مولانا مفتی ابوبکر سعیدالرحمن رئیس دارالافتاء جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کاتین مرتبہ طلاق سے متعلق سوال 

939
0

molana-mufti-abubakar-saeed-ur-rehman-raees-darulifta-jamia-binori-town-karachi-ka-3-times-talaq-se-mutalliq-sawal

مسلمان مرد عورت نکاح کرلیتے ہیں۔پھر کسی وجہ سے شوہر ایک طلاق دیتاہے اور پھر کسی اور موقع پر طلاق دیتاہے۔ پھر کسی اور موقع پر طلاق دیتا ہے۔ دومرتبہ کی طلاق کے بعد رجوع کرلیتا ہے اور تیسری مرتبہ پھر طلاق دیتا ہے تو کیا عدت کے بعد عورت حرام ہوگئی یا نہیں؟۔اگر حرام ہوگئی تو رجوع کیلئے کیا طریقہ ہوسکتاہے؟۔
الجواب بالصدق الثواب بضل اللہ تعالیٰ ہذا فصل الخطاب
شیخ الہندؒ نے قرآن کی طرف متوجہ کرنے کی بات فرمائی تھی۔ مسلک حنفی کی بنیاد ہی یہ ہے کہ قرآن ہی کو اولیت دی جائے،جب احادیث صحیحہ کے مقابلے میں آیت کوترجیح حاصل ہو توکسی کا کوئی اجتہاد قرآن وسنت کے مقابلے میں کیا حیثیت رکھتا ہے؟۔ اکابرینؒ کے خلوص میں شک نہیں لیکن قرآن کی طرف متوجہ نہ ہونا ایک المیہ رہا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے اللہ کی بارگاہ میں قیامت کے دن یہی شکایت کرنی ہے وقال الرسول یا رب ان قومی اتخذوا ہذا القرآن مھجورا ’’میرے ربّ بیشک میری قوم نے اس قرآن کوچھوڑ رکھا تھا‘‘۔(القرآن)۔
ایک تاریخی غلطی یہ ہوئی کہ قرآن کی طرف توجہ نہیں دی گئی جس کی وجہ سے آج اسلام اجنبیت کا شکار ہوا ہے۔ نبیﷺ نے یہ خبر دی تھی کہ اسلام کا آغاز اجنبیت کی حالت میں ہوا ، عنقریب یہ پھر اجنبیت کی طرف لوٹ جائیگا، خوشخبری ہے اجبنیوں کیلئے‘‘۔اور یہ بھی فرمایا تھا کہ ’’وہ اجنبی میرے سامنے حاضر کیا گیا، میں نے دائیں جانب سے التفات کیا اور پھر بائیں جانب سے التفات کیا وہ نہیں دکھتا تھا مگر اجنبی، اسکے سامنے قرآن اپنی پوری عظمت کیساتھ روشن ہو گیا،اسکے ہزارہاہزار گناہ معاف ہوئے اور ہزارہا ہزار نیکیاں مل گئیں، وہ مرا تو شہید (گواہ)کی منزل تک پہنچا‘‘۔
طلاق سے رجوع کیلئے قرآن میں تین اقسام کی آیات ہیں۔ ایک یہ کہ عدت کے اندر اصلاح سے مشروط رجوع ہوسکتا ہے، البقرہ :228 اورالطلاق:1۔ دوسری یہ کہ عدت کی تکمیل پر رجوع ہوسکتا ہے۔ البقرہ:231، الطلاق:2۔ تیسری قسم کی آیات ایسی ہیں کہ عدت کی تکمیل کے بعد ہمیشہ کیلئے رجوع کا دروازہ اللہ نے کھلا رکھا ہے۔ البقرہ:232، الطلاق:2۔یہ قرآنی آیات کند ذہن لوگوں کا دماغ بھی کھولنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ ان میں مقدم اور جوہری بات آپس کی اصلاح ہے۔ جس کی آیات میں بھرپور طریقے سے وضاحت کی گئی ہے۔ علاوہ ازیں قرآن نے ایک اور طرح سے بھی طلاق کے مسئلے پر واضح روشنی ڈالی ہے۔ میاں بیوی کے درمیان طلاق کی زیادہ سے زیادہ صورتیں یہ تین ہی ہوسکتی ہیں۔
1: میاں بیوی نے جدائی کا فیصلہ کیا ہواور معاشرے کے افراد بھی اس بات پر متفق ہوں کہ دونوں کیلئے آئندہ کوئی ایسی چیز بھی درمیان میں نہ چھوڑیں جس کی وجہ سے میل ملاپ ہو اور پھر دونوں اللہ کے حدود پر قائم نہ رہ سکیں۔ یہ وہ صورت ہے کہ جس میں رجوع کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا بلکہ ایک اور معاشرتی برائی سامنے آتی ہے کہ شوہر اس طلاق کی صورت میں عورت کو اس کی مرضی کے مطابق کسی اور شوہر سے نکاح نہیں کرنے دیتا ہے اسلئے اللہ نے وضاحت کردی کہ اس کیلئے حلال نہیں یہانتک کہ وہ کسی اور شوہر سے نکاح کرلے۔اسکا ذکر البقرہ آیت:230 میں ہے۔
2: طلاق کی دوسری صورت یہ ہے کہ شوہر نے طلاق دی ہے لیکن عورت طلاق نہیں چاہتی ہو۔ اس صورت میں طلاق کی عدت مکمل ہونے پر بھی شوہر کو رجوع کا اختیار واضح طور سے دیا گیا ہے۔ یہ صورت البقرہ:231 اورالطلاق:2میں ہے۔
3: طلاق کی تیسری صورت یہ ہے کہ عورت ضد کرکے طلاق لے اور عدت کے بعد وہ دوبارہ اپنے شوہر سے ازدواجی تعلق بحال کرنا چاہتی ہو تو رجوع کی اجازت ہے جب معروف طریقے سے آپس میں راضی ہوں۔ البقرہ:232اور الطلاق:2
ان واضح آیات کے مقابلے میں کوئی ایک بھی ایسی حدیث نہیں جس میں عدت کے اندر، عدت کی تکمیل پر اور عدت کے عرصہ بعد رسول اللہﷺ نے یہ حکم دیا ہو کہ حلالہ کروائے بغیر رجوع نہیں ہوسکتا۔ بلکہ نبیﷺ نے حلالہ کو دورِ جاہلیت کی لعنت قرار دیا ہے۔ یہ بہت گھناؤنی خام خیالی ہے کہ تین طلاق کو سزا تصور کیا جائے۔ چور،چورنی،زانی ، زانیہ اور بہتان تراشی وغیرہ جرائم پر سزا ایک فطری بات ہے لیکن مرد کے الفاظ کی سزا عورت ، خاندان اور معاشرے کو دیدینا اسلام اور انسانی فطرت کے منافی ہے۔ جو لوگ حلالہ کی لعنت اور حرامکاری کے رسیا ہیں ان پر جب تک حدِ زنا کی حد جاری نہ کی جائے یہ عادی مجرم لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔
صحابہ کرامؓ کے دور میں حلالہ کی لعنت کا مسئلہ نہیں تھا۔ صحیح اور ضعیف روایات کی تحقیق سے معاملہ روزِ روشن کی طرح واضح ہے۔ ائمہ مجتہدینؒ کا اجماع درست تھامگر بعد کے لوگوں نے معاملات بگاڑ دئیے ۔ اسلامی شریعت میںیہ طے ہے کہ تنازعہ کا پہلا حل قرآن میں ڈھونڈا جائیگا، قرآن میں موجود نہ ہو تو سنت رسولﷺ میں تلاش کیا جائیگا اور احادیث میں نہ ہو تو اجتہاد کی نوبت آئے گی اور یہی درست راہ ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: والمطلقٰت یتربصن بانفسھن ثلاثۃ قروء و لا یحل لھن ان یکتمن ماخلق اللہ فی ارحامھن ان ےؤمن باللہ والیوم آخر وبعولتھن احق بردھن فی ذلک ان ارادو ااصلاحاً ’’اور مطلقہ 3 ادوار(طہرو حیض کے مرحلے یا3ماہ) تک خود کو انتظار میں رکھیں۔ اور ان کیلئے حلال نہیں کہ چھپائیں جو کچھ بھی انکے رحموں میں اللہ نے پیدا کیاہے اگر وہ اللہ وآخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہیں، اس مدت میں انکے شوہر ان کو لوٹانے کا زیادہ حق رکھتے ہیں اگر وہ اصلاح کا ارادہ رکھتے ہوں‘‘۔ (البقرہ:228)
اس آیت میں کھلا فتویٰ موجود ہے کہ اگر کوئی شخص عدت کے دوران تسبیح لیکر بھی طلاق طلاق طلاق کی رٹ شروع کردے تو عدت کے دوران آخری وقت تک وہی رجوع کااصلاح کی شرط پر زیادہ حق دار ہے۔ تین مرتبہ نہیں تیس مرتبہ بلکہ تین لاکھ مرتبہ بھی عدت کے دوران طلاق طلاق کی رٹ لگائی ہو ، عدت حمل کی صورت میں ہوگی تو بچے کی پیدائش تک اللہ تعالیٰ نے اصلاح کی شرط پر رجوع کا دروازہ کھلا رکھا ہے بلکہ عورت کو بھی دوسری جگہ نکاح نہ کرنے کا پابند بنایا ہے۔اور عدت طہرو حیض کی صورت میں ہو تو بھی عدت کے آخر تک رجوع کا دروازہ کھلا ہے۔قرآن کی اس آیت سے کوئی دوسری آیت متصادم ثابت کی جائے تو اللہ تعالیٰ کا یہ دعویٰ ہی باطل ثابت ہوگا کہ افلایتدبرون القرآن ولو کان من عندغیر اللہ لوجدوا فیہ اختلافاً کثیراً ’’ وہ قرآن پر تدبر کیوں نہیں کرتے؟، اگر اللہ کے علاوہ کسی کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت سارا اختلاف (تضادات) وہ پاتے‘‘۔(القرآن)
پہلی ترجیح میاں بیوی کے درمیان صلح کی یہی ہے کہ آپس میں معاملہ حل کریں، دوسری ترجیح یہ ہے کہ جب وہ معاملہ حل کرنے کی صلاحیت سے محروم ہوں توایک ایک رشتہ دار دونوں خاندانوں سے حکم مقرر کیا جائے۔ وان خفتم شقاق بینھما فابعثوا حکماً من اہلہ وحکماً من اہلہا وان یریدا اصلاحاً یوفق اللہ بینھما ’’اور اگر تمہیں خوف ہو کہ دونوں کے درمیان جدائی ہوگی تو ایک حکم شوہر کے خاندان سے اورایک حکم عورت کے خاندان سے تشکیل دو، اگر دونوں اصلاح کا چاہتے ہوں تو اللہ دونوں میں موافقت پیدا کردے گا۔ (النساء :135)
