دارلعلوم کراچی کے علماء ومفتیان اور عثمانی برادری کی قابلیت

1550
0

عوام سمجھتے ہونگے کہ شاہی خاندانوں کی طرح علم کی مسند پر بیٹھنے والے مشہورو معرف علمی خانوادے بھی علم وسمجھ کے بہت بڑے پہاڑ تھے۔انکو معلوم نہیں کہ جب نبی کریم ﷺ نے اپنی وراثت خاندان واہلبیت ، درہم ودینار اور بادشاہت وگدی نشین کی روایت کو قرار دینے کی بجائے ’’علم‘‘ کوہی اپنی وراثت اور انبیاء کرام کی وراثت قرار دیا۔لوگوں کو کیا معلوم ہے کہ خاندانی بادشاہت سے زیادہ اپنا بدترین دھندہ اور کاروباربناکر اسلامی علوم کا بیڑہ غرق کردیا گیا۔ علم کاروبار اور وراثت نہیں بلکہ اس کے ذریعہ سے انسانی معاشرہ اپنا فرض پورا کرتا ہے، فرض کی کوئی قیمت نہیں ہوتی ہے۔ قرآن وسنت اور فقہ وفتویٰ کمرشل ہوا تو دنیا کی ہر چیز کمرشل کردی گئی۔ یہ سیاستدانوں اور این جی اوز کا کمرشل ہونا بھی غلط ہے مگر جس قوم نے دین ومذہب کو کمرشل کردیا ہو ، اسکے اندر اخلاقی قدریں کہاں سے پنپ سکیں گی؟، منبر ومحراب کے بعد جہاد اور خود کش حملے بھی کمرشل کردئیے گئے۔
میں پورے وثوق سے کہتا ہوں کہ شیعہ واہلحدیث بھی راہوں سے ہٹے ہوئے ہیں لیکن دیوبندی بریلوی جس مسلکِ حنفی اور حضرت عمر فاروقؓ کے حوالہ سے تین طلاق کے دعویدار ہیں، یہ لوگ نہ صرف قرآن وسنت سے اس معاملہ میں ہٹ گئے ہیں بلکہ حضرت عمرؓ، اجماعِ امت اور حضرت امام ا بوحنیفہؒ کے علاوہ مسلک سے بھی دھیرے دھیرے ہٹ کر گمراہی کے آخری کنارے پر پہنچ گئے ہیں، میں خود بھی پہلے اس کا شکار تھا اور اب دوسروں کو بھی سمجھانے کی صلاحیت قرآن و سنت اور فقہ و فہم کی برکت سے رکھتا ہوں، اہل تشیع اور اہل حدیث ہمارے پیچھے چلیں گے انشاء اللہ۔
مولانا مفتی فضیل الرحمن ہلال عثمانی نے ’’ زبردستی کی طلاق‘‘ کے عنوان سے لکھا ہے کہ ’’ ہر عاقل بالغ شوہر کی طلاق واقع ہوجاتی ہے ، خواہ وہ غلام ہو یا اس پر زبردستی کی جائے،اس کی طلاق صحیح ہے۔ نہ کہ اس کا صرف اقرار طلاق، اور بحر الرائق میں ہے کہ زبردستی سے مراد زبان سے طلاق کی ادائیگی ہے، اگر اس پر مجبور کیا جائے کہ اپنی عورت کو طلاق لکھے اور اس نے لکھ دی تو طلاق نہ ہوگی(ردالمختار، کتاب طلاق)
ایک شخص کو پٹائی اور قید کے ذریعہ طلاق لکھنے پر مجبور کیا گیا، اس نے طلاق لکھ دی تو اس کی عورت پر طلاق نہ ہوگی۔(عالمگیری ، باب الطلاق باب الکتابت)۔
طلاق میں بنیادی چیز مرد کا اپنے اختیار کا مختارانہ استعمال ہے۔اگر کوئی شخص ریوالورکی نوک پرطلاق دلواتا ہے تو مرد اپنی جان بچانے کیلئے بڑے نقصان کے مقابلہ میں چھوٹے نقصان ۔۔۔طلاق۔۔۔کو اختیار کرتا ہے، ا سکی اگرچہ مرضی شامل نہیں ہے مگر اختیار شامل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس صورت میں صرف تحریر جو اقرار طلاق ہے ، اس سے طلاق واقع نہ ہوگی۔
