مفتی محمد رفیع عثمانی اور ڈاکٹر طاہر القادری نے اپنی کتابوں میں زبردست خیانت کی ہے. مولانا شبیر احمد

749
0

ابوبکرؓ و عمرؓ نے نبیﷺ کے وصال پر خلافت کیلئے جمع ہونیوالے انصارؓ سے مناظرہ کیا۔ انصارؓ نے کہا کہ ایک امیر تمہارا ہو، ایک ہمارا۔ابوبکرؓ نے کہا کہ اس سے امت میں افتراق وانتشار ہوگا۔ تبلیغی جماعت کے مرکزبستی نظام بھارت میں مولانا الیاسؒ ،مولانا یوسفؒ ،مولانا انعام الحسنؒ کے بعد مولانا الیاسؒ کے پوتے مولانا ہارون کا بیٹا مولانا سعدامیر تھا اور رائیونڈ میں عبدالوہاب، مگر بھارت میں ان دوامیروں کی وجہ سے افتراق وانتشارہوا ۔ بقول پشتومزاحیہ شاعر’’6اسکے نمبر ہیں باقی سب تقاضے ہیں، تبلیغ میں مزے ہی مزے ہیں‘‘۔ حضرت ابوبکرؓ نے حدیث پیش کی کہ ’’امام قریش سے ہونگے‘‘۔ عمرؓ نے ابوبکرؓ کی بیعت کی تو انصارؓ نے بھی بیعت کرلی، سردار سعد بن عبادہؓ اورعلیؓ نے یہ عمل ناگوار جانا۔ اس دن سے امت میں اختلاف ہے۔ علماء نے لکھا کہ قریش کی حدیث خبر واحد تھی پھر اجماع ہوا ۔حنفی مسلک کے شاہ ولی اللہؒ نے خلافت عثمانیہ و مغل سلطنت کے زوال کے دور میں امام کیلئے قریش ہوناشرط قرار دیا، یہ خلافتِ عثمانیہ کے عدمِ استحکام کا باعث تھا۔ بریلوی مکتبۂ فکر کے امام مولانا احمد رضاخان بریلویؒ کا یہی فتویٰ تھا، علامہ عطاء محمد بندیالوی نے ضیاء الحق کے دور میں خلافت کے احیاء کو فرض اور امام کیلئے قریشی ہونا لازم قراردیا ۔ داعش کے ابوبکر بغدادی بھی اس وجہ سے القاعدہ اور طالبان سے باغی بن کر خود خلیفہ بن گئے ۔طالبان سے پہلے ایک عرب نے خیبر ایجنسی کے دور دراز علاقے میں امام بننے کا دعویٰ کرکے اپنی حکومت تشکیل دی تھی اور بعد میں بیمار یا ناکام ہوکرامریکہ چلا گیا۔
ہم نے بھی احیاءِ خلافت و تقرر امام کا اقدام کیاتھا جسکا روزنامہ جنگ میں اشتہار بھی دیا تھا۔ خلافت راشدہ کے آخر میں مسلمانوں میں قتل وغارت ہوئی۔ امام حسنؓ کی صلح کے بعد بنوامیہ کی خاندانی حکومت قائم ہوئی۔ واقعہ کربلامیں حسینؓ اور مکہ میں حجاج کے ہاتھ ا بن زبیرؓ کی شہادت سے اختلاف واضح ہے۔ امام حسنؓ کے بیٹے حسن مثنیٰ کے دو بیٹے محمد اور ابراہیم نے تحریک چلائی تھی۔ امام ابوحنیفہؒ کو ان کی خفیہ حمایت کرنے کی وجہ سے جیل میں زہر دیکر شہید کیا گیا۔دوسرے فقہی اماموں پر بھی تشدد ہوا۔
اجتہاد وہاں ہے جب قرآن و حدیث میں واضح موقف موجود نہ ہو۔ قرآن میں 114سورتیں ہیں اور114 مرتبہ بسم اللہ الرحمن الرحیم موجود ہے۔ اس میں اجتہاد کی گنجائش نہیں لیکن پھر بھی مالکی مسلک کے ہاں فرض نماز میں بسم اللہ پڑھنا جائز نہیں اسلئے کہ قرآن کا حصہ نہیں، شافعی مسلک میں بسم اللہ کے بغیر نماز نہیں ہوتی اسلئے کہ سورۂ فاتحہ کا حصہ ہے، امام احمد بن حنبل کے دو قول ہیں، امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک صحیح بات ہے کہ بسم اللہ قرآن کا حصہ ہے مگراس میں شک ہے اور شک اتنا قوی ہے کہ کوئی شخص اس کی قرآنیت کا منکر بھی ہوجائے تو کافر نہیں بنتا ۔ فقہ حنفی کی درسِ نظامی میں اصول فقہ کی ’’نورالانوار‘‘ اور ’’ توضیح تلویح ‘‘ دیوبندی کے وفاق المدارس ، بریلوی کے تنظیم المدارس کے تحت چوتھے اور چھٹے سال میں لازمی امتحان کا حصہ ہیں مگر کم عقل مولوی مدرس بنتے ہیں جو سمجھتے نہیں ہیں۔
کراچی کے علامہ شاہ تراب الحق قادری اور ٹانک کے مولانا فتح خان نے بالمشافہ ملاقات میں درسِ نظامی کی اس تعلیم کو غلط قرار دیا مگر اسکے خلاف آواز اٹھانے سے معذوری ظاہر کردی تھی۔ یہ ائمہ کامسلک نہیں انکے نام پر مسلک چلانے والوں کا شاخسانہ تھا۔ امام شافعیؒ نے جہری نماز میں بسم اللہ جہری پڑھنے کا حکم دیا ، تو گدھے پر بٹھایا، منہ کالا کر کے گھمایا کہ ’’یہ رافضی ہے‘‘۔ امام شافعیؒ نے اشعار کہے کہ ’’اگر اہلبیت سے محبت پررافضی کہتے ہو تو اقرار کرتا ہوں کہ میں رافضی ہوں‘‘۔
بنو عباس نے اقتدار چھین لیا تو وہ بھی اہلبیت کے اسلئے خلاف تھے کہ امارت چھن نہ جائے۔ پاکستان کے قانون میں کوئی عورت طلاق شدہ یا بیوہ بنتی ہے تو بھی اس کو ایک مرد سرپرست ظاہر کرنا پڑتاہے۔ مریم نواز کی مثال ٹھیک ہے یا نہیں؟۔ شریعت اور ملکی قوانین میں غیر ضروری معاملات آگئے ہیں،جہری نماز میں بسم اللہ کی جرأت سے بڑی تبدیلی کا آغاز ہوگا اور عورت کو حقوق دینے ہونگے۔
حدیث میں کنواری کیلئے بکر اور طلاق شدہ یا بیوہ کیلئے ایم کا لفظ آیاہے۔ لڑکی کنواری ہوتو سرپرست یا ولی باپ ہے ۔شادی کے بعد سرپرست شوہر ہے۔ کلثوم نواز کا سرپرست اس کا شوہر نواز شریف ہے تومریم نواز کا سرپرست اسکا شوہر صفدر عباسی ہونا چاہیے تھا۔ اگر شوہر سے علیحدگی ہوئی تو پاکستان کے مروجہ قانون کے مطابق اسکا سرپرست نوازشریف ہوگا، اور اب اعلیٰ عدالت سپریم کورٹ سے وضاحت مانگنے پر کہا جارہاہے کہ مریم نواز خود مختار ہے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مریم نواز صفدر عباسی کی بیوی ہوکر بھی خود مختار ہے یا طلاق شدہ خود مختار ہے؟۔ سوال کا جواب پاکستان اور اسلامی معاشرے میں کیا ہے؟۔ اس سے بہت سے مسائل حل ہوسکتے ہیں، اب یہ سوال اٹھانے کا بہترین وقت ہے۔
وانکحوالایامیٰ منکم و صالحین من عبادکم وایمائکم ’’اور نکاح کراؤ، اپنی بے نکاح خواتین کااور اپنے نیک غلاموں اور لونڈیوں کا‘‘۔ لونڈی کا ولی تو بلاشہ آقا ہوتا تھا۔ وضاحت ہے فانکحوھن باذن اہلھن ’’ان سے انکے مالکوں کی اجازت سے نکاح کرو‘‘۔ حدیث میں بکر کے مقابلے میں اَیم سے مراد بیوہ و طلاق شدہ ہے۔ توقرآن میں بھی ایامیٰ سے بیوہ و طلاق شدہ مراد ہیں۔ حدیث و فقہ میں تطبیق مسائل کا حل ہے۔ فقہ و حدیث میں کنواری اور بیوہ و طلاق شدہ کا فرق واضح ہے۔ اصولِ فقہ میں حدیث کو قرآن سے متصادم قرار دیا گیا۔ حتی تنکح زوجاً غیرہسے حدیث کی تطبیق ہوسکتی ہے کہ قرآن میں طلاق شدہ عورت کو اپنی مرضی سے نکاح کی اجازت دی گئی اور حدیث سے کنواری مراد لیا جائے۔ بیوہ کو بھی قرآن میں اپنی جان کا فیصلہ کرنے میں خود مختار قراردیا گیا ہے۔
حال ہی میں عدالت نے محبت کی شادی کرنیوالے جوڑے کو تحفظ دیا اور وکیل سے کہا کہ ’’ان کو سمجھاؤ، ایسی شادی کامیاب نہیں ہوتی‘‘۔ اگر معاشرے میں قرآن وسنت کو صاف طریقہ سے عوام کو پہنچایا جاتا کہ لڑکی کی مرضی کے بغیر باپ نکاح نہ کرے اور لڑکی کیلئے بھاگ کر شادی کرنا باطل نکاح ہے تو مذہبی نصاب بھی درست ہوجاتا اور معاشرے پر اسکا اثر پڑتا۔ جب نابالغ بچی کا نکاح پڑھانے پر بھی مولوی پکڑا جائے اور بھا گی لڑکی کا چھپ کر نکاح پڑھانے والے مولوی کو تحفظ حاصل ہو تو یہ معاشرے میں اصلاح کا باعث نہیں بن سکتا۔ بلوغت کے بعد لڑکی محبت کی شادی کرلے ، اقلیتی برادری سے تعلق ہوتا ہے تو اسلام کا سہارا بھی لے لیتی ہے۔علماء اور قانون سازی کرنیوالے پارلیمنٹ میں الجھتے ہیں۔
فقہ حنفی کے مطابق ’’ امام کیلئے قریش ہونے کی شرط قابلِ قبول نہ ہونی چاہیے‘ ‘ ۔ یہ خبر واحد کی حدیث تھی، جہاں تک اجماع کا تعلق ہے تو خلافت عثمانیہ والے قریشی نہ تھے ، ان پر بھی اجماع ہوا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ قریش کے امام ہونے کی احادیث کا تعلق پیش گوئیوں سے تھا اور جب نبیﷺ نے 12 امام پر امت کے اجماع اور اسلام کے غلبے کی خبردی تو لوگوں نے چیخ کرتکبیر کا نعرہ بلند کیا جس سے راوی کو کچھ الفاظ سمجھ میں نہ آئے۔ اہل تشیع بارہ امام اپنے والے سمجھتے ہیں مگران پر اہل تشیع کے فرقے بھی متفق نہیں۔بارہ خلفاء جو مشکوٰۃ کی شرح مظاہر حق کے مطابق اہل بیت سے ہونگے ۔ علامہ سیوطیؒ کا حوالہ دیکر مفتی رفیع عثمانی اور ڈاکٹر طاہر القادری نے اپنی کتابوں میں بدترین خیانت کا مظاہرہ کیا ہے۔ روایت ہے کہ مہدی چالیس سال تک رہیگا ، پھر قحطانی امیر ہوگا۔۔۔ پھر آخری امیر ہوگا۔ کونسا انصاف ہے کہ مہدی اور قحطانی امیر کو چھوڑ کر آخری امیر کا ذکر کیا جائے؟۔ یہ تینوں بارہ خلفاء میں سے ہونگے۔
نبیﷺ نے غدیرخم کے موقع پرخطاب فرمایا’’ جس کا میں مولیٰ ہوں یہ علی اس کا مولیٰ ہے‘‘۔ بہت زیادہ عرصہ نہیں ہوا کہ ملا اور مولوی اب مولانا بن گئے ۔ جس کا معنیٰ ہمارا مولیٰ ہے۔ جس کو ہم اپنا مولیٰ یعنی مولانا کہتے ہیں کیا وہ ہمارا دوست ہوتاہے؟۔ مولیٰ اور ولی کے معنیٰ سرپرست اور آقا ہیں۔ نبیﷺ نے علیؓ کے بارے میں جو فرمایا ، اس کو مولوی نے دوست سے بدل دیا ، حالانکہ نبیﷺ کو کیا ضرورت تھی کہ علی کو دوست بنانے کا اعلان کرتے؟، اس غلط توجیہ کی وجہ سے قرآن کی آیت کا ترجمہ ومفہوم بھی بدل ڈالا، کہ ’’یہود ونصاریٰ کو دوست نہ بناؤ‘‘۔ ان سے شادی کرسکتے ہیں تو بیوی سے بڑھ کر دوستی کیاہے؟۔ یا بیوی بناکر بھی دشمنی کی جائے؟۔ خلفاء ، علماء اور صوفیاء میں موروثی جانشینی کھلی حقیقت رہی ہے۔ حضرت عمرؓ سے کہا گیا کہ بیٹے عبداللہؓ ابن عمرؓکو جانشین بنادو، مگر عمرؓ نے پابندی لگاکر کہا کہ اس کو طلاق کا طریقہ معلوم نہیں اس کو خلافت کیلئے نااہل قرار دیتا ہوں۔ اسلام منطقی نہیں فطری دین ہے تو مشرکینِ مکہ سے قرابتداری کی وجہ سے رشتہ داری منع کردی۔ حضرت ابن عمرؓ نے منطق نکالی کہ نصاریٰ مشرک ہیں ان سے شادی جائز نہیں ، قرآن میں ان سے شادی جائزہے۔ صحابہؓ میں ابن عمرؓ مولوی تھے حضرت عمرؓ نے خلافت کیلئے نااہل قرار دیاتھا ،عقیدت اپنی جگہ مگرامانت اہل کو سپردکرنے کا حکم ہے۔
حضرت ابوبکرؓ ہنگامی بنیاد پر خلیفہ بن گئے، حضرت عمرؓ کو نامزد کیا گیا، حضرت عثمانؓ کو شوری ٰ کے چند ارکان میں سے اکثر نے منتخب کیا اور حضرت علیؓ فتنوں کے دور میں خلیفہ بنے اور امام حسنؓ کو وراثت میں خلافت ملی مگر دست بردار ہوگئے۔بنوامیہ، بنوعباس اور خلافت عثمانیہ کے ادوار میں موروثی اقتدار رہا۔ عرب میں اب بھی موروثی اقتدار ہے اور پاکستان کی جمہوری جماعتیں بھی موروثی اور شخصی ہیں، انگریز نے خلافت عثمانیہ اور مغلیہ سلطنت کوختم کیا تھا، پھر جمہوریت کی وجہ سے ملکہ برطانیہ کاا قتدار سمٹ گیا۔ برطانیہ کے بعدہم اپنا اسلامی نظام نہیں لاسکے۔ اقتدار تقسیم ہے، مولوی فتویٰ دے کہ طلاق ہوئی اور حلالہ کرلے تو قصائیوں کو جانور ذبح کرکے حلال کرنے کی اجازت ہے۔ مریم نواز کسی اندرونی کہانی کا شکار ہوسکتی ہے ،بہت خواتین طلاق کاماجراء بھگت رہی ہیں۔گھر، معاشرہ، ملکی ، علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر ایسے مسائل ہیں جن کو اسلام نے حل دیامگر ہمارا مذہبی طبقہ توجہ نہیں دینا چاہتا ہے۔ مولانا شبیراحمد