نیب شاہین ایئر کے جاوید صہبائی کو گرفتار کرکے تحقیقات کرے‌: زوہیب بلوچ

کراچی(مراسلہ خصوصی) شاہین ائر لائن کے مالک خالد صہبائی نے اپنی بڑی دولت داؤ پر لگاکر شاہین کے ملازمین کو سہارا دیا۔ شاہین کے عروج کا وقت آیا تو وہ اچانک دل کا دورہ پڑنے پر خالق حقیقی سے جا ملے۔اسکے کم سن اور ناتجربہ کار بچوں کے ہاتھ میں ائر لائن آئی تو اندر بیٹھا ہوا گدھ جاویدصہبائی جسکے شناختی کارڈ پر پہلے اسکی نسل جاوید گِل لکھی تھی، پھر اس نے خرچہ کرکے خود کو صہبائی بنادیا۔ پھرجب ائرلائن کے اندر لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم کیا گیا اور بعضوں نے بہتی گنگا میں ہاتھ دھوئے۔ جاویدگِل نے انتہائی ڈھٹائی کیساتھ مالِ مفت دلِ بے رحم کا مظاہرہ کیا۔ ائر لائن کی گاڑیاں بیچ کھائیں اور بہت مالی مفادات حاصل کرلئے۔ فاروق میمن نے کیٹرنگ کے چور ٹیکنیکل منیجر غفار کے ذریعے بہت قیمتی جنریٹر اٹھا کر غائب کرنا چاہا تو ملک اجمل نے اس کو ڈانٹ ڈپٹ کر ورکشاپ میں رکھوادیا۔اس نے کہا کہ فاروق میمن کو جاوید صہبائی نے حکم دیا ہے لیکن ملک اجمل نے اس کو مسترد کردیا۔
اس دفعہ جاوید گِل نے ملک محمداجمل صاحب کو اپنے ہاتھ میں لیکر کیٹرنگ کا سامان بیچنا چاہا تو ملک محمد اجمل نے اسکے خطرناک ارادے و مکاری کو بھانپ لیا۔ اور کسی قسم کا تعاون کرنے سے انکار کردیا۔ لیکن جاوید صہبائی نے انتہائی بے شرمی کیساتھ کیٹرنگ کا دورہ کیا۔ اسٹاف کے ایک ملازم محمدفضیل نے ویڈیو بنانا شروع کردی تو جاوید صہبائی نے ویڈیو بنانے سے منع کردیا۔ وہ اچھی نیت کیساتھ نہیں آیا تھا ورنہ ویڈیو بنانے میں کیا حرج تھا؟، مگر اسکے ارادے چوری کرنے اور پڑے ہوئے مال پر ہاتھ صاف کرنے کے تھے اسلئے اس نے ویڈیو بنانے کی مزاحمت کرتے ہوئے کہا کہ تم ملک اجمل کی زباں بول رہے ہو، وہ چور تھا اور تم بھی چور ہو۔ پھرمحمد فضیل نے اسے کہا کہ ہم جانتے ہیں سب ہی کو معلوم ہے کہ شاہین کا بیڑہ تم لوگوں نے غرق کیا۔ خالد صہبائی کے بیٹوں کو عیاشی کی راہ پر ڈالا۔ خود مال کماتے رہے۔ کرپشن اور بے راہ روی کی انتہاء کرتے ہوئے یہ چلتی ہوئی ائر لائن تم نے تباہ کردی۔ جب اسکے بیٹے نے دیکھ لیا کہ باپ کی عزت فالودہ بن گئی تو بھاگ کھڑا ہوا۔ جاوید صہبائی نے کہا کہ حسن کہاں ہے، پولیس کو بلا لینا ہے مگر حسن اصغر نے اپنی اس بے عزتی کرانے پر شرمندگی کا اظہار کیا۔ ان کا یہ کہنا تھا کہ جاوید صہبائی نے غلط کیا ہے،اس کو ملک اجمل کیخلاف زبان نہیں کھولنا چاہیے تھا کیونکہ سب جانتے ہیں کہ ملک محمد اجمل کے ہاتھ صاف رہے ہیں اور وہ کبھی بھی کسی غلط سرگرمیوں میں ملوث نہیں رہے۔ جب جاوید صہبائی کی تھوڑی سی بنی ہوئی ویڈیو وائرل کردی گئی تو شاہین ائرلائن کے ملازمین نے اس کو بہت لائک کیا اور اپنی کمینٹس دئیے کہ موقع پر ہمیں بھی اطلاع دیتے تاکہ اس پر اپنے ہاتھ بھی صاف کرلیتے۔ یہی وہ شخص ہے جس نے شاہین ائر لائن کا بیڑہ غرق کیا ہے۔ نیب کو چاہیے کہ جاوید صہبائی کو پکڑکر تمام لوٹا ہوا مال اگلوالے۔ ملازمین کے بقایا جات کی ادائیگی کیلئے جاوید صہبائی کو پکڑنا بہت ضروری ہے۔ جاوید صہبائی نے اپنی آڈیو کے ذریعے سے جو اظہار کیا ہے اس میں بھی چور کی داڑھی میں تنکا نظر آتاہے۔
