Trending

رمضان کے پہلے روزے ، لیلة القدر ، عید الفطر ، عید الاضحی اور حج کے حوالے سے پوری دنیا میں ایک ہی چاند کی ایک ہی تاریخ پر بہت ہی معاملہ فہم اور فیصلہ کن تحریر جو قرآن و حدیث اور اسلام کی صداقت کیلئے آج بھی بہترین دلیل ہے

mufti muneeb ur rehman, royat e hilal committee, fawad chaudhry, ramzan ka chand, eid ka chand, laylatul qadr

رمضان کے پہلے روزے ، لیلة القدر ،(Laylatul Qadr) عید الفطر ، عید الاضحی اور حج کے حوالے سے پوری دنیا میں ایک ہی چاند کی ایک ہی تاریخ پر بہت ہی معاملہ فہم اور فیصلہ کن تحریر جو قرآن و حدیث اور اسلام کی صداقت کیلئے آج بھی بہترین دلیل ہے

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

مشرق سے مغرب تک جب چاند پیدا ہوجائے تو اسکے دیکھنے کیلئے کہیں سے بھی کوئی معقول گواہی پہنچ جائے تو رمضان کی پہلی تاریخ ، عید الفطر اور عید الاضحی کا شرعی بنیاد پر تعین ہوتا ہے!

دنیا بھر میں ایک اسلامی نظام خلافت ہو یا پھر بہت ساری مسلمان ریاستیں ہوں چاند کے شرعی معاملے پر اس کا کوئی اثر نہیں پڑتا ہے۔ پاکستان میں اس پر معیاری انداز میں بات نہیں ہوئی

سورج کے حساب سے دن کی تاریخ رات بارہ بجتے ہی بدل جاتی ہے۔ پاکستان کا پہلا یومِ آزادی اسلئے پندرہ (15)اگست کو منایا گیا کہ ہندوستان و پاکستان کو انگریز نے آزاد کرنے کا اعلان کیا تھا تو جب (14) اگست کی تاریخ کے آخری لمحات گزرگئے۔ پندرہ (15) اگست کی تاریخ شروع ہوئی توایک منٹ بعد آزادی کا اعلان کیا گیا۔ قائداعظم محمد علی جناح کو پھر پتہ نہیں کس نے گمراہ کیا کہ ”ہم انگریز کی مخالفت میں آزادی کا دن (14)اگست کو منائیں گے”۔حالانکہ جب (13) اگست کے آخری لمحات گزرتے ہی ہم (14) اگست کو آزادی مناتے ہیں تو اس دن غلامی کا سورج برقرار تھااور ہم غلامی کی آخری تاریخ کو آزادی مناتے ہیں۔ ایک مرتبہ میں نے اپنے سکول کبیر پبلک اکیڈمی گومل ٹانک ڈیرہ اسماعیل خان پختونخواہ کا ایک پیریڈ اسلئے لیا کہ مطالعہ پاکستان کا استاذ موجود نہیں تھا۔ اس دن کتاب کا نیا سبق (14) اگست یوم آزادی کے عنوان سے تھا۔ مجھے یہ دیکھ کر بڑی حیرت ہوئی کہ اس میں لکھا ہوا تھا کہ ”پاکستان ستائیس (27) رمضان کی شب کو (14) اگست میں آزاد ہوا تھا لیکن ہندوستان مسلمانوں سے تعصب رکھتا ہے اسلئے وہ پندرہ (15) اگست کو اپنی آزادی کا دن مناتا ہے”۔ میں نے اپنے اخبار ماہنامہ ضرب حق میں اسکے خلاف لکھا اور پھر یہ مضمون بدل دیا گیا۔ حامد میر نے (14) اگست کی تائید میں اپنی شرارت سے یہ بات چھوڑ دی کہ پاکستان رات بارہ (12) بجکر ایک منٹ پر آزاد ہوا ۔ اور یہ انگریز کی شرارت تھی کہ جس دن جاپان پر ایٹم بم گرائے تھے تو اس دن ہی کو ملک پندرہ (15) اگست کو آزادکیا لیکن پاکستان نے یہ ٹھیک فیصلہ کیا کہ وہ آزادی کادن انگریز کی مرضی اور سازش کے خلاف منائیں گے۔
قمری مہینے کی تاریخ سورج کے غروب ہوتے ہی بدل جاتی ہے۔ چاند کی تاریخ میں پہلے رات پھر دن ہے۔ مشرق سے مغرب تک سورج طلوع ہو تو دن شروع ہوتاہے ۔ جس طرح رات بارہ بجتے ہی مشرق سے انگریزی تاریخ کی ابتداء ہوتی ہے اور یہ سلسلہ مغرب تک جا پہنچتا ہے۔ اسی طرح مشرق سے مغرب تک چاند کی تاریخ کو مغرب کے وقت سے سورج کی اطلاع ملتے ہی بدل دیا جاتا ہے۔ ملائشیاء سے امریکہ تک چاند پوری دنیا میں ایک ہی رات کو ہوتا ہے۔اس رات دنیا میں جہاں بھی چاند نظر آجائے تو دن کو عید یا روزہ ہے۔ لیلة القدر(Laylatul Qadr) کی رات ایک ہی ہوتی ہے۔
چاند کی تاریخ پر جو اختلاف پاکستان ، سعودی عرب ، ایران ، ہندوستان، بنگلہ دیش میں ہوتا ہے، یہی اختلاف امریکہ میں بھی ہوتا ہے۔ امریکہ کی ایک ریاست لاس اینجلس میں چاند دیکھ کر ہی روزہ یا عید کا تعین کیا جاتا ہے جبکہ باقی ریاستوں میں سعودی عرب یا پاکستان کیساتھ رمضان اور عید کا معاملہ ہوتا ہے۔ برطانیہ لندن میں بھی سعودی عرب یا پاکستان کی بنیاد پر فیصلہ کیا جاتا ہے۔
اگر پوری دنیا میں ایک نظام خلافت ہو تو بھی چاند کی تاریخ کا تعین ایک ہی دن میں ہوگا۔ اگر چہ سعودی عرب اور پاکستان میں کچھ گھنٹوں کا فرق ہے اور اگر اس فرق کی بنیاد پر چاند کی تاریخ میں ایک دن کی تاریخ ہوسکتی ہے تو پھر جب امریکہ کا دس بارہ گھنٹے کا فرق ہے تو اس میں کئی دنوں کا فرق ہونا چاہیے تھا۔ لیکن ایسا نہیں ہے اور یہ اسلام کی صداقت کی زبردست دلیل ہے کہ پوری دنیا کے اندر چاند کی ایک ہی تاریخ ہوتی ہے۔ رمضان، لیلة القدر(Laylatul Qadr) ، عیدالفطر،عیدالاضحی، حج اور جمعہ وجمعرات کے دنوں تک کسی بھی چیز میں ذرا برابر بھی فرق نہیں ہوتا۔
اکثر لوگوں کو اس بات پر غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے دیکھا ہے کہ رات ساڑھے گیارہ بجے عیدالفطر کا اعلان کیوں کیا گیا؟۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کو اسلام کے احکام سے کوئی غرض نہیں بلکہ سوئیاں اور مٹھائی کی تقریبات سے غرض رکھتے ہیں ، ان کو چاہیے کہ اسلامی عیدوں کی جگہ ہولی و دیوالی منائیں کیونکہ یہ ضروری ہے کہ اگر رات گئے چاند کی خبر ملنے پر عیدالفطر کا اعلان کیا جائے ۔ عید کے دن روزہ رکھنا حرام ہے اور یہ علماء ومفتیان کی بہت بڑی جہالت رہی ہے کہ سرکاری ہلال کمیٹی ایک مخصوص وقت تک انتظار کرکے رمضان کا اعلان کردیتے ہیں۔
جب رسول اللہ ۖ کو دن کے آخری حصے میں اطلاع مل گئی کہ عید کا چاند نظر آگیا ہے تو آپ ۖ نے روزہ کھولنے کا حکم دیدیا اور دوسرے دن عیدالفطر کی نماز پڑھادی۔ یہ صحیح بخاری کی حدیث ہے۔ یہ ہمارے علماء ومفتیان کی جہالت ہے کہ عیداور روزے کے چاند کو اپنی حکومتوں کیساتھ وابستہ کردیا ہے۔ کیا شریعت میں یہ ہوسکتا ہے کہ ملک کے سرحد کے باہر کسی کو چاند نظر آجائے تو پھر اس کی گواہی قابلِ قبول نہ ہو؟۔ شریعت میں چاند کا تعلق کسی ریاست کے تنخواہ دار ملازم کیساتھ ہے؟۔ ہمارا بڑا المیہ یہ رہاہے ۔ بقول علامہ اقبال کے
خود بدلتے نہیں قرآن کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہانِ حرم بے توفیق؟
مفتی اعظم مفتی منیب الرحمن (Mufti Muneeb Ur Rehman)نے کہا کہ ” زندگی میں پہلی مرتبہ رمضان کے روزے کو کھایا۔ ساری رات روتے ہوئے گزاردی۔ جمعرات کے دن (13) مئی کو عید نہیں تھی جمعہ (14) مئی کو عید تھی اسلئے تمام امت کو شرعی حکم بتانا اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ (14)مئی کو عید کے دن اپنے روزے کی قضاء رکھ لیں”۔ کسی نے اسی وقت یہ نہیں کہا کہ بائیس ( 22) سال تک کتنے عید کے دن روزہ رکھوایا کہ اب ہلال کمیٹی کی چیئرمینی سے فارغ ہونے کے بعد بھی تمہارا دل ٹھنڈا نہیں ہوا اور عید کے دن کا اعلان کرکے بھی روزہ رکھواتے ہو؟۔ مفتی منیب الرحمن(Mufti Muneeb Ur Rehman) سے متحدہ مجلس عمل کی صوبائی حکومت کا رمضان پر اختلاف ہوا تو مفتی اعظم مفتی رفیع وشیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی نے قضاء روزے کا حکم جاری کیا۔ ہم نے لکھاکہ یہ اختلاف تو عید پر بھی ہوگا توکیا عید کے دن روزہ رکھ کر شیطان بنوگے؟۔ ہمارے بیوروکریٹوں، سرکاری ملاؤں اور سیاستدانوں نے چاند کے معاملے کو مذاق بنادیاہے۔
بریلوی مکتبۂ کے مفتی منیب الرحمن(Mufti Muneeb Ur Rehman) نے عید کی نماز پڑھانے کے شوق میں شرعی حکم روتے ہوئے توڑ دیا کہ رمضان میں عید پڑھائی اور پھر نہلے پر دھلہ یہ بھی کردیا کہ جمعہ کو عیدالفطر کا تعین کرکے قضاء روزہ بھی رکھنے کا حکم جاری کردیا لیکن یہ پتہ نہیں چلتا ہے کہ یہ کس خمار کے نشے میں یہ جاہلیت کا ارتکاب کرتے ہیں۔ بریلوی مکتب کے علامہ راغب سرفراز نعیمی نے اعلان کیا کہ جمعہ کے دن کے سوا کسی دن بھی رمضان کا ایک قضاء روزہ رکھیں۔ بریلوی مکتب کے علامہ آصف جلالی نے اعلان کیا کہ حکومت کے اعلان پر ہم عید نہیں روزہ رکھیں گے۔ چنانچہ اس نے جمعرات کو روزے اور جمعے کو عید کا اعلان کردیا۔ سوشل میڈیا کے محمد علی مرزا نے بھی جمعہ کے علاوہ ایک قضاء روزے کا شرعی اعلان کردیا۔
عوام بالکل بھی پریشان نہ ہوں کیونکہ جنہوں نے جمعہ کے دن قضاء روزہ رکھا ہے انہوں نے بھی شریعت کی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔ کیونکہ جمعرات ہی کو عید کا دن تھا۔ البتہ رمضان کا پہلا روزہ بہت لوگوں نے کھالیا تھا۔ جس طرح عید کے دن شام کو چاند بالکل واضح دو دن کا نظر آتا تھا تو اسی طرح رمضان میں بھی چاند اسی طرح سے کراچی کی عوام نے بھی گھروں سے دیکھ لیا تھا۔ اگر اس طرح کے چاند سے روزہ رکھنا ہو تو پھر گواہوں اور ہلال کمیٹی کی ضرورت ہے؟۔
شرعی مسئلہ یہ ہے کہ دنیا کے کسی بھی جگہ سے چاند دیکھنے کی گواہی مل جائے تو سارے مسلمانوں کیلئے وہ معتبر ہے۔ سعودیہ نے تیس (30) روزے پورے ہونے پر عیدالفطر کا اعلان کیا۔ اس سے پہلے رمضان کیلئے بھی اسکے تیس روزے پورے ہوچکے تھے۔ جب فواد چوہدری(Fawad Chaudhry) وزیرا طلاعات کی بات سن لی کہ چاند کی پیدائش کوتیرہ (13)گھنٹے ہوگئے اور اس کا امکان بھی نہیں کہ چاند نظر آجائے اور اس سے بھی ایک دن پہلے میرعلی شمالی وزیرستان والوں نے سولہ (16)گواہوں پر عیدالفطر منائی تھی تو ہمیں بھی تشویش ہوئی کہ ایک طرف جھوٹے گواہوں کا مسئلہ اور دوسری طرف سائنسی معاملہ حقائق کے منافی ہو تو اس بات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ہے کہ سعودی عرب نے منصوبہ بندی سے شعبان ورمضان کے تیس تیس روزوں سے عیدالفطر کو جمعہ کے دن سے بچانے کی سازش کردی ہو کیونکہ حکمران جب نااہل بن جاتے ہیں تو پھر توہمات کا بھی شکار ہوجاتے ہیں۔ سعودیہ کے شاہی خاندان کے حوالے سے آئے روز سوشل میڈیا پر تسلسل کیساتھ صحافی پروپیگنڈے کرتے ہیں اور حالات کچھ خراب بھی ہوسکتے ہیں کیونکہ دنیا بدل رہی ہے۔
فواد چوہدری(Fawad Chaudhry) نے تیرہ (13) گھنٹوں کی بات کی تھی لیکن چاند کی پیدائش کے بعد سترہ (17)گھنٹے مغرب کے وقت بنتے تھے اور نالائق محکمہ موسمیات کے بعض افراد نے پہلے پروپیگنڈہ کیا تھا کہ ستائیس (27) گھنٹے سے پہلے چاند کو نہیں دیکھا جاسکتا ہے تو مجھے اس بات پر تشویش تھی کہ پھر تو سعودیہ میں بھی نظر نہیں آسکتا ہے لیکن ماہرین نے واضح کردیا کہ بیس (20)گھنٹے گزرنے کے بعد بھی چاند نظر آتا ہے۔ امریکہ میں رابطہ کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ لاس اینجلس میں چاند کی پیدائش کو ستائیس (27) گھنٹے گزر جائیںگے اور کنفرم نظر آئے گا۔ سعودیہ میں سائنسی اعتبار سے چاند دیکھنے کے واضح امکانات تھے اور پاکستان میں بھی پسنی اور پختونخواہ میں چاند دیکھا گیااور امریکہ میں بھی اس رات واضح طور پر چاند نظر آنا تھا۔ سعودیہ میں تیس (30) روزے بھی پورے ہوچکے تھے اورچاند کی پیدائش زمین پر چوبیس گھنٹے سے زیادہ تھی۔
فواد چوہدری(Fawad Chaudhry) نے چاند کی پیدائش مزید گھٹادی تھی اور اینکرپرسن صابر شاکر نے اس پر مزید اضافہ کرکے دس (10) گھنٹے کردی ۔ پاکستان کی عوام کو بے چین کیا اورسب نے اپنی اپنی طرف سے تڑکے لگانے کی بھی زبردست کوشش کی۔ کتابی محمد علی مرزا نے عید کو غلط اور قضاء روزہ رکھنے کا شرعی حکم جاری کردیا۔ حالانکہ اس بات پربھی بہت شرم کرنے کی ضرورت ہے کہ پاکستان میں جب رمضان کو عید کی گئی تو اس پر فوری طور پر ایکشن لینے کی ضرورت تھی۔ صابر شاکر نے ضرورت سے زیادہ افغانستان و سعودی اور امت کیساتھ اتحاد کرنے کوحکومتی ترجیحات قرار دیا۔ یہ کتنا عجیب معاملہ ہے کہ پوری دنیا میں مشرق سے مغرب تک رمضان، عید اور لیلة القدر(Laylatul Qadr) کا تہوار منایا جاتا ہے اور ہم اپنے آزادی کے دن کی طرح ہٹ دھرمی کے سرکاری وصحافتی مؤقف کی طرح شریعت میں بھی ڈنڈی مارنے پر ہی مجبور ہوتے ہیں۔ شریعت، فطرت اور غیرت سب کے علمبردار ہونے کیساتھ ساتھ سب سے عاری ہوکر عوام کو جہالت کی موت مارے جارہے ہیں۔ اب وہ وقت گیا کہ جب دیومالائی جھوٹی کہانیوں پر لوگ یقین رکھتے تھے۔ ریاست اور مذہب کی خدمت کیلئے اب بھی جھوٹ کا مقبول عوامی پروپیگنڈہ دم توڑ رہاہے۔ پہلے جب کوئی طالبان مرتے تھے تو عوام اپنے احساسات سے ان کو خوشبو سونگھ لیتے تھے ، الطاف حسین بھائی کراچی کے مہاجروں کو درختوں کے پتے اور گوہر شاہی چاند میں عقیدت مندوں کو دکھتا تھا۔ تبلیغی جماعت، دعوت اسلامی ، جہادی اور دوسرے اپنی من گھڑت جھوٹی کہانیوں سے لوگوں کوورغلاتے تھے۔ جب کسی عورت نے اپنی شرمگاہ میں چھوٹا ٹیپ ریکارڈ فٹ کیا تھا توکراچی کے معروف علماء اور لاکھوں عوام نے(1970 عیسوی) میں اس فراڈی عورت کے پیچھے نماز پڑھی ۔

Leave a Reply

Back to top button