حضرت مولانا عبد الکریم عابد کے بیان پر عتیق گیلانی کا تبصرہ

541
0

کراچی (ڈاکٹرجمال) حضرت مولانا عبد الکریم عابد(جمعیت علماء اسلام مرکزی شوریٰ کے رکن، صوبائی سرپرست خطیب و امام مہتمم مسجدو مدرسہ مدنیہ گلشن اقبال ) نے کہا کہ اس وقت امت کو ایک کیا جائے ، اتحاد کی اشد ضرورت ہے مگر ہمارا میڈیا فرقہ واریت اختلافی مسائل کی اشاعت کو ترجیح دیتا ہے۔ نوشتۂ دیوار میں اکثر کسی نہ کسی قابل احترام شخصیت کیخلاف اختلافی نکتہ نظر ہوتا ہے، اختلاف ہر ذی علم کا فرض مگر شائستہ انداز میں لکھا جائے نہ کہ شخصیت پر توہین آمیز تنقید کی جائے۔ نوشتۂ دیوار کے مضامین کا انداز یقیناًاچھے پہلو بھی ہیں ایک حد تک مسائل کی نشاندہی کی جاتی ہے مگر گزارش ہے کہ شائستہ انداز میں دلائل کی بنیاد پر اختلاف ہو اور جس کو اللہ نے مقام دیا ہو وہ ملحوظِ خاطر رہے، اسلام کی یہی تعلیم و تربیت ہے کہ مخالف کی بھی توہین نہ کی جائے بلکہ ان کو مقام دیا جائے۔ سوال کے جواب میں کہا کہ طلاق کے مسئلے پر نوشتۂ دیوار کے مضامین سے اہلسنت و الجماعت کے اکابر اور عوام تک اچھا تاثر قائم نہیں ہورہا۔ یہ مواد جو تحقیق کیساتھ شائع ہوا اس میں نئی بات نہیں بلکہ صدیوں سے یہ اختلافات علماء کرام میں چلے آرہے ہیں۔ گزارش ہے کہ علماء کرام سے ہزار اختلاف کے باوجود احترام کو ترجیح دی جائے اختلاف سے انکار ،نہ ہی اختلاف بری چیز ہے ۔ تنقید برائے اصلاح ہو، تنقید برائے توہین نہیں ہونی چاہیے۔

تبصرۂ نوشتۂ دیوار

حضرت مولانا عبدالکریم عابد صاحب!
محترم جناب کی رہنمائی کا کن الفاظ میں شکریہ ادا کروں؟دومرتبہ آپ سے ملاقات کا شرف رہا ہے، اسلئے جناب کے خلوص سے آگاہ ہوں۔ بلا شبہ جو تحریرفرمایا، اسکے ہر ہر لفظ میں سچائی ہے اور بہت احترام کیساتھ ہمارا اختلافی نقطۂ نظر بھی۔ جن خیالات کا پر خلوص انداز میں اظہارفرمایا، یہ اکثریت کی شکایت ہے۔ ہمارے اخلاق کردار، طرزِ تحریر اور اوقات کی تو بالکل کوئی حیثیت نہیں، اسلئے اپنا دفاع تو نہیں کرسکتے، جورہنمائی کی کرم نوازی ہے اس کا شکریہ تہہ دل سے ادا کرتاہوں
البتہ آپ جانتے ہیں کہ رحمۃ للعٰلمینﷺ نے تو بڑے زبردست اخلاق، کردار اور اوقات سے زندگی کے 40سال نبوت سے قبل13سال مکی اور8سال فتح مکہ سے پہلے مدنی زندگی گزاری، وہ جو فتح مکہ کے بعد فوج در فوج اسلام میں داخل ہوئے، امیرمعاویہؓ، عکرمہؓ بن ابی جہل صحابہؓ تھے ، بڑی شان رکھتے تھے، حمزہؓ کا کلیجہ نکالنے چبانے والے وحشیؓوہندؓ کی خدمات ہیں مگر قرآن نے انکے اقوال زریں کو محفوظ کیا ’’ کیاہم اپنے الھہ کو ایک مجنون شاعر کی وجہ سے چھوڑ دیں گے‘‘۔
19سال تک حضرت ابوسفیانؓ کی بیگم حضرت ہندؓ نے نبیﷺ سے سخت نفرتوں کا اظہار کیا مگر جب مکہ فتح ہوا، حالات بدل گئے تو نبیﷺ میں کوئی تبدیلی نہیں آئی مگربڑی تعداد میں یہ فوج درفوج مسلمان ہونے والوں کا ماحول بدلا، جو توہین امیز رویہ نظر آتا تھا وہ اعلیٰ اخلاق لگنے لگا۔ قرآن نے اہل کتاب سے متعلق کہا کہ ’’انہوں نے مشائخ و علماء کو اللہ کے علاوہ رب بنالیا تھا‘‘ نبیﷺ نے وضاحت کی کہ حلال وحرام کا خود ساختہ معیاربنایا ، یہی رب بنانا تھا۔ جن علماء نے وقتافوقتا اسلام کا حلیہ بگاڑنے میں کردار ادا کیا۔ یہاں تک کہ شادی کی رسم نیوتہ کو سود اور ماں کے زنا سے بڑھ کر گناہ قراردیا، دوسری طرف اسلام کے نام پر بینکنگ کو جواز بخشاہے۔ جمعیت علماء اسلام پہلے روزی روٹی حلال کرکے مزاحمت کرتی تھی اب لیٹ گئی تو ہمارا رویہ یقیناًحق کی آواز بلند کرنے پربہت گستاخانہ لگتا ہوگا ،وقت کا انتظار کرتے ہیں عسیٰ ان یکون قریبا ۔ قرآن پر پرانے قصے کہانی کا الزام لگا۔ دلائل کو پرانا کہنے پر خوشی ہے کہ نئے دین کا الزام نہ لگا ۔ علماء کا نصاب پراعتماد اٹھ گیا۔آپ نے مہربانی فرمائی تھی کہ مدرسین سے بات کروائی، میں نے کہا: بات سن لو، اگر میرا مؤقف نہ مانا تو لکھ دیتا ہوں کہ اپنا مؤقف چھوڑ دونگا مگرانہوں نے کہا: ’’یہ شرط جائزنہیں‘‘۔ وقت بتائیگا کہ حلالہ کو کارِ ثواب کہہ عزت لوٹنا توہین آمیز تھا یا لعنت کو بے غیرتی کہنے والے گستاخ؟۔ طلاق کے مسئلہ پر اتنا واضح مؤقف کہاں کس نے لکھا؟ عتیق گیلانی