مولانا فضل الرحمن، سراج الحق، مفتی منیب الرحمن تمام مذہبی طبقات قرآن کی دو آیات کیلئے ایک کمیٹی بنادیں

Molana Fazl ur Rehman, Mufti Muneeb Ur Rehman, Jamat e Islami, Molana Modudi, Surah An-Nisa, Surah Al-Baqarah

مولانا فضل الرحمن، سراج الحق، مفتی منیب الرحمن تمام مذہبی طبقات قرآن کی دو آیات کیلئے ایک کمیٹی بنادیں

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

سورۂ بقرہ کی آیت(229)اور سورۂ النساء کی آیت(19) کی وضاحت کئی مسائل کا بڑاحل ہے

افغانستان، فلسطین اور کشمیر کی فکر کرنے والوں نے مسلمانوں کو کس حال پر پہنچادیا ہے؟

عورتوںکو قرآن نے کیا حقوق دئیے ہیں اور مذہبی طبقات نے اس کا کیا حشر کردیا ہے؟

سورۂ بقرہ کی آیات (222) سے (232) تک میں عورتوں کے حقوق اور طلاق کے مسائل کی زبردست تفصیل ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ وانزلنا الکتٰب تبیانًا لکل شئی اور ہم نے کتاب ہر چیز کو واضح کرنے کیلئے نازل کی۔ ایک ایک آیت میں حیران کن عالمِ انسانیت کی تقدیر کی کایا پلٹ دی ہے لیکن افسوس یہ ہے کہ مذہبی طبقے نے یہودونصاریٰ کے علماء ومشائخ کی طرح انسانی فطرت کے عین مطابق دین کو اپنی جانور صفت جگالی سے چبا چبا کرکھائے ہوئے بھوسے کی طرح بنادیا ۔ یہ شکر ہے کہ قرآن کے الفاظ کی حفاظت کا ذمہ اللہ نے خود لیا۔ شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی کے دادا پیرمولانا اشرف علی تھانوی نے اپنی کتاب ” حیلہ ٔ ناجزہ” میں لکھ دیا ہے کہ ” اگر شوہر بیوی کو تین طلاق دیدے تو بیوی اس پر حرام ہے۔ پھر اگر شوہر مکر جائے تو عورت کو دو گواہوں کی ضرورت ہوگی اور اگر اسکے پاس دو گواہ نہ تھے اور شوہر نے قسم کھالی تو عورت کو خلع لینا چاہیے اور اگر شوہر خلع پر بھی راضی نہ ہو تو پھر عورت حرام کاری پر مجبور ہوگی”۔ یہ مسئلہ فقہ کی کتابوں کا ہے ۔ اگر قرآن کا درست ترجمہ وتفسیر سمجھ میں آجاتا تو اس قسم کی واہی تباہی کے مسائل گھڑنے کی کبھی نوبت نہیں آسکتی تھی۔
خلع و طلاق میں حقوق کا فرق ہے۔ خلع میں غیر منقولہ جائیداد شوہر کو واپس کرنی ہوگی جبکہ منقولہ اشیاء اپنے ساتھ لے جاسکتی ہے اور طلاق میں منقولہ وغیرمنقولہ تمام اشیاء عورت کا اپنا حق ہیں۔شوہر نے بہت سارے خزانے دئیے ہوں تب بھی واپس لینے کا حق نہیں رکھتا ہے۔ سورہ النساء کی (آیت19،20،21) میں یہ معاملات بالکل واضح ہیں۔ سورۂ بقرہ آیت (229) میں بھی طلاق کا معاملہ ہے جس میں تمام دی ہوئی چیزوں کو واپس لینے کا حلال نہ ہونا واضح ہے مگر ایسی صورت میں جب دونوں اور فیصلہ کرنے والے اس بات پر متفق ہوں کہ اگر وہ چیز واپس نہیں کی گئی تو دونوں میں علیحدگی کے بعد ایسا رابطہ بن سکتا ہے کہ دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیں تو ایسی صورت میں صرف وہی دی ہوئی چیز کے فدیہ کرنے میں ان دونوں پرکوئی حرج نہیں ہے”۔
آیت میں مرحلہ وار تین مرتبہ طلاق کے بعد اس صورتحال کی وضاحت ہے اور یہ بھی واضح کردیا گیا ہے کہ ”شوہر کی طرف سے دی گئی چیزوں میں سے کچھ بھی واپس لینا حلال نہیں ہے لیکن جب دونوں ایک مجبوری پر متفق ہوں کہ اللہ کی حدود پر قائم نہ رہ سکیںگے تو ایسی صورت وہ چیز جس کو واپس نہ کرنے کی وضاحت ہے اور ایک مجبوری کے تحت فدیہ کرنے میں واپس کرنے کی گنجائش نکالی گئی ہے تو اس کو خلع کیلئے معاوضہ قرار دینا بہت بدترین قسم کی جہالت ہے۔ جماعت اسلامی کے بانی مولانا سیدمودودی نے اپنے ترجمہ وتفسیر ” تفہیم القرآن” میں اس جہالت کا بہت واضح الفاظ میں مظاہرہ کیا ہے۔ جماعت اسلامی کا تنخواہ دار مولوی طبقہ بھی سمجھ بوجھ رکھنے کے باوجود اپنی نوکری کی خاطر اس جہالت سے پردہ نہیں اٹھاتا ہے۔
جب ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دی جائے تومقرر نصف حق مہر اور وسعت کے مطابق آدھا حق مہر ضروری ہے۔ ہاتھ لگانے اور بچے پیدا کرنے کے بعد باقی نصف حق مہر کی کیا حیثیت رہتی ہے؟۔ حق مہر شوہر کی طرف سے عورت کو راضی رکھنے کی سیکورٹی ہوتی ہے ۔جب عورت خلع یا طلاق کے مرحلے سے گزرتی ہے تو قرآن نے اسکے اختیار اور حقوق کو پورا پورا تحفظ دیا ہے لیکن ہمارا مذہبی طبقہ اتنا بے ایمان ہوچکا ہے کہ اللہ کے واضح احکام کو سمجھنے کے باوجود بھی اپنے مفاد کیلئے قبول نہیں کرتا۔جب مولوی نے عورت کے حقوق کو غصب کردیا ہے تو پھر مولوی پنجابی ہو تو جہیز کی لعنت کا خاتمہ اس کیلئے ممکن نہیں اور پختون ہو تو حق مہر کے نام پر بیٹی اور بہن کو بیچنے کے خلاف آواز نہیں اُٹھا سکتا۔ قرآن وسنت سے لوگ بیگانہ اور مولوی اسپیئر وہیل ہے۔

Leave a Reply

Back to top button