طلاق سے رجوع کیسے ہوسکتاہے؟،مفتی صاحب!

631
0

mufti-taqi-ruju-fatwa-hazrat-umer-hazrat-ali-imam-abu-hanifa-halala-teen-talaq-triple-talaq-quran-syed-atiq-ur-rehman-gailani
اس بات کی وضاحت کردیتا ہوں کہ شوہر نے اگر اکٹھی تین طلاق دیں تو میرا یہی فتویٰ ہوگا کہ طلاق واقع ہوچکی اور شوہر کو یکطرفہ رجوع کا حق نہیں، اسکے برعکس فتویٰ دینا بالکل 100فیصدغلط ہوگا کہ شوہر رجوع کرسکتا ہے اسلئے کہ قرآن وسنت ، خلفاء راشدینؓ، صحابہ کرامؓ، ائمہ مجتہدینؒ اورعلماءِ حق کا یہ متفقہ فیصلہ بھی ہے اور فتویٰ بھی ہے کہ شوہریکطرفہ رجوع کا حق کھودیتاہے۔
مگر کیا ایک ساتھ تین طلاق کے بعد حلالہ کی شرط پر رجوع ہوسکتا ہے؟۔ اگر قرآن وسنت اور خلفاء رشدینؓ، صحابہؓ و ائمہ مجتہدینؒ کی طرف سے کوئی ہلکا سااشارہ بھی کوئی بتادے تو میں اس کاقائل ہوجاؤں گا۔کسی آیت میں نہیں کہ ایک ساتھ تین طلاقیں دیدیں تو عدت تک انتظار کرنا پڑے گا اور پھر حلالہ کی خدمات کیلئے فتویٰ اور اس لعنت میں منہ کالا کرنے کی ضرورت پڑے گی۔
بلکہ اسکے بالکل برعکس اللہ تعالیٰ نے ڈھیر ساری آیات میں وضاحت کردی ہے کہ عدت میں باہمی صلح کی شرط اور معروف طریقے سے رجوع ہے۔ ایک طرف قرآن میں بار بار وضاحت ہو کہ صلح کی شرط پر عدت میں رجوع ہوسکتا ہے ، عدت کی تکمیل پر معروف طریقے سے رجوع ہوسکتا ہے، معروف طریقے سے رجوع کرو، معروف طریقے سے رجوع کرسکتے ہو اور معروف طریقے سے رجوع کرسکتے ہو لیکن دوسری طرف قرآن کی ڈھیر ساری آیات کے واضح مطلب کو چھوڑ کر کسی کی منکوحہ کو مفتی اپنے فتویٰ کے ذریعے شکار کرنا چاہتا ہو۔ حنفی مسلک کے اندر عدت میں نکاح باقی رہتاہے لیکن حنفی مسلک کے مفاد پرست علماء ومفتیان قرآن کے برعکس فتویٰ دیں کہ صلح اور معروف طریقے سے بھی رجوع نہیں ہوسکتاہے تو یہ قرآن سے بہت بڑی اور کھلی بغاوت ہے ۔
جہاں تک احادیث صحیحہ کا تعلق ہے تو احادیث کے ذخیرے میں کوئی ایک بھی ایسی حدیث نہیں کہ جس میں یہ فتویٰ دیا گیا ہو کہ ایک ساتھ تین طلاق کے بعد حلالہ کے بغیر رجوع نہیں ہوسکتا۔ کوئی حدیث قرآن کیخلاف کیوں ہوتی؟ اور اگر بالفرض ہوتو بھی قرآن کے مقابلہ میں ناقابلِ عمل ۔ یہی تو درسِ نظامی کی تعلیم ہے۔ جب ذخیرۂ احادیث میں ایسی حدیث نہیں کہ جس میں ایک ساتھ کی تین طلاق کو ناقابلِ رجوع قرار دیا گیا ہو یا حلالہ کے ذریعے رجوع کا حکم ہو تو پھر کتنا بڑا ظلم ہے کہ اسکے برعکس فتویٰ دیاجائے کہ ایک ساتھ تین طلاق کے بعد حدیث کی رو سے حلالہ کرنا لازم ہے؟۔
اصولِ فقہ کی تعلیم کا بنیادی تقاضہ ہے کہ فتویٰ قرآن وحدیث کے مطابق دیا جائے۔ صحابہؓ نے قرآن وسنت کو اپنی پہلی ترجیح بنالیا تواللہ نے چند سوسال تک مسلمانوں کو دنیا کے اقتدار کے قابل بنادیا۔ بنی امیہ و بنی عباس کے بعد خلافت عثمانیہ بڑے عرصہ تک چلی۔1924ء میں خلافت کا خاتمہ کرکے کمال اتاترک نے نئی ریاست کی بنیاد رکھ دی۔بنی امیہ، بنی عباس اور خلافت عثمانیہ کے علاوہ مغلیہ سلطنت ، عرب بادشاہت اور جمہوری ادوار میں کبھی کوئی عالم ومفتی حکمران نہ بن سکا ، اس کی بنیادی وجہ مُلاؤں کی قرآن وسنت کے احکام سے روگردانی ہے۔علماء درباری بن کر قرآن وسنت کا حلیہ نہ بگاڑتے تو مسلم اُمہ کبھی زوال کا ایسا شکار نہ بنتی۔ دوبارہ عالمی خلافت قائم ہوگی ۔قرآن وسنت کی طرف رجوع کرنا ہوگا۔ اگر علماء ومفتیان جانے بوجھے بھی قرآن وسنت کیخلاف فتوے دینگے اور لوگوں کی عزتوں سے کھیلیں گے تو خود بھی ذلت سے دوچار ہونگے اور امت مسلمہ کو بھی دوچار کردیں گے۔ اللہ نے استدراج کا ذکر بھی فرمایا، اپنی ظاہری ترقی کو انعام نہ سمجھیں۔ مفتی تقی عثمانی کے گھر کی خواتین کو بھی سکون نہیں ملا ہے۔وممن خلقنا اُمۃ یھدون بالحق وبہ یعدلونOوالذین کذبوا باٰ ےٰتنا سنستدرجھم من حیث لایعلمونOواُملی لھم ان کیدی متینOاولم یتفکروا مابصاحبہم من جِنۃ ان ھو الا نذیر مبینO اولم ینظروا فی ملکوت السمٰوٰت والارض وماخلق اللہ من شئی وان عسٰی ان یکون قد اقترب اجلھم فبای حدیث بعد یؤمنونOمن یضلل اللہ فلا ھادی لہ ویذرھم فی طغانھم یعمھونO ’’اورجن کو ہم نے پیدا کیا ،ان میں ایک جماعت حق سے ہدایت لیتے ہیں اور اسی سے فیصلہ کرتے ہیں اور جنہوں نے ہماری آیتوں کو جھٹلایا، ہم بتدریج لے جائیں گے کہ ان کو خبر بھی نہیں ہوگی۔ اور میں ان کو ڈھیل دوں گا اور میرا داؤ مضبوط ہے۔ کیا وہ غور نہیں کرتے کہ ان کے صاحب (ﷺ) کو کچھ جنون نہیں مگر وہ کھلا ڈرانے والاہے۔کیا وہ نہیں دیکھتے کہ زمیں و آسمان کی بادشاہی اور جو اللہ نے پیدا کیا ہے اس میں کوئی چیز؟۔ اور شاید قریب آگیا ہے ان کے وعدے کاو قت۔ پھر اس کے بعد وہ کس حدیث(بات) پر ایمان لائیں گے؟۔ جس کو اللہ گمراہ کردے، تو اس کیلئے ہدایت دینے والا کوئی نہیں ہے۔ اللہ نے چھوڑ رکھا ہے، کہ وہ اپنی سرکشی کے اندھے پن میں ہچکولے کھائیں‘‘۔
جب مشرکینِ مکہ نے اپنی جہالت کا تسلسل کیساتھ مظاہرہ کیا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ڈھیل کا وقت ختم ہوگیا اور فتح مکہ کے بعد خلافت راشدہؓ اور اسکے بعد آج تک انکا نام ونشان بھی مٹ گیا۔ صحابہ کرامؓ اور خلفاء راشدینؓ نے حق اور ہدایت کی رہنمائی سے دنیا کو فتح کرلیا۔ اسلام سے پہلے عورت غلامی سے بھی بدتر زندگی گزارتی تھی۔ قرآن وسنت میں بیوی کو خلع کا حق دیا گیا، طلاق کے بعد بھی صلح کی شرط پر معروف رجوع کا حق دیا گیا۔ حضرت عمر فاروق اعظمؓ جب مسندِ خلافت پر جلوہ افروز تھے تو اس سے پہلے یہ معمول تھا کہ تین طلاق کا تعلق عدت کے تین مراحل طہرو حیض سے ہوتا تھا۔ جس کی قرآن وسنت میں وضاحت تھی۔ کوئی ایک ساتھ تین طلاق دیتا تب بھی ایک ہی طلاق شمار ہوتی تھی۔ قرآن وسنت کے مطابق یہ معمول تھا کہ عدت تک عورت انتظار کرنے کی پابند تھی اور باہمی رضامندی سے رجوع کا دروازہ کھلا رہتا تھا۔
