مولانا فضل الرحمن کے حوالے سے تجزیہ: فیروز چھیپا

916
0

مولانا فضل الرحمن اعلان کریں کہ مفتی محمودؒ نے زکوٰۃ کے مسئلہ پر غلط کیا تھا، سود کے مسئلہ پر بھی مفتی تقی عثمانی کا مؤقف درست ہے

سیاست میں مفاد، پیسہ اور اقتدار کی خاطر ضمیر کی قربانی مسئلہ اسلئے نہ رہا کہ اس حمام میں سب ننگے ہیں مگر دین کی حفاظت تو کریں

امام ابو حنیفہؒ ، امام مالکؒ اور امام شافعیؒ کے نزدیک متفقہ طور پر احادیث صحیحہ کیمطابق مزارعت جائز نہ تھی بعد میں…… فیروز چھیپا

مولانا فضل الرحمن نے اپنی زندگی کو اسلام کی خاطر سیاست کی نذر کردیا ، سیاست ایک عبادت ہے لیکن خیانت کی سیاست بڑی منافقت ہے ۔ مولانا فضل الرحمن مراقبہ کرکے یہ تجزیہ کریں کہ کیا کھویا کیا پایا؟۔ مفتی محمودؒ نے بھی سیاست کی اور اس سے پہلے مولانا آزاد ؒ ، شیخ الہندؒ ، مولانا حسین احمد مدنیؒ ، مولانا شبیر احمد عثمانیؒ وغیرہ نے بھی نظریاتی سیاست کی۔ بعض متحدہ ہندوستان کے حامی تھے اور بعض تقسیم ہند اور پاکستان کے حامی تھے۔ دونوں طبقے کانگریس اور مسلم لیگ کی طفیلی سیاست کررہے تھے۔ مولانا فضل الرحمن کی حیثیت بھی اپنے بڑوں سے بڑی نہیں ہوسکتی۔ ایک مرتبہ مفتی محمودؒ کو اپوزیشن کی قیادت مل گئی تھی مگر ذو الفقار علی بھٹو نے اسلام آباد میں پلاٹوں کا سلسلہ شروع کیا تو مفتی محمودؒ اور مولانا غلام غوث ہزارویؒ کے سوا ہر اپوزیشن رہنما نے پلاٹ کو قبول کرنے سے انکار کیا۔ مولانا فضل الرحمن جس ڈگر پر چل رہے ہیں اس میں بدعت ہے نہ جدت۔ بلوچستان میں اکثریت جمعیت علماء اسلام کے نمائندوں کی تھی جسکی وجہ سے بلوچستان کا وزیر اعلیٰ جمعیت علماء اسلام کا ہی بن سکتا تھا، مگر اس پر سودا بازی کی گئی اور صوبہ سرحد میں اقلیت والی جماعت کی بنیاد پر مفتی محمودؒ وزیر اعلیٰ بن گئے۔ الیکشن جیتنے کیلئے بھی دوسرے سیاسی امیدواروں کے ساتھ گٹھ جوڑ کرکے خود کو جتوانا اور اپنی جماعت کے افراد کو ہرانا بہت پرانا حربہ تھا۔
بنوں کی سیٹ پر جمعیت کا الیکشن لڑنے والے مولانا مطالبہ کرتے تھے کہ مولانا مفتی محمودؒ مرکز کے عہدیدار ہیں اسلئے میرے لئے بھی میرے حلقے میں آکر ووٹ مانگیں لیکن مفتی صاحب کا سیف اللہ برادران سے معاہدہ ہوتا تھا، ٹانک کی صوبائی نشست اور بنوں کی قومی نشست خفیہ طور پر دوسروں کو حوالے کردی جاتی تھی۔ مولانا فضل الرحمن کھل کر اس طرح کے معاملات کریں تو وہ صراط مستقیم پر گامزن ہیں البتہ مفتی محمودؒ نے ختم نبوت کا مسئلہ حل کرنے میں زبردست کردار ادا کیا ، زکوٰۃ کے مسئلے پر زندگی کی آخری گفتگو کی ، مفتی تقی عثمانی نے پان کھلادیا اور مفتی رفیع عثمانی نے بھی دورہ قلب کی خصوصی گولی حلق میں ڈال دی مگر جانبر نہ ہوسکے۔ مفتی تقی عثمانی نے لکھا کہ ہم دونوں بھائیوں کو چائے کی پیشکش کی لیکن ہم نے معذرت کی کہ دن میں ایک سے زیادہ مرتبہ چائے نہیں پیتے۔ پھر مفتی محمودؒ کو پان کا بٹوا دکھایا کہ حضرت ہمارے ساتھ یہ علت لگی ہوئی ہے۔ مفتی صاحب نے فرمایا کہ یہ تو چائے سے بھی بدتر ہے۔پھر آگے گفتگو لکھی مگر پان کھلانے اور گولی کا ذکر نہ کیا۔ جبکہ مولانا یوسف لدھیانوی شہیدؒ نے ان دونوں باتوں کا بھی ذکر کیا تھا جس پر مفتی تقی عثمانی نے ان کو جھاڑ بھی پلائی تھی۔ پان خور وہ ہوتا ہے جو تمباکو والا پان کھاتا ہو۔ اپنے بزرگوں کو اصرار کرکے تمباکو والا پان کھلانا غلط ہے اور اچھے بچے ایسا نہیں کرتے۔ مولانا فضل الرحمن اور مفتی تقی عثمانی کو ایک جگہ پر دعوت کیلئے مدعو کیا جائے اور کھانے کے بعد مفتی تقی عثمانی سے پان لیکر مولانا فضل الرحمن کو کھلادیا جائے تو سارا معمہ حل ہوجائیگا۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ مولانا نے ابھی تو پان کھاہی لیا ہو اور پتہ چلے کہ مولانا کلٹی۔ مفتی محمودؒ چھپ کر پان ضرور کھاتے ہو نگے اورمولانا فضل الرحمن کو پان کھلانے سے گریز کیا جائے۔ پان کے چھونے سے منہ پھٹنا یقینی ہوتا ہے ۔
طلاق کے مسئلے پر مولانا فضل الرحمن نے اگر صحیح اسٹینڈ لیا تو چھوٹے موٹے بہت سے گناہ معاف ہوجائینگے۔ قرآن و سنت کے بنیادی مسئلے پر ذہن کھل جائے اور پھر بھی عقیدتمندوں کے گھر تباہ ہوں ، حلالوں کی لعنت سے دو چار ہوں اور اس پر چپ کی سادھ لی جائے تو دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی بہت بڑی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ پہلے مولانا فضل الرحمن مفتی محمودؒ کے مؤقف پر کھڑے تھے اور بینکوں سے کٹنے والی زکوٰۃ کو شراب کی بوتل پر آب زم زم کا لیبل قرار دیتے تھے ، پھر حکومتوں میں شامل ہوکر اپنے لوگوں کو زکوٰۃ کی کمیٹی کا چیئر مین بنانے کو ترجیح دی۔ بھوک کی حالت میں خنزیر کے گوشت کی بھی اجازت ہوتی ہے چلو ہم اس معاملے کو درست تعبیر پر محمول کرلیتے ہیں لیکن اتنا یاد رہے کہ درباری علماء نے ہمیشہ اسلام کے حلیہ کو بگاڑا ، پہلے تو علماء حق نے مزاحمت کی مگر بعد میں انکے جانشین آہستہ آہستہ رام ہوتے گئے، زکوٰۃ کے بعد سُود کا مسئلہ آیا، سارے علماء و مفتیان ایک طرف کھڑے ہیں اور مفتی تقی عثمانی اکیلے بینکوں سے معاوضہ لیکر سودی نظام کو اسلامی قرار دے رہا ہے۔ مولانا فضل الرحمن سیاسی مفادات کا خیال رکھیں مگر کچھ تو ایمان اور آخرت کیلئے بھی کریں۔ اسلام فطری دین ہے ،جسکوتاریخ کے ادوارمیں غیر فطری بنایا جاتارہا۔
امام ابو حنیفہؒ ، امام مالکؒ اور امام شافعیؒ متفق تھے کہ زمین کو مزارعت ، بٹائی ، کرایہ اور ٹھیکے پر دینا جائز نہیں اور اس کیلئے بہت سی احادیث صحیحہ بھی موجود ہیں۔ پھر علماء سُوء نے ان ائمہ حق کا ہی جانشین بن کر مزارعت کو یہ کہہ کر جائز قرار دیا کہ اسکی وجہ سے لوگ غلام بنتے تھے ورنہ اپنے اصل کے اعتبار سے ناجائز نہ تھا۔ حالانکہ آج بھی مزارعین غلاموں سے بدتر زندگی گزار رہے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن خود پہلے اسی فکر کے بتائے جاتے ہیں لیکن بعد میں وہ خود بھی ان جاگیرداروں ، نوابوں اور وڈیروں کی صفوں میں شامل ہوگئے جن سے لڑنے نکلے تھے۔
ایمان ، قرآن اور آخرت کیلئے نہ سہی ، دنیا ، سیاست اور مفاد کیلئے ہی اسلام کے فطری نظام کو دنیا میں رائج کرنے کو اپنا مشن بنالیں ، حلالہ کی لعنت سے اپنے ہی عقیدتمندوں ہی کو بچالیں۔
اپنے من میں ڈوب کر پاجا سراغِ زندگی تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن ،اپنا تو بن
عوام کو فطری نظام کی دعوت دی جائے تو ملک کے کونے کونے سے خوش آمدید کی آوازیں ہی سنائی دیں گی اور بصورت دیگر عوام کے شعور پر زیادہ دیر تک پہرا لگانا ممکن نہیں ہے اور جب عوام کا شعور خود بیدار ہوجائے تو پھر علماء کو اپنے ٹھکانے بدلنے پڑیں گے۔ کراچی کے حالیہ احتجاج کے پیچھے نواز شریف کا پیسہ تو نہیں تھا تاکہ جمعیت کی نفری سے فوج کو ڈرایا جائے؟۔