یہ شعر بھی اس میں موجود ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی نے اس شعر کی بنیاد پر دعویٰ کیا تھا کہ وہ مہدی ومسیح ہے۔ بعض علماء نے فتویٰ دیا کہ ہندوستان دارالحرب ہے، جو ہجرت نہ کریگا، کافرہو گا اور بیوی بھی طلاق ہو گی۔ بانی خدائی خدمتگار عبدالغفار خان نے لکھاکہ ’’ ہم نے طلاق کے خوف سے ہی افغانستان ہجرت کی تو بیگمات آگے بھاگ رہی تھیں‘‘۔ ہجرت ناکام ہوئی تو طلاق کا فتویٰ زیر بحث آیا اور انگریز کے تسلط میں جہاد کرنا مشکل تھا۔ حضرت حاجی امداد اللہ مہاجرؒ کے زیرِ امامت علماء نے جہاد کا ارادہ کیا مگر نہیں کرسکے ۔دارالعلوم دیوبندسے اسلامی علوم کی حفاظت کا باقاعدہ سلسلہ شروع ہوا۔ پہلے علماء کی سرپرستی حکمران کرتے تھے۔ اکبر بادشاہ کے دربار میں ہندوستان کے مجدد الف ثانی شیخ احمد سرہندی نے کلمۂ حق بلند کیا، قبائلی علاقہ کانیگرم جنوبی وزیرستان کے بایزید انصاری عرف پیرروشان نے اکبر بادشاہ کے خلاف باقاعدہ جہاد کیا اور اپنے بیٹوں سمیت افغانی قبائلی علاقے جلال آباد میں 1601ء میں شہید ہوگئے۔ مغلوں سے بغاوت کا جذبہ انگریز کے خلاف جہاد کرنے میں بھی کام آیا۔ پاکستان کیلئے عملی جہاد قبائلی علاقوں سے ہوا۔
پاکستان کی آزادی کے بعد 1948ء میں آرمی چیف انگریزاور وزیراعظم کے خواہشمند نوابزادہ لیاقت علی خان کی کشمیر سے دلچسپی نہیں تھی تو قائداعظم محمد علی جناح نے قبائل سے کہا کہ ’’تم کشمیر کی آزادی کیلئے آؤ‘‘۔ بیگم راعنا لیاقت علی خان ہندو تھی۔ قبائل نے سرینگر تک کشمیر فتح کیا تھا۔ جیسے کلبھوشن کو بچانے کیلئے عالمی عدالت میں کیس لیجایا گیا، ویسے کشمیر کا معاملہ اقوام متحدہ کو حوالہ کردیا ،جماعت اسلامی کے مولانا مودودی نے فتویٰ دیا کہ ’’کشمیر میں جہاد نہیں ہورہاہے بلکہ کٹ مررہے ہیں ‘‘۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ مسلم لیگ کے مخالف و جمعیت علماء ہند کے حامی مگر فتویٰ دیا کہ ’’کشمیر میں شرعی جہاد ہے، اگرمولانا حسین احمد مدنی سے بھی کشمیر پر سامنا ہوا تو انکے احترام کے باوجود انکے سینے میں گولیاں اتار دوں گا‘‘۔ میرے خاندان کے پیرمحمد امین شاہ نے کشمیر کے جہاد میں حصہ لیا، جو وزیرستان سے تبلیغی جماعت کے پہلے فرد تھے۔ کانیگرم و علاقہ گومل کے اکثرپڑوسی تبلیغی جماعت کے خلاف تھے۔ مفتی کفایت اللہ مفتی اعظم ہند نے ’’سنت کے بعد دعا بدعت ‘‘پر کتاب لکھی۔ مولانا شاد زمان عرف مولوی شاداجان نے سنت کے بعد دعا کو بدعت کہا تو وہاں کے مشہور علمی گھرانے کے سربراہ مولانا محمد زمان نے ان پر قادیانیت کا فتویٰ لگایا۔ میرے والد انکے ساتھ کھڑے تھے۔ ہماری مسجد میں مناظرے کا اہتمام ہوا، نتیجہ فارسی میں سنایا گیا، دونوں طرف کے حامیوں نے ڈھول کی تھاپ پراپنی اپنی فتح کا جشن منایا۔ عمائدین میں مشہور شخصیت حاجی میرول خان مرحوم آخرتک تبلیغی جماعت کے سخت مخالف تھے۔ ہماری مسجد کو ’’ درس‘‘ اسلئے کہا جاتا کہ یہاں طلبہ علم سے استفادہ کرنے آتے ۔ مفتی محمود مفتی اعظم کہتے تھے کہ ’’ پٹھان مسلکاً دیوبندی اور طبعاً بریلوی ہوتے ہیں‘‘۔ سنت کے بعد دعا کو لازم کہا جاتا اور آذان میں صلوٰۃ و سلام نہیں پڑھی جاتی۔ سہراب گوٹھ میں جنت گل کی مسجد میں یہ حال اور میرا کردار تھا۔
