مصطفی کمال کے بارے میں تجزیہ : اشرف میمن

887
0

اختلاف کو تحمل سے سننے اور جھگڑا نہ کرنے کے مشن کو گلی گلی ، محلے محلے ، شہر شہر ، گاؤں گاؤں ملک کے کونے کونے تک پہنچانا چاہیے

ڈاکٹر طاہر القادری ، عمران خان اور مصطفی کمال کا رویہ ایک جیسا ہے ، پی ایس پی کے رہنما اچھے مشن کو ہدف بنا کر مثلث تشکیل دیں

ڈاکٹر فاروق ستار کی تعلیم و تربیت اپنے والدین اور اساتذہ کے ذریعے سے اچھے ماحول میں ہوئی ہے جبکہ مصطفی …. اشرف میمن

ڈاکٹر فاروق ستار نیک والدین اور اچھے اساتذہ کی نگرانی میں تعلیم و تربیت کے مراحل طے کرکے ڈاکٹر بنے۔ الطاف حسین کا انکے کردار ، تعلیم ، ذہنیت ، بچپن ، لڑکپن ، جوانی اورزندگی کے مختلف مراحل پر کوئی اثر نہ تھا مگر اسکے برعکس مصطفی کمال کی گروتھ دیگر ماحول میں ہوئی۔ آج سمندر کے راستے کسی بھی فوجی یا عام آدمی کو انیس قائم خانی اور ڈاکٹر فاروق ستار میں سے کسی ایک کے انتخاب کا اختیار دیا جائے تو وہ ڈاکٹر فاروق ستار کیساتھ جانا پسند کریگا یا انیس قائم خانی کیساتھ؟۔ شاہ زیب خانزادہ کے ذمہ یہ سوال لگایا جائے۔ جناب مصطفی کمال ہی بتائے کہ اگر وہ روتے روتے بدحال ہوجائے اور قسمیں کھا کھا کر یقین دلائے کہ انیس قائم خانی ڈاکٹر فاروق ستار کے مقابلے میں بڑا معصوم ہے تو کیا کوئی اسکی بات پر یقین کرنے کیلئے تیار ہوگا؟۔ مصطفی کمال کی رگ و ریشے میں جو تعلیم و تربیت رچ بس گئی ہے ، اپنی ذات کو اسکے حصار سے نکالنا کوئی آسان کام نہیں ہے۔
اگر متحدہ قومی موومنٹ کو چندسالوں سے خصوصی طور پر نشانہ بنا کر ایک عرصہ سے رہنماؤں اور کارکنوں کا تزکیہ ہورہا ہے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ کراچی والوں کی قسمت جاگ گئی ہے لیکن دوسری طرف اگر انہی لوگوں کو پھر سے فری ہینڈ دیکر کراچی والوں پر مسلط کیا گیا تو اللہ تعالیٰ بھی ایجنسیوں کو معاف نہیں کریگا۔ پہلے پیپلز پارٹی کے مقابلے میں سندھی قوم پرست ، مہاجر لسانی فسادات اور فرقہ واریت کو ہوا دی گئی ، پھر طالبانائزیشن کے ذریعے جی ایچ کیو سے لیکر ملک کے کونے کونے تک عوام اور اداروں کی ہتک کی گئی۔ اب جنرل راحیل شریف نے جہاں پختونخواہ ، بلوچستان اور کراچی میں ایک خوشگوار تبدیلی کا آغاز کیا ہے وہاں دوبارہ دوسرے قسم کے مسائل کھڑے نہ ہوں اور لگتا یہ ہے کہ سید مصطفی کمال نے تبلیغی جماعت میں وقت لگایا ہے ، اچھی بات ہے اگر مذہبی جماعتوں میں کوئی بھی پسند نہ ہو تو متحدہ قومی موومنٹ کے مقابلے میں نئی سیاسی صف بندی کے بجائے محفل مشاعرہ کا اہتمام کریں۔ اس سے قوم کی اچھی اصلاح ہوسکتی ہے، وہ نہ دوہرایا جائے جس کا سبق سیکھا گیا ہے۔ لوگ سیاست سے تو تنگ آگئے ہیں اور ڈرامہ بازی سے بھی۔
مذہبی جماعتیں اپنے مخصوص ڈھانچے میں رہ کر اپنا تشخص قائم رکھتی ہیں لیکن عوام کے اندر آکر اخلاقیات ، قرآن و سنت کی تعبیر و تشریح میں انفرادیت اور جائز ناجائز کے حوالے سے قابل قدر کردار ادا نہیں کرتی ہیں۔ پاک سر زمین پارٹی میں رضا ہارون سمیت بڑے عمدہ اور اچھے لوگ ہیں ، قیادت کیلئے جذباتی ہونے سے زیادہ سنجیدہ ہونا ضروری ہوتا ہے۔ شاہ زیب خانزادہ نے یہ سوال کیا کہ اگر پی ایس پی کے پاس بڑی تعداد میں عوام ہیں تو ضمنی الیکشن لڑ کر دیکھ لیں۔ اگر ضمنی الیکشن میں متحدہ کو بہت کم ووٹ پڑا ہے تو اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ لوگ اب بھی الطاف حسین کو ہی مانتے ہیں یا اس کا کوئی اور مطلب لیا جائے۔ جس کے جواب میں مصطفی کمال جھنجھلا گئے اور قدرے ناراضگی سے کہا کہ ’’آپ لکھ کر رکھ لو ، لوگوں نے ہمارے لئے اپنی انرجی 2018ء کے الیکشن کیلئے جمع کر رکھی ہے ، اس میں لوگ بڑی تعداد میں نکل کر ہمیں ووٹ دینگے‘‘۔
اگر مصطفی کمال یہ کہتے کہ’’ فی الحال عوام کنفیوز ہیں ، آنے والے الیکشن میں ہمارے ساتھ ہونگے ‘‘ تو بہتر ہوتا۔ خدا کا خوف رکھنے والے مسلمان یہ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ جس طرح چوزہ انڈے سے اپنے مخصوص وقت میں نکلتا ہے ، اسی طرح سے لوگوں نے ہمارے لئے ووٹ کی قوت کو محفوظ کرکے رکھا ہوا ہے اور وقت پر انڈہ ٹوٹے گا۔ مرکز میں ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان کا رویہ اور کراچی میں سید مصطفی کمال کا رویہ ایک ہی جیسا لگتا ہے ، انکو مثلث بنا کر ایک ہی پارٹی بنانا چاہیے۔ اگر ایک اچھا نظریہ لیکر پاک سر زمین پارٹی کی قیادت تحریک انصاف اور عوامی تحریک کا رُخ کرلیں تو یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان کی سطح پر عوام کو سیدھے راستے پر لگانے میں کامیابی ملے گی۔ فرقے ، جماعتیں ، تنظیمیں ، پارٹیاں اور ان کے مختلف خول مسائل کا حل نہیں بلکہ عوام کو ان سے نکالنا ہی مسائل کا حل ہے۔ اقتدار کی سیڑھی پر لگنے کیلئے بڑے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں اورآداب غلامی ، آداب مصلحت ، آداب منافقت ، آداب ۔۔۔نہ۔۔۔جانے کیاکیا کرنا پڑتاہے۔
آدھی عمر الطاف حسین کے فلسفے کو سمجھانے ، دفاع کرنے اور عام کرنے میں گزار دی اور باقی اس کی مخالفت میں گزرے تو زیادہ سے زیادہ حساب برابر ہوجائیگا۔ قرآن کی چند آیات جو طلاق سے متعلق ہیں اور سورہ نساء میں خواتین کے حقوق کے حوالے سے ہیں اگر ان کا صرف ترجمہ دیکھ کر مضامین کو سمجھ لیا جائے اور اس کو مشن بنایا جائے تو میاں بیوی ، بچے ، رشتہ داروں کی سطح سے لیکر عالمی سطح تک اس تحریک کو پذیرائی مل سکتی ہے۔ سید عتیق الرحمن گیلانی کی کتابیں ’’ابر رحمت‘‘ اور ’’تین طلاق کی درست تعبیر‘‘ دیکھ لی جائے اور علماء و مفتیان سے اس سلسلے میں ٹھیک گفتگو کی جائے تو اُمت مسلمہ بہت بڑے عذاب سے نجات پالے گی۔ جب خواتین کو بنیادی حقوق اللہ تعالیٰ نے دئیے ہوں اور علماء نے ان کو ان سے محروم کیا ہو تو ایسی ماؤں کی گود میں پلنے والے بچے بھی جس جبری خاندانی نظام کے تحت زندگی گزارینگے ، ان سے بھی آزاد نہیں غلام ذہنیت ہی متوقع ہوگی۔
ہم ایک دفعہ شروع میں ان حقائق کو بتانے کے حوالے سے حاضر بھی ہوئے تھے لیکن ہماری ملاقات نہ ہوسکی تھی۔ یہ بہت بڑی خدمت ہے کہ اگر خلوص نیت سے اس بات کی تشہیر کی جائے کہ مخالفین کی بات سنجیدگی سے سنو ، اختلاف کو باتوں کی حد تک رکھو ، لڑائی جھگڑے اور قتل و غارت کے ماحول سے کراچی اور پورے پاکستان کو نکالو۔ اس مشن میں ہم بھی پورا پورا تعاون کرینگے اور اس کو ملک کے طول و عرض میں گلی گلی ، محلے محلے ، شہر شہر ، گاؤں گاؤں اور سب جگہ پہنچانا چاہیے۔