جب میاں بیوی آپس میں باہمی رضامندی سے صلح کریں یا رشتہ دار ان کو صلح پر آمادہ کرلیں تو خوش اسلوبی اور معروف طریقے سے رجوع کرنے پر کوئی کس طرح سے اعتراض کرسکتا تھا۔ ایک خاتون نے تین طہرو حیض کے آخری حیض میں شوہر کا گھر چھوڑ دیا تو اعتراض ہوا کہ اس نے غلطی کی ہے۔ حضرت عائشہؓ نے فرمایا کہ ’’ اس نے ٹھیک کیا ہے ، انتظار کے تین قروء سے مراد اطہار یعنی پاکی کے ایام کی تین مدتیں مراد ہیں‘‘۔ طلاق سے رجوع کیلئے فتویٰ فروش نہیں بیٹھے تھے جن سے رہنمائی طلب کی جاتی بلکہ قرآن وسنت صحابہ کرامؓ کے ماحول ہی کا اہم حصہ تھا۔زندگی کا محور قرآن وسنت کا منشور تھا۔
جب میاں بیوی کے درمیان علیحدگی طلاق کا مسئلہ چل رہا ہو تو سب سے زیادہ اہمیت میاں بیوی کی اپنی رائے، چاہت اور لائحہ عمل کی ہوتی ہے لیکن جب معاشرے کو یہ احساس ہوجائے کہ ان دونوں کے درمیان تفریق کا خطرہ ہو تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ ایک فیصل شوہر کے خاندان سے اور ایک فیصل بیوی کے خاندان سے تشکیل دو، اگر ان دونوں کا ارادہ اصلاح کرنے کا ہو تو اللہ ان دونوں میں موافقت پیدا کر دے گا۔ جب تک معاملہ صلح اور اصلاح کی حد تک رہتا ہے تو اس کا تعلق معاشرتی معاملات سے ہوتا ہے۔ میاں بیوی صلح کریں یا معاشرہ اس میں کردار ادا کرے تو بات حکومت تک نہیں پہنچتی ہے۔
اسلام دینِ فطرت ہے ، قرآن وسنت نے صحابہ کرامؓ کو اس فطری دین کی بدولت تاریخ ساز عروج عطا فرمایا جس کی بازگشت ابھی تک دنیاکے اندر موجود ہے۔ قرآن وسنت اور مسلمانوں کی بدولت عورت کے معاملے میں دنیا بدل گئی اور’’ میاں بیوی راضی تو کیا کریگا قاضی‘‘ کی کہاوت نے حقیقت اور قانون کا روپ دھارلیا۔ جب حضرت عمرؓ کے دربار میں ایک شخص نے فریاد کی کہ اس نے تین طلاق ایک ساتھ دئیے ہیں ، اپنی بیوی کو واپس لوٹانا چاہتاہے تو سب سے واضح بات یہ ہے کہ اگر میاں بیوی آپس میں راضی ہوتے تو پھر وہ حضرت عمرؓ کے پاس کیوں آتا؟۔ ظاہر بات ہے کہ عورت صلح کیلئے راضی نہ تھی اور تمام حربے آزمانے کے بعد بات حکومتِ وقت سے مدد لینے تک پہنچی تھی۔
حضرت عمرؓ نے قرآن وسنت اور عقل وفطرت کے خلاف فیصلہ نہیں دینا تھا اور آج بھی دنیا کی ہر عدالت وہی فیصلہ دے گی جو قرآن وسنت اور حضرت عمرؓ نے دیا ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ وبعولتھن احق بردھن فی ذلک ان ارادوا اصلاحا ’’ اور انکے شوہر ہی اس مدت میں ان کو لوٹانے کا حق رکھتے ہیں بشرط یہ کہ اصلاح کرنا چاہتے ہوں‘‘۔ جب تنازعہ چل رہا ہو تو اصلاح کی کیا بات ہوسکتی ہے۔ جب قرآن تنازع کی صورت میں رجوع کا حق شوہر کو نہیں دیتاہے تو حضرت عمرؓ نے کیسے دینا تھا؟۔ حضرت عمرؓ نے نہ صرف قرآن کی بات پر عمل کرکے شوہر کو رجوع کا حق نہیں دیا بلکہ ایک ساتھ تین طلاق کے بعد جو رنجیدہ صورتحال پیدا ہوئی تھی اس پر بھی فرمایا کہ آئندہ کوئی ایک ساتھ تین طلاق دے گا تو اس کو سخت سزابھی دی جائے گی۔
