امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا بہت واضح تصور. عتیق گیلانی کی تحریر

856
0

اللہ نے معروف کا حکم و منکر کو روکنے پر امت کو بہترین قرار دیاہے کنتم خیر امۃ اخرجت للناس تأمرون بالمعروف وتنھون عن المنکر’’تم بہترین امت ہو، نکالی گئی ہے لوگوں کیلئے، تم معروف کا حکم دیتے ہو اور منکر سے روکتے ہو‘‘۔ نماز ،روزہ، زکوٰۃ اورحج عبادات ہیں ، یہ معروف ہیں۔ قتل، زنا، شراب ، چوری، ڈکیتی اورجوا وغیرہ منکرات ہیں۔ فقہ میں کتاب الطہارت، کتاب الصلوٰۃ، کتاب الصوم اور کتاب الحج کے علاہ کتاب الحدود بھی ہے۔ حدود وتعزیرات کا تعلق جرائم اور سزاؤں سے ہے۔ یہ بہت بڑی نادانی ہے کہ معروف اور منکر کو خلط ملط کیا جائے۔ معروف و منکر کی تمیز ختم ہونے کی پیش گوئی احادیث میں ہے۔ نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج معروف احکام ہیں کسی کو زبردستی سے معروف پر مجبور نہیں کیا جاسکتا آذان حی علی الصلوٰۃ واقامت قدقامت الصلوٰۃ میں جبر کا عنصر نہیں۔ تبلیغی جماعت نے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی بنیاد رکھ دی اسلئے کہ دین میں زبردستی کے تصور کو ختم کرکے تبلیغ، فضائل، تعلیم اور تلقین کو بنیاد بنادیا۔ طالبان نے نماز کے جبر کے تصور سے علماء ومفتیان کے مسلک پر عمل کیا لیکن اسلام کے خمیر سے ناواقفیت کی وجہ سے دین کو نقصان پہنچایا۔
خلافت کے اختلاف سے انصارؓ ومہاجرینؓکے درمیان فتنہ برپاہوتے ہوتے بچ گیا۔ ابوبکرؓ کی خلافت پر اکثریت نے اتفاق کیا لیکن اس اتفاق کے باوجود انصار کے سردار حضرت سعد بن عبادہؓ پر خلافت سے انحراف کی وجہ سے کفر یابغاوت کا کوئی فتویٰ نہیں لگا۔ کم ظرف علماء و مفتیا ن کے پاس علم ودانش اور فقہ و حکمت کا فقدان نہ ہوتا تو خلافت کی اس جمہوری وسعت کو دنیا کے سامنے پیش کرتے کہ اسلام کی اعلیٰ وارفع تعلیمات کا یہ نتیجہ تھا کہ جبر نہیں کیاگیا۔ حضرت سعد بن عبادہؓ نے لُعان کی آیات پر عمل کرنے سے صاف انکار کیا ۔ لعان کی آیات میں وضاحت ہے کہ کوئی اپنی بیوی کو اپنی آنکھوں سے کسی کیساتھ بدکاری کا ارتکاب کرتے ہوئے دیکھے تو اسکے خلاف عدالت میں چار شہادات ان الفاظ سے دے گا اور پانچویں ان الفاظ سے دے گا۔ اس طرح عورت کیلئے جملے لکھے گئے ہیں۔زنا منکر ہے اور قتل بھی منکر ہے۔ زنا کی سزا100کوڑے اورقتل کی سزا قتل ہے۔ بیوی پر غیرت کھانا ایمان کا تقاضہ ہے۔ اس منکر کو جاری چھوڑنا بے غیرتی اور بے ایمانی بھی ہے۔ اس کو ہاتھ سے روکنا یہ ہے کہ علیحدگی اختیار کرلے، حقوق سے محروم کرنا چاہے تو لعان کرے اور حقوق سے محروم نہ کرنا چاہے تو سورۂ الطلاق کے مطابق گھر سے نکال دے۔ بیوی سے زیادہ غیرت تو کوئی کسی اور منکر پر بھی نہیں کھا سکتاہے؟۔ نماز کا چھوڑ دینا گناہ ہے مگر زبردستی سے نماز پڑھنے پر مجبور کرنا غلط ہے،حالت جنابت یا بے وضونماز پڑھ لے گا تو ؟۔نبیﷺ نے اسلام کے اجنبی بننے کی خبر بہت کچھ دیکھ کر دی تھی۔