انگریز ی دور میں مرزا غلام احمد قادیانی نے جہاد کو منسوخ کرنے فتویٰ دیا، علامہ اقبال نے مجذوب فرنگی قرار دیتے ہوئے کہا کہ’’ اس کا یہ فتویٰ بے اثر ہے۔ مہدی کے بدنام تخیل سے مایوس نہیں ہونا چاہیے‘‘۔ پاکستان بنا تو فوج پر مرزائیوں کا تسلط قائم ہوا۔ جہاد کو منسوخ قرار دینے والوں کی گرفت سے کشمیر کے بعد مشرقی پاکستان بھی گیا، ذوالفقار علی بھٹو نے قادیانی طاقت سے جان چھڑانے کیلئے کافر قرار دینے کی چھوٹ دیدی تو وہ لوگ بھی میدان آئے جو قادیانیوں کیساتھ مل کرختم نبوت سے تعاون نہ کرتے تھے۔ شورش کاشمیری ذوالفقار علی بھٹو کا سخت ترین مخالف تھا مگر قادیانیوں کو آئینی کافر قرار دینے پر بھٹو کی عظمت کو سلام کرنے لگا۔
چند سال پہلے اردو ڈائجسٹ میں دیوبند ی بزرگوں پاکستان و ہندوستان کے شیخ الاسلام کا مکالمہ شائع ہوا۔’’ کانگریس کے حامی نے کہا کہ مسلم لیگ کی حمایت انگریز سرکار کرتی ہے اور مسلم لیگ کے حامی عالمِ دین نے جواب دیا کہ انگریزسرکار تبلیغی جماعت کی بھی حمایت کر رہی ہے تو کیا اس وجہ سے تبلیغی جماعت کا کام غلط قرار دیا جائے؟‘‘۔ تبلیغی جماعت عملی جہادنہیں کررہی تھی مگر جہاد کو منسوخ نہ سمجھ رہی تھی۔ جب روس کیخلاف افغانستان میں جہاد کا سلسلہ جاری تھا تو قبائل، پٹھانوں اور تبلیغی جماعت نے اس میں کوئی حصہ نہیں لیا۔ جب نصیراللہ بابر نے امریکہ کے کہنے پر طالبان کی حکومت قائم کردی تو تبلیغی جماعت افغانستان جاتی تھی ، میرے دوست مولانا دین محمد گئے تھے اور یہ شکایت کی تھی کہ افغانستان میں کھلے عام مزارات پر شرک ہورہاہے۔تبلیغیوں کی نگاہیں نظام پر نہیں مسلک اور عقیدے پر تھیں، بعض لوگ ملا عمر کو خراسان کے مہدی سمجھتے تھے مگر جب امریکہ نے اسامہ کا بہانہ بناکر حملہ کیا تو طالبان کی مزاحمتی تحریک کو جہاد کہنے میں کسی کو شبہ نہیں رہاتھا، خود امریکہ بھی اسکا قائل تھا۔ تبلیغی جماعت نے اس قبولیت عامہ میں جہاد کا ساتھ دیا۔ طالبان اور تبلیغی بزرگ شیر وشکر ہوگئے۔ جرائم پیشہ عناصر جہاد میں جانے سے پہلے حلیہ بدلنے کیلئے رائیونڈ کا رخ کرتے تھے اور پھر داڑھی کیساتھ چوتڑ تک عورتوں کی طرح بال بھی رکھتے تھے۔ بد کاری و بے حیائی کے حدود پار کئے بغیرکوئی شریف یہ حلیہ اختیار نہیں کرسکتا تھا۔ جرائم پیشہ لوگوں نے جہاد کو خوب بدنام کیا اور بہت شریف بھی اسکی نذر ہوگئے۔
