نوازشریف کے بیان پر تبصرہ: ( تیز وتند) عبدالقدوس بلوچ

408
0

ایسا حافظہ تو چوہے کا بھی نہ ہوگا، کون اپنا شکار کھیلنے کیلئے اتنی دور جاکر بھول سکتا ہے، یہ سچ ہے کہ’’ دروغ گو راحافظہ نہ باشد‘‘

جھوٹے کا حافظہ نہیں ہوتا، بچوں کے احتساب تک قوم سے جتنے وعدے تھے سب لغو قسم کی باتیں تھیں۔ عبدالقدوس بلوچ

وزیراعظم نوازشریف خود کو بڑا معصوم نیک، باکردار، مخلص، انسان دوست، مذہب پرست، ملک وقوم کا وفادار، باصلاحیت اور ہر قسم کی چھوٹی موٹی غلطیوں سے مبرا خیال کرتا ہے اور یہ اسکی حماقت کی بہت بڑی دلیل ہے، انسان سے غلطیاں ہوتی ہیں، کمزوریاں اور گناہ ہوتے ہیں، کرپشن ہوجاتی ہے، نااہلی یا حماقت کا مظاہرہ ہوجاتا ہے، اعتراف کرنے سے پکڑ ہوجائے تو دبے الفاظ میں کھل کر اپنی کمزور حیثیت کا اعتراف کرلیتا ہے تو اس سے لوگوں کے دل میں محبت، عقیدت، احترام اور اچھے جذبوں کو پذیرائی مل جاتی ہے۔سیاست کاروبار بناکر کی جائے ، بچوں کو خوب نوازدیا جائے تو یہ کہنا کہ ’’ میرا بچوں سے تعلق نہیں‘‘، بہت نامعقول بات ہے، قوم اتنی گئی گزری ہوتو وزیراعظم نوازشریف جو کھیل کھیلنا چاہے اس کی مرضی ہے۔ جن لوگوں کو مجاہد فورس کے نام سے متعارف کرایا ہے یہ وہی اُلو کے پٹھے ہیں جو پچھلی بار بھی آوازیں لگا رہے تھے کہ ’’ نواز شریف قدم بڑھاؤ، ہم تمہارے ساتھ ہیں‘‘۔ جب پرویزمشرف تمہارے اعصاب پر سوار تھا،تو تم نے جواب دیا کہ ’’چپ کرو، پہلے بھی یہ نعرے لگارہے تھے لیکن جب مجھے ہتھکڑی پہناکر لے جایا جارہاتھا اور پیچھے مڑ کر دیکھا تو کوئی بھی نہ تھا‘‘۔ ترکی کی فوج اور عوام سے مغالطہ نہ کھاؤ، کراچی کے مہاجروں کو دیکھا جو الطاف بھائی پر جان چھڑکتے تھے لیکن وقت آیا تو قیادت کا قلادہ گلے سے اتارپھینکا۔تم تو طالبان کے دوست تھے مگر جب راحیل شریف نے انکے خلاف فیصلہ کیا تو پہلے طالبان طالبان کا وظیفہ پڑھنے والے نے اب ’’ ضرب عضب ضربِ عضب‘‘ کی تسبیحات شروع کردیں۔
محترمہ بینظیر پر کراچی میں قاتلانہ حملہ ہوا، پھر بھی اس نے اپنی مہم جاری رکھی، آخر ایک بہادر باپ کی بہادر بیٹی تھی ، صحافی ہارون الرشید کے سر پر عقل کی بات پھسلتی اور تعصب کی بات چپکتی ہو تو یہ گنجے کے نصیب کی بات ہے۔ وہ ان کو بزدل سندھی اور تجھے بہادر پنجابی کہہ کراپنا کوئی مقصد حاصل کرنا چاہتا ہوگا، جنرل راحیل نے بھی سید خورشید شاہ کو عزت کے قابل سمجھا تو عزت دی۔ جھوٹے صحافیوں اور پیسوں سے کرایہ پر لی ہوئی عوام کی باتوں میں مت آنا،پاک فوج نے بدلنا نہیں، جتنے اثرات جنرل ضیاء الحق کے دور کے بعد فوج پر رہے ہیں اس سے زیادہ اثرات جنرل راحیل شریف کے بعد بدلتی ہوئی پاک فوج پر رہیں گے۔ماشاء اللہ، الحمدللہ۔
بدلے ہوئے جرنیل کا سب سے پہلا کام پنجاب کی غنڈہ گردی، کرپشن اور لاقانونیت کے خلاف راست اقدام ہوگا، انشاء اللہ ۔ وزیرقانون پنجاب رانا ثناء اللہ ، وزیر بجلی عابد شیرعلی اور دیگر وزراء کی کھلے عام دھمکیاں بڑے گھٹیا پن کا ثبوت ہے۔ آصف علی زرداری کو چوکوں پر لٹکانا تو درست تھا لیکن رائیونڈ کے محل کے سامنے مظاہرہ کرنا بڑی گستاخی ہے۔ ریاست میں بلوچوں کو کنٹرول کرنے کی طاقت ہو اور پنجابیوں کو کنٹرول کرنے کی طاقت نہ ہو ، تو وہ عوام جو پہلے بدظن تھے اور انکی بدظنی کو نوازشریف ، عاصمہ جہانگیر اور عمران خان وغیرہ بھی کسی حد تک سپورٹ کرتے رہے۔ ان میں سے بہت سوں نے بڑی غلطی کی کہ اپنے علاقے میں دوسری قومیتوں کو مار بھگایا۔ کراچی کے بعد بلوچستان کے حب سے لیکر گوادر ،تربت، پنجگور، قلات،کوئٹہ اور ایران تک بلوچ بھوک سے مرتے ہیں لیکن لوٹ مار ،چوری ،ڈکیتی نہیں کرتے۔ جن بلوچوں کو قومی دھارے میں لایا گیا ہے ان کی وجہ سے بلوچ عوام نے بھی سکھ کا سانس لیا ہے۔یہ لوگ پھر ریاست کیخلاف نہیں بلکہ پنجاب کے اس ظالم جابر اور ڈاکو کی سرپرستی کرنے والے سیاسی لیڈروں کے خلاف نکلیں گے جو عمران خان نیازی سے کہتے ہیں کہ’’ 24ستمبر کی تاریخ مت بدلو، مرد کے بچے بنو، رائیونڈ آجاؤ‘‘ یہ رانا ثناء اللہ وزیرقانون کی زبان ہے۔ عمران خان کو چاہیے کہ اپوزیشن سے مشورہ لینے کی بجائے بلوچ عوام کے پاس جائے۔ تاریخ کو برقرار رکھے۔ تبلیغی جماعت کیلئے اتنے سارے قافلے جاسکتے ہیں تو ایک دفعہ ملک سے بدمعاشی اور دادا گیری ختم کرنے کیلئے بھی عوام آجائیں گے۔
مجھے دکھ تھا کہ رانا ثناء اللہ کی آئی ایس آئی والوں نے مونچھیں اور بھنویں کیوں مونڈھ دیں مگر اب اندازہ ہے کہ یہ ماڈل ٹاؤن واقعہ کے باوجