خانہ بدوش مولانا فضل الرحمن درباری مُلا بننے کے بعد

446
0

اللہ تعالیٰ نے سورۂ قریش میں دنیا کی معززترین عرب قوم قریش کو مخاطب کرتے ہوئے خانہ بدوش قرار دیا ، خانہ بدوشی عیب نہیں، اسلام و فطرت کے منافی بھی نہیں، غیرت و حمیت کی بھی خلاف نہیں البتہ قافلے میں بوڑھے، جوان، خواتین و حضرات اور بچے بچیوں کا چلنا مشقت ضرور ہے۔ مولانا فضل الرحمن کے اجداد بھی خانہ بدوش تھے۔ مسلمانوں کا عظیم اجتماع ’’حج‘‘ ہوتاہے جہاں لوگ دنیا بھر سے خاندان سمیت بڑی تعداد میں آتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن نے سلیم صافی کو انٹریو دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے Dچوک کی طرح تو خواتین کا مظاہرہ نہیں کرنا تھا ، ہمارے مرد حضرات خواتین کی نمائندگی کرتے ہیں۔ مخلوط نظام کی اسلام اجازت نہیں دیتا۔ جیو کی پالیسی نہیں ہوگی ورنہ سلیم صافی حج کا حوالہ دیکر مولاناکا قہقہہ رونے میں بدل سکتے تھے۔
اسلام میں خواتین کیساتھ زیادتی کے علاوہ قوم لوط کے غیر فطری عمل کو بھی بہت مذموم قرار دیا گیا ہے۔ مدارس کے نصاب میں شامل ’’مقاماتِ الحریری‘‘ میں لڑکے کیساتھ زیادتی پر بہت شرمناک سبق ہے جس میں جوزر علیہ شوزر ہے، جوزر لڑکے اور شوزر رومال کو کہتے ہیں ، یعنی وہ لڑکا جس پر رومال تھا۔ ابوزید اپنا حلیہ بدل کر اس پر دعویٰ کرتاہے کہ اس نے میرے لڑکے کو مارا تھا، قاضی کے سامنے گواہ پیش نہیں کرسکتا تو لڑکے سے اپنے الفاظ پر قسم کھلاتا ہے کہ پھڑکنے والے گال سے لیکر آنکھوں اور لبوں تک کی تعریف کرکے انتہائی بیہودگی کا یہ لفظ بھی کہتاہے کہ ’’میری دوات قلموں سے ایسی ہوجائے‘‘۔ جس پر لڑکا قسم سے انکار کرتا ہے اور وہ شخص ابوزید اس قاضی کے جذبات کو بھی مشتعل کردیتا ہے اور اس کو لڑکے سے برائی کی دعوت کا دھوکہ دیکر پیسے بٹورتاہے۔ پھر انکشاف کرتاہے کہ یہ لڑکا اس کا اپنا ہی بیٹاہے۔بنوری ٹاؤن میں اس کتاب کے ہمارے استاذ مفتی نعیم تھے۔ جب میرے ایک بھائی نے ایک مولوی کا کہا کہ ’’اس بے غیرت نے اپنے بیٹے کو استعمال کرنے کیلئے چھوڑ رکھاہے‘‘ تو مجھے اتنا غصہ آیا کہ میرا پروگرام بنا کہ رات کو بھائی کو قتل کردونگا، بھائی کو میری دل آزاری کا احساس ہوا، اور مجھ سے بڑی شدت سے معافی مانگی۔ بعد میں بھائی جے یو آئی میں شامل ہوا، پھر جب میں باقاعدہ مدارس میں پڑھنے لگا تو پتہ چلا کہ علماء میں اچھے برے ہوتے ہیں۔ میرے والد نے ایک نواب کی علاقہ عمائدین کی طرف سے تعریف پر کہا’’اس نے لڑکوں سے زیادتیاں کی ہیں کونسا اچھا کام کیاہے؟‘‘۔ اس نواب نے تبلیغی اجتماع کیلئے اس قسم کا اظہارِ خیال کیا تھا اور اب مولانا فضل الرحمن عمران خان سے سیاسی اختلاف کا اظہار ضرور کریں ، پہلے جمعیت کا شاعر امین گیلانی نوازشریف کیخلاف عابدہ حسین اور تہمینہ دولتانہ کا نام لیکر مولانافضل الرحمن کے جلسے میں عوام کو بھڑکاتاتھااسلئے کہ محترمہ بینظیر سے دوستی تھی، اب مولانا مریم نواز کا دفاع کرینگے جو سیاست کرنی ہو کریں لیکن اسلام کا نام بدنام نہ کریں،سب اپنے اپنے قماش کو درست کریں۔