جب میاں بیوی خود بھی معاملہ حل نہ کرنا چاہتے ہوں، رشتہ داروں کے بس میں بھی معاملے کا حل نہ ہو تو معاملہ حکمران کے پاس جاتا ہے۔ حضرت عمرؓ اپنے دور کے حکمران تھے۔ ایک شخص نے ایک ساتھ تین طلاقیں دیں۔ میاں بیوی بھی آپس میں صلح کرتے یارشتہ دار صلح کروالیتے تو معاملہ حل ہوجاتا لیکن معاملہ انکے بس میں نہیں تھا اسلئے شوہر نے حضرت عمرؓ کے دربار میں استدعا کی۔ اسکے ذہن میں یہی ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں دو الگ الگ مرتبہ بھی طلاق سے رجوع کو جائز قرار دیا ہے تو یہ میرا حق ہے کہ رجوع کرلوں۔ حضرت عمرؓ نے تنازعہ کا حل قرآن کی آیات سے ہی ترجیحاً دینا تھا اور آپؓ کو قرآن کھول کردیکھنے کی ضرورت نہیں تھی اسلئے فیصلہ کردیا کہ ’’ ایک ساتھ تین طلاق کی جہالت کا شوہر نے غلط ارتکاب کیا ہے، اور حکم نافذ کردیا کہ آئندہ بھی کوئی اس قسم کا کیس آئیگا تو یہی فیصلہ نافذ کردیا جائیگا، اللہ کی رعایت کے عدت کے تین مراحل میں مرحلہ وار طلاق دی جائے اور مرحلہ وار طلاق میں رجوع کی اجازت ہے اس رعایت کا تم غلط فائدہ اٹھارہے ہو‘‘۔
حضرت عمرؓ کا یہ فیصلہ قرآن کے عین مطابق تھا اسلئے کہ اللہ تعالیٰ نے رجوع کے حق کو صلح اور اصلاح کیساتھ مشروط کردیا تھا۔ جب عورت صلح نہیں چاہتی تھی تو شوہر کو عدت میں بھی اللہ تعالیٰ نے رجوع کا حق نہیں دیا ہے۔ آج دنیا کی تمام عدالتیں بھی قرآن کریم کی آیت اور حضرت عمرؓ کے اس فیصلے کے مطابق یہی فیصلہ دیتی ہیں کہ اگر عورت صلح کیلئے راضی نہ ہو تو علیحدگی کا فیصلہ جاری کردیتی ہیں۔ نبی کریم ﷺ کی حدیث میں سچائی ہے کہ واشدھم فی امر اللہ عمر ’’صحابہؓ کے اندر سب سے زیادہ اللہ کے حکم میں عمر سخت ہیں‘‘۔واقضی ٰھم علی’’اور ان میں سب سے زیادہ اچھے علی ہیں‘‘۔ حضرت عمرؓ نے قرآن کی روح کے مطابق فیصلہ نافذ کردیا اور خواتین کے حقوق کیلئے یہ قرآن وسنت اور فطرت کے عین مطابق تھا۔ حضرت علیؓ کو اس فیصلے سے کوئی اختلاف نہیں تھا مگر آپؓ اس بات کو سمجھتے تھے کہ لوگ اس سے غلط فائدہ اٹھالیں گے اسلئے یہ وضاحت کردی کہ’’ ایک ساتھ تین طلاق کے باوجود بھی باہمی رضامندی سے رجوع ہوسکتا ہے‘‘۔ تاہم جب تنازعہ کی صورت ہوتی تھی تو یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ حضرت علیؓ یہی فتویٰ دیتے تھے کہ ایک ساتھ تین طلاق واقع ہوگئی ہے، اب تمہارے لئے رجوع کرنا حرام ہے، یہاں تک کہ وہ عورت دوسرے شوہر سے نکاح کرلے۔ اس سے بھی بڑھ کر کوئی بیوی سے کہہ دیتا کہ تم مجھ پر حرام ہو توبھی حضرت علیؓ کا فتویٰ تنازعہ کی صورت میں یہی ہوتا تھا کہ تین طلاق واقع ہوچکی ہیں،اب رجوع کی گنجائش نہیں ہے یہانتک کہ عورت کسی اور سے نکاح کرلے۔
ایک طرف باہمی رضامندی سے صلح واصلاح کا معاملہ تھا تو اس پر قرآن نے پابندی نہیں لگائی ہے تو حکمران بھی نہیں لگا سکتا تھا۔ دوسری طرف طاقتور شوہر سے عورت کو چھٹکارادلانے کا مسئلہ تھا تو اللہ نے قرآن میں صلح کی شرط رکھ کر شوہر کو اپنی حدود سے باہر نکلنے کا راستہ نہیں دیا۔ علماء کرام اور مفتیانِ عظام اس بات کو سمجھیں کہ نکاح وطلاق کا مسئلہ معاشرتی ہے، اس میں ریاضی کی طرح حساب کتاب نہیں لیکن مصیبت یہ ہے کہ علماء کرام ریاضی کو سمجھتے ہیں اور نہ ہی معاشرتی اقدار کو سمجھتے ہیں اور اصولِ فقہ کو بھی نہیں سمجھتے ، فقہ کے لکھے لکھائے مسائل اور فتاویٰ کو شریعت کا معیارسمجھ لیا ہے۔ قرآن نے انتہائی بلاغت کیساتھ جہاں طلاق سے رجوع کیلئے صلح کی شرط کو ضروری قرار دیا ہے وہاں ہر بار معروف رجوع کو واضح کردیا ہے، معروف رجوع کا مطلب ہی باہمی صلح اور اصلاح کی شرط پر رجوع ہے جبکہ حنفی مسلک میں رجوع کی عجیب وغریب منکر صورتیں ہیں اور شافعی مسلک میں اس سے متضاد منکر صورتیں ہیں جو مستند قرار دی جانے والی کتابوں میں بہت ہی شرمناک انداز میں موجود ہیں۔اگر اتنی سی بات قرآن کی واضح آیات کی روشنی میں عوام کو بتادی جاتی کہ قرآن معاشرتی اصلاح کی بہترین کتاب ہے، اللہ نے عدت میں رجوع کا دروازہ باہمی اصلاح کی بنیاد پر کھلا رکھاہے۔ اگر عدت کی مدت مکمل ہوجائے تو بھی رجوع کاراستہ نہیں روکا ہے اسلئے کہ بار بار عدت کی تکمیل پر رجوع یاچھوڑنے کی وضاحت ہے۔ پھر فقہ کی کتابوں میں فضول قسم کی باتیں نہیں لکھی جاتیں کہ’’ آدھے سے زیادہ بچہ ماں کے پیٹ سے نکل گیاتو رجوع نہیں ہوسکتا اور کم نکلا ہے تو رجوع ہوسکتا ہے‘‘۔
