آرمی چیف نے نقیب اللہ محسود کے جرم میں راؤ انوار کو سزا کی دہائی دی مگر راؤ انوار کی ضمانت ہوگئی

508
0

naqeebullah-mehsud-rao-anwar-daish-qamar-javed-bajwa-siraj-raisani-imran-khan-bilawal-bhutto-shahbaz-sharif

مدیر مسؤل نوشتۂ دیوار نادرشاہ نے کہا کہ ہماری دعا ہے کہ پاکستان کی ریاست ہر لحاظ سے مستحکم ہو، جمہوریت مضبوط ہو، انسانیت کا راج ہو، عدل وانصاف قائم ہو اور دنیا میں پاکستان عالمی اسلامی خلافت کی بنیاد بن جائے۔ دنیا بھر کا ریاستی اور عدالتی نظام اپنا اعتماد کھورہاہے۔ داعش کا ایجنڈہ خلافت کا قیام ہے جو اسلامی فریضہ ہے۔ اگر آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نقیب محسود شہید کے والد سے تعزیت میں راؤ انوار کو کیفر کردار تک پہنچانے کا وعدہ کریں اور پھروہ ڈرامائی انداز میں نمودار ہوکر پیش ہوں۔ عدالت سے ضمانت مل جائے ۔ سزا کے امکانات ختم ہوجائیں تو کیا نقیب محسود کا بچہ بھی داعش سے تربیت حاصل کرکے پولیس سے انتقام لے گا؟۔ پولیس ماڈل ٹاؤن لاہور میں کھلے عام قتل کرے لیکن وزیراعلیٰ پر دہشت گردی کا مقدمہ نہ بنے اور ایک شخص نوازشریف کو جوتا مارے اس پر ساتھیوں سمیت دہشت گردی کے مقدمات قائم کئے جائیں؟۔ عالمی قوتیں ملکوں کو تباہ کرکے دہشتگردی کی راہیں ہموار کررہی ہیں اور ہماری ریاست بھی نا انصافی میں بے بسی کی مثال بن کر شدت پسندوں کیلئے راہ ہموار کرتی ہے۔ سندھ پنجاب،بلوچستان،خیبرپختونخواہ کا مسئلہ نہیں بلکہ غریب کی غربت کی لکیر سے بھی نیچے زندگی بسر کرنے کا مسئلہ ہے۔ سیاسی عدم مساوات کا مسئلہ ہے، ظلم وجبر اور بے توقیری کا مسئلہ ہے، ریاست کا غلط ہاتھوں میں جانے کا مسئلہ ہے۔ جمہوری شخصیات بے اوقات ہیں۔ مذہب کوبلیک میلنگ کیلئے استعمال کیا جاتا ہے ۔ قابل لوگوں کی بے قدری ہے۔چرب زبانی ہی سیاست ہے۔ایمان،تنظیم،اتحادکا فقدان ہے۔کتنے وہ بے بس ہیں جو اندھیرنگری کی موت مرتے ہیں، کتنے دھماکوں میں لقمہ اجل بنتے ہیں؟۔ اہل اقتدار کو ہوش ہے کہ نہیں؟ یایہ بھی خاندانی منصوبہ بندی کامنظم پروگرام ہے ؟۔
شہید نوابزادہ سراج رئیسانی کی تقاریر سوشل میڈیا پر موجود ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ اس ملک کیلئے اتنی ہی قربانی ہم دے رہے ہیں جتنی کوئی اور دے رہاہے۔ جب پاکستان کا جھنڈا کوئی نہیں لگاسکتا تھا تو ہم نے گھروں پر لگایا سینے پر گولی کھانے کی قیمت پر ہم نے 14اگست کے جلوس مستونگ اور نوشکی وغیرہ میں نکالے جہاں کبھی یہ جلوس نہ نکلے تھے۔ مگر پھر بھی میرے بڑے بھائی کے سینے پر لگے ہوئے پاکستانی بیج کو چھین کر نکالا گیا، ہمیں سمجھ نہیں آرہی ہے کہ آپ ہمیں کہاں دھکیلنا چاہتے ہو؟۔ سراج رئیسانی کی یہ تقریر حیران کن ہے۔ اس پر کوئی تحقیق ہوگی اور مجرم اپنے انجام کو پہنچ سکے گا؟۔ اگر سراج رئیسانی نے منافقت کا لبادہ اوڑھ رکھا تھا تو بھی تحقیق لازمی ہے اور اگر ان کو ناجائز تنگ کیا گیا ہے، تب بھی اس کا ازالہ ہونا چاہیے۔