سعد بن عبادہؓ نے کہا کہ قرآن پر عمل نہیں بیوی کو قتل کردونگا۔ رسول اللہ ﷺ تک جب بات پہنچی تو انصارؓ سے فرمایا کہ تمہارا صاحب کیا کہتاہے؟۔ انصارؓ نے عرض کیا کہ یارسول اللہ ﷺ درگزر فرمائیے، یہ بہت غیرتمند ہے، کبھی طلاق شدہ یا بیوہ سے شادی نہیں کی،ہمیشہ شادی کنواری سے کی اور جس کوطلاق دی اس کو کسی اور سے شادی نہ کرنے دی ۔ رسول ﷺ نے فرمایا کہ میں اس سے زیادہ غیرتمند ہوں اور اللہ مجھ سے بھی زیادہ غیرت والا ہے۔(صحیح بخاری)۔ انصارؓ نے گرچہ حضرت سعدؓ کیلئے درگزر کا مطالبہ کیا مگروہ بھی قتل کرنا غیرت کا تقاضہ سمجھتے تھے اور جب وہ سمجھتے تھے تو پھر ان کا کیا قصورہے جو نہ صحابہ ہیں اور نہ قرآن کو سمجھتے ہیں۔بیوی اور لونڈی میں بڑا فرق ہوتاہے، سامنے اور پسِ پردہ میں بھی بڑا فرق ہوتاہے ، یقین اور شک میں بھی بڑا فرق ہوتاہے۔
رسول اللہ ﷺ نے بالکل سچ فرمایا کہ میں سعد بن عبادہؓ سے زیادہ غیرتمند ہوں ، نبیﷺ کو شک ہوا کہ آپﷺ کی لونڈی ماریہ قبطیہؓ سے اسکے ایک ہم زبان کا ناجائز تعلق ہے تو حضرت علیؓ کو حکم دیا کہ اس کو قتل کرو، حضرت علیؓ نے اس کو ڈھونڈا ، تو ایک کنویں میں نہا رہاتھا، جب اس کو باہر نکالا تو اس کا ذکر کٹا ہوا تھا، اسلئے چھوڑ دیا۔ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ نبیﷺ کی ازواج سے آپؐ کی وفات کے بعد بھی نکاح نہ کیا جائے، اس سے آپﷺ کو اذیت ہوتی ہے۔ رسول اللہﷺ کو اللہ تعالیٰ بھی سب سے زیادہ غیرت والا ہی سمجھتا تھا۔ اپنے احکام کو عملی جامہ پہنانے کی حکمت سے حضرت عائشہ صدیقہؓ پر بہتان کا واقعہ پیش ہوا۔ رسول اللہ ﷺ نے آپؓ کو گھر جانے دیا۔ پھر اللہ نے آپؓ کی صفائی پیش کردی۔ یہ واقعہ محض دکھ اور اذیت پہنچانے کا ذریعہ نہ تھا بلکہ بہت بڑاسبق اور زبردست نکات ہیں۔
1: بہتان ایک منکر ہے ، سزا 80کوڑے ہے۔2: امیر غریب کی عزتوں میں تفریق نہیں۔ 3:گواہی کے بغیر سزا نہیں۔4: بیوی پر فحاشی کا یقین ہو تو گھر سے نکالا جاسکتاہے۔ 5: کسی جھوٹی خبر کو پھیلانے کی غلطی کرنے سے زبان روکی جائے۔6: زنا کار مرد، عورت کی سزا قرآن میں 100 کوڑے ہے۔ 7: بہتان لگانے کی غلطی پر بھی کوئی غریب ہوتو احسان کا سلسلہ جاری ہی رکھا جائے۔ 8: رسول اللہﷺ کو اذیت پر قتل کا حکم نہ دیا۔ 9: چھان بین ہو۔ 10:توراۃ کاحکم نہیں قرآن معتبرہے۔
مسلم اُمہ کابڑا المیہ ہے کہ آیات کو قبول کرنے میں لیت ولعل سے کام لیا جاتاہے۔ ایک معروف اور منکر وہ ہیں جن کو معاشرے میں معروف یا منکر کہا جاتاہے اور دوسرے معروف ومنکر وہ ہیں جن کو قرآن میں معروف ومنکر کہا گیا، آج کسی بڑے آدمی کی بیوی پر بہتان لگایا جائے تو وہ اربوں روپے ہتک عزت ہی کا دعویٰ کریگا ، حالانکہ جسکے پاس بہت زیادہ دولت ہو تو اس کیلئے یہ کوئی سزا بھی نہ ہوگی۔ اور غریب آدمی کیلئے تھوڑا سا جرمانہ ادا کرنا بھی 80کوڑے کھانے سے بڑی سزا ہوگی۔ غریب آدمی کی عزت کو جس دن امیر کی عزت کے مساوی سمجھا جائے گا تو یہ قرآن کا بہت بڑا انقلاب ہوگا۔
