مفتی تقی عثمانی کے نام خط

1590
0

الحمد للہ و کفیٰ و سلام علیٰ عبادہ الذین الصطفیٰ و بعد
احقر کو علم و فضل کے اعتبار سے جناب سے کوئی نسبت نہیں ہے، علم و فضل سے ہے ہی نہیں تو نسبت کیا ہوگی؟ البتہ اللہ نے ایمان نصیب کیا ہے، دعا کرتا رہتا ہوں کہ اللہ یہ زندگی ایمان والی زندگی اور کلمہ والی موت پر ختم فرمائے۔
۱۔ اسلامی بینکاری کے حوالے سے تشویش و اضطراب عام ہے، علماء ، عوام، بینکنگ سے متعلق افراد، تاجر و غیرہ سب موجودہ اسلامی بینکاری کو اسلامی تعلیمات کے خلاف سمجھتے ہیں۔
۲۔ جتنے معتبر اور معروف دار الافتاء ہیں سب میں اس سلسلے کے استفتاء ہوتے ہیں اور جواز و عدم جواز سے متعلق سوالات کئے جاتے ہیں۔
۳۔ پاکستان کے علاوہ دوسرے ملکوں میں بھی یہ اضطراب موجود ہے، وہ بھی سوالات کرتے ہیں۔
۴۔ اس صورت حال سے دوسروں کی نسبت جناب کو زیادہ سابقہ رہتا ہوگا، کیونکہ آپ ہی پاکستان میں اس کے موجد ہیں۔
۵۔ علم و ضل کے اعتبار سے جو آپ کا مقام ہے وہ محتاج بیان نہیں، لیکن عصمت حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کے ساتھ خاص ہے، دوسرا کوئی معصوم نہیں، اس کا امکان بہر حال موجود ہے اسلامی بینک کا نظام جاری کرنے میں آپ سے غلطی ہوئی ہے۔
نمبر۱، نمبر۲، نمبر۳ پر جو باتیں کہی گئی ہیں، اس غلطی کے ارتکاب کیلئے واضح دلیل ہیں، اضطراب غلطی پر ہی ہوتا ہے اور وہ بھی ایسا اضطراب جس نے تمام طبقات کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے، صحیح بات پر اضطراب نہیں ہوتا اور کوئی معاند مضطرب ہوتا ہے تو اس کی وجہ عناد ہوتی ہے، جبکہ موجودہ صورت میں امت کے تمام طبقات اس اسلامی بینکاری پر تشویش و اضطراب میں مبتلاء ہیں، یہاں عناد کا سرے سے کوئی احتمال موجود نہیں ہے، ان کا اضطراب اسلامی تعلیمات کی خلاف ورزی پر مبنی ہے۔
۶۔ ’’ربا‘‘ کا معاملہ انتہائی نازک و سنگین معاملہ ہے، اس سلسلے کی وعیدوں سے آپ ہرگز بے خبر نہیں ہیں، چنانچہ احتیاط واجب و لازم ہے۔
۷۔ ’’ربا‘‘ میں ’’شبھۃ الرباا‘‘ بھی حرام ہے، اگر حقیقت ’’ربا‘‘ کو قبول نہیں کیا جاسکتا تو ’’شبھۃ الربا‘‘سے تو انکار ممکن نہیں۔
۸۔ ارباب فتویٰ کے بیانات اور دوسرے طبقات جو بینکنگ کے امور سے باخبر ہیں، ان کے بیانات مسلسل اخبارات و رسائل میں چھپتے رہتے ہیں، جس میں وہ اسلامی بینکاری کو اسلام کے خلاف قرار دیتے ہیں، اپنے دلائل بھی پیش کرتے ہیں، یقیناًیہ تمام بیانات آپ حضرات کے علم میں بھی آتے ہوں گے، ضروری تھا کہ آپ ان حضرات کو مطمئن کرتے اور ان کی طرح اپنے جوابات شائع کرتے اور نہیں تو ارباب فتویٰ جو آپ ہی کے حلقے کے حضرات ہیں ان سے رابطہ کرکے ان کی تسلی کا انتظام کیا جاتا جو نہیں کیا گیا، اگر کبھی کوئی مشاورت ہوئی ہے تو اس کے نتیجے میں اختلاف ختم نہیں ہوا، اعتراضات بدستور موجود ہیں اور تشویش و اضطراب برقرار ہے۔
۹۔ یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ بینکاری کے حوالے سے آپ اپنے آپ کو ’’اعلم الناس‘‘ سمجھتے ہیں، اور دوسروں کے معلومات کو ناقص فرماتے ہیں، مجھے تو آپ کی طرف سے اس قول کی نسبت درست معلوم نہیں ہوتی، اگر آپ کا یہ دعویٰ نہیں تو پھر وہی سوال ہوگا کہ آپ نے اشکال کرنے والوں کو مطمئن کیوں نہیں کیا؟ تاکہ اضطراب رفع ہوتا اور اگر آپ واقعی اپنے آپ کو عالم اور دوسروں کو ’’ناقص العلم‘‘ سمجھتے ہیں ’’فھو کما تراہ‘‘ یہ اپنے منہ میاں مٹھو بننے والی بات ہوگی، سورۂ جاثیہ میں: افرایت من اتخذ الٰھہ ھواہ و اضلہ اللہ علیٰ علم و ختم علیٰ سمعہٖ و قلبہٖ و جعل علیٰ بصرہٖ غشٰوہ فمن یھدیہ من بعد اللہ افلا تذکرونO ’’کیا تو نے دیکھا ہے جس نے اپنی نفسانی خواہش کو اپنا معبود بنالیا اور اس کو اللہ نے گمراہ کردیا علم کے باوجود۔ اور اسکے کان اور دل پر مہر لگادی ہے اور آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہے تو کون ہے اللہ کے بعد اس کو ہدایت دینے والا، کیا تم نصیحت حاصل نہیں کرتے؟‘‘۔
ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ اس اضطراب و تشویش کو دور کرنے کیلئے علماء اور اہل فتویٰ سے وسیع مشاورت کے بعد ایک فتویٰ اسلامی بینکاری کے ’’عدم جواز‘‘ پر جاری کیا جائے اور اس کا پورے ملک میں تشہیر کا اہتمام کیا جائے، ہم ہرگز تصادم کے خواہاں نہیں ہیں، ہم تو دل و جان سے آپ کے ساتھ رہتے ہیں اور آپ کا احترام کرتے ہیں، امت کو ’’ربا‘‘ کی لعنت سے بچانے کیلئے اپنا شرعی فرض ادا کرنا چاہتے ہیں، اس میں ذرا بھی تردد نہیں کہ فرض کی ذمہ داری ہم پر لازم اور ضروری ہے اور اب تک جو کوتاہی ہم سے ہوئی ہے اس پر ہم استغفار کرتے ہیں، آپ کیلئے بھی دنیا و آخرت کی فلاح کا واضح تقاضہ ہے کہ ہمارے ساتھ تعاون فرمائیں اور غلط مفادات کیلئے اس پر مشورہ دینے والوں سے اپنے آپ کو بچائیں۔ ’’ان فی ذٰلک لذکریٰ لمن کان لہ قلب او القیٰ السمع و ھو شھید‘‘۔

تبصرہ

حضرت مولانا سلیم اللہ خان وفاق المدارس کے صدر اور مولانا مفتی تقی عثمانی و مفتی رفیع عثمانی کے اُستاذ ہیں۔ مفتی زر ولی خان نے کوشش کرکے ان کو مفتی تقی عثمانی کی طرف سے سُود کے جواز کیلئے فتوؤں کیخلاف پاکستان بھر کے علماء کو منظم کرنے کی دعوت دی۔ پاکستان بھر سے بڑا اجلاس بلایا گیا جس میں بڑے بڑے علماء نے شرکت کی اور پھر مولانا سلیم اللہ خان نے مفتی تقی عثمانی کو خط لکھ کر سُود کے جواز کے اقدام سے روکنے کی کوشش کی۔ مفتی تقی عثمانی اور ان کے خاندان کے حوالے سے اس معاملے میں ناجائز ملوث ہونے کے خلاف مفتی زر ولی خان نے اچھے انداز میں لکھا۔ اس سے قبل جامعہ بنوری ٹاؤن کے مفتی عبد السلام چاڈگامی ، مولانا حبیب اللہ شیخ وغیرہ نے بھی بڑی کاوشیں کیں۔ ایک مرتبہ حاجی عثمان کے ہاں مولانا عبد اللہ ؒ لال مسجد اسلام آباد ، علامہ خالد محمود پی ایچ ڈی لندن اور دیگر علماء تشریف لائے اور مجھ سے کہا کہ اکابر علماء مفتی ولی حسن ٹونکی ؒ ، مفتی احمد الرحمنؒ اور دیگر حضرات حاجی عثمان صاحب کی بہت تعریف کرتے ہیں مگر مولانا زر ولی خان کہتے ہیں کہ حاجی عثمان اپنے مجالس میں مولانا فقیر محمد صاحب کو بد دعائیں دیتے ہیں۔ مجھے لگا کہ مولانا زر ولی نے بہتان لگایا ہے اور اس جوش و جذبے سے ان کی شان میں کچھ گستاخی بھی کر ڈالی۔ پھر مولانا مسعود اظہر نے بتایا کہ مولانا زر ولی خان نے مولانا یوسف لدھیانوی کے ساتھ بھی برا سلوک کیا ہے یہ آپ نے اچھا کارنامہ انجام دیا۔ جب حاجی عثمان صاحب پر دوست علماء نے الائنس موٹرز کی خاطر فتوے لگائے تو مفتی زر ولی خان کا پتہ چلا کہ وہ علماء کی مخالفت کررہے ہیں جس پر میں نے وہاں حاضری دی اور انہوں نے پہچان کر واپس جانے کا حکم فرمایا۔ میں نے سوچا اچھا ہوا حساب برابر ہوگیا۔ حاجی عثمان ؒ نے فرمایا تھا کہ میرے مریدوں میں سے دنیا دار کھدڑے عنقریب خانقاہ چھوڑ کر چلے جائیں گے۔ مفتی زرولی خان مرید ہوتے تو ایسے مشکل وقت میں مردوں کا کردار ادا کرتے ۔کھدڑا صفت قسم کے علماء مفتیان نے بالکل بے ضمیری کا ثبوت دیتے ہوئے امتحان کے وقت میں حاجی عثمانؒ کو چھوڑا تھا۔ عتیق الرحمن گیلانی