سلیم صافی نے جیو پر مولانا طارق جمیل سے خود کش حملوں کیخلاف جملہ کہلانے کی کوشش کی مولانا نے کہاکہ ’’ہماری راہیں جدا ہیں، منزل ایک ہے‘‘۔اب مولانا طارق جمیل نے بوہرہ داؤدی کے سربراہ سے پرجوش ملاقات کی ہے اور یہ معمولی بات ہے مگر جب پاکستان پر جہاد کا معاملہ آرہاہے تو میرے بیٹے محمدعمرنے بتایا کہ ’’کمپنی کا ملازم کہتا ہے کہ کشمیر اور ہندوستان کی لڑائی وطن کیلئے ہے جو جہاد نہیں، چاچا فوج میں ہیں اور ماموں مولوی ہیں‘‘۔ مدارس تک میں دہشتگردی ہورہی تھی تو مفتی اعظم پاکستان مفتی رفیع عثمانی نے اس کو خلافِ اسلام قرار نہ دیا اور اب امریکہ اور انڈیا نے حملہ کیا تو یہ فتویٰ کہ ’’پاکستان کی طرف سے مدافعت جہاد نہیں ایک سازش ، جہالت اور بے غیرتی ہے‘‘۔
صلح حدیبیہ میں مسلمانوں کا حلیف قبیلہ بنو خزاعہ کافر تھا لیکن مشرکینِ مکہ نے بنوبکر کی مدد کرتے ہوئے بنوخزاعہ کو نقصان پہنچایا توصلح حدیبیہ کا معاہدہ بھی نبیﷺ نے توڑ کر مکہ کو فتح کرلیا۔ اگر برما کے بدھ مت پاکستان کو حلیف بنالیں اور بنگلہ دیش کے مسلمان یا بھارت کے ہندو برماکے بدھ مت پر حملہ آور ہوں تو یہ فرض ہوگا کہ ’’ہم برما کے بدھ مت کی مدد کریں‘‘۔
اقوام متحدہ نے سوڈان کے ٹکڑے کردئیے اور عراق کے کردستان میں ریفرینڈم کرادیا مگر 70 سال سے کشمیریوں کو حق سے محروم رکھا۔ کیا یہ انصاف ہے لیکن جب تک اقوام متحدہ کا خاتمہ نہیں ہوجاتا یا ہم اسکے معاہدے سے باہر نہیں نکلتے ، ہم اسکی تابعداری کے پابند ہیں۔ نبیﷺ نے جاہلیت کے’’ حلف افضول‘‘ کی تعریف میں فرمایا: ’’ مجھے سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ پسند ہے کہ میں اس میں شامل تھا‘‘۔
اسلام امن و سلامتی کا دین ہے، فتنے فساد کو رفع دفع کرتاہے مگر ظالم کے آگے لیٹنے کی تعلیم بھی نہیں دیتا۔ پاکستان ایک ریاست نہیں بلکہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا مرکز بھی ہے۔پاکستان کا مستقبل روشن بنانے کیلئے کوشش کی ضرورت ہے۔ ملاعمر مجاہد جس سازش کا شکار ہوا، وہ سمجھ سے بالاتر تھی۔ ایک ملا، مولوی اور مولانا کو آج دنیا کے اختیارات مل جائیں تو اسلام کا نفاذ اسکے بس میں نہ ہوگا اور یہ اسلئے نہیں کہ اسلام کاروبار بن گیا بلکہ اسلئے کہ اسلام اجنبی ہے۔ خلافت راشدہ کا آخری دور حضرت عمرؓ کے بعد فتنوں کا دور تھا۔ نبیﷺ کے خانوادہ کو اقتدار نہ دیا گیا لیکن بنی امیہ کے یزید اور بنی عباس وبنی فاطمہ کے بعد خلافت عثمانیہ اور مغل سلطنت خاندانی بنیاد پر رہی۔ علماء رکاوٹ نہ بن جائیں ، تبلیغی جماعت کے کارندے مثبت کردار ادا کریں تو پاکستان میں کب کااسلامی انقلاب آچکا ہے۔ بس حقائق کو قبول کرناپڑیگا ، ورنہ افراتفری پھیل گئی تو کوئی بھی کسی کی بات نہ سنے گا۔ امن کی فضاء سے فائدہ اٹھائیں۔
تبلیغی جماعت کے اکابر ، بزرگ اور علماء کا کردار اس وقت اہمیت اختیار کریگا کہ جب یہ اللہ کے احکام اور نبیﷺ کے طریقے کا ایک معاشرتی نظام اپنے کارکنوں اورعوام کو دیں۔