مولانا شہزاد قادری کے اعتراضات

کراچی (حیدر علی، بہادر علی) مولانا شہزاد قادری، امام جامع مسجد گلستان غوثیہ، جین روڈ، گذدر آباد، رنچھوڑ لائن کراچی نے نوشتہ دیوار پر جو اعتراضات کئے ہیں ان کا خلاصہ اور جواب ملاحظہ فرمائیں۔
1: مولانا شہزاد قادری نے لکھا ہے کہ یہ مذہبی اخبار ہے جس میں لڑکیوں کی بڑی تصاویر شائع کرنا مناسب نہیں ہے۔
مولانا صاحب! آپ کو بالکل حق ہے کہ ہماری اصلاح فرمائیں۔ اگر کسی لڑکی نے اپنا مؤقف سوشل میڈیا پر بیان کیا ہو اور اس کو بڑی تیزی سے پذیرائی مل گئی ہو تو مذہبی طبقات کویہ آئینہ دکھانا ضروری تھا تاکہ مذہب کے نشے میں رہنے والے بھی ہوش کے ناخن لیں۔ یہ منطق کس کو سمجھ میں آئے گی کہ ایک طرف مذہبی خداؤں کا
گھر بار، بیوی، بیٹے، بیٹیاں سب اسمارٹ فون استعمال کرتے ہوں جس میں نیٹ کی تمام فحاشیاں موجود ہوں۔ ہر وقت اس کا استعمال خلاف شرع نہ لگتا ہو۔ ٹی وی کی نشریات پر انواع و اقسام کے اشتہارات گھروں میں چلتے ہوں لیکن مذہبی اخبار پر کسی خاتون کی تصویر بہت بری لگتی ہو؟۔
مولانا شہزاد قادری نے تصاویر کیخلاف کچھ احادیث کو نقل کیا ہے لیکن جب مدنی چینل کی مذہبی نشریات پر اعتراض نہیں تو یہ کونسے ایمان کا تقاضہ ہے کہ کچھ تصاویر تو مذہب کے نام پر جائز اور کچھ دنیا کے نام پر ناجائز بن جائیں۔ حالانکہ اسلام نے تصاویر کو پوجا پاٹ کی وجہ سے ہی ناجائز کہا تھا۔ جس حدیث میں تصاویر کو ناجائز کہا گیا ہے اس میں اللہ کا مقابلہ کرنے کی بات ہے۔ تخلیق کے ذریعے مقابلہ نہیں ہوتا بلکہ جس چیز کی پوجا پاٹ کی جائے اسی سے مقابلہ ہوتا ہے۔ فارمی پرندے، جانور اور نباتات ناجائز نہیں لیکن صلیب کو اسلئے ناجائز کہا گیا کہ اس کی پوجا پاٹ بھی ہوتی ہے حالانکہ وہ جاندار نہیں ہے۔
2: مولانا شہزاد قادری نے یہ بھی کہا ہے کہ اخبار لوگوں پر کیچڑ اچھالتا ہے۔
المیہ یہ ہے کہ فرقہ واریت سے بالاتر ہر دینی مسئلہ مذہبی لوگوں کو کیچڑ لگتا ہے۔ اس کا ہمارے پاس کیا جواب ہوگا؟۔ مولوی کی بینکاری، سُود اور تصویر جائز مگر یہی کام کوئی دوسرا کرے تو ناجائز۔یہ بہت بند گلی ہے اور اس سے مذہبی طبقے کو نکلنا ہوگا۔
3: مولانا شہزاد قادری نے کہا کہ مولانا الیاس قادری کا ممتاز قادری کے بارے میں ادھورا بیان نقل کیا گیا ہے۔
جو کلپ تھا وہ نقل کیا گیا۔ بیان بھیج دیں شائع کردینگے لیکن یہ یاد رکھیں کہ گستاخان کی بڑی فہرست ہے۔ مولانا احمد رضا خان بریلوی ؒ نے اکابر دیوبند مولانا اشرف علی تھانویؒ وغیرہ پر گستاخیوں کے فتوے لگائے مگر ان کو واجب القتل نہیں قرار دیا۔ نہ غلبہ عشق سے مغلوب ہوکر کبھی اقدام قتل کیا۔ اب بھی جن کو گستاخ قرار دیا جاتا ہے لیکن ان کے پاس طاقت ہے تو مساجد کے خطیبوں کو یہ گستاخیاں کرنے کی اجازت ہے۔ اسی طرح دیوبندیوں نے جماعت اسلامی والوں پر گستاخیوں کے فتوے لگائے تھے۔ دین پوش اور فتویٰ فروش کبھی خود اقدا م نہیں کرتے۔
