بدر الدین عینی کی نبی ﷺ کی ازواج مطہرات پر بڑی بکواس نقل: کفر کفر نہ باشد

697
0

nabi-ki-azwaj-waives-nikah-mutaa-allama-ghulam-rasool-saeedi-ulma-muftyan- madrasa-jamia-naeemia-karachi- mufti-muneeb-ur-rehman
بریلوی مکتبہ فکر کے مشہور عالم دین علامہ غلام رسول سعیدی شیخ الحدیث دار العلوم نعیمیہ کراچی نمبر 38، نے اپنی تفسیر میں لکھ دیا ہے جس کو بہت ناگوار ہونے کے باوجود نقل کیا جارہا ہے۔
نبی ﷺ کی ازواج کی تفصیل
ان آیتوں میں نبی ﷺ کی ازواج مطہراتؓ کا ذکر ہے۔ آپ کی ازواج کی تین قسمیں ہیں، بعض ازواج سے آپ کا عقد نکاح بھی ہوا اور ان کی رخصتی بھی ہوئی اور بعض ازواج کے ساتھ عقد نکاح ہوا اور رخصتی کے بعد آپ نے ان کو طلاق دے دی۔ اور بعض ازواج کے ساتھ صرف عقد نکاح ہوا اور رخصتی نہیں ہوئی۔ اور بعض خواتین کو آپﷺ نے صرف نکاح کا پیغام دیا اور ان کی رخصتی نہیں ہوئی ۔ اس کی تفصیل علامہ بدر الدین محمود بن احمد عینی حنفی نے لکھی ہے۔ وہ فرماتے ہیں :
(1)سب سے پہلے نبی ﷺ نے حضرت خدیجہؓ بنت خویلد سے نکاح کیا (2)پھر حضرت سودہؓ بنت زمعہ سے نکاح کیا (3)پھر حضرت عائشہؓ بنت ابی بکرؓ سے نکاح کیا (4)پھر حضرت حفصہؓ بنت عمر بن خطابؓ سے نکاح کیا (5) پھر حضرت اُم سلمہ ہندؓ بنت ابی اُمیہ سے نکاح کیا (6)پھر حضرت جویریہؓ بنت الحارث سے نکاح کیا۔ یہ غزوۃ المریسیع میں قید ہوکر آئی تھیں(7)پھر حضرت زینبؓ بن جحش سے نکاح کیا (8)پھر حضرت زینبؓ بنت خزیمہ سے نکاح کیا (9)پھر حضرت ریحانہؓ بنت زید سے نکاح کیا یہ بنو قریظہ سے تھیں اور ایک قول یہ ہے کہ بنو نضیر سے تھیں نبی ﷺ نے ان کو قید کیا پھر آزاد کرکے 6ہجری میں ان سے نکاح کیا (10)پھر حضرت اُم حبیبہ رملہؓ بنت ابی سفیان سے نکاح کیا ، صحابیات میں ان کے سوا کسی اور کا نام رملہ نہیں ہے (11)پھر حضرت صفیہؓ بنت حیی بن اخطب سے نکاح کیا یہ حضرت ہارونؑ کی اولاد سے تھیں، سات ہجری میں غزوہ خیبر میں گرفتار ہوئی تھیں نبی ﷺ نے ان کو اپنے لئے منتخب کرلیا اور ان کو آزاد کرکے ان سے نکاح کرلیا (12)پھر ذو القعدہ سات ہجری میں عمرۃ القضاء کے موقع پر مکہ سے دس میل کے فاصلے پر مقام سرف میں حضرت میمونہؓ بنت الحارث سے نکاح کیا (13)حضرت فاطمہؓ بنت الضحاک سے بھی نکاح کیا (14)حضرت اسماءؓ بنت النعمان سے بھی نکاح کیا آپ کی ازواج کی تعداد اور ان کی ترتیب میں اختلاف ہے مشہور ہے کہ وفات کے وقت آپ کی 9ازواج تھیں، کل 11ازواج تھیں اور 2باندیاں تھیں۔
