فقرا و مساکین کے حق زکوٰۃ کو ہتھیانے کیلئے بھی ہتھکنڈے استعمال ہورہے ہیں، فیروز چھیپا

414
0

نوشتۂ دیوار کے منتظم اعلیٰ فیروز چھیپا نے اپنے بیان میں کہاکہ نماز کی طرح زکوٰۃ اللہ کا حکم ہے ۔ زیادہ تر لوگ رمضان میں زکوٰۃ دینا پسند کرتے ہیں، قرآن میں فقراء ومساکین کا اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے ذکر کیا اور باقی مستحقین مسافروں، حادثات کا شکار ہونیوالے، گردنوں کی آزادی، مؤلفۃ القلوب اور زکوٰۃ کے عاملین کی وضاحت ہے۔ یہ بہت بڑا المیہ بن گیا کہ فقراء ، مسکین کا حق چھیننے کے ہتھکنڈے استعمال کئے جا رہے ہیں۔ مسلم امہ کی عزتوں پر وار کیلئے طلاق کی غلط تعبیر اور حلالے کے حیلے سے بڑی مصیبت کوئی نہیں تھی جس پر ہم نے عوام کو زبردست طریقے سے آگاہی دی اور جنکے ہاتھ میں زکوٰۃ کاروبار بن کر رہ گیاہے وہ زکوٰۃ کا بھی حلالہ کرتے ہیں۔ حضرت ابوبکرؓ نے زکوٰۃ نہ دینے والوں کے خلاف جہاد کیا تھا اور اگر موجودہ دور میں اس پر عمل ہوجائے تو بڑے نامی گرامی علماء ومفتیان زد میں آ جائیں گے۔ بڑے بڑوں نے زکوٰۃ کے مال کو ہتھیانے کیلئے اپنی منڈیاں بنارکھی تھیں۔ اب دوسرے چالاک وعیارلوگ بھی یہی کام کررہے ہیں۔ اگر امیر علماء کی زکوٰۃ غریب علماء کو مل جائے تو بھی زبردست خدمت ہوگی۔ سوشل میڈیا پر میں نے یہ پیغام دیا تھا۔جس کو عام کرنے بہت زیادہ ضرورت ہے۔ السلام علیکم۔۔۔رمضان کا مہینہ شروع ہونے کو ہے۔ صاحب ثروت اس مہینہ میں ایک خطیر رقم زکوٰۃ کی مد میں نکالتے ہیں، مگر افسوس کہ اللہ کے واضح حکم کے باوجود یہ رقم مستحق افراد تک نہیں پہنچ پاتی ہے۔ وجہ یہ ہے کہ مخیر حضرات اس انتہائی اہم فریضے کو خود اپنے ہاتھوں سے مستحق لوگوں تک نہیں پہنچاتے ہیں بلکہ مختلف قسم کی این جی او ، فرقہ وارانہ مدارس، لسانی و عصبی تنظیموں وغیرہ کو یہ رقم دیکر فرض کا قرض سمجھتے ہیں کہ فرض ادا ہوگیا۔ نتیجے میں زکوٰۃ کی رقم مستحقین تک فوری پہنچنے کے بجائے مختلف بینک اکاؤنٹس میں فکس ہوتی ہے۔ اب تو یہ بہت بڑا کاروبار بن چکا ہے، نوبت یہانتک پہنچ گئی کہ زیادہ سے زیادہ زکوٰۃ کی کے چکر میں زکوٰۃ ہی کی رقم سے لاکھوں کروڑوں کے اشتہارات پرنٹ میڈیا ، الیکٹرانک میڈیا اور شاہراہوں پر بل بورڈز لگائے جارہے ہیں۔
آپ حضرات دل پر ہاتھ رکھ کر ضمیر سے سوال کریں کہ جب سے بے شمار این جی او، فرقہ وارانہ مدارس اور تنظیموں نے لوگوں کی فلاح و بہبود ، مفت کھانا کھلانے، علاج معالجے اور طرح طرح کے پیکیجز شروع کئے، غربت میں کمی آئی ہے یافقیروں میں اضافہ ہوا؟۔ لوگوں کا معیار زندگی بہتر ہوا ہے یا ا نکے مراکز پر منگتوں کی بھیڑ ہے۔ صحتوں میں استحکام آیا ہے یا ۔۔۔؟ زکوٰۃ لینے والوں کی تعداد کم ہوئی یا ۔۔۔؟ یقیناًحالات بد سے بدتر ہوئے ہیں۔ یاد رہے کہ جب کسی غریب کی عزت نفس بھی جاتی رہے اور وہ اداروں کے دروازوں پر بھکاریوں کی طرح سر عام لائنوں میں کھڑے ہونے پر مجبور ہو جائیں تو بالآخر وہ چوری، ڈاکا، صاحب حیثیت و مالکان کے گریبان میں ہاتھ ڈالنے پر مجبور ہوسکتے ہیں۔ کیا آج کل کے حالات ایسے ہی نہیں؟۔
میں نہیں کہتا کہ سارے ادارے، مدارس اور تنظیمیں غلط ہیں، ایک سے بڑھ کر ایک اللہ کے ولی ہیں مگر اکثریت ذاتی مفادات اٹھانے والوں کی ہے۔ ورنہ یہ اتنا بڑا کاروبار نہ بنتا۔ آخر میں عرض ہے کہ اگر اسی رمضان المبارک سے مخیر حضرات خود اپنے ہاتھوں سے قریب و دور کے مستحق افراد دوست، رشتہ دار ، ملازمین ، ہمسائے اور قرآن کے مطابق وہ افراد جو’’ ہاتھ نہیں پھیلاتے مگر تم ان کے چہروں سے ان کی کسمپرسی کا اندازہ لگاسکتے ہو‘‘۔ کو دینا شروع کردیا تو مجھے بارگاہ رب سے پوری امید ہے کہ اسکی رحمت جوش ماریگی۔ یقیناًاللہ کریم برکتوں کے دروازے بھی کھول دیگا۔ ایسا ہوا تو وہ ایماندار اور انتہائی مخلص لوگ جو صرف اللہ کی رضامندی کیلئے این جی اوز، مدارس اور مختلف ادارے چلا رہے ہیں وہ بھی خوش ہوجائیں گے کہ اب کسی کیلئے دست دراز نہیں کرنا پڑے گا۔ اور ذاتی مفادات اور باطل طریقے سے لوگوں کا مال کھانے والوں کا راستہ بھی رکے گا۔فقط ایک مخلص مسلمان