اسلامی قانون (نکاح ، طلاق، وراثت ،صفحہ:210,211) مولانا مفتی فضیل الرحمن ہلال عثمانی۔ ناشردارالاشاعت کراچی ۔ملنے کے پتے، دارالاشاعت اردو بازار کراچی، مکتبہ دارالعلوم کورنگی کراچی۔ ادارہ معارف کورنگی ، ادارہ اسلامیات انار کلی لا ہور۔ کتاب کاتعارف، مصنف کا علمی مقام، خاندانی پسِ منظر اور اساتذہ و سرپرتوں کی فہرست علمی خدمات ، عوام وخواص میں شہرت درج ہے۔سوال یہ ہے کہ تحریری طلاق کو زبردستی کی صورت میں اقرار قرار دینا اور اس کا غیرمؤثر ہونا اس وجہ سے درست ہے کہ فتاویٰ شامیہ اور فتاویٰ عالمگیریہ کا حوالہ دیا گیا ہے؟۔
اللہ نے معاہدے کو معتبر قرار دینے کیلئے فلیکتب لکھنے کا حکم دیا ہے مگر یہ گدھے کی اولاداپنے درسِ نظامی میں بیوقوفی کایہ درس دیتے ہیں کہ لکھی ہوئی اللہ کی کتاب قرآن، اللہ کی کتاب نہیں۔ المکتوب فی المصاحف سے مراد سات قاریوں کے قرآن ہیں، کیونکہ لکھائی محض نقوش ہیں جو لفظ ہے نہ معنیٰ۔ عربی میں کتاب کا لفظ لکھائی سے مأخوذ ہے ، اردو میں کتابت کا لفظ بھی عربی سے لیاگیا ہے۔ جیسے اردو میں لکھائی کی وجہ سے کتاب کا نام’’ لکھت‘‘ ہوتا اور کوئی بیوقوف اور گدھے کا بچہ کہتا کہ لکھت کتاب نہیں کیونکہ لکھائی لفظ ہے نہ معنیٰ۔ یہ علماء و مفتیان کا کہنا ہے کہ اللہ کی کتاب پر ہاتھ رکھ قسم کھائی جائے تو قسم نہیں ہوتی البتہ زباں سے کہا جائے کہ’’ اللہ کی کتاب کی قسم‘‘ تو قسم منعقد ہوگی اور کفارہ بھی ادا کرنا پڑیگا۔
قرآن میں کتاب کی تعریف ہے الذین یکتبوں الکتاب بایدیھم ثم یقولوں ھذا من عنداللہ’’ جو لوگ اپنے ہاتھوں سے کتاب کو لکھ دیتے ہیں پھر کہتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے‘‘۔ اللہ نے پہلی وحی میں علم بالقلم قلم کے ذریعہ علم سکھانے کی بات ہے۔ اللہ نے قلم اور سطروں لکھے کی قسم کھائی ہے والقلم ومایسطرون ۔جاہل مشرک بھی کتاب کو سمجھتے تھے،اکتتبھا بکرۃ واصیلا کہتے تھے،یہ علماء ومفتیان اُلوکے پٹھے دنیا بھر کے چندے کھاکھاکر قرآن ہی کا نہیں انسانی عقل وفطرت کا انکار کرتے ہوئے انتہائی ہٹ دھرمی وڈھٹائی کیساتھ اس کفریہ تعلیم اور بیوقوفی پر قائم ہیں۔ مولانا فضیل الرحمن ہلال عثمانی نے زبردستی کی طلاق میں تحریر کو اقرارلکھ کر مغالطہ کھایا ہے، نقش قرار دیکر الفاظ ومعانی کی نفی کرتا تو زبردستی کیا رضامندی میں بھی معتبر نہ ہوتی، اسلئے کہ جب قرآن کے الفاظ یہ گدھے لفظ ومعنیٰ نہیں مانتے تو پھر کونسی تحریر کی کوئی شرعی حیثیت ہوسکتی ہے؟۔
شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی نے بھی فقہ کی کتابوں میں سب سے معتبر نام ’ہدایہ‘ کے مصنف کی طرف سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے علاج کیلئے اس شرط پر جائز قرار دینے کا حوالہ دیا تھا کہ یقین ہوکہ علاج ہوجائیگا۔ پھر مفتی تقی عثمانی نے اس پر اضافہ کیا کہ حرام سے علاج میںیقین کی شرط کے حوالہ سے احقر(گدھے سے زیادہ بدترحقیر) نے امام ابویوسفؒ کی کتابوں کامطالعہ کیا مگر’’ مجھے کہیں یہ یقین کی شرط نہیں ملی‘‘۔
ہماری طرف سے اخبار ضربِ حق کراچی میں اس پر بھرپور احتجاج کے بعد مفتی محمدتقی عثمانی نے روزنامہ اسلام اور ہفت روزہ ضرب مؤمن میں اعلانیہ طورسے اپنی کتابوں’’ تکملہ فتح الملہم‘‘ اور ’’ فقہی مقالات جلد چہارم‘‘ سے یہ عبارت شکریہ سے نکالنے کا اعلان کردیا مگر پھر فتاویٰ شامیہ سے یہ عبارت کون نکالے گا؟۔ اور اصل بات یہ ہے کہ صاحبِ ھدایہ نے سورۂ فاتحہ کو ناک سے نکلنے والی نکسیرخون اور پیشاب سے علاج کیلئے یقین کی شرط پر جائز کیسے قرار دیا؟۔ صاحب ہدایہ مفتی تقی عثمانی کی طرح نالائق نہ تھاکہ لگام سے چلتا اور ڈنڈے سے راہ بدلتا، وہ فقہ واصولِ فقہ کو سمجھتا تھا، جب قرآن پر تحریری شکل میں اللہ کے کلام کا اطلاق نہ ہوتو سورۂ فاتحہ بھی تحریری شکل میں لفظ ہوگی نہ معنیٰ ۔ پھر علاج میں یقین کی شرط پر اسکے نزدیک لکھنے میں حرج نہ تھا۔ دم تعویذ والے ہندؤ کی اولاد بھی یہ بات سمجھتے ہیں کہ مندروں میں بت پرستی کے علاج کے یقین اور انگریزی ادویات کے یقین کا کوئی جوڑ آپس میں نہیں مگر شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی نے تعویذ کے یقین اور دواکے یقین کے درمیان اتنابڑا فرق بھی نہ سمجھا،امام ابویوسفؒ نے حرام سے علاج کیلئے دواؤں میں ظاہر ہے کہ یقین کی شرط کا ذکر نہ کیا تھا،تعویذات کی دنیا تو یقین و گمان کے تخمینے پر ہی چلتی ہے۔ جس مفتی تقی عثمانی کی موٹی عقل اتنا کام نہ کرتی ہو، وہ اس قابل ہے کہ سودی نظام کو اس کے ڈھینچو ڈھینچو پر جائز قرار دیا جائے؟۔
آج حضرت عمرفاروق اعظم رضی اللہ عنہ جیسی شخصیت کے پاس اقتدار ہوتا تو ان علماء ومفتیان کے چوتڑوں کو لوہے کے سریہ گرم کرکے داغا جاتا کہ خبردار اگر تمہیں اسلام کا نام استعمال کرنے کی جرأت ہو ئی۔ بقول علامہ اقبالؒ کے کہ
انہوں کے نام قبروں کی تجارت کرکے کیا نہ بیچوگے صنم مل جائیں گر پتھرکے
یہ تو ہندؤں سے بھی بدتر ہیں۔ انقلابی طالبان کو حقائق کا پتہ چلتا تومجھے مارنے کی بجائے ناجائز حلالہ پر عزتیں لوٹنے والوں کو عدالتیں لگاکر الٹا ذبح کردیتے۔