بلال قطب کی دوجہتوں سے جہالتوں کا پول کھل گیا ۔بول کا تول ومول کھل گیا: ارشاد نقوی

630
0

نوشتۂ دیوار کے مدیر خصوصی سید ارشاد نقوی نے دوجہتوں سے سید بلال قطب کی جہالتوں کا تعاقب کرتے ہوئے کہا کہ نام نہاد اسلامی اسکالر اور علاج معالجے کے نام سے جعلسازی کا مرتکب ہے۔ بڑا بچپن کے دودھ دودھ کی رٹ لگانیوالے نے اگر بچپن میں گدھی کا نہیں کسی انسان کا دودھ پیا ہو تو اعترافِ جرم کرنے میں دیر نہیں لگائے۔ جب نام نہاد اسلامی اسکالر کومحرمات کا بھی پتہ نہیں اور جس جبہ پوش اور دین فروش ذاکر کو اتنی بڑی بات کا بھی معلوم نہیں تو ایسوں کو علامہ بن کر بیٹھنے سے عوام کا بیڑہ غرق ہوسکتاہے۔مولانا طارق جمیل کی نقل اتارنیوالے کاپول کھل گیا مگر پھر بھی بول ٹی وی نے موقع فراہم کئے رکھا۔ جس سے میڈیا کا تول اور مول کھل گیاجنہوں نے لمبے چوڑے قصے اور دلفریب جملے ازبر کئے ہوں مگر ان کی جہالت کا حال یہ ہو کہ قرآن میں واضح اور عوام کو معلوم محرمات کا بھی پتہ نہ ہو۔ بہو کے بیوہ بن جانے کے بعد اس کی سسر سے شادی کرائیں کہ اگر کوئی دوسرا رشتہ دار نہ ہو تو بہو کی سسر سے شادی ہوسکتی ہے۔ کوئی سنجیدہ ملک ہوتا تو آزاد جمیل کی داڑھی مونڈھ کر اس کا چہرہ سیاہ کرکے عوام کے سامنے گدھے پر گھماتا اور ساتھ میں بیٹھے بلال قطب اور جبہ پوش ذاکر سے بھی یہی سلوک روارکھتا۔ اسلام کے حوالہ سے علم کا حال تو ان سب کا معلوم ہوگیا جن کو میڈیا میں ایک سازش کے تحت اسلام کی بدنامی کا باعث بنایا جا رہا ہے۔ دوسری طرف بلال قطب روحانیت کے نام پر بھی ٹی وی پر بیٹھ کر مستقل جعلسازی کادھندہ کررہاہے۔ اے آر وائی کے سید وقار الحسن کو ایک دن اس پر بھی چھاپہ مار کاروائی کی ضرورت ہے۔
بلال قطب کی چکنی چپڑی باتیں سن کر کتنے لوگ مغالطہ کھاتے ہوں؟۔ شاہین ائر لائن کا ایک گارڈ نوید نے اپنی ضعیف والدہ کیلئے بڑی مشکل سے بلال قطب کا فون نمبر حاصل کیا تاکہ اس سے بات کرنے کا اعزاز حاصل ہو۔ بلال قطب نے جب اسے کہا کہ ’’تمہارے اوپر کالا جادو ہوا ہے‘‘ تو خاتون حیران ہوگئی کہ مجھ پر کون اور کس لئے جادو کرے گا؟۔ پھر بلال قطب کو برا بھلا کہنے لگی۔ کتنے لوگوں کو اس طرح ٹی وی کے ذریعے نفسیاتی مریض بنانے میں کامیاب ہوگا۔ حکومت کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔ ہمارے مرشد حاجی عثمانؒ نے بھی روحانی علاج کا سلسلہ جاری کیا تھامگر کاروبار نہیں بنایا تھا۔ مسجدو مدرسہ اور خانقاہ کیلئے کبھی کوئی چندہ تک نہیں کیا۔ جن مریدوں نے کچھ دیا تو اس پر ہی گزارہ چلایا، اب نااہل قسم کے لوگوں نے اس مرکز کو بھی چندہ اور جنگ وجدل کا میدان بنالیا۔
جب سید عتیق الرحمن گیلانی مسجد کے امام اور خانقاہ کے منتظم تھے تو حاجی عثمانؒ نے فرمایا تھا کہ ہماری مسجد کو الحمد للہ مسجد نبوی ﷺ کے قرون اولیٰ کا اعزاز حاصل ہے، اس دور میں بھی تنخواہ دار کوئی امام نہ تھا اور آج اس سنت کو زندہ کیا گیا۔ حاجی عثمانؒ کے مخالفین درپردہ سازشوں کے پیچھے کھڑے ہیں لیکن جس کو اللہ رکھے اس کو کون چکے۔ وہ دور زیادہ دور نہیں کہ خانقاہ چشتیہ، مدرسہ محمدیہ، خدمتگاہ قادریہ، مسجد الٰہیہ اور یتیم خانہ اصغر بن حسینؓ کے تمام شعبہ جات کو فعال بناکر بہت پرانی یادیں پھر سے تازہ کردی جائیں گی ۔انشاء اللہ ۔ حضرت حاجی محمد عثمان اپنے وقت کے عظیم مجددتھے ، جو ایک نالائق طبقے کے باعث مفاد پرستی اور جہالت پر مبنی فتوؤں کے شکار ہوئے۔ شیطان کو خوف تھا کہ یہ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا مرکز تباہ وبرباد نہیں کیا گیا تو یہاں سے دین حق کو ایک نئی زندگی مل سکتی ہے۔
مرکز رشد وہدایت منبع انوارِ حق
یا مدینہ پاک ہے یا خانقاہ چشتیہ