اگر علماء کرام اور مفتیان شرع متین اس بات کو سمجھ لیتے کہ جس اللہ نے طلاق کا مقدمہ اس آیت سے شروع کیا کہ لاتجعل اللہ عرضۃ لایمانکم ان تبروا وتتقوا وتصلح بین الناس ’’ اللہ کو نیکی ،تقویٰ اور لوگوں کے درمیان مصالحت نہ کرنے کیلئے ڈھال مت بناؤ‘‘۔(البقرہ:224)تو فتوؤں کی آڑ میں اللہ پاک کا نام لیکر تفریق کے بجائے مصالحت کی راہ ہموار کرتے۔البتہ جہاں طاقتور مردوں کا مسئلہ آتا ہے کہ عورت چھوڑنے کی ضد کرتی ہوں اور شوہر چھوڑنا نہیں چاہتاہو تو اللہ نے مصالحت کے بغیر شوہر کو رجوع کیلئے کوئی گنجائش نہیں دی ۔ حضرت عمرؓ نے خیر کی بنیاد رکھ دی۔ قرآن کے مطابق تنازعہ کا فیصلہ دیدیا کہ اکٹھی تین طلاق سے رجوع نہیں ہوسکتا، لیکن افسوس کہ حضرت عمرؓ کے فیصلے کو قرآن کے مطابق درست جانچنے کے بجائے اس کی سراسرغلط اور بے بنیاد توجیہات بیان کی گئیں ہیں اور اسکے نتیجے میں امت مسلمہ قرآن سے دور ہوگئی۔ ہونا تو یہی چاہیے تھا کہ حضرت عمرؓ نے درست فیصلہ فرمایا کہ مصالحت کے بغیر تین نہیں ایک طلاق پر بھی رجوع کا دروازہ بند ہوجاتا ہے تو قرآن اور اسلام سے ہم دور نہ ہو جاتے۔ خواتین کی مصلحت کیلئے اللہ تعالیٰ نے تنازعہ کی صورت میں اصلاح کی شرط رکھ دی تھی۔ جس پر حضرت عمرؓ نے کماحقہ عمل کیا۔طاقتور مردوں سے کمزور خواتین کی جان چھڑانے کیلئے 3طلاق ہی نہیں بلکہ حرام اور دیگر بہت سے الفاظ صریح و کنایہ میں بھی علماء وفقہاء نے فتوے مرتب کئے کہ اس لفظ سے تین طلاق واقع ہوجاتی ہیں اور شوہر کیلئے رجوع کرنا حرام ہوجاتا ہے،یہاں تک کہ عورت دوسرے شوہر سے شادی کرلے۔ یہ بھی قرآن سے اس بنیاد پر مناسبت رکھتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے مرد کی طاقت کو قرآن کی روح سے لگام دی ہے کہ جب وہ صلح نہیں کرنا چاہتی ہو تو اس کیلئے حلال نہیں کہ وہ دوسری جگہ نکاح نہ کرنے دے، مرد کی طاقت کو لگام دینے کیلئے صرف مرحلہ یا اکٹھی تین طلاق نہیں بلکہ کوئی بھی ایسالفظ جس سے عورت مصالحت پر راضی نہ ہو اور وہ مجبور کرتا ہو ، یہ فتویٰ دینا درست ہے کہ اس پر حرام ہوگئی ہے۔ یہ شوہر کی بلاوجہ خود کو عورت کا زبردستی سے مالک بن جانے کے خلاف زبردست اور درست راستہ تھا۔
بہت کم تعداد میں ایسے لوگ بھی تھے جن کا فتویٰ یہ تھا کہ ایک ساتھ تین طلاق کے باوجود عورت راضی نہ بھی ہو تو شوہر کو رجوع کا حق حاصل ہے۔ امام ابوحنیفہؒ کے استاذ فقیہ امام حمادؒ کا بھی یہی مسلک تھا لیکن یہ قرآن وسنت اور صحابہ کرامؓ کے مقابلہ میں ایک اقلیت کی رائے تھی۔ علامہ ابن تیمیہؒ اور ابن قیمؒ بھی بعد میں شریک ہوگئے، چاروں امام حضرت امام ابوحنیفہؒ ، حضرت امام مالکؒ ، حضرت امام شافعیؒ اورحضرت امام احمد بن حنبلؒ کا اتفاقِ رائے سے یہی مسلک تھا کہ ایک ساتھ تین طلاق کے بعد شوہر کو رجوع کا حق حاصل نہیں ۔اگر اسکے برعکس فتویٰ دیاجاتا تو یہ خواتین کے حقوق کی سنگین خلاف ورزی تھی اور قرآن وسنت اور صحابہ کرامؓ و ائمہ مجتہدین ؒ سے بدترین انحراف تھا۔ پھرنالائق درباری علماء نے حیلے کرکے خواتین کی حق تلفی کاا رتکاب کیا۔