یہ یاد رہے کہ پیپلز پارٹی کے گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو راستے سے ہٹانے کیلئے معروف صحافی رؤف کلاسرا نے ایک کتاب ”ایک قتل جو ہونہ سکا“ لکھی ہے۔ جس میں یہ انکشاف کیا گیا ہے کہ گورنر پنجاب پر چیف جسٹس پنجاب خواجہ شریف کے خلاف قتل کرنے کی جھوٹی سازش گھڑی گئی تھی۔ بعد میں سلمان تاثیر کے بیٹے شہباز تاثیر کو اغوا کیا گیا تھا۔ پھر مشعال خان پر بھی گستاخی کا جھوٹاالزام لگا کر شہید کیا گیا۔ مذہبی طبقے پرائی شادی میں عبد اللہ دیوانے بنتے ہیں۔ دین کے بجائے فرقہ واریت کا ناسور ان میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوتا ہے۔ ہم نے دیکھا تھا کہ جب مفتی تقی عثمانی کی کتاب سے سورہ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کے جواز کا ہم نے حوالہ دیا تو قادری صاحبان نے کس قدر اس کے فوٹو اسٹیٹ بڑے پیمانے پر تقسیم کئے۔ مگر جب ان کو اپنا پتہ چلا تو گویا ان کو سانپ سونگھ گیا ہو۔ غلط تو نہیں؟۔
دین و ایمان کے جذبے میں اور فرقہ وارانہ کاروبار کے جذبے میں آسمان وزمین کا فرق ہوتا ہے۔ جب ایک خاتون نے رسول اللہ ﷺ سے ظہار کے بارے میں فتویٰ پوچھا تو آپ ﷺ نے دین سمجھ کر فرمایا کہ آپ اپنے شوہر پر حرام ہوچکی ہو۔ علامہ غلام رسول سعیدی نے اپنی تفسیر تبیان القرآن میں تفصیل سے واقعہ لکھا ہے۔ جب قرآن کی سورہ مجادلہ نازل ہوئی جس میں اللہ نے واضح کردیا کہ یہ منکر اور جھوٹا قول ہے۔ ماں وہ ہے جس نے اسکو جنا ہو۔ تو کیا رسول اللہ ﷺ قرآن کے مقابلے میں باطل مذہب پر ڈٹ گئے؟۔ کیا رسول اللہ ﷺ سے ہمارے مذہبی فقہاء کا مقام بڑا ہے کہ وہ کسی غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہوسکتے؟۔
قادری صاحب! تمام فرقوں میں دینی جذبہ رکھنے والا طبقہ بھی موجود ہے اور جو فرقہ واریت کی آگ میں سلگ رہے ہیں وہ بھی موجود ہیں۔ اب فرقہ واریت نہیں چلے گی اور انشاء اللہ تمام دیندار طبقات اکھٹے ہونگے۔
جب علاقہ گومل ٹانک میں بریلوی مکتبہ فکر کے مولانا احمد صاحب نے کہا کہ ہم میلاد النبی ﷺ کا جلوس ٹانک میں نکالنا چاہتے ہیں اور دیوبندی ہمیں نہیں نکالنے دیتے تو ان کے پاس ہماری اس دلیل کا کوئی جواب نہیں ہے کہ اگر میلاد النبی کا جلوس منع ہے تو قرآن و احادیث سے ثابت کرو۔ ہم نے ان سے کہا کہ کسی عمل کیلئے دلیل آپ کو دینی پڑے گی۔ اگر کوئی مرغا بن کر نماز پڑھنا چاہے اور اس سے منع ہونے کیلئے قرآن و حدیث سے دلیل مانگے تو بات ٹھیک نہیں۔ البتہ آپ دیوبندیوں سے یہ کہہ دیں کہ ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن کا صدر مقام ہے، دیوبندی بھی ڈیرہ میں میلاد النبی کا جلوس نکالتے ہیں۔ اگر تم منع کرو تو پہلے ان کو روکو، جو تمہارے ہم مسلک ہیں اور جلوس نکالتے ہیں۔ جبکہ دیوبندیوں سے ہم نے کہا کہ جہاں تمہارا زور چلتا ہو وہاں ان کو روکنا اخلاقیات کے خلاف ہے۔ تبلیغی جماعت پورے پاکستان بلکہ دنیا میں گشت کرتی پھرتی ہے اگر آپ کسی کیلئے رکاوٹ بننا پسند کرتے ہیں تو پھر تمہارے لئے بھی رکاوٹیں کھڑی ہوں گی جو تمہیں پسند نہ ہوں گی۔