حاجی محمد عثمانؒ نے فرمایا کہ مسجدالہٰیہ نام توحید کی وجہ سے رکھا، تاکہ دیوبندی مکتبۂ فکر مانوس رہے۔ خدمتگاہ قادریہ سے بریلوی مکتبۂ فکر ، مدرسہ محمدیہ سے اہلحدیث اور یتیم خانہ اصغر بن حسینؓ سے اہل تشیع مانوس رہیں۔حاجی عثمانؒ کے مشن کی تکمیل پر تمام مکاتب فکر کے بڑے علماء کرام کی طرف سے ہماری تحریک کی تائید نے مخالفین کے حوصلے پست کردئیے ہیں ۔ ہمارا مقصد نہ کسی کو شکست ہے اور نہ ہی ہم کسی کو ملامت کرنا چاہتے ہیں البتہ دین خدمت ہے جس کو تجارت بنانے کے خلاف ہم سربکف مجاہدہیں۔ اسلام کی نشاۃ اول دین کو قربانیوں اور خدمت سے ہوئی تھی ۔
روش روش پہ ہراساں ہیں چاند کی کرنیں
قدم قدم پر سلگتے ہیں بے کسی کے چراغ
میرے چمن کو جہاں میں یہ سرفرازی ہے
ہر ایک پھول نئی زندگی کا غازی ہے
روش روش پہ ہیں برق وشرر کے ہنگامے
مجھے یقین ہے بہاروں کی کارسازی ہے
لکھو یہ عظمت ہستی کے باب میں ساغر
کہ غزنوی کی جلالت غم ایازی ہے
آلام کی یورش میں بھی خورسند رہے ہیں
نیرنگئی حالات کے پابند رہے ہیں
آفاق میں گونجی ہے میری شعلہ نوائی
نالے میرے افلاک کا پیوند رہے ہیں
ڈالی ہیں تیرے خاک نشینوں نے کمندیں
ہر چند محلات کے در بند رہے ہیں
ہر دور میں دیکھا ہے میری فکرِ رسا نے
کچھ لوگ زمانے کے خدا وند رہے ہیں
ساغر نہ ملی منزلِ مقصود خرد کو
ہاں قافلہ سالار جنوں مند رہے ہیں
وقار انجمن ہم سے فروغ انجمن ہم ہیں
سکوتِ شب سے پوچھو صبح کی پہلی کرن ہم ہیں
ہمیں سے گلستان کی بجلیوں کو خاص نسبت ہے
بہاریں جانتی ہیں رونقِ صحن چمن ہم ہیں
زمانے کو نہ دے الزام اے ناواقفِ منزل
زمانے کی نظر ہم ہیں زمانے کا چلن ہم ہیں
قریب و دور کی باتیں نظر کا وہم ہیں پیارے
یقین رہنما ہم سے فنون راہزن ہم ہیں
طلوع آفتاب نو ہمارے نام پہ ہوگا
وہ جن کی خاک کے ذرّے خورشید وطن ہم ہیں
بہر صورت ہماری ذات سے سلسلے سارے
جنوں کی سادگی ہم ہیں خرد کا بانکپن ہم ہیں
ہمارے ہاتھ میں ہے ساغر ادھر دیکھو!
ادھر دیکھو حریف گردش چرخ کہن ہم ہیں