وزیراعظم عمران خان نے ایک کروڑ نوکریاں پیدا کرنے اور50لاکھ گھربنانے کا وعدہ پورا نہیں کیا۔ اسد عمر سے تحریک انصاف کیلئے نوکری چھڑائی تھی اور اب اس کو وزارت خزانہ سے فارغ کردیا گیا ہے۔ اگر اسد عمر کے ذریعے شائین ائر لائن کو بحال کرایا جائے تب بھی کئی ہزار لوگوں کو روزگار مل جائیگا اور ملک میں ائرلائن کی بڑھتی ہوئی ٹکٹ پر بھی قابو پایا جاسکے گا۔ یہ بہت بڑا انفراسٹرکچر ہے جس کو چورطبقہ دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔عمران خان نے ہر بات پر یو ٹرن لیا ہے۔جب پیپلز پارٹی کی حکومت تھی تو زرداری نے ن لیگ کی طرف سے حکومت میں ہونے کے بعد بھی اسحاق ڈار کو وزیرخزانہ کے طور پر رہنے کا مطالبہ کیا تھا۔ اب نوازشریف عمران خان کی طرف سے اسحاق ڈار کو وزیرخزانہ بنانے کی پیشکش بھی قبول کرلینگے
اسد عمر نے اگر کسی کو کرپشن نہیں کرنے دی ہو اسلئے ان کو ہٹایا گیا ہو تو یہ بہت بڑا المیہ ہوگا۔ اب بھی اسد عمر کو نگرانی کرنے دی جائے تاکہ کرپشن کا راستہ رک جائے اور ملک مزید مشکلات سے دوچار نہ ہو۔ اسد عمر نے ایک طرف واضح کیا کہ ہمیں بڑے مشکل فیصلے کرنے ہونگے اور دوسری طرف کہا کہ میں عوام کی چیخیں نکلنے میں حصہ دار نہیں بن سکتا تھا۔ جس سے لگتا یہ ہے کہ اسد عمر عوام کی بجائے بڑے طبقے پر ٹیکس کا بوجھ ڈالنا چاہتا تھا لیکن دوسری طرف اسد عمر نے یہ بھی کہا ہے کہ مجھے معلوم نہیں کہ مجھے کیوں نکالا گیا ہے؟۔ حالانکہ اسد عمر نے اگر پاکستان کی خدمت کیلئے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی ہے تو اس کو معاملہ واضح کرنا چاہیے تھا۔
شاہین ائرلائن کو حکومت سہارا دے تو اس کی زبردست طریقے سے بحالی ہوسکتی ہے۔ اندر بیٹھے گدھ جاوید صہبائی وغیرہ سمجھو رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ہے۔ ایف ائی اے، نیب اور حکومت کا کوئی ادارہ تحقیقات کرے تو بہت سارا مال غبن کرنیوالے پکڑے جاسکتے ہیں، لاکپ سے کروڑوں روپے چوری ہوتے تھے تو لوگ سمجھتے کہ خاکروبوں نے چوری کی ہے۔ شاہین کے بیٹھ جانے کے بعد اصل چوروں کا پتہ اب چل رہا ہے۔ حکومت، ریاست اور ملک کے ادارے اس میں غفلت کا مظاہرہ نہ کریں۔ شاہین ائر لائن کے اسٹاف سے بہت سے چشم دید گواہ مل جائیں گے۔
شاہین کے ملازمین نے کافی مہینوں بغیر تنخواہ کے بھی ڈیوٹی انجام دی ہے لیکن المیہ یہ تھا کہ اوپر سے کچھ گدھ شاہین ائر کو دیمک کی طرح چاٹ رہے تھے۔ ایک تو جاوید صہبائی ہے اور دوسروں نے کوئی کرپشن کی ہو تو ان تک بھی پہنچنے میں اداروں کے باصلاحیت افراد پہنچ سکتے ہیں۔ کیٹرنگ کے سامان بیچنے کیلئے جاوید صہبائی نے کیڑنگ کے ملازمین کو باقاعدہ رشوت دینے کی آفر بھی کی ہے۔ اداروں کی طرف سے اقدام اٹھانے کے بعد بہت سارا حرام کا مال جاوید صہبائی سے نکل سکتا ہے۔ اس کی شکل، طرز عمل اور بود وباش سے بھی لگتا ہے کہ چیٹر ہے۔ ایک پڑوسی ہونے کے ناتے اس کو شاہین میں اہم ذمہ داری پر رکھا گیا تھا ورنہ تو اس کی قابلیت کچھ بھی نہیں ہے۔ ایک ویڈیو اورایک آڈیو فیس بک پر موجود ہے جس سے اسکا سارا کردار طشت ازبام ہوتا ہے۔ باقی کچھ معاملات اسلئے منظر عام لانے کے نہیں تاکہ مؤثر کاروائی کیلئے گواہوں کا سلسلہ جاری رہے۔ کھائے مال کو چھپانے یا ٹھکانے سے پہلے نیب کو مؤثر کاروائی کرنی چاہیے۔ از ذوہیب بلوچ ملازم شاہین ائرلائن

اپنا تبصرہ بھیجیں