مزارعت کے بجائے زمین کو مفت دینے کے چند فوائد

568
0


1: اللہ تعالیٰ نے سودی نظام کو قرآن میں اللہ اور اسکے رسول ﷺ سے اعلان جنگ قرار دیا اور احادیث صحیحہ میں نبیﷺ نے زمین کو کرایہ، مزارعت، ٹھیکہ اور بٹائی پر دینے کی تمام صورتوں کو حرام وناجائز اور سود قرار دیا ہے۔ کوئی جاگیر دار بھی خود کاشتکاری کرتا ہے اور نہ ہی اپنے بچوں سے کاشتکاری کراتاہے۔ جب شاہ محمود قریشی، عمران خان، نوازشریف، زرداری ، مریم نواز، بلاول بھٹو زرداری اور مولانا فضل الرحمن ومولانا اسد محمود وغیرہ تمام سیاستدانوں ، فوجی جرنیلوں اور بڑے بیوروکریٹوں اور انکے بچوں کو کاشتکاری پر لگایا جائے تو انکی صحت بھی ٹھیک ہوجائے گی اور اگر یہ لوگ خود نہ کرسکتے ہوں تو کسان کے بچوں کو نہ صرف اپنی روزی ملے گی بلکہ ان کی قابل اولاد میں بہترین تعلیم کے ذریعے فوجی جرنیل اور بیوروکریٹ،ڈاکٹر وسائنسدان ، انجنئیر اور سیاستدان بھی پیدا ہوں گے۔
بلاول، بختاور ، حسن وحسین اور مریم جیسے لوگوں کی اچھے تعلیمی اداروں میں پڑھنے کے باوجود اپنے اندر صلاحیت پیدا کرنے کے بجائے کام کے نہ کاج کے دشمن اناج کے سے زیادہ حیثیت پیدا نہیں کی ۔ فارمی و برائلر ٹائپ کے مرغے اور مرغیاں اقتدار میں اور بااثر عہدوں پر براجمان ہوتے جارہے ہیں مگر دیسی اور اصلی مرغے اور مرغیاں غربت کی لکیر کے نیچے زندگی گزارتے ہوں ،پھر اس ملک کا انجام کیا ہوگا؟۔ ایک ناگوار انقلا ب سے بچت کیسے ہوسکے گی؟۔
2: زیادہ سے زیادہ یہ خدشہ ہوگا کہ تیار خور طبقہ بھوک کی موت مرے گالیکن اس کیلئے فکر کی ضرورت نہیں ، مولوی حضرات کے بعد بڑے بڑے ادارے بھی جب بھیک اور زکوٰۃ پر چل رہے ہیں تو چند جاگیرداروں کوبھی زکوٰۃ سے پالا جاسکتا ہے۔ زمین کو مفت کاشت پر دینے سے مزدور طبقے کی دہاڑی بھی بہت بڑھے گی اور غریب وامیر طبقات کے درمیان فاصلہ بہت کم ہوجائیگا۔ جس کو بھی اپنی محنت سے زمین کے ذریعے مالدار بننے کا موقع ملے گا تو وہ زمین کی کاشت کو چھوڑ کر کسی سہل کام میں اپنا سرمایہ لگائے گا۔ یوں باہر سے سرمایہ کار لانے کیلئے ہمیں ضرورت بھی نہیں پڑے گی۔ روس اور چین بھی اس نظام کو قبول کرنے میں بہت خوشی محسوس کرینگے۔ سرمایہ دارانہ نظام اور کمیونزم کے درمیان اعتدال سے صراطِ مستقیم کی نشاندہی ہوگی تو ابلیس فساد فی الارض کی سازش میں ناکام ہوگا۔
3: برصغیر پاک وہند کی زر خیز زمینوں میں کاشتکاری کے ذریعے غربت کے خاتمہ میں مدد ملے گی تو بھارت پاکستان کیلئے رام ہوجائیگا۔ میدانی علاقوں میں بڑے پیمانے پرکاشتکاری سے چین وروس کے پہاڑی علاقوں میں سپلائی کا کام ہوگا تو نسلی اور طبقاتی تقسیم کا بھی خاتمہ ہوگا۔ رسول اللہﷺ نے کالے گورے، عرب وعجم اور تمام نسلی امتیازات کا خاتمہ کردیا تھا۔ ابوجہل وابولہب اور ابوسفیان کا غرور توڑ کر بلالِ حبشیؓ، صہیب رومیؓ اور سلمان فارسیؓ کی عزت افزائی ہوئی تھی۔ ہمارے ہاں کرپشن سے جاگیردار اور سرمایہ دار پیدا کرکے طبقاتی تقسیم کا بیج بویا گیا ہے۔ کاشتکار شودر اور جاگیردار برہمن بن گئے ہیں۔اسلامی اقتصادی نظام کے ذریعے پاکستان میں کرپشن کے سردار پھر اپنی جگہ اور اوقات پر آسکتے ہیں۔