اللہ تعالیٰ نے سورۂ طلاق میں بھی کھلی ہوئی فحاشی کے ارتکاب کی صورت میں بیوی کو گھر سے نکالنے اور اس کو خود نکلنے کی اجازت دیدی ۔ انصارؓکے سردار سعد بن عبادہؓ نے قرآن کو سمجھ کر بھی قرآن کے قانون کو معاشرے کے رسم ورواج کے مطابق قبول نہیں کیا تو ان پر کفر کا فتویٰ نہیں لگا، پھر جو ان پڑھ یا قرآنی تعلیمات سے جاہل طبقہ قرآنی آیت کو قبول نہ کرے تو اس پر فتویٰ کیوں لگایا جائے؟ لیکن بیوی بیٹی،یا ماں بہن کو قتل کرنا قرآن کی آیات سے انحراف ہے۔ مساجدو مدارس کے ارباب محراب ومنبر خود بھلے اس پر عمل کریں یا نہ کریں لیکن عوام کو قرآن سے تو آگاہی دیں۔شاید کوئی عمل کرہی لے۔
پاکدامن عورت پر بہتان کی سزا80کوڑے کی طرح نہ سہی مگر بہتان کی سزا چند کوڑے بھی مقرر کئے جائیں اور ٹی وی پر اس کا نظارہ دکھایا جائے تو ہماری قوم کافی حد تک ادب وآداب سیکھ جائے گی۔ بولنے سے پہلے تولنے کی عادت پڑیگی ۔ لیڈر حضرات قوم کو اخلاقیات کی تعلیم دینگے۔ کوڑوں کی سزا سب کیلئے برابر اسلئے ہوتی ہے کہ درد سب کو ہی ہوتاہے اور بے عزتی سب کو بری لگتی ہے۔ جب سزا کا تصور ہوگا تو اس قوم کو مہذب بننے میں بالکل بھی دیر نہیں لگے گی۔ قرآن کی روشنی میں ایک ضابطہ اخلاق پر سب متحدو متفق ہوجائیں تو دنیا میں ہماری امامت مانی جائیگی۔لندن میں جیو ٹی وی چینل کے مطابق اے آر وائی کے پاس جرمانے کی رقم نہیں تھی تو چینل بند کردئیے گئے۔ اگر کوڑوں کی سزا ہوتی تو دنیا کو دکھادیا جاتا کہ کوڑے لگ رہے ہیں،کوڑے کھانے کیلئے پیسے ہونے کی ضرورت تو نہیں ہوتی۔ اے آر وائی بی بی سی پر کیس کردے کہ ہمارے وزیراعظم کی فیملی کو بدنام کیاہے اگر ثبوت نہ ہوں تو جرمانے کی رقم سے اپنا جرمانہ بھر لیں اور اگر ثبوت مل گئے تو اے آر وائی اپنے مقاصد میں بھی سرخرو ہوجائے گی۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن میں یہ بھی فرمایا کہ ’’ احسن طریقہ سے مجادلہ کرو، اس کی وجہ سے جس شخص کے ساتھ عداوت ہو وہ بھی ایسا ہوجائیگا کہ گویا وہ آپ کاگرم جوش دوست تھا‘‘۔ یہ بھی فرمایاہے کہ ’’ہم حق کو باطل پر دے مارتے ہیں، جس سے اسکا بھیجا نکل جاتاہے اور وہ دفعۃً مٹ جاتاہے‘‘۔ قرآن میں دونوں طرزِ عمل کی ایک ایک بہترین مثال ملاحظہ فرمائیں تاکہ دماغ کی شریانیں کھل جائیں اور ہٹ دھرم و کٹر حجتی لوگوں کو حقائق سمجھنے میں کوئی بھی دشواری بالکل بھی نہ رہے۔
مشرک جوڑے میاں بیوی کا تذکرہ کرتے ہوئے اللہ نے اعلیٰ وارفع تہذیب وتمدن ،ادب اور اخلاق کا بہترین و شاندار طرزِ تحریر کا بے مثال نمونہ پیش فرمایا ہے کہ ’’ جب اس نے ڈھانپ لیا تو اس کو حمل ہوا، خفیف سا حمل، پھر جب وہ بھاری ہوگئی تو اللہ سے دونوں نے دعا کی کہ ہمارے رب ہمیں صحت مند بچہ عنایت فرما، جب اللہ نے انکو صحت مند بچہ دیا تو اللہ سے شرک کرنے لگے‘‘ مشرک جاہلوں کیلئے اللہ نے جن کلمات سے ازدواجی عمل کا تذکرہ فرمایاہے ،اس سے زیادہ اچھے الفاظ میں میاں بیوی کے درمیان تعلق اور بچے کی پیدائش کا تذکرہ کرنا بالکل بھی ممکن نہیں ہے۔