حضرت امام ابوحنیفہؒ سے بادشاہ نے کہا کہ میری بیوی دوسری شادی نہیں کرنے دیتی ہے ، آپ بتائیں کہ اسلام میں اس کی اجازت ہے یا نہیں؟۔ امام ابوحنیفہؒ نے آیت پڑھی جس میں دودو، تین تین اور چار چار کی اجازت ہے لیکن عدل نہ کرسکو تو پھر ایک کی بات ہے۔ ملکہ خوش ہوگئی اور بادشاہ ناراض ہوا تو اس کو بعض لوگوں نے امام ابوحنیفہؒ کی قید کا سبب قرار دیا ہے۔ بادشاہ نے بیوی سے کہا کہ اگر صبح کی آذان تک زبان سے کوئی بات نہیں کہی تو تجھے تین طلاق۔ عورت نے اس کو جان چھڑانے کیلئے غنیمت سمجھا اور ہرطرح کی منت سماجت اور تشدد سے نہ مانی اور دھمکی کو خاطر میں نہیں لائی ۔ تو بادشاہ نے رات گئے درباری مُلاامام مسجد سے مدد مانگ لی۔ امام نے کہا کہ بے فکر رہو، تمہارامسئلہ حل کردیتا ہوں۔ تھوڑی دیر بعد آذان کی آواز آئی تو عورت پھٹ پڑی کہ میں کب سے جان چھڑانے کی فکر میں تھی، اب اللہ نے موقع دیدیا تواپنی زندگی راحت سے گزاروں گی وغیرہ اور گھر سے نکل کر چلی گئی۔ بادشاہ کو خیال آیا کہ امام صاحب نے میرے لئے کوئی کارنامہ انجام نہیں دیا اور جھوٹی تسلی بھی دی اسلئے اسکی خبر لینے پہنچ گیا، بادشاہ کو غصہ میں دیکھ کر امام نے کہا اس نے بات کی تو بادشاہ نے کہا کہ بات بھی کی اور گھر سے نکل کر چلی بھی گئی ،آپ نے دھوکہ دیاہے امام صاحب نے کہا کہ طلاق نہیں ہوئی ہے، میں نے فجر نہیں تہجد کی آذان دی ہے۔ بادشاہ نے خوش ہوکر انعام واکرام سے امام صاحب کو نوازا۔ اور بیوی کو دوبارہ اپنے نکاح کی قید کا پابند کردیا۔ (یہ اور اس طرح کے دوسرے واقعات امام ابوحنیفہؒ کے نہیں تھے بلکہ درباری شاگردوں کے واقعات کو امام ابوحنیفہؒ کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔ مفتی محمد اکمل صاحب ٹی وی پر مسائل بیان کرتا ہے ،اس کی ایک ویڈیو کلپ ہے کہ’’ حلالہ کو غلط کہنا جہالت ہے، اس کا انکار قرآن اور اللہ کے حکم کا انکار ہے، امام ابوحنیفہؒ نے تو یہاں تک کہا ہے کہ خاندان بسانے کی نیت سے حلالہ کرنے والوں کو ثواب بھی ملے گا‘‘۔موصوف ٹی وی پر بھرپور میک اپ اور سنگار کرنے سے لگتاہے کہ حلالہ کی شباشی اور کارِ لعنت کو ثواب سمجھ کر ہمہ وقت تیار بیٹھے ہوتے ہیں۔ حلالہ کے جواز کے بھی امام ابوحنیفہؒ قائل نہیں تھے ، موزے پر مسح کے جواز کیلئے امام ابوحنیفہؒ نے اس وقت تک فتویٰ نہیں دیا جب تک 70مستند احادیث نہیں ملیں،جبکہ حلالہ کے جواز تو بہت دور کی بات ہے ،نبی ﷺ نے حلالہ کی لعنت کا راستہ روکاہے )
اصول فقہ اور فقہ کی کتابوں میں جو مسائل امام ابوحنیفہؒ کی طرف منسوب ہوئے ہیں، وہ امام صاحب کامسلک نہیں بلکہ مفتی اعظم پاکستان مفتی محمد رفیع عثمانی نے کہا ہے کہ 15% امام ابوحنیفہؒ اور85%انکے شاگردوں کے مذہب کے مطابق مسلک حنفی کی فقہ تیار کی گئی ہے۔ یہ بھی یاد رہے کہ جن مسائل کو امام ابوحنیفہؒ اور آپ کے شاگردوں کی طرف منسوب کیا گیا ہے وہ بھی امام ابوحنیفہؒ اور ان کے شاگردوں کے نہیں بلکہ ان کی طرف اصول مرتب کرکے بہت بعد میں نکالے گئے۔ فقہاء کے 7درجات میں اصحاب اصول اور اصحاب تخریج کے اندر اونچ نیچ کا تصور ہے۔امام ابوحنیفہؒ اور انکے شاگردوں کو پتہ بھی نہ ہوگا کہ ان کے پیچھے ان کے نام پر لوگ کیا کیا گل کھلائیں گے۔ اصول فقہ کی کتاب ’’نورالانوار‘‘ میں امام ابوحنیفہؒ اور شاگردوں کی طرف ’’ف‘‘ تعقیب بلامہلت کیلئے جس اختلاف کو منسوب کیا گیا ہے ،ان کے فرشتے بھی نہیں جانتے تھے کہ ایسا بھی ہوسکتا ہے۔ ہاتھ لگانے سے پہلے کی طلاق کا معاملہ ہو ،تب ہی ان دخلت داراًفانت طالق ( اگر تو گھر میں داخل ہوگئی تو تجھے طلاق)کے جملے میں کس کس کے نزدیک کس طرح پہلی اور تیسری طلاق واقع ہوگی اور دوسری واقع نہ ہوگی یا دوسری طلاق واقع ہوگی اور پہلی و تیسری طلاق واقع نہیں ہوگی؟۔ جو اصول اماموں کی طرف منسوب کئے گئے ہیں وہ بھی خود ساختہ ہیں اور بعد میں آنے والوں نے جن مسائل کا استخراج کیا ہے وہ بھی خود ساختہ ہیں۔