باقی وہ ازواج جن سے آپ نے نکاح کیا اور ان کی رخصتی بھی ہوئی یا جن سے صرف نکاح ہوا ان کی تعداد 28ہے۔
(1)حضرت ریحانہؓ بنت زید ان کا ذکر ہوچکا ہے (2) حضرت الکلابیہ ان کے نام میں اختلاف ہے ، ایک قول ہے کہ ان کا نام عمرہ بنت زید ہے، دوسرا قول ہے ان کا نام العالیہ بنت ظبیان ہے۔ زہری نے کہا ک نبی ﷺ نے العالیہ بنت ظبیان سے نکاح کیا اور رخصتی بھی ہوئی پھر آپ نے ان کو طلاق دے دی اور ایک قول یہ ہے کہ رخصتی نہیں ہوئی اور آپ ﷺ نے ان کو طلاق دے دی، ایک قول یہ ہے کہ یہی فاطمہ بنت الضحاک ہیں،زہری نے کہا کہ نبی ﷺ نے ان سے نکاح کیا رخصتی کے بعد انہوں نے آپ ﷺ سے پناہ طلب کی تو آپ نے ان کو طلاق دیدی (3)حضرت اسماء بنت النعمان، ان سے نبی ﷺ نے نکاح کیا اور ان کو بلایا تو انہوں نے کہا کہ آپ خود آئیں تو آپ نے ان کو طلاق دے دی۔ ایک قول یہ ہے کہ انہوں نے آپ ﷺ سے پناہ طلب کی تھی، ایک قول یہ ہے کہ یہ بنت قیس ہیں جو الاشعت بنت قیس کی بہن ہیں، ان کے بھائی نے ان کا آپ سے نکاح کیا تھا پھر وہ حضر موت چلے گئے اور ان کو بھی ساتھ لے گئے اور وہاں ان کو نبی ﷺ کی وفات کی خبر پہنچی تو انہوں نے اپنی بہن کو ان کے شہر واپس بھیج دیا اور خود اسلام سے مرتد ہوگئے اور ان کی بہن بھی مرتد ہوگئیں (4)ملیکہ بنت کعب اللیثی ، ایک قول یہ ہے کہ انہوں نے ہی آپ سے پناہ طلب کی تھی ، ایک قول یہ ہے کہ آپ نے ان سے عمل تزویج کیا تھا پھر یہ آپ کے پاس ہی فوت ہوگئیں لیکن پہلا قول صحیح ہے۔ (5)حضرت اسماء بنت الصلت السلمیہ ، ایک قول یہ ہے کہ ان کا نام سبا ہے نبی ﷺ نے ان سے نکاح کیا تھا اور یہ رخصتی سے پہلے فوت ہوگئی تھیں۔ (6)حضرت ام شریک ازدیہ ، ان کا نام عزبہ ہے نبی ﷺ نے دخول سے پہلے ان کو طلاق دیدی اور یہی وہ ہیں جنہوں نے اپنا نفس نبی ﷺ کو ہبہ کیا تھا یہ نیک خاتون تھیں (7)خولہ بنت ھذیل، ان سے نبی ﷺ نے نکاح کیا پھر آپ کے پہنچنے سے پہلے ان کی وفات ہوگئی (8)شراف بنت خالد وحیہ کلبی کی بہن ہیں نبی ﷺ نے ان سے نکاح کیا اور رخصتی سے پہلے انکی وفات ہوگئی (9)لیلیٰ بنت الحطیم، رسول اللہ ﷺ نے ان سے نکاح کیا یہ غیرت والی تھیں انہوں نے مطالبہ کیا کہ آپ نکاح فسخ کردیں سو آپ نے نکاح فسخ کردیا (10)حضرت عمرہ بنت معاویہ الکندیہ اس سے پہلے کہ یہ آپ تک پہنچیں نبی ﷺ کی وفات ہوگئی (11) حضرت الجندعیہ بنت جندب نبی ﷺ نے ان سے نکاح کیا اور عمل تزویج نہیں کیا ایک قول یہ ہے کہ ان کے ساتھ عقد نکاح نہیں ہوا تھا (12)حضرت