اب آئیے اور دیکھئے کہ مسلمان جب تہذیب وتمدن ، اخلاقیات اور انسانیت کے دائرے کا ادراک رکھنے کے بجائے انتہائی جہالت کا طرزِ عمل اپنانے کی طرف راغب ہوجائے تو اسکو کیسے بری طرح سے لتاڑا ہے، اسکے ضمیر کو پاش پاش کردیا، اس کی روح کو جھنجوڑ کر رکھ دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے محرمات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ’’ تمہارے پر حرام ہیں تمہاری مائیں، تمہاری بیٹیاں۔۔۔ بہن، بھانجی، بھتیجی، خالہ وغیرہ کا ذکر کرتے ہوئے بیوی کی مائیں اور تمہاری وہ سوتیلی بیٹیاں جن کی پرورش تمہارے گھروں میں ہوئی ہے جن کی ماؤں سے تم نے نکاح کیا ہے اور ودخلتم بھن جنکے اندر تم نے ڈالا ہے اور اگر تم نے ان کی ماؤں میں نہیں ڈالا ہے تو تمہارے لئے حلال ہیں‘‘۔ اللہ تعالیٰ نے ڈالنے کے الفاظ کا انتخاب اسلئے فرمایا ہے کہ ایک بدبخت شخص کسی طلاق شدہ یا بیوہ سے نکاح کرلے اور اس کی چھوٹی بچیاں ہوں، جب وہ جوان ہوجائیں تو اس کی نیت خراب ہوجائے کہ وہ پرائی بچیاں ہیں، ان سے نکاح یا ناجائز تعلق کے حرص میں پڑ جائے، اسلئے ان الفاظ سے روکنے کی بات کی گئی ہے۔ چند سال پہلے اس طرح کا ایک واقعہ شاہ فیصل کالونی کراچی میں پیش آیا، خاتون نے اپنے خاوند کے ٹکڑے کرکے اس کو بڑے دیگ میں ڈال کر مرچیں اور مصالحے ملا کر پکایا تھا۔
جہاں کوئی بڑی خسیس اور ہلکی قسم کی حرکت کا مظاہرہ کرے، وہاں نرم الفاظ میں تلقین اور ارشاد کی کوشش اپنے ساتھ بھی دھوکہ ہے اور معاشرے کیساتھ بھی انصاف کا یہ تقاضہ نہیں ۔ اگر سخت الفاظ میں بات سمجھائی جائے تو پھر غلط حرکت سے بھی مخاطب بہت پرہیز کرتا ہے۔ بقول اقبالؒ
پھول کی پتی سے کٹ سکتا ہے ہیرے کا جگر مردِ ناداں پر کلامِ نرم و نازک بے اثر
مولانا طارق جمیل نے کہا ’’ جس زمین پر سجدہ ادا نہ ہو، اس سے بھی بڑا کوئی جرم ہے؟۔ زنا کرنے کو گناہ سمجھتے ہیں نماز کا چھوڑ دینا زنا سے بڑا جرم ہے۔ رشوت کو گناہ سمجھتے ہیں، نماز کا چھوڑ دینا رشوت سے بڑا جرم ہے ۔ قتل کو بڑا گناہ سمجھتے ہیں ، نماز کا چھوڑ دینا قتل سے بڑا جرم ہے۔شیطان نے سجدے ہی کا توانکار کیا تھا، شیطان نے کوئی زنا کیا تھا؟ کوئی شراب پی تھی؟ کوئی جوا کھیلا تھا؟ کیا کیا تھا؟ کوئی شرک کیا تھا؟ شیطان ۔۔۔‘‘۔ یہ تقریرجماعت کی روح ہے،جو مجرموں کی پناہ گاہ ہے اور یہ عیسائی مشنری کیلئے اثاثہ ہے ۔ مولانا الیاس قادری نے گناہ سے بچنے کیلئے ایک نیا مدنی پھول متعارف کرایاکہ باتھ روم میں گھر کے افراد مرد و خواتین ایک چپل استعمال کرتے ہیں جو گناہ ہے۔ اگر کموڈ ایک ہو تو ۔۔۔ علامہ شاہ تراب الحق قادری نے کہا تھا کہ پاخانہ کرنے کے بعد جو پھول نکلتا ہے اگر دھونے کے بعد سکھا نہ لیا اور یہ واپس چلا گیا تو روزہ ٹوٹ جائیگا۔ بہار شریعت میں لکھا ہے کہ عورت میت کا عضوتناسل اپنے فرج میں داخل کرے تو غسل واجب نہیں‘‘۔ یہ خرافات ۔۔۔ اسلام کے نام پر ہیں۔