مدارس کے اندھوں میں کانا راجہ اور اسلامی بینکاری کے خود ساختہ شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی نے لکھا تھا کہ ’’ صاحبِ ہدایہ نے اپنی کتاب تجنیس میں لکھاہے کہ سورۂ فاتحہ کو علاج کیلئے پیشاب سے اس شرط پر لکھنا جائز ہے کہ علاج کا یقین ہو۔ مگر مجھے امام ابویوسف کی کتابوں میں تلاش کے باوجود یقین کی شرط کہیں نہیں ملی‘‘۔ تکملہ فتح الملھم ، فقہی مقالات جلد چہارم۔ اس عبارت میں صاحبِ ہدایہ کو اصحاب تخریج قرار دیا گیا ہے جو مسائل کی تخریج کرتے ہیں اور امام ابویوسف کو صاحب اصول قرار دیا گیا ہے۔ جس کا واضح مطلب یہ تھا کہ سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کے جواز کیلئے اصول کے اعتبار سے امام ابویوسف کی بات درست تھی اور صاحبِ ہدایہ سے سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کیلئے صاحب ہدایہ کی طرف سے جو یقین کی شرط رکھی ہے اس کا اصول سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یعنی علاج کے یقین کی شرط کے بغیر بھی سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنا جائز ہے۔ جس سے مفتی تقی عثمانی نے خود کو صاحبِ ہدایہ سے بھی بڑا اصحابِ تخریج ثابت کیا ہے اور اسی وجہ سے سودی بینکاری کے جواز کیلئے بھی معاوضہ لیکر بڑے بڑوں کو شکست دی ہے۔
جامعہ بنوری ٹاؤن میں اندھوں کا راج ہے ، مولانا انور بدخشانی نے طلاق کے حوالہ سے ہمارے ساتھی ڈاکٹر احمد جمال سے کہا کہ دارالعلوم کراچی والوں کے پاس علم ہے ، طلاق کے حوالہ سے جو کتابیں تحریر کیں ہیں وہ دارالعلوم کراچی والوں کے سامنے پیش کردو۔ دارالعلوم کراچی والوں نے کتاب وصول کرکے فتویٰ کیلئے وقت بھی دیا لیکن پھر اپنی رائے دینے سے صاف انکار کردیا تھا جس کا ذکر بھی اپنے اخبار میں ہم نے کیا ہے۔ سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے پر بنوری ٹاون سے فتویٰ ملا تھاکہ یہ بے دینی ہے لیکن فتوؤں کی کتاب میں کوئی عبارت نہیں ملی اور فتاوی عالمگیریہ سے عبارت نقل کی کہ ’’ایام نوروز میں غیروں کی مشابہت کی وجہ سے دروازوں پر تعویذ لٹکانا جائز نہیں ہے‘‘۔ حالانکہ اسی عبارت کی ساتویں سطر میں لکھا ہے کہ ’’خون سے تعویذ لکھنا جائز ہے‘‘۔ نکسیر بھی پیشاب کی طرح ناپاک ہی ہوتی ہے۔ مولانا یوسف لدھیانوی شہیدؒ کی کتاب ’’عصر حاضرحدیث نبویﷺ کے آئینہ میں‘‘ میں مدارس کے مفتیوں کا عکس دیکھا جاسکتاہے اور ہماری تحریک کا سراغ بھی مل سکتاہے۔
مجھے فخر ہے کہ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی اور دیگر اسلامی مدارس میں ان ساتذہ کرام سے تعلیم حاصل کی ہے جن کا تعلق حنفی مسلک سے تھا۔ جن کا بنیادی نکتۂ نظر یہی تھا کہ قرآن کی آیات کو احادیث صحیحہ پر بھی ترجیح حاصل ہے۔ اصولِ فقہ کی پہلی کتاب ’’ اصولِ الشاشی ‘‘تیسرے سال اور دوسری کتاب’’ نورالانوار‘‘ چوتھے سال میں ہمیں حضرت مولانا بدیع الزمان نوراللہ مرقدہ نے پڑھائی تھیں۔ اصول الشاشی کا پہلا سبق یہ ہے کہ آیت میں حتی تنکح زوجا غیرہ کے مقابلہ میں خبر واحد کی حدیث صحیحہ ہے کہ جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا تو اسکا نکاح باطل ہے، باطل ہے، باطل ہے۔ آیت میں عورت کی طرف نکاح کی نسبت ہے، یعنی وہ خود نکاح کرنے میں آزاد قرار دی گئی ہے اور اس حدیث میں عورت کو ولی کی اجازت کا پابند بنایا گیاہے۔اس تضاد کی وجہ سے ہم قرآن پر عمل کرینگے اور اس سے متضاد خبر واحد کی حدیث صحیحہ کو چھوڑ دینگے۔ فقہ حنفی کی تعلیم جمہور کے مقابلہ منفرد حیثیت کی حامل ہے کیونکہ باقی مسالک اس حدیث پر ایمان رکھتے ہیں اور ہم حدیث کو قرآن سے متصادم قرار دیکر آیت کے مقابلہ میں اس کو نہیں مانتے ہیں۔
درس کے دوران مولانا بدیع الزمانؒ سے میں نے یہ عرض کیا تھا کہ مسلک حنفی کی پہلی ترجیح قرآن و حدیث کی تطبیق ہے تو حدیث کو رد کرنے کے بجائے تطبیق ہونی چاہیے تھی؟۔ حدیث کو کنواری لڑکیوں کیساتھ خاص کیا جاتا اور قرآن کی آیت میں طلاق شدہ کا ذکر ہے اور دونوں کے شرعی احکام بھی مختلف ہیں؟۔