150سے 220افراد کی شہادت کا واقعہ بہت دلخراش ہے۔ اس سے زیادہ خراب اور گھناؤنی بات یہ ہے کہ ہمارا آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سراج رئیسانی کے جنازہ پر پہنچ گئے تو عمران خان اور شہبازشریف کو بھی تعزیت یاد آگئی ۔ وہ بھی پہنچ گئے حالانکہ اس بڑے سانحہ کے بعد بھی عمران خان نے اسلام آباد میں سیاسی تقریر کی اور واقعہ پر افسوس کا اظہار تک بھی نہیں کیا۔ آرمی چیف کو پتہ ہوتاکہ ہمارے بے غیرت سیاستدان ہارون بلور کے جنازے پر بھی نہیں پہنچیں گے تو یقین سے کہا جاسکتا ہے کہ وہاں پر بھی جنازے میں پہنچ جاتے۔ آرمی چیف کی تعزیت کے بعد ہی بلاول بھٹو زرداری کو بھی ہارون بلور کی تعزیت یاد آگئی تھی۔ عوام الناس نے گھاس نہیں کھائی ہے۔ معاملے کو سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں ہے۔ شہبازشریف نے اپنی ساکھ بحال رکھنے کی مجبوری سے ائرپورٹ جانے کا ڈرامہ رچایا ، جیب کے پیسوں سے پھول نچاور کرنے کا اہتمام کیا تھاورنہ کینٹ کے راستے ویسے بھی ائیرپورٹ جانا ممکن نہیں تھا۔ وہ مریم نواز کا استقبال کرکے اپنی خاندانی اقدار ملیامیٹ کرنے کے حق میں بھی نہ ہوگا مگر دوسروں کی عزتیں اچھالنے اور جھوٹے پروپیگنڈوں کا انجام اللہ تعالیٰ دنیا میں بھی دکھاتا ہے۔یہ وقت کی بڑی سزا ہے۔
نقیب شہید کے علاوہ دیگر بندے بھی ہیں جن کوپنجاب سے لایا گیا تھا۔راؤانوار غائب نہ تھا بلکہ کوئی اس کو لیکر گیا ہوگا کہ باقی راز مت کھولو، نقیب شہید کے کیس میں رہائی دلانے کی ذمہ داری ہماری ہے۔ راؤ انوار پہلے بھی کہہ رہا تھا کہ میں اکیلا نہیں ہوں ، دوسروں پر بھی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔زنا بالجبر میں عمران علی، ریاستی اہلکاروں میں راؤ انوار کے علاوہ تمام ذمہ داروں کو قرارِ واقعی سزا دی گئی تو ملک سے بدامنی، عذاب اور پریشانی کی کیفیت میں وہ کمی آئے گی کہ دنیا حیران ہوگی کہ یہ کیسا پاکستان تھا؟ اور کیسا بن گیا ہے۔جب تک حقیقی اسلامی ریاست بنانے کی درست کوشش نہ ہوگی تو سب کو مصائب ،آزمائش اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑیگا۔ اللہ تعالیٰ ہماری حالت پر رحم فرمائے۔ ہمارا مقصد شعور کی بیداری کا رحجان بڑھانا ہے