معروف اور منکر ماحول عوام کے سامنے بنتاہے۔ تبلیغی جماعت کا ماحول ایسا ہے کہ نماز چھوڑ نے کو تمام گناہوں ، جرائم اور غلط کاریوں سے زیادہ بڑا سمجھا جاتاہے۔ میرے دادا سید محمد امیر شاہ باباؒ کے بارے میں میری والدہ نے بتایا کہ زندگی میں ایک نماز قضا ہوگئی تھی تو اس پر بہت زیادہ خفا تھے اور بہت روتے تھے کہ پکڑ ہوئی تو کیا حشر ہوگا؟۔ اس وقت تبلیغی جماعت کا وجود بھی نہیں تھا، دادا سے بڑے عالم اور اللہ والے پردادا سید محمد حسن شاہ عرف بابوؒ تھے،ان سے زیادہ انکے پرداداسید یوسف شاہ کے پردادا حضرت سیدشاہ محمود حسن دیداریؒ تھے ، ان سے زیادہ انکے والد سید محمدابوبکر ذاکرؒ اور ان سے زیادہ انکے والد حضرت شاہ محمد کبیرالاولیاءؒ تھے، ان سے زیادہ ہمارے چوبیسویں پشت میں حضرت سید عبدالقادر جیلانیؒ تھے، ان سے زیادہ حضرت امام حسنؓ اور ان سے زیادہ امام الاولیاء حضرت علی کرم اللہ وجہ تھے۔ صحاح ستہ کی حدیث ہے کہ رسول ﷺ فجر کی نماز کی تلقین کیلئے حضرت علیؓ کے پاس گئے تو حضرت علیؓ نے عرض کیا کہ جب اللہ سلادیتاہے تو پھرہم کیا کرسکتے ہیں؟۔ جس پر نبیﷺ نے اپنے زانو مبارک پر ہاتھ مار کر فرمایا کہ ’’ ان الانسان اکثر شئی جدلا۔ بیشک انسان اکثر باتوں میں جھگڑالو ہے‘‘۔
امام حسنؓکے بارے میں نبیﷺ نے فرمایاکہ ’’یہ میرا بیٹا سید ہے اسکے ذریعہ اللہ امت کے دو بڑی جماعتوں میں صلح کرادیگا‘‘۔ امام حسنؓ کی اولاد میں سے ایک اہلبیت کی بھی نبیﷺ نے پیش گوئی فرمائی تھی۔ حضرت عبدالمطلب نے نبیﷺ کے بارے میں پیشگوئی کی تھی اور حضرت ابوطالب، عبدالمطلب نے ایام جاہلیت میں اہم کردار ادا کیا۔ ہاشم سے اسماعیل ؑ اور ابراہیمؑ تک ایک مبارک شجرہ نسب تھا۔ ابوطالب کے بارے میں کہا جاتاہے کہ حضرت علیؓ کو حکم دیا تھا کہ رسول اللہﷺ کیساتھ بھرپور معاونت کریں، ایک دن نماز پڑھتے دیکھا تو ابوطالب نے نماز کی دعوت پر کہا کہ’’ خدا کی قسم مجھ سے ایسے چوتڑ نہیں اٹھائی جائے گی‘‘۔ میرے والد پیر مقیم شاہ نے چندوں کے بغیر اپنے خرچہ سے عالی شان مسجد بنوائی تھی، نماز کے بارے میں کہتے تھے کہ’’ پڑھنا اچھی بات ہے لیکن نماز کے چھوڑ دینے سے اللہ کو کوئی فرق نہیں پڑتا، مگر کسی انسان کی کوئی ضرورت ہو تو اس کو پورا نہ کرنے پر اللہ نہ چھوڑے گا، اسلئے کہ اللہ خود مدد کیلئے نہیں اترے گا‘‘۔ میں بذاتِ خود ایسی کیفیت سے گزرا ہوں کہ ہر حرکت ، سانس اور قول وفعل کو اسلام کے مطابق کرنا چاہتا تھا لیکن وقت کیساتھ بہت سی غلط فہیماں دور ہوگئیں۔ اسلام کے بنیادی احکامات سے روگردانی کرکے چھوٹے چھوٹے خود ساختہ مسائل میں الجھنا دھوکہ ہے۔اس دھوکہ سے نکالنے کیلئے سخت زبان استعمال کرنی پڑتی ہے ورنہ مذہبی طبقے بیچارے سیدھے ہیں۔