مولانا بدیع الزمانؒ نے تبسم سے جواب دیا کہ آپ کی بات میں وزن ہے اور جب آئندہ کتابیں پڑھ لوگے تو جواب تلاش کرلوگے!۔ مولانا بدیع الزمانؒ روزانہ قرآن کاایک رکوع متن کیساتھ پڑھنے کی تلقین کرتے تھے۔ لیکن میرا ولولہ ایک ہی تھا کہ فقہ، قرآن کی آیات اور درسِ نظامی میں کوئی مناسبت دکھائی نہیں دیتی تھی۔یہ یقین تھا کہ فقہ حنفی کی تعلیمات ہی درست ہوں گی کیونکہ عقیدت کا تعلق دلائل سے نہیں اعتماد سے ہوتا ہے۔ قرآن کی آیات اور احادیث صحیحہ پر دسترس حاصل نہ ہوتو گمراہانہ سوچ پیدا ہوسکتی ہے۔ طلاق کے مسئلہ پر تمام قرآنی آیات، احادیث صحیحہ، مختلف مکاتبِ فکر کے جید علماء کرام کی تحقیقات اور اختلافی نکتۂ نگاہ سے واقفیت ملی تو اس نتیجے پر پہنچ گیا کہ قرآن میں سارے مسائل کا حل ہے۔ احادیث صحیحہ میں کوئی حدیث بھی غلط اور ٹکرانے کے لائق نہیں۔ فقہ حنفی کے مطابق سب احادیث کی بھی تطبیق ہوسکتی ہے ۔ علماء کرام مجھے حکم دیں تو میں حاضر خدمت ہوکر تشفی بخش جوابات دے سکتا ہوں۔ اسلام اجنبیت سے نکل کر پھر معروف بن سکتا ہے۔
قرونِ اولی کے ادوار میں حلالہ کی لعنت کا کوئی تصور نہ تھا،مدینہ کے سات فقہاء پہلی صدی ہجری میں تھے۔ جن میں حضرت ابوبکرؓ کے پوتے قاسم بن محمد اور نواسے عروہ بن زبیرؓ شامل تھے۔ دوسری صدی ہجری میں امام ابوحنیفہؒ ، امام مالک ؒ اور امام شافعیؒ تھے۔ تیسری صدی ہجری میں ائمہ حدیث امام بخاریؒ ، ابن ماجہؒ ،ترمذی، مسلمؒ وغیرہ تھے۔ان حضرات کے ہاں حلالہ کے جواز وعدمِ جواز کی کوئی بحث نہیں تھی، وہ ایک ساتھ تین طلاق کے جواز وعدم جواز اور منعقد ہونے اور نہ ہونے کو موضوع بنایا کرتے تھے۔پھر شافعی مسلک نے ایک ساتھ تین طلاق کو سنت اور حنفی مسلک نے بدعت قرار دیا۔ محدثین ؒ نے احادیث کے اسناد کو ترجیح دی مگر وہ اچھے فقیہ نہیں تھے۔ امام بخاریؒ نے امام ابوحنیفہؒ کے مسلک کو ہی زیادہ تر ہدف بنایا۔ شافعی مسلک سے محبت کرتے ہوئے ایک باب کا عنوان’’ من اجاز طلاق ثلاثہ‘‘ رکھا۔ اس میں رفاعۃ القرظیؓ کی بیوی کا واقعہ بھی ہے ، حالانکہ بخاری کی کتاب الادب میں واضح ہے کہ رفاعۃ القرظیؓ نے الگ الگ مراحل میں تین طلاقیں دی تھیں۔
وفاق المدارس کے صدر مولانا سلیم اللہ خانؒ نے بخاری کی شرح میں لکھ دیا ہے کہ ’’ رفاعۃ القرظیؓ کی بیوی کا واقعہ خبر واحد ہے۔ اس کی بنیاد پر حنفی قرآن پر یہ اضافہ نہیں کرتے کہ نکاح کے علاوہ مباشرت بھی ضروری ہے بلکہ حنفی مسلک کی دلیل یہ ہے کہ نکاح مباشرت کو ہی کہتے ہیں‘‘۔ (کشف الباری: مولانا سلیم اللہ خانؒ )۔ اس روایت میں الگ الگ مراحل میں طلاق کے علاوہ طلاق منقطع ہونے کے بعد عبدالرحمن بن زبیر القرظیؓ سے نکاح اور بے حجاب ہونے کا بھی ذکر ہے۔جس سے یہ ہرگز ثابت نہیں ہوتا کہ نبیﷺ نے حلالہ کرنے کا حکم دیا تھا۔ مرحلہ وار طلاق کے بعد دوسرے سے نکاح کیا تھا اور اگر عبدالرحمن بن زبیرؓ کو چھوڑ دیتی تو ضروری نہیں تھا کہ رفاعۃ القرظیؓ دوبارہ اپنے نکاح میں قبول کرنے کیلئے تیار بھی ہوتے۔ حنفی مسلک کے مطابق خلوت صحیحہ کے بعد پورا حق مہر بھی واجب تھا تو عبدالرحمن بن زبیرؓ کیلئے مباشرت کا بھرپور حق بھی ہونا چاہیے تھا۔ اس خبر واحد کے ذریعے سے قرآن کی دیگر ڈھیر ساری آیات کو مسترد کرنا بھی حنفی مسلک کے بنیادی تقاضے کے مطابق درست نہیں ہے جن میں بار بار باہمی صلح اور معروف طریقے سے رجوع کی اجازت ہے۔
