مولانا فضل الرحمن کا سورج مکھی رومال چڑھتے سورج کا پجاری ہے. فیروز چھیپا

408
0

moulana-fazl-ur-rehman-feroz-chhipa-ptcl-dmg-commissioner-sargodha-corruption

نوشتۂ دیوار ڈئریکٹر فنانس فیروز چھیپانے کہاہے کہ قصور مولانا فضل الرحمن کا نہیں اس پیلے رومال ہے جوسورج مکھی کی طرح اپنے سر پر لپیٹا ہواہے، دماغ کو گھیرا ہواہے اور اس کوہر چڑھتے سورج کا پجاری بنادیا ہے۔ اب مولانافضل الرحمن مہربانی کرکے اس مخصوص شناخت سے اپنی جان چھڑائیں ۔اب مولانا الیاس قادری جیسے تنگ نظر جماعت کے بانی نے بھی اپنی محدود شناخت کا قصہ ختم کردیاہے جو دوسروں کو اس شناخت کی اجازت بھی نہیں دے رہے تھے، یہاں تک کہ سنی تحریک کو بھی ہری پگڑی پہنے سے منع کردیا تھا۔ میڈیا نے عوام کے شعور میں بہت اضافہ کردیا اور علماء کو چاہیے کہ اپنے عقیدتمندوں کو باشعور بنائیں۔ سیاست اور فرقوں کی بہت خدمت ہوچکی ہے اب دین کی بھی خدمت ہو۔
علماء کرام ، مفتیانِ عظام،مذہبی جماعتوں اور مشائخ عظام کا امت پر بڑا احسان ہے۔ دین اسلام کی جو شکل وصورت محفوظ ہے یہ انہی حضرات کا کرشمہ ہے۔ عوام میں ان کی قدرومنزلت کابڑا مقام ہے۔اپنے مقام کا ان کو خیال رکھنا چاہیے۔ کردار کا ایک اثر ہے جس کی وجہ سے قوموں کی تقدیر بدل جاتی ہے۔
جب بیوروکریٹ احد چیمہ کونیب نے گرفتار کیا تو پنجاب میں طوفان کھڑا کرنے کی کوشش کی گئی۔ کیا نیب نے یہ پہلی مرتبہ کیا ہے؟۔ یا دوسرے صوبوں میں اس کا یہی معمول رہاہے؟۔ جو بلوچستان میں کروڑوں روپے بار بار دکھائے گئے تو احد چیمہ کی جائیداد کم گناہ ہے؟۔ باقاعدہ بینک ٹرانزکشن کیساتھ معاملہ تھا تو نیب کا ہاتھ ڈالنا قانون کی خلاف ورزی تھی؟۔ بلوچستان اور سندھ میں بھی یہ ہوتا رہاہے بلکہ اس سے بڑھ کر بہت کچھ ہوا۔
مولانا فضل الرحمن جمعیت علماء اسلام ف اورمتحدہ مجلس عمل کا امیر ہے، ن لیگ اور پیپلزپارٹی پر کرپشن کے الزامات سے اس کو خوش ہونا چاہیے تھا کہ مذہبی سیاسی جماعتوں اور اتحاد کیلئے یہ راہ ہموار ہورہی ہے لیکن بیوروکریٹ کی پکڑ پر پیٹ میں مروڑ کیوں اٹھا؟۔ سوشل میڈیا پر معلومات ہیں کہ مولانا فضل الرحمن کا ایک بھائی سرگودا پنجاب کا کمشنر ہے جو PTCLمیں ملازم بھرتی ہوا تھا، یہ قصہ سامنے لایا جائے کہ ٹیلیفون کے محکمہ میں جو لوئر گریڈ کا ملازم تھا وہDMGگروپ میں کیسے چلا گیا؟۔ اس طرح دوسرے بااثر سیاستدانوں اور افسروں کے رشتہ داروں کی بھی کوئی فہرست ہے یا یہ پیلے رومال اور سورج مکھی کا کمال ہے؟۔ غریب باصلاحیت تعلیم یافتہ طبقے کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنا ان بے ضمیر لوگوں کا وطیرہ بن چکا ہے ، میرٹ کیلئے اٹھنا ہوگا۔
مولانا فضل الرحمن پرویز مشرف کے بلدیاتی انتخابات کو ہی ملک توڑنے کی سازش قرار دے رہا تھا، بائیکاٹ کے باوجود وہ الیکشن میں گروپ تشکیل دینے میں ملوث تھا۔ پھر اسکے ماموں کو ناظم کی حیثیت سے کھلے عام بڑی کرپشن پر پکڑا گیا اوراقتدار کا فائدہ اٹھاکر کیس کو ختم کروادیا گیا۔ مولانا فضل الرحمن پہلے اپنی سیاست کو پیغمبروں کی امانت قرار دیتا تھا اور دوسروں کو فرعون کہا کرتا تھا مگر اب ہرحکومت کے ساتھ ہوتاہے اور قصور اسکانہیں بلکہ سورج مکھی جیسے رومال کی اسکے سر پر گرفت ہے۔ قرآن کی آیات میں پیغمبروں کے مقابلے میں جن ملاء القوم کا ذکر ہے ان سے مراد قوم کے سردار اور مذہبی مشیرملاء ہیں۔ جب تک یہ لوگ درست راستے پر نہیں آتے ہیں قوم کی تقدیر نہ بدلے گی۔
اگر سیاستدان کہے کہ بیوروکریسی نے ملک کو کھالیا تو ہم کھا جائیں، فوج کہے کہ سیاستدان نے کھالیا تو ہم کھا جائیں، اور علماء ومذہبی طبقہ کہے کہ دوسروں نے کھالیا تو ہم کھا جائیں پھر ملک کا بنے گا کیا؟، غریب عوام اور بے بس طبقہ کہاں جائیگا؟۔ ملک میں چوری ہے اور سینہ زوری ہے جو جتنا بڑا چور ہے اتناہی اس میں زور ہے۔ نوازشریف کہتاہے کہ مجھے چور کہا گیا تو کیا تم بھول گئے کہ صدر زرداری کو کیا کیا نہیں کہا جاتاتھا؟۔ ایوان کے مہمان خانے میں جاؤ اور پارلیمنٹ میں جو تقریر کی تھی اسی کو واضح کرو، کوئی چور نہ کہے گا، عدالت کا مقدمہ بھی ختم ہوجائیگا۔
مولانا فضل الرحمن ہی دلائل کیساتھ حقائق کے تناظر میں جیو ٹی وی چینل پر شاہ زیب خانزدہ یا طلعت حسین کیساتھ اعداد اور شمار کیساتھ واضح کردے۔ صحافت، سیاست کیساتھ ملائیت بھی مل جائے تو نوازشریف کی صفائی نہیں دی جاسکتی ہے۔