ٹانک کے قرب و جوارمیں ایک 18سالہ دوشیزہ نے دعویٰ کیا کہ وہ لڑکا بن گئی ہے۔وہ ہندکو اسپیکنگ اور خاندان سید کہلاتا تھا۔ بایزید انصاری کی اولاد میں ایک شخص نے اس پر اپنی دکان سے مٹھائیاں نچاور کردیں۔ ٹانک سے اسلام آباد،لاہور اور کراچی تک عوام نے اس کا استقبال کیا اور اخبارات میں بڑی شہرت ملی۔ حکومت نے اسکا میڈیکل معائنہ کرنے کیلئے ڈاکٹروں کی ٹیم تشکیل دی تو اس نے یہ کہہ کر انکار کیا کہ یہ اس کی توہین ہے۔ وہ زنانہ لباس ہی پہنتی تھی اور اپنے سینے کو دوپٹے سے چھپاتی تھی۔ لوگ اس کو ولی اور بہت بڑی صاحب کرامت سمجھ کر دیدار کو ترستے تھے۔ میرے والد صاحب نے کہا کہ یہ بکواس کرتی ہے۔ میڈیکل ٹیم پر کہا کہ عوام کے سامنے پیشاب کرلے تو پتہ چل جائیگا کہ اس کی دھار کہاں تک جاتی ہے۔ لوگوں نے پوچھاکہ کیا اللہ ایسا نہیں کرسکتاہے تو والد صاحب نے کہا کہ اللہ کرسکتاہے مگر کرتا نہیں یہ اس کی عادت نہیں ۔ لوگوں کو لگتا تھا کہ والدصاحب گستاخانہ لہجہ استعمال کرکے برا کررہے ہیں مگر بعد میں پتہ چلا کہ فراڈ ہے، اس نے اپنے منگیتر سے جان چھڑانے کیلئے ایک ڈرامہ کیا اور اس کے نتیجے میں بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی۔ پشتو گانے کا ایک شعر ہے کہ ’’گپ لگار ہا تھا، گپ شپ میں بات سچی ہوگئی اور میری محبت گئی اور دنیا میں مشہور ہوگئی‘‘۔
دوشیزہ کا بھانڈہ پھوٹا کہ عورت ذات نے شادی کرکے بچوں کو جنا ۔ مولانا طارق جمیل نے تقریر سے مخصوص مذہبی طبقے کو خوش تو بہت کیا، جن کی آنکھوں سے پردہ اٹھنے میں شاید دیر لگے مگر خدا کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں ، اسکی حالت اس دوشیزہ سے قطعی مختلف نہیں ۔افغانستان کے امیر امان اللہ خان کی حکومت1919 ؁ء سے 1929 ؁ء تک رہی۔ پلاننگ میرے دادا سید محمدامیر شاہ باباؒ کے ہاں ہوئی تھی، پیر سعدی گیلانی المعروف شامی پیر جرمنی کے تعاون سے قبائل کو اٹھاکر افغان حکومت بدلنا چاہ رہا تھا۔ شروع میں علماء نے عوام کو اٹھاکر جلسے جلوس کئے کہ یہ انگریز میم ہے، کیونکہ شامی پیر کی عمرکم اور داڑھی نہ تھی ،جب بیٹھ کر بات ہوئی تو شامی پیر سگریٹ کے کش لگاکر دھواں علماء کی داڑھیوں میں چھوڑ رہا تھا۔ پیسہ دیکھنے کے بعد علماء نے اس کو مجاہد، عالم اور پیر طریقت سب کچھ مان لیا، جیسا آج علماء سیاستدانوں کو بھی مان لیتے ہیں۔ مولانا فضل الرحمن خود کوحضرت ابرہیمؑ اور موسیٰ ؑ کا جانشین اور نوازشریف کو نمرود و فرعون کا جانشین کہتا تھا۔ اب پنجاب کے شیروں سے پختونخواہ کے چوہوں کو ڈرانے کی بات کرتاہے، میرے دادا امیرشاہ باباؒ سے شامی پیر نے کہا تھا کہ آپ بڑے ہیں ،میری شہرت زیادہ ہے ،اگر جانشینی قبول کرلو، تو خلقِ خدا کو آپ سے استفادہ ہوگا، دادا نے کہا :’’اپنے گناہ اللہ سے بخشوا دوں تو بہت ہے آپ کی خلافت کے گناہ کا بوجھ میں نہیں اٹھا سکتا ‘‘۔ پیرشامی دوبارہ امیرامان اللہ خان کی حکومت کیلئے آئے لیکن انگریز نے لشکر پر بمباری کردی۔ شامی پیر کو واپس جاتے ہوئے گرفتار کیا اور داڑھی مونڈھ کر اخبار میں تصویرشائع کی۔ بعض مریدبرگشتہ ہوئے بعض نے کہا کہ ہم نے کچھ دیکھ کر بیعت کی تھی۔
وزیرستان میں تبلیغی جماعت آئی تو پہلی حمایت ہمارے خاندان سے ملی کہ ’’یہ دین کا کام ہے‘‘۔ ہماری مسجد کے امام مولانا اشرف خان جو بہت نیک آدمی ہیں، مولانا الیاسؒ سے بھی ملے تھے، پٹھانوں میں رسم ورواج اور پرانے معاملے جوں کے توں تھے، دارالعلوم دیوبند کے فضلاء زبان کھولنے کی جرأت نہیں رکھتے تھے۔ دارلعلوم دیوبند کے ایک فاضل مولانا ناظم کسی کے آگے نماز کی امامت نہ کرتے اور نہ ہی کسی کے پیچھے نماز پڑھتے اور میرے چچا سید محمدانورشاہ ؒ نے بتایا کہ وہ تبلیغی جماعت کے بارے میں کہتے تھے کہ ’’ اور کچھ ان کیساتھ نہیں کرنا چاہیے ، بس نقدی، گھڑی اور بستر چھین کر چوتڑ پر لات مار کر گالی دیکر کہنا چاہیے کہ اپنے گھر جاؤ‘‘۔ مولانا الیاس ؒ کے واحد خلیفہ مولانا احتشام الحسن کاندہلویؒ تھے، جنہوں نے’’موجودہ پستی کا واحد علاج‘‘رسالہ لکھا جو تبلیغی نصاب میں شامل ہے ،جسمیں امربالمعروف اور نہی عن المنکر کے حوالہ سے امت کو توجہ دلائی گئی ہے۔ مولانا یوسفؒ مولانا الیاس ؒ کے صاحبزادے تھے لیکن جماعت سے پہلے انکا کوئی تعلق نہ تھا، انکی وفات کے بعدمولانا انعام الحسنؒ امیر بنائے گئے، مولانا احتشام الحسنؒ نے بہت جلد تبلیغی جماعت کے کام کو فتنہ قرار دیا۔ مولانا زکریاؒ بھی آخرکار مخالف ہوگئے ۔ اب مولانا الیاسؒ کے پڑ پوتے مولانا سعد بستی نظام الدین بھارت میں تبلیغی جماعت کے عالمی مرکز کے امیر تھے۔ حاجی عبدالوہاب کی طرف سے ان کے کچھ مخالفین کو شوریٰ میں شامل کیا گیا ، جس کی وجہ سے وہاں دارالعلوم دیوبند سے فتویٰ لیا گیا، دارالعلوم دیوبند والے پہلے ہی نالاں تھے، وہاں سے تبلیغی جماعت کے کام کی عمومی صورتحال کے خلاف فتویٰ آیا، اس قسم کا فتویٰ دارالعلوم کراچی سے مفتی تقی عثمانی اور مفتی رفیع عثمانی پہلے بھی دے چکے تھے۔جامعہ بنوری ٹاؤن کے مہتم ڈاکٹر حبیب اللہ مختارؒ کو شہید کیا گیا جو مسجد میں تبلیغی جماعت سے قرآن کے درس پر فیصلہ کرکے آئے تھے۔ مفتی تقی عثمانی کو بھی درسِ قرآن پر کہا گیا تھا کہ تم دین کے کام میں رکاوٹ بن رہے ہو، جس کی ریکارڈنگ نیٹ پر موجود ہے۔
مولانا سرفراز صفدر ؒ کے بھائی صوفی عبدالحمیدؒ نے ’’ مولانا عبیداللہ سندھی اور انکے علوم وافکار‘‘ میں لکھاکہ ’’مولانا الیاسؒ کا خلوص شک سے بالاتر ہے مگر اب اس جماعت پر منافع خور ، اسمگلر اور سودی کاروبار کرنے والوں کا قبضہ ہوگیاہے ، جو اپنا مذموم مقصد پورا کررہے ہیں‘‘۔ ڈاکٹر حبیب اللہ مختارؒ کے والد تبلیغی جماعت کے اکابرین میں تھے لیکن انہوں نے ایک عربی عالم شیخ عبداللہ ناصح علوانؒ کی کتاب ’’ مسلمان نوجوان‘‘ کا ترجمہ کیا جس میں کہا گیا ہے کہ ’’ ایک جماعت مکی دور کا دعویٰ کرتی ہے لیکن یہ مکی دور اور اسلام دونوں کو نہیں سمجھتے۔ مکی دور تو اسلام کا مشکل ترین دور تھا جس میں باطل کے عقائد کو چیلنج کیا گیا اور مدنی دور میں اسلام کا سیاسی نظام پایۂ تکمیل کو پہنچا، اسلام میں پورے کا پورا داخل ہونے کا حکم ہے، اس جماعت پر مکی دور نہیں مرتد ہونے کے دور کا اطلاق ہوتاہے‘‘۔ (مسلمان نوجوان)۔
مولانا طارق جمیل اپنی تقریر میں قرآن کے منشور کو بیان فرمائیں اور حقوق کے حوالہ سے عوام کو شعور دیں تو لوگ بدلیں گے، رشوت خوروں…..وغیرہ. کوتسلی نہ دیں۔نماز ، روزہ ، زکوٰۃ اور حج معروف احکام ہیں انکی ترغیب دی جائے اور زبردستی سے ان پر مجبور کرنا بذاتِ خود منکرہے، رسول ﷺ مکی دور میں منکرات کو ہاتھ سے روکنے کی طاقت نہ رکھتے تھے تو زبان سے روکنا دوسرے درجے کا ایمان نہ تھا ۔ ہاتھ سے منکر روکنے کی طاقت ہو اور ہاتھ سے نہ روکے تو زبانی جمع خرچ پراسکا ایمان تیسرے درجے کا بھی نہیں۔ ظالم بادشاہ کے سامنے حق کی بات افضل جہاد ہے۔ حضرت عیسیٰ ؑ نے پوری زندگی اور نبی ﷺ نے مکی دور میں ہاتھ سے جہاد نہیں کیا۔خود کش حملوں کا مسلمانوں کیخلاف استعمال سے اسلام نافذ ہوسکتا تو قرآن و سنت میں اسکی تلقین ہوتی۔طالبان اور تبلیغی جماعت علم سے روشناس ہوں۔
ہمارے عزیز پیر کرم حیدر شاہؒ کو مولانا ابولکلام آزادؒ نے اپنے ہاتھ سے قرآن کی اپنی تفسیر دی تھی۔ وہ فوج میں تھے، برطانیہ نے برصغیر پاک وہند کی آزادی کیلئے جنگِ عظیم جرمنی سے جیتنے کی شرط رکھی تھی اور پیرکرمؒ اس وقت وہاں گئے ، برصغیرفوج کی قربانی سے آزاد ہوا۔ پیرکرم شاہ ؒ کو لحد میں اتارا گیاتوان کے ایماندار ساتھی عبدالکریم قصوریہ چیف سیکرٹری پختونخواہ نے بتایا کہ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ’’ لوگ بہت غلط حرکتوں میں مصروف تھے مگر پیرصاحبؒ نے نماز، تلاوت اور ذکر کے علاوہ اورکوئی شغل نہیں کیا‘‘۔ وہ اپنے ساتھ ٹیپ ریکارڈر بھی لایا تھا، مقامی مولوی سے آواز ٹیپ ہونے کے بارے میں پوچھا تو اس نے کہا کہ ’’یہ عقیدہ رکھنے سے انسان کافربن جائیگا‘‘۔ جب مولوی کو اس کی آواز سنائی تو اس نے کہا کہ ’’یہ جادو ہے‘‘۔ اسلام نے مولوی کو بے شعور نہیں بنایا تھا لیکن مولوی قرآن و سنت سے جاہل تھا۔ قرآن میں بولنے والی کتاب اور تسخیرِ کائنات کا ذکر ہے اور حدیث میں ایسے اٰلہ کا ذکرہے کہ ’’آدمی بیوی کے بوٹ کے تسمہ سے چیزچپکا دیگاتو شام کو ریکارڈ دیکھے گا‘‘ یہ صحاح ستہ کی حدیث ہے۔
پیر کرم حیدر شاہؒ کا نادان توتلا پوتا زبیر تبلیغ میں گیا،بیان سیکھتے اٹک اٹک کر ہرچیزکو اللہ کی تخلیق کہا کہ’’ ٹریکٹر کو بھی اللہ نے پیدا کیا ‘‘ جس پر سامعین ہنسے، غلطی کے احساس پر تبلیغی اکابرکوگالی دیکر بھاگا ۔ مفتی اعظم مفتی شفیعؒ نے جاندار کی تصویر کے شرعی احکام میں لکھا کہ ’’مزدورجو مکان تعمیر کرتے ہیں یہ بھی اللہ کی تخلیق میں مداخلت ہے مگرمعاف ہے‘‘ ۔کیازبیر زیادہ ہوشیار نہیں؟۔مولانا فضل الرحمن بینظیر کی حکومت میں شامل ہوا، تومیرا چھوٹا معذور پاگل بھتیجا عمران کہتا:’’ انکل(پیر نثار) سے ڈر لگتا ہے ورنہ مولانا کو بم سے اڑاتا، پھر اسکا رومال، واسکٹ اور جوتے بینظیر کو دیتاکہ تبرکات باپ کی قبر پر رکھ لو‘‘۔ جمعیت کے ضلعی امیر مولانا عبدالرؤفؒ نے مولانا فضل الرحمن سے لڑنا چاہا، میں نے روکا تو کہا :’’ آپ نے ہماری آنکھیں کھولیں، مفتی محمودؒ اور مولاناہزارویؒ نے بھی اسلام آباد میں پلاٹ لئے۔ عتیق گیلانی