حدیث کے واقعے کا ستیاناس کرکے ایک ساتھ تین طلاق پر قرآن کے واضح احکام کے خلاف حلالہ کا حکم دینا بالکل بھی انصاف کے منافی ہے۔ نورالانوار میں بھی حنفی مسلک کے حوالہ سے یہ وضاحت ہے کہ اس طلاق کا تعلق اپنے متصل فدیہ کی صورتحال سے ہے۔ حضرت ابن عباسؓ سے بھی علامہ ابن قیمؒ نے یہ قول نقل کیا ہے اور تفسیر کے امام علامہ جاراللہ زمحشریؒ نے بھی اس طلاق سے پہلے دوالگ الگ مرتبہ طلاق کو درست تقاضہ قرار دیا۔ علامہ تمنا عمادی نے بھی کتاب ’’الطلاق مرتان‘‘ میں خلع کی صورت کیساتھ اس طلاق کو مشروط قرار دیا ہے۔ غلام احمد پرویز اس کو فقہ حنفی کے مطابق طلاق احسن کی صورت سے ہی مشروط قرار دیتا ہے لیکن درسِ نظامی کی بنیاد پر یہ شرف مجھے مل گیا ہے کہ قرآن کریم اور احادیث صحیحہ کی روشنی سے کوئی بھی ایسی صورت نہیں جس میں اللہ نے میاں بیوی کے درمیان رکاوٹ ڈالی ہو۔
سورۂ بقرہ کی آیات 224سے 232تک اور سورۂ طلاق کی پہلی دو آیات اس پر شاہد عدل ہیں۔احادیث صحیحہ پر من گھڑت احادیث کے ذخیرے کو طشت ازبام کرنا بھی کوئی مشکل کام نہیں۔جب احادیث صحیحہ میں ہو کہ حضرت فاطمہ بنت قیسؓ کو الگ الگ تین طلاق دی گئیں تومن گھڑت روایات کو پہچاننے میں مشکل نہیں کہ کس طرح حضرت فاطمہ بنت قیسؓ کو یکدم طلاق بدعی دینے کی روایات گھڑی گئیں ہیں۔ ایک ایک واقعہ سے حقائق کی درست نشاندہی ہوتی ہے۔ قرون ثلاثہ میں تین طلاق کیلئے ایک ساتھ واقع ہونے کا تصور خواتین کے حقوق کی حفاظت کیلئے تھا۔ جو احادیث صحیحہ اور حضرت عمرؓ کے فیصلے کا تقاضہ بھی تھا ،جس قرآن کے مطابق عدت کے اندر اور عدت کی تکمیل کے بعد باہمی رضامندی سے رجوع پر پابندی کا بھی کوئی تصور نہیں تھا۔ پھر بعد میں اسلام اجنبی بنتا چلاگیا اور حلالے کا تصور اور سازشی نکاح کی باتیں سامنے آگئیں۔ علامہ بدر الدین عینی اور علامہ ابن ہمام نوسوسال بعد کے دور میں تھے ، انہوں نے حیلوں کی انتہاء کرتے ہوئے پہلی مرتبہ حلالہ کی لعنت کو بھی باعث اجر وثواب قرار دیا۔ ان کے بعد شیخ احمد سرہندی المعروف مجدد الف ثانیؒ نے قرآن وسنت کی طرف توجہ دلائی مگر اسلام کواجنبیت سے نہیں نکال سکے۔
حضرت شاہ ولی اللہؒ نے فقہاء کو تنقید کا نشانہ بنایا ۔ انکے پوتے شاہ اسمٰعیل شہید ؒ نے کتاب لکھ ڈالی کہ تقلید چوتھی صدی ہجری کی پیداوار اور خیرالقرون سے باہر ہے اور اس کو بدعت عملی قرار دیا۔علماء دیوبند نے حمایت کی۔ مولانا احمدرضا خان بریلویؒ نے ’’حسام الحرمین ‘‘سے انکو پیچھے دھکیلا۔ مولانا یوسف بنوریؒ کے والد مولانا زکریا بنوریؒ نے کہا کہ ’’ برصغیر پاک وہندمیں مسلک حنفی کی حفاظت کا کریڈٹ مولانا احمد رضا خان بریلویؒ کو جاتاہے۔ علامہ سید محمد یوسف بنوریؒ نے شاہ اسماعیل شہید کی کتاب’’ بدعت کی حقیقت‘‘ پر تقریظ بھی لکھ دی ۔ جس میں تقلید ہی کو بدعت قرار دیا گیاہے۔ مولانا احمدرضا خان بریلویؒ نے لکھ دیا کہ ’’ سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کا کوئی جواز نہیں ، فقہ حنفی میں علاج کیلئے یقین کی شرط قرار دیا گیا اور وحی کے بغیر یقین نہیں ہوسکتا، جبکہ وحی کا سلسلہ بند ہوچکاہے۔ مفتی تقی عثمانی کی طرف سے کتابوں سے عبارات نکالنے کے اعلان کے بعد بھی دیوبندی مکتبۂ فکر کے مفتی محمد سعید خان خلیفۂ مجاز مولانا ابولحسن علی ندویؒ اور مولانا خان محمد ؒ کندیاں نے سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے لکھنے کا اپنی کتاب ’’ ریزہ الماس‘‘ میں دفاع کیا ۔جو2007میں شائع ہوئی۔
ایک طرف بھارت کی پارلیمنٹ نے ایک ساتھ تین طلاق پر حلالہ کی لعنت کے خلاف قانون سازی کی ہے تو دوسری طرف امریکہ پاکستان کو دھمکیاں دے رہاہے اور اگر ٹی وی اینکروں نے کسی سے رقم لیکر قرآن وسنت کا احیاء اور علماء کی مخالفت شروع کردی تو عوام مدارس میں گھس کر ان کو قتل کریں گے۔ ہمارے دلوں میں علماء کے خلوص پر شبہ نہیں اور ان کی قدر ومنزلت دل میں رکھ حقائق بتارہے ہیں۔ میری اللہ سے دعا ہے کہ مدارس عوام کیلئے گمراہی کے قلعوں کے بجائے ہدایت کے قلعوں میں بدل جائیں ۔ جس دن علماء کرام اور مفتیانِ عظام نے حقائق کو قبول کرلیا تو ہمارا معاشرتی نظام ، اقتصادی نظام اور پورا ریاستی نظام اسلامی بن جائیگا ۔ عتیق گیلانی