جب حضرت عمرؓ نے یہ فیصلہ کردیا تو حضرت علیؓ نے اس کی تائید فرمادی کہ حضرت عمرؓ کا فیصلہ درست ہے، کوئی شخص ایک ساتھ تین طلاق دیتاہے تو وہ اپنا حق کھو دیتاہے، پھر عورت رجوع پر راضی نہیں ہو تو وہ رجوع نہیں کرسکتاہے۔ اور ساتھ میں یہ وضاحت بھی کردی کہ ’’ ایک ساتھ تین طلاق کے بعد باہمی صلح سے رجوع کا دروازہ بند نہیں ہوتا بلکہ قرآن کے مطابق رجوع کرسکتے ہیں‘‘۔ افسوس کہ کم عقل علماء ومفتیان اور حلالہ کی ہوس میں مبتلاء رہبروں نے سمجھا تھا کہ حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ کے درمیان کوئی تضاد پایا جاتاہے بلکہ حضرت علیؓ کے اپنے مؤقف میں بھی کھلا تضاد سمجھتے تھے، حالانکہ حقیقت میں تضاد نہ تھا۔
دنیا کی کسی قوم کیلئے بھی قرآن وسنت اور خلفاء راشدینؓ کا یہ قانون بہت زبردست ہے کہ طلاق کے بعد عدت میں باہمی رضا اور صلح کے بغیر رجوع کا دروازہ بند ہو۔ البتہ جن معاملات کی وجہ سے بگاڑ پیدا ہورہاہو، جو علیحدگی کے باعث ہوں، شکایات کے ازالے اور اصلاح کی شرط پر رجوع کی گنجائش ہو۔
اللہ نے اہل کتاب کو مخاطب کیا کہ ’’دین میں غلو نہ کرو‘‘۔ علامہ تراب الحق قادریؒ نے رمضان میں تقریر کی تھی ’’ روزے میں جب لیٹرین کیا جائے تو مقعد کے اندر کا حصہ نکلتاہے جو پھول کی طرح ہوتاہے، وہ پھول دھویا جائے تو کپڑے سے خشک کیا جائے ، خشک کئے بغیر اگر وہ پھول اندر داخل ہوا تو روزہ ٹوٹ جائیگا‘‘۔ ہم نے یہ خبر اپنے اخبار میں لگائی تھی، دعوتِ اسلامی کے مبلغ کی ویڈیو دستیاب ہے کہ ’’ روزے میں استنجاء کرتے ہوئے کھل کر نہ بیٹھو اور سانس زورسے نہیں آہستہ لو، ورنہ پانی اندر داخل ہوگا، روزہ ٹوٹ جائیگا‘‘۔
الم ےأن للذین اٰمنوا ان تخشع قلوبھم لذکر اللہ وماانزل من الحق ولا یکونوا کالذین اوتواالکتٰب من قبل فطال علیھم الامد فقست قلوبھم وکثیر منہم فٰسقونO اعلمواان اللہ یحی الارض بعدموتھا قد بیّیّنا لکم الاٰےٰت لعلم تعقلونO ان المصدقین والصدقٰت واقرضوا اللہ قرضاًحسناً یضٰعف لہم و لھم اجر کریمOوالذین اٰمنواباللہ و رسلہ اولئک ھم الصدیقون الشہداء عند ربھم لھم اجرھم ونورھم والذین کفروا و کذبوا باٰےٰتنا اولئک اصحاب الجحیمO ۔۔۔ ۔۔۔