طلاق ثلاثہ کا شرعی حکم کے عنوان سے پہلے بھی علامہ مفتی عطاء اللہ نعیمی صاحب کا رسالہ چھپا تھا اور اب پھر یہ کتابی صورت میں شائع کیا گیا ہے، اس میں ان احادیث کو نقل کیا گیا ہے جس میں حلالہ کو لعنت اور حلالہ کرنے والے کو کرائے کا بکرا قرار دیا گیا ہے۔ جس کی تشریح میں لکھا ہے کہ ایسے شخص میں غیرت کی کمی ہوتی ہے جو کسی اور کیلئے یہ کام کرے۔ اسلئے رسول اللہ ﷺ نے اس کو لعنت اور کرائے کے بکرے سے تشبیہ دی ہے۔ پھر حلالہ کے دفاع میں مفتی عطاء اللہ نعیمی اپنی حدود سے تجاوز کرتے ہوئے یہانتک لکھتے ہیں کہ ”اب حلالہ کے لفظ کو بے شرمی بے حیائی قرار دینے اور مذاق اڑانے کی کیا کسی مسلمان کا ایمان اجازت دے گا؟ ہرگز نہیں۔ صرف وہی یہ بات کہے گا جس کے دل میں ایمان و ایقان کی جگہ بے شرمی و حیائی نے لے لی ہوگی۔ کتبہ عبدہ محمد عطاء اللہ نعیمی غفرلہ“۔
آپ ایمانداری سے بتائیں کہ مفتی عطاء اللہ نعیمی کی اس تحریر کی زد سے شان رسالت ﷺ میں بدترین گستاخی کا ارتکاب نہیں ہورہا ہے؟۔ آپ اس کو کیچڑ اچھالنا کہیں یا خواہ مخواہ کا اختلاف قرار دیں لیکن دنیا میں طاقتور اور اپنے طبقے کی کوئی پکڑ نہیں کرتا اسلئے کہ دین نہیں فرقہ واریت کے ناسور کا معاملہ ہے۔ ہم اپنا فرض پورا کریں گے۔
جب سلمان تاثیر کو قتل کیا گیا تھا تو ڈاکٹر فرید پراچہ رہنما جماعت اسلامی نے قرآن کی آیت کا بھی غلط حوالہ دیا تھا کہ رسول اللہ ﷺ کو اذیت دینے والوں کے بارے میں حکم ہے کہ ان کو جہاں پایا جائے قتل کیا جائے۔ حالانکہ اس آیت کا تعلق اذیت رسول کے رکوع کے بعد خواتین کو اذیت دینے سے متعلق تھا۔ چند مخلص صحابہؓ نے حضرت عائشہ صدیقہؓ پر بہتان باندھنے میں حصہ لیا تھا جن میں حضرت حسانؓ، حضرت مسطحؓ اور حضرت حمنہؓ شامل تھے۔ مگر قرآن میں ان کو قتل کرنے کا حکم نہیں ہوا۔ کسی بھی عورت پر بہتان لگانے کی سزا قرآن نے 80کوڑے مقرر کئے ہیں وہی سزا حضرت اُم المؤمنین ؓ پر بہتان لگانے والوں کو بھی دی گئی۔ حضرت اُم المؤمنین ؓ پر بہتان سے زیادہ کس بات پر رسول اللہ ﷺ کو اذیت ہوسکتی تھی؟۔ اگر دنیا کے سامنے اسٹیٹس کو کو ختم کرنے کیلئے قرآن و سنت کا یہ واقعہ بتادیا جاتا تو ایک انقلاب آجاتا۔ توہین آمیز کارٹون کے موجد یہ کہہ کر گنبد خضرا کو سجدہ کرتے کہ ہم حضرت یوسف ؑ کو ماننے والے ہیں۔ اسلئے سجدہ تعظیمی سے مت روکو۔
ہمیشہ فرقہ واریت اور مذہب گردی کی سوچ رکھنے والوں کو کبھی دین حق دین اسلام کا بھی سوچنا چاہیے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں