پنچایت کا 17 سالہ لڑکی کے ریپ کے فیصلے سے بدتر حلالہ کے فتوے ہیں. عتیق گیلانی

349
0

-mufti-taqi-molana-fazal-ur-rehman-maulana-maududi-Multan-on-panchayat's-orders-syed-atiq-ur-rehman-gailani

درجہ بالا تصویر میں مظفر گڑہ کا واقعہ ہے، 17سالہ لڑکی سے پنچایت نے بطور بدلہ ریپ کا فیصلہ کیا، چیچہ وطنی میں بھی 14سالہ لڑکی کا نکاح اس شخص سے بدلے میں کروایا جس کی بیوی سے زیادتی کی گئی۔ بادی النظر میں پنچایت کے فیصلے کا انسانیت کی توہین ہونا روزِ روشن کی طرح واضح ہے مگر اس کی وجوہات تک پہنچنا بھی ضروری ہے کہ آخر انسانیت کی روپ میں اتنا بڑا ظلم پنچایت کے فیصلے میں کیسے ممکن ہے کہ ایک انسان کے جرم کی سزا دوسری بے گناہ خاتون کو دی جائے؟۔
شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی اور مولانا فضل الرحمن کو میڈیا میں چیلنج دیتا ہوں کہ قرآن و سنت ،درسِ نظامی اور فقہ حنفی کی واضح تعلیمات کے مطابق ایک ساتھ تین طلاق کے باوجود باہمی رضامندی سے رجوع کی گنجائش ہے حلالہ کی نہیں لیکن پھر بھی حلالہ کا ناجائز فتویٰ دیا جاتاہے۔ جو معاشرہ قرآن اور سنت کا پابند ہو ، پاکستان کے آئین میں بھی اس کی وضاحت ہو اور قرآن وسنت میں بار بار باہمی رضامندی سے رجوع کا حکم دیا گیا ہو مگر قرآن وسنت واضح ہوجانے کے بعد بھی کوئی ہٹ دھرمی پر قائم ہو اور جاہل لوگوں کو حلالے کا فتویٰ دے تو اس کا کیا علاج ہونا چاہیے؟۔ برما کے مظالم پر آواز اٹھانے والے یہ نہیں جانتے کہ دارالعلوم کراچی سے عزت کی تباہی کا سلسلہ کیوں نہیں رک رہاہے؟۔ مولانا فضل الرحمن قرآن اور سنت کے علاوہ عزتوں کو تحفظ دینے میں اپنا کردار ادا کرے، چیف جسٹس ثاقب نثار صاحب اور جسٹس آصف سعید کھوسہ حلالے کے گھناؤنے فتوؤں کا نوٹس لیں۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ بھی آیاہے کہ’’ طلاق کا تعلق الفاظ نہیں پراسیس کیساتھ ہے‘‘۔ یہ دین، انسانیت اور سپریم کورٹ کی بھی توہین ہے۔