الغفاریہ ، ایک قول یہ ہے کہ یہی السنا ہیں نبی ﷺ نے ان سے نکاح کیا پھر انکے پہلو میں داغ دیکھا تو آپ نے فرمایا کہ تم اپنے گھر چلی جاؤ (13)حضرت ہند بنت یزید ان سے بھی آپ نے دخول نہیں کیا (14) حضرت صفیہ بنت بشامہ آپ نے ان کو قید کیا تھا پھر رسول اللہ ﷺ نے ان کو اختیار دیا آپ نے فرمایا کہ اگر تم چاہو تو میں تم سے نکاح کرلوں ، انہوں نے اجازت دیدی آپ نے ان سے نکاح کرلیا (15)حضرت اُم ہانی، ان کا نام فاختہ بنت ابی طالب ہے حضرت علیؓ بنت ابی طالب کی بہن ہیں نبی ﷺ نے ان کو نکاح کا پیغام دیا انہوں نے کہا کہ میں بچوں والی عورت ہوں اور عذر پیش کیا ، نبی ﷺ نے ان کا عذر قبول کرلیا (16) حضرت ضباعہ بنت عامر ، نبی ﷺ نے نکاح کا پیغام دیا پھر آپ کو یہ خبر پہنچی کہ یہ بوڑھی ہیں تو آپ نے ارادہ ترک کردیا (17)حمزہ بنت عون المزنی ، نبی ﷺ نے ان کو نکاح کا پیغام دیا ان کے والد نے کہا کہ ان میں کوئی عیب ہے حالانکہ ان میں کوئی عیب نہ تھا پھر جب انکے والد انکے پاس گئے تو ان کو برص ہوگیا تھا (18)حضرت سودہ قریشہ ، رسول اللہ ﷺ نے ان کو نکاح کا پیغام دیا یہ بھی بچوں والی تھیں آپ نے ان کو ترک کردیا (19)حضرت امامہ بنت حمزہ بن عبد المطلب ان کو نبی ﷺ پر پیش کیا گیا آپ نے فرمایا یہ میری رضاعی بھتیجی ہے (20) حضرت عزہ بنت ابی سفیان ، ان کو ان کی بہن حضرت اُم حبیبہ نے نبی ﷺ پیش کیا آپ نے فرمایا کہ چونکہ انکی بہن ام حبیبہ میرے نکاح میں اسلئے یہ مجھ پر حلال نہیں ہیں (21)حضرت کلبیہ، ان کے نام کا ذکر نہیں کیا گیا رسول اللہ ﷺ نے ان کے پاس حضرت عائشہؓ کو بھیجا ، حضرت عائشہؓ نے فرمایا میں نے اتنی لمبی عورت کوئی نہیں دیکھی تو آپ نے ان کو چھوڑ دیا (22) عرب کی ایک عورت تھی جس کا نام ذکر نہیں کیا گیا آپ نے ان کو نکاح کا پیغام دیا پھر ترک کردیا (23) حضرت درہ بنت ابی سلمہ، ان کو آپ پھر پیش کیا گیا آپ نے فرمایا یہ میری رضاعی بھتیجی ہے۔ (24)حضرت امیمہ بنت شراحیل، انکا ذکر صحیح بخاری میں ہے (25)حضرت حبیبہ بنت سہیل الانصاریہ، نبی ﷺ نے ان سے نکاح کا ارادہ کیا تھا پھر ترک کردیا (26) حضرت فاطمہ بنت شریح ، ابوعبید نے ان کا آپ کی ازواج میں ذکر کیا ہے (27)العالیہ بنت ظبیان ، رسول اللہ ﷺ نے ان سے نکاح کیا یہ آپ کے پاس کچھ عرصہ رہیں پھر آپ نے ان کو طلاق دے دی۔ (عمدۃ القاری، جلد3، صفحہ321-320)
علامہ بدر الدین عینی نے 28ازواج کے ذکر کرنے کا کہا تھا لیکن انہوں نے جو ذکر کی ہیں وہ 27ہیں ۔ (تبیان القرآن : جلد 9، علامہ غلام رسول سعیدی ، صفحہ 417تا419)
علامہ بدر الدین عینی نے اس فہرست میں بعض خواتین کا نام دوسری مرتبہ بھی ذکر کیا ہے اور یہ کتنی بڑی جسارت ہے کہ جن کو رسول اللہ ﷺ نے رضاعی بھتیجی قرار دیا ان کا نام بھی اس فہرست میں ذکر کیا گیا ؟۔ نبی کریم ﷺ نے حلالہ کو لعنت قرار دیا اور علامہ بدر الدین عینی نے اس کو کار ثواب قرار دیا۔ ہمارے علماء و مفتیان ، شیخ الحدیث اور شیخ التفسیر اتنے عقل کے اندھے ہیں کہ کوئی چیز نقل کرنے میں عقل سے بالکل کام نہیں لیتے۔ کوئی غیر مسلم ازواج کی یہ فہرست دیکھ کر کیا سوچے گا؟۔ بخاری میں ابنت الجونؓ کے حوالے سے ابن حجر نے لکھاہے کہ ’’سوال پیدا ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نکاح نہیں کیا تھا تو خلوت میں دعوت کیسے دی؟۔ جواب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ کا کسی عورت کو طلب کرنا نکاح کیلئے کافی ہے چاہے وہ عورت راضی نہ ہو اور اس کا ولی بھی راضی نہ ہو‘‘۔ یہ علامہ غلام رسول سعیدی نے شرح صحیح بخاری نعم الباری اور مولانا سلیم اللہ خان نے شرح صحیح بخاری کشف الباری میں بھی نقل کیا ہے۔ کئی مرتبہ تحریرات کے ذریعے سے توجہ دلانے کے باوجود کوئی ٹس سے مس نہیں ہوتا ۔ اُم ہانیؓ کو نبی ﷺ نے نکاح کی دعوت دی اور انہوں نے قبول کرنے سے انکار کیا تو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا کہ وہ چچا زاد و خالہ زاد آپ کیلئے حلال ہیں جنہوں نے آپ کے ساتھ ہجرت کی ہے۔ جب اس آیت سے حضرت اُم ہانیؓ کا حلال نہ ہونا ثابت ہے تو ان کو نبی ﷺ کی ازواج میں شامل کرنا بڑا ظلم عظیم ہے۔ اور پھر اللہ تعالیٰ نے اس آیت کے بعد نبی ﷺ سے فرمایا ہے کہ’’ اسکے بعد کسی خاتون سے آپ کیلئے نکاح کرنا حلال نہیں۔ چاہے کوئی کتنی ہی اچھی کیوں نہ لگے مگر جسے اللہ آپ کے دائیں ہاتھ لگائے‘‘۔ جسطرح سے بعض خواتین کے آپ ﷺ پر پیش ہونے کا ذکر کیا گیا ہے یا جسکے بارے میں لکھا گیا کہ حضرت عمرہ بنت معاویہ الکندیہ اس سے پہلے کہ آپ ﷺ تک پہنچیں تو نبی ﷺ کا انتقال ہوگیا۔ یہ الفاظ قرآنی آیت کے منافی ہیں۔
جب اللہ تعالیٰ نے نکاح سے منع کیا تھا تو لونڈی یا متعہ کی صورت میں ایسے واقعات کا احتمال تھا، قرآن و سنت کی درست تعبیر کیلئے ضروری ہے کہ حقائق کو مسخ کرنے سے گریز کیا جائے اور قرآن کو بدلنے کے بجائے خود کو بدلا جائے۔ اقبال نے کہا :
ہوئے کس درجے فقیہان حرم بے توفیق
خود بدلتے نہیں قرآں کو بدل دیتے ہیں