’’ کیا وہ وقت نہیں آیا کہ ایمان والوں کے دل اللہ کی یاد میں گڑ گڑائیں؟۔ اور جو اللہ نے حق نازل کیا ( اس کی طرف متوجہ ہوکر اس کو قبول کرلیں)؟۔ اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوں جن کو کتاب میں ملی تھی پہلے۔ پھر ان پر بڑی عمر گزر گئی ،تو سخت ہوگئے ان کے دل ، اور ان میں اکثر فاسق تھے۔ جان رکھو کہ بیشک اللہ زندہ کرتا ہے زمین کو اسکے مرجانے کے بعد۔ ہم تمہارے لئے کھول کرواضح کرتے ہیں آیات تاکہ تم عقل سے کام لو۔ بیشک قربانی دینے والے مردوں اور خواتین اور جو اللہ کو قرضِ حسنہ دیتے ہیں اللہ تعالیٰ اس کو ضرب دیکر بڑھاتا ہے اور ان کیلئے عزت کا بدلہ ہے۔ جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لاتے ہیں ، یہی لوگ صدیقین اور شہداء ہیں اللہ کے نزدیک۔ ان کیلئے ان کا اجر بھی ہے اور ان کا نور بھی ہے۔ اور جولوگ کفر کریں اور ہماری آیتوں کو جھٹلا دیں تو وہ لوگ جہنم والے۔ جان رکھو کہ بیشک دنیا کی زندگی کھیل ، لہو ، زینت اور آپس میں ایکدوسرے پر تفاخر اور اموال واولاد میں بہتات کی باتیں ہیں، اس کی مثال بارش کی ہے جو اچھی لگتی ہے کفار کو، اس کا سبزہ ہے، پھر زور پکڑتاہے، پھر آپ دیکھتے ہو کہ زرد ہوگیا اور پھر ہوجاتا ہے روندا ہوا گھاس۔ اور آخرت میں سخت عذاب ہے اوراللہ کی طرف سے مغفرت اور رضامندی۔ اور دنیا کی زندگی کیا ہے مگر غرور کی گزر بسر۔ دوڑو، اپنے رب کی معافی کی طرف اور جنت کی طرف جس کا عرض آسمان وزمین کے عرض کی طرح ہے۔ جو تیار کی گئی ہے ،ان لوگوں کیلئے جو اللہ اور اسکے رسولوں پر ایمان لائے۔ یہ اللہ کا فضل ہے جس کو چاہتا ہے ،دیدیتاہے اور اللہ بہت بڑے فضل والا ہے۔ کوئی مصیبت نہیں پڑتی زمین میں اور نہ تمہاری جانوں میں مگر پہلے سے کتاب میں ہے جس کو ہم صورتحال میں پیدا کردیتے ہیں۔ اور یہ اللہ پر آسان ہے۔ یہ اسلئے تاکہ تم افسوس نہ کرو کہ جس کو تم کھو چکے ہواورتاکہ فخر نہ کرو جو اللہ نے دیا ہے۔اور اللہ پسند نہیں کرتا ہے ہر فخر کرکے اترانے والے کو ۔جو خود بھی بخل کرتے ہیں اور لوگوں کو بھی بخل کرنے کا حکم دیتے ہیں‘‘۔(سورہ الحدید)
ان آیات میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی نشاندہی ہے۔ جس وقت تمام مسلمان اللہ کے احکام کی طرف متوجہ ہوئے اور دنیاوی زندگی کی لہوولعب، زینت اور آپس کے تفاخر کو چھوڑ کر اللہ کی طرف متوجہ ہوئے۔ اہل کتاب کی روش کو چھوڑ دیا تو مسلمانوں کی دواقسام ہوں گی۔ ایک قسم وہ ہوگی جن کے ذریعے اللہ نے اپنے دین کو زندہ کیا ہو اور دوسرے وہ ہوں گے جنہوں نے بعد میں اس مشن کو اپنایا ہو۔ دونوں میں سے سبقت لے جانے والوں کو بھی اپنے کردار پر فخر کی ضرورت اسلئے نہیں کہ اس میں ان کا کوئی ذاتی کمال نہیں، محض اللہ کی عطا ہے، جس کا فیصلہ پہلے سے تقدیرالٰہی میں ہوچکا تھا۔ اور جن لوگوں نے پہلے کردار ادا نہیں کیا وہ بھی اس پر افسوس نہ کریں جو وہ کھوچکے ہیں۔ دونوں طبقات میں کوئی چیز قابلِ فخر اور اترانے کی نہیں ہے۔ رائٹر نے جو اسکرپ لکھ دی تھی اس کو اللہ نے منصہ شہود پر لانا تھا۔ مخالفین کی طرف سے مخالفت کا حق ادا نہ کیا ہوتا اور حق کا علمبردار طبقہ اپنے مؤقف پر ڈٹا نہ رہتا تو اسلام کی نشاۃ ثانیہ کیلئے دنیا میں حالات کبھی نہ بنتے۔ یہ اللہ کی اپنی حکمتِ عملی تھی جس کا ظہور ہوگیا۔مگر جولوگ فخر سے اتراتے ہیں اور خود بھی بخل سے کام لیتے ہیں اور دوسروں کو بھی بخل کا حکم دیتے ہیں۔ یہ لوگ ناپسندیدہ اور اسلام کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔
اللہ تعالیٰ نے سورۂ واقعہ میں بھی اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی خبر دی۔ لوگوں کی تین اقسام کا ذکر فرمایا ہے، دائیں جانب والے،بائیں جانب والے اور سبقت لے جانے والے۔سبقت لے جانوں والے پہلوں میں بہت اور نشاۃ ثانیہ میں کم ہونگے۔ دائیں جانب والے پہلے میں بھی بڑی جماعت ہوگی اور آخر والوں میں بھی بڑی جماعت ہوگی۔ تینوں کی تفصیلات بھی بیان کی گئی ہیں۔ سورۂ الحدید میں پہلے وضاحت فرمائی ہے کہ لایستوی منکم من انفق من القبل الفتح وقٰتل اولئک اعظم درجۃ من الذین انفقوا من بعد وقٰقلوا وکل وعداللہ الحسنٰی واللہ بماتعلون خبیرO ’’ برابر نہیں جنہوں نے فتح سے قبل خرچ کیا اور لڑائی لڑی ، ان لوگوں کا بڑا درجہ ہے ان لوگوں سے جنہوں نے فتح کے بعد خرچ کیا اور لڑے اور ہر ایک کے ساتھ اللہ نے اچھا وعدہ کیا ہے اور جو تم کرتے ہو اللہ اس کو جانتاہے‘‘۔ پھر دعوت دیتے دیتے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی طرف متوجہ کیا ہے۔ کاش فتوحات کے دروازے کھلنے سے پہلے جوق در جوق مسلمان اسلام کی نشاۃ ثانیہ کی طرف آجائیں اور اجر پالیں۔
پھر سورہ حدید کے آخرمیں فرمایا: لقد ارسلنا رسلنا بالبینٰت وانزلنا معھم الکتٰب والمیزان لیقوم الناس بالقسط وانزلنا الحدید فیہ بأس شدید ومنافع للناس ولیعلم اللہ من ینصرہ و رسلہ بالغیب ان اللہ لقوی عزیزO ولقد ارسلنا نوحاً وابراھیم وجعلنا فی ذریتھما النبوۃ والکتٰب فمنھم مھتد وکثیرمنھم فٰسقونO
’’ ہم نے اپنے رسولوں کو نشانیوں کیساتھ بھیجا، ہم نے انکے ساتھ کتاب نازل کی اور میزان ، تاکہ لوگ انصاف کیساتھ کھڑے ہوں،ہم نے لوہا اتارا، اس میں سخت معاملہ ہے اور لوگوں کیلئے منافع۔ تاکہ اللہ جان لے کہ کون اسکی مدد کرتاہے اوراسکے رسولوں کی، غیب پر ایمان رکھ کر۔ بیشک اللہ زبردست طاقتور ہے۔ بیشک ہم نے نوح کو بھیجا اور ابراہیم کواور ان کی اولاد میں نبوت رکھ دی۔ ان میں سے ہدایت والے بھی ہیں اور اکثر ان میں فاسق ہیں‘‘۔
ہدایت کیلئے دوباتوں کا ہونا ضروری ہے۔ اللہ کی نازل کردہ کتاب اور اس کی دی ہوئی میزان، جو انسانی فطرت میں ودیعت ہوتی ہے۔ جب انسان کا توازن بگڑ جائے تو وہ مرفوع القلم ہوتاہے۔ فہم وفراست کیلئے انسانی ذہن اور دل کی ساخت بھی قدرت کی عظیم عطاء ہے ۔والسماء رفعھا ووضع المیزانO الا تطعوا فی المیزان O واقیموا الوزن بالقسط و لاتخسرواالمیزانO نظام کائنات کے بارے میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ اگر بہت ہی معمولی قسم کا توازن بگڑ جائے تو ایک خوفناک تصادم سے سب کچھ ختم ہوجائے۔ ناپ تول کے ہر پیمانے سے معاشی نظام چل رہاہے۔ پیٹرول بجلی ، گیس، ٹیکسی کے میٹر، موبائل کے بیلنس، ادویات کی اجزاء ، روڈ و بلڈنگ میں ناقص کارکردگی سب کچھ میزان میں خسارہ ہے اور جس قوم کا معاشی سسٹم درست ہوتو اس کا معاشرتی اور عدالتی نظام پر بھی اثر پڑتا ہے ، معاشرتی اور عدالتی نظام میں بھی فطری تقاضا میزان ہی ہے۔ درسِ نظامی کے نصاب کی اصلاح شدت سے محسوس کی جارہی ہے، حکمرانوں کی کرپشن سے پہلے اسلام کی درست تصویر عوام کے سامنے لائی جائے۔ علماء حق کا احسان ہے کہ قرآن وسنت کی زبردست حفاظت کی مگراب سب کو اس پر عمل بھی کرنا پڑے گا۔
دنیا میں کرنسی کی قیمت میں بھی توازن ضروری ہے۔ ترقی یافتہ ممالک اپنی کرنسی کو متوازن رکھنا ضروری سمجھتے ہیں۔ امپورٹ و ایکسپورٹ کے کاروبار کا دارومدار کرنسی کی مقامی قیمت پر ہوتاہے۔ پاکستان میں عرصہ سے ماہرین کی رائے میں پاکستانی روپیہ کی قیمت جبری طور پر اپنی اوقات سے زیادہ رکھی گئی ہے۔ نوازشریف کے خلاف فیصلہ آنے سے دس دن پہلے آئی ایم ایف نے کہا کہ ’’ پاکستان اپنی کرنسی کی قیمت کم کردے‘‘۔ کرنسی کی مصنوعی قیمت بڑھانے سے ایکسپورٹ کا کاروبار ٹھپ ہوگیاہے، ملکوں کی ترقی میں ایکسپورٹ زیادہ اہم کردار ادا کرتاہے، اسلئے دوسرے ممالک اپنی کرنسی کی قیمت مصنوعی طور پر بڑھانے سے پرہیز کرتے ہیں۔ روپے کی قیمت کم کردی جائے تو مہنگائی بڑھ جائے گی لیکن ملکوں کو دھوکے اور فراڈ سے چلانے کا خمیازہ بھگتنا پڑتاہے۔ اس وجہ سے حکمران کا دھوکہ باز اور فراڈیہ ہونا خطرناک اور فطری بات ہے۔
نااہل وزیراعظم کی موجودہ حکومت سے پہلے پاکستان کا مجموعی قرضہ 30 ارب ڈالر تھا اور اب 48ارب ڈالر تک پہنچ چکا۔ حضرت یوسف علیہ السلام کا دامن صاف تھا،گرچہ بھائیوں کو غلے میں پیسے لوٹادئیے ۔ زلیخانے جھوٹا الزام لگایا، حضرت یوسفؑ نے کہا کہ ’’میں اپنے نفس کوبری نہیں سمجھتااللہ نے بچایا‘‘ حضرت موسیٰ علیہ اسلام پر الزام لگا کہ خصیہ نہیں اسلئے چھپ کر نہاتاہے، پتھر نے کپڑے اٹھائے اور لوگوں نے موسیٰ علیہ السلام کو ننگا دیکھ کر الزام واپس لیا، الزام ختم ہونے کی جوقیمت چکائی جائے تو سودا سستا ہے۔ حضرت موسیٰ ؑ سے قتل بھی ہوا تھا لیکن اس کا مقدمہ نہیں چلا۔ ضمیر مطمئن نہیں تھا جبھی تو معجزات کے باوجود جانے سے ڈر لگ رہا تھا۔ اگر نوازشریف کو پاکدامنی کا دعویٰ ہے تو ٹرائل کورٹ کو اپنی بے عزتی نہ سمجھے اور اگر عزت کا خیال ہے تو اپنے تمام اثاثہ جات ظاہر کرکے قوم کو لوٹادے، زرداری بھی یہ کریگا، سول وملٹری بیوروکریسی بھی اپنی ساری دولت پاکستان میں سرمایہ کاری کیلئے پیش کردیں۔ عتیق گیلانی