مفتی عبد القوی کا فتویٰ اور قندیل بلوچ اسکنڈل کے علمی حقائق

501
0

وہ محترمہ جومحرم بہن ،بیٹی وغیرہ اور منکوحہ نہ ہو، جس قسم کا معاہدہ کیا جائے یہ نکاح ہے، نکاح ہے، نکاح ہے۔ قرآن وسنت سے یہی سمجھاہے

مفتی عبدالقوی نے فتویٰ جاری کیا تو پاکستان تحریک انصاف کے علماء کے سربراہ تھے، پھرعرصہ بعدقندیل بلوچ کے واقعہ کی وجہ سے ہٹادیا گیا

بدقسمتی ہے کہ واقعات کی بنیاد پر معاشرے میں ردِ عمل آجاتا ہے مگراس نصاب کی غلطیوں پر کوئی ردِ عمل سامنے نہیں آتا جو خرابیوں کی جڑ ہے

پاکستان بھر میں مفتی عبدالقوی کا فتویٰ سوشل میڈیا پر ویڈیو پیغام کے ذریعہ عام ہوا، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کی زینت بنا، مفتی صاحب اس وقت ہلال کمیٹی کے رکن اور پاکستان تحریک انصاف علماء ونگ کے سربراہ بھی تھے۔ اپنے اس فتوے کو عملی جامہ پہنانے کیلئے معروف قندیل بلوچ کو میڈیا پر ملنے کی دعوت بھی دی اور ذوق کی پاسداری ایک ہوٹل میں ہوئی۔ جیوٹی چینل نے کچھ ریٹنگ اور کچھ تحریکِ انصاف کی مخالفت کی وجہ سے اس کو خوب اچھالا، موصوف کو علماء ونگ تحریکِ انصاف ، ہلال کمیٹی کی رکنیت اور ٹی وی چینلوں پر اپنے فرائضِ منصبی سے محروم کردیا گیا۔ یہ دنیا اتنی تنگ وتاریک ہے کہ امریکی صدارتی امید وار ڈونلڈ ٹرمپ اور اس سے پہلے صدر کلنٹن پر بھی اس قسم کے واقعہ پر بڑی مہم سازی ہوئی مگر اسلامی دنیا میں صرف واقعہ ہی نہیں بلکہ قانون سازی کی بنیاد بھی اتنی شرمناک ہے کہ عام لوگوں کو پتہ چلے تو صحیح بخاری اور فقہ کی کتابوں پر تعجب کی انتہاء کردیں۔ مغیرہ ابن شعبہؓ کے خلاف تین گواہوں نے گواہی دی تو حضرت عمرؓ نے چوتھے گواہ کی آمد پر کہا کہ اللہ اسکے ذریعہ اس صحابی مغیرہؓ کو ذلت سے بچائے گا، پھر اتنی زور داز آواز سے چیخ کر کہا بتا تیرے پاس کیا ہے ؟ کہ راوی خوف سے بیہوش ہونے کے قریب آگیا، چوتھے گواہ نے کہا کہ میں نے دیکھا کہ اس خاتون(ام جمیلؓ) کے پاؤں مغیرہؓ کے کاندھے پرگدھے کے کانوں کی طرح پڑے تھے اور اس کی سرین دکھائی دے رہی تھی۔ حضرت عمرؓ نے باقی تینوں گواہوں پر حدِ قذف جاری کردیا، ان کو80,80کوڑے لگادئیے،پھر پیشکش کردی کہ آئندہ پھر تمہاری گواہی قبول کی جائے گی ،اگر جھوٹ کا اقرار کرلو، دوگواہوں نے جو صحابی نہ تھے یہ اقرار کرلیا کہ ہم نے جھوٹ بولا تھامگر واحدصحابیؓ گواہ اپنی بات پرڈٹے کہ جو دیکھا سچ تھا۔ یہ واقعہ صحیح بخاری اور فقہ وتفسیر کی کتابوں میں قانون سازی کے حوالہ سے ہے۔
امام ابوحنیفہؒ کے نزدیک حضرت عمرؓ کی پیشکش قرآن کی آیت کے منافی تھی، قرآن میں ہے کہ جھوٹی گواہی دینے والے کی گواہی کبھی قبول نہ کیجائے۔ جمہور فقہاء امام مالکؒ ، امام شافعیؒ اور امام احمد بن حنبلؒ نے اس واقعہ کو دلیل بنایااور یہ مسلک اختیار کیا ہے کہ’’ اس واقعہ کی بنیاد پر توبہ کرنے کے بعد جھوٹے گواہ کی گواہی قبول کی جائے گی‘‘۔ پہلے حضرت عمرؓ نے مغیرہ ابن شعبہؓ سے بصرہ کی گورنری چھینی مگرپھر گورنر بنادیا ۔ یہ قانون سازی قرآن وسنت کی بنیادپر ہرگز نہیں۔ البتہ اللہ نے در اصل حضرت عمرؓ کے ذریعہ غیرشرعی، غیرانسانی اور غیرفطری سنگساری کی سزا کو ہمیشہ کیلئے معطل کردیا۔جو قرآن وسنت نہیں بلکہ یہود کی توراۃ میں اللہ کے احکام کی تحریف کا نتیجہ تھاجسکے سب سے بڑے داعی حضرت عمرؓ ہی تھے، اگر قرآن کیمطابق 100کوڑے کی سزا ہوتی تو حضرت عمرؓ کیلئے پریشانی کا سبب نہ ہوتی۔ یہ قرآن وسنت، فطرت وشریعت سے انحراف کا نتیجہ تھا کہ مجرموں کی بجائے گواہوں کے سزا کی غلط روایت بھی پڑگئی۔ سورۂ نور میں زنا کی سزا 100کوڑے کے بعد نبیﷺ نے کسی پر سنگساری کی سزا جاری نہیں کی۔ جب اللہ کی طرف سے کوئی حکم نازل نہ ہوا تھا تو یہ سنگساری کی سزا اہل کتاب کی موافقت کی وجہ سے دی گئی مگر اسمیں آخری حد تک رحم کھانے کا عنصر موجود تھا جبکہ ایک گروہ کی موجودگی میں کوڑوں کی سزا میں رحم کھانے سے روکا گیا ہے اور وہ فطرت کے عین مطابق ہے اس پررحم کھانے کیلئے پاپڑ بیلنے کی ضرورت بھی نہیں۔
صحیح مسلم کی روایت کیمطابق حضرت عمرؓ کے دور تک متعہ کا سلسلہ جاری تھا،حضرت عمرؓ نے اس پابندی لگائی، صحیح بخاری کیمطابق نبیﷺ نے سفر میں متعہ کی اجازت دی اور قرآن کی آیت کا حوالہ دیکر فرمایا کہ’’ان چیزوں کو اپنے اوپر حرام مت کرو، جن کو اللہ نے حلال کیا ہے‘‘۔ سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک نے مسیار کے نام سے متعہ کی اجازت دی ہے، مفتی عبدالقوی نے متعہ اور مسیار کا نام لئے بغیر کہا کہ ’’شادی ایک نکاح متعددکی اجازت میرے فہم کے مطابق قرآن وسنت میں موجود ہے‘‘۔ سنی مکتب کی معروف تفاسیر میں بھی متعہ کی اجازت قرآن کی آیات میں موجود تھیں، بعض قرأتوں میں ’’ایک متعین وقت تک نکاح کی وضاحت ہے‘‘۔ یہ قرأت نہیں ہوسکتی بلکہ درسِ نظامی میں جلالین کے طرز پر کوئی پرانی تفسیر ہوگی لیکن بہرحال مفتی عبدالقوی نے اسی کی بنا پر فتویٰ دیا ہوگا۔
مشہور شخصیت حضرت عبداللہ بن زبیرؓ نے جب حضرت علیؓ کے سامنے متعہ کو زنا کہا تو حضرت علیؓ نے کہا کہ’’تم خود بھی تو اسی متعہ کی پیداوار ہو‘‘(زادالمعاد علامہ ابن قیمؒ )،یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ حضرت اسماعیلؑ کی والدہ ماجدہ لونڈی تھیں، رسول اللہﷺ کے ایک فرزندزندہ ہوتے تو ان کی ماں لونڈی تھی، حضرت ہاشم کے بیٹے حضرت عبدالمطلب کی والدہ معروف بیوی نہ تھی اسلئے جب لائے گئے تو لوگ ان کو بڑے بھائی مطلب کے غلام سمجھتے تھے، اصل نام شیبہ تھامگر عبدالمطلب نام مشہور ہوا۔ حضرت ابوہرہؓ نے صحابہؓ سے کہا کہ ’’تم خود پر کس بات کا فخر کرتے ہو، قریش تو آسمان (لونڈی )کے بیٹے ہیں۔ کاش! ہم دنیا میں اسلامی نظام کے نفاذ کیلئے شخصی کردار اور فرقہ وارانہ تعصبات چھوڑ کر مثبت راہ کو اپنا نصب العین بنالیں تو ہمارے معاشرے اور معاشرتی نظام کی اصلاح ہوسکتی ہے۔