جنرل راحیل شریف نے مولانا فتح ..

395
0

جنرل راحیل شریف نے ستار ایدھی کو کراچی میں عزت دی۔ ٹانک کے بے لوث مولانا ، امن وامان کے ضامن کو بھی زبردست عزت دینی چاہیے ۔
میجر جنرل ظہیر الاسلام عباسی نے تحریک انصاف کے ایوب بیٹنی سے کہا ’’ یہودی کے ٹکٹ پر کھڑے تھے؟‘‘ ہم نے بتایا مولانا فتح خان کی مسجد دفتر تھا
جب خانہ کعبہ پر مہدی کے نام سے قبضہ ہوا، تو ٹانک شہر میں علماء، لیڈر اور رہنما مشن ہسپتال ٹانک کو لوٹنے کیلئے بپھرے تھے، مولانا فتح خان ؒ نے روکا

جنرل راحیل نے ستار ایدھی کو انسانیت کی بلاامتیاز خدمت پر قومی اعزاز سے دفنانے کی عزت بخشی ، عمران خان کو کراچی کے ڈیفنس میں پلاٹ دیا تو ان کی اطلاع کیلئے عرض ہے کہ حضرت مولانا فتح خان صاحبؒ کا انتقال ہوا ، جنوبی وزیرستان اور ضلع کیلئے ٹانک شہر مرکزی حیثیت کا حامل ہے اگر مولانا فتح خان صاحبؒ نہ ہوتے تو ٹانک روز روز بلوؤں کا شکار ہوتا، مختلف ادوار میں مختلف مواقع پر بلوائی آتے اور شہر کے امن ومان کو خراب کردیتے، اقلیتوں کا فرقہ واریت، مذہب اور قوم قبیلہ کے نام پر جینا دوبھر کردیا جاتا، لوٹ مار ہوتی اور لوگوں کو دہشتگردی کا عام نشانہ بنایا جاتا لیکن سب تخریبی قوتوں کے سامنے مولانا فتح خان کی شخصیت ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح حائل رہی ہے۔ مولانا مفتی محمودؒ کے دور سے مولانا فضل الرحمن تک ٹانک میں جمعیت کے ووٹوں کی اکثریت رہی۔ مگر جمعیت کی مرکزی قیادت نے کبھی تومولانا فتح خانؒ کو ایک مرتبہ جیتوانے اپنا کردار ادا کیا ہوتا۔ مولانا فضل الرحمن نے حکومت کی اشیرباد حاصل کی تو سرکاری سطح پر ڈسٹریکٹ خطیب کا عہدہ مولانا فتح خان سے چھین کر غیرمعروف ملا کو دینے میں بھی شرم وحیاء اور غیرت و حمیت سے کام نہ لیا، اپنے باپ کی دوستی کا بھی کوئی لحاظ نہ کیا۔اپنی اخلاقی حیثیت کھونے کے بعد مولانا فتح خانؒ کو سامنے لایا۔
مولانا فتح خان ؒ نے مولانا فضل الرحمن کی منافقانہ چال چلن کو بھرپور طریقہ سے سمجھا مگر حدیث کے مصداق کہ المؤمن غر کریم ’’مؤمن دھوکہ کھانے والا معاف کرنے والا ہوتا ہے‘‘ ہمیشہ عفو و درگزر ، چشم پوشی اور غلطیوں پر گرفت کرنے کے بجائے صرف نظر سے کام لیا۔ ٹانک میں بریلوی، اہل تشیع ، اہلحدیث اقلیت اور دیوبندی مکتبۂ فکر والے اکثریت میں ہیں، عیسائی بھی ہیں۔ اگر مولانا فتح خان تخریب کاری والی ذہنیت رکھتے یا تخریب کارانہ ذہنیت کیخلاف ایک مضبوط بند کی طرح سے زبردست رکاوٹ نہ ہوتے تو ٹانک میں اقلیتوں کیساتھ وہ سلوک ہوتا کہ کوئٹہ میں ہزارہ برادری کے شیعہ اور پنجاب میں عیسائیوں کی بستیاں جلانے کو دنیا بھول جاتی۔ شرو خیر کا مادہ ماحول میں گھٹتا اور بڑھتا ر ہتا ہے، ہرجگہ خیرکے نمائندے اور شر کے عناصر موجود ہیں مگر جب قیادت خیر کے نمائندوں کو نہیں شر کے عناصر کو مل جاتی ہے تو ماحول میں دنگا وفساد اور شرو فتنے کا بازار گرم ہوجاتا ہے۔
ڈیڑھ سوسال پہلے اپرکانیگرم جنوبی وزیرستان میں شرپسند قیادت نے ہلا بول کر ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے اہل تشیع کے تمام افراد کو مرد، خواتین، بوڑھے، جون اور بچے سب کو قتل کردیا تھا اور اتفاق سے ایکا دکا شیر خوار بچے رہ گئے تھے جن کی وجہ سے آج انکے ایک دو گھرانے موجود ہیں۔ لوگ سمجھتے ہونگے کہ ماتمی جلوس اور کالے کپڑوں کی وجہ سے کانیگرم کے باشندوں نے ایسا کیا ہوگا، لیکن یہ بات بالکل بھی نہ تھی، اسلئے کہ مارنے والوں نے کافی عرصہ بعد تک ماتم اور کالی قمیصوں کا سلسلہ جاری رکھا تھا۔ یہ صرف ایک برادری کو لوٹ مار کے بہانے قتل کرنے کا جذبہ تھا ۔ عوام سمجھے گی کہ کانیگرم جنوبی وزیرستان کے لوگوں نے کیا اپنا اجتماعی ضمیر کھو دیا تھا؟۔ نہیں نہیں ہرگز نہیں، میرے والد پیرمقیم شاہؒ نے تقسیم ہند کے وقت بھی بنوں تک سے آنے والے ہندو خاندانوں کو لوئرکانیگرم شہر جنوبی وزیرستان میں کافی عرصہ تک پناہ دی تھی۔ جب حالات ٹھیک ہوگئے تو وہ لوگ بحفاظت گئے اور ابھی قریب کے دور میں کوئی غریب ہندو بسوں میں سفر کرکے میرے والد صاحبؒ سے ملنے آیا، جس کی ملاقات بڑے بھائی پیر جلال شاہ مرحوم سے ہوئی، دور کے مسافر کی دوسرے بھائیوں کو پتہ نہ چلنے کی وجہ سے خاطر خواہی مہمان نوازی نہیں ہوسکی جس کا سب کو بہت افسوس ہوا۔ بھارت جاکر بھی معذرت کرلیں تو سکون نہ ملے گا، اللہ یہ موقع پھر فراہم کردے تاکہ اس کا گلہ دور کردیں۔
وزیرستان اور ٹانک بڑی معتبر شخصیات اور ان کی عمدہ روایات کی وجہ سے امن وامان ، سکون و خوشحالی اور بھائی چارے و رواداری کی آماجگاہ رہے ہیں۔ ٹانک کے ڈگری کالج میں کسی پروفیسر کا پتہ چلا کہ وہ مرزائی ہے تو بڑی مشکل سے وہ جان بچانے میں کامیاب ہوا، ٹانک کے جذباتی عوام کی رہنمائی کیلئے بڑی شخصیات نہ ہوتیں تو پاکستان بھر میں اس کی شہرت فتنہ وفساد، جنگ وجدل اور ہنگامی آرائی کے حوالہ سے پہلے نمبر پر ہوتی۔ مولانا فتح خان ؒ ایک عرصۂ دراز سے ایک بلند مینار ، تناور اور پھلدار درخت کی طرح تھے۔ علمی اعتبار سے میں نے کوئٹہ سے لاہور، سوات سے کراچی تک سفر کرکے بڑے نامی گرامی علماء کرام کی زیارت، ملاقات اور شرفِ تلمذ حاصل کیا ہے ، مدینہ یونیورسٹی میں تخصص( اسپشلائزیشن) پڑھانے والوں کی علمی حیثیت کو ملاقات کرکے بھی دیکھا ہے مگر مولانا فتح خان نوراللہ مرقدہ کی طرح کسی میں علمی قابلیت، معلومات کا وسیع ذخیرہ اور سمجھ بوجھ نہیں دیکھی۔ انکی وفات کے دن نمائندہ نوشتۂ دیوار خیبر پختونخواہ شاہ وزیرخان کافی عرصہ بعد خوش قسمتی سے وہاں تھے اور جنازہ میں بھی شریک ہوئے۔ اسکے فون پر صاحبزادے سے تعزیت بھی کرلی ، نیٹ پر ان کا کوئی نام اور تصویر نہ تھی۔مولانا فضل الرحمن پر رقم قربان کرنے کا اعلان نوازشریف نے کیا تھا جس کا افتتاح کرتے وقت مولانا فتح خانؒ کو بھی اپنی ساکھ کیلئے ساتھ لیا ہوگا، بہرحال قارئین کے ساتھ اخبار کی خوش قسمتی ہے کہ مولانا مرحومؒ کی ایک تصویر مل گئی جو مولاناؒ کی شخصیت کی ایک جھلک ہے۔
مولانا فتح خانؒ سے بہت یادیں وابستہ ہیں، راز ونیاز کی گفتگو ہے، جس سے بہت گوشوں کی نقاب کشائی ہوتی ہے، حوصلہ افزاء ہیں، مولاناؒ کے توسط سے علماء حقانی سے عقیدت ومحبت بڑھتی اور علم وسمجھ کے ابواب کھلتے ہیں۔ مولاناؒ کا دور ایک طویل عرصہ پر محیط ہے، مولاناؒ نے ایک واقعہ کا ذکر کئی مرتبہ کیا کہ ’’بہت عرصہ ہوا، میں ٹانک سے کانیگرم گیاتھا، والد صاحب مرحوم پیر مقیم شاہ نے کہا کہ ہم یہ دوست بیٹھے ہیں، دعوتوں میں یہ موجودافراد سب شریک ہونگے، سات دنوں کایہ شیڈول ہے، میں نے کہا کہ کل مجھے واپس جانا ہے، تو پیرصاحب نے فی البدیہہ کہا کہ اللہ آپ کو زندگی بھر نہ ٹھہرائے، ہمارے شغل کو خراب کردیا۔ وہ دن تھا اور آج کے دن تک کہ پھر کانیگرم میں رات نہیں گزاری ہے‘‘۔

pir_muqeem_shahنیٹ پرہمارے پڑوسی فہیم محسودولد خیربادشاہ مرحوم نے اپنے دادا اور ہمارے والد کی بہت پرانے دور کی تصویر لگائی ۔ بیچ میں دائیں سے بائیں جانب ان کی اور بائیں سے دائیں عصا ء اور گھڑی والی والد مرحوم کی تصویر ہے۔یہ وہ لوگ تھے جن کی وجہ سے علاقے کی عزت اور امن قائم رہنے کا سکہ چلتا تھا، مولانا فتح خان کی مسجد متحدہ مجلس عمل کے وقت تحریک انصاف کا بھی آفس رہاتھا جب لوگ یہودی کہاکرتے تھے۔ وزیراعلیٰ خٹک ٹانک کا نام ’’فتح آباد‘‘ رکھ دے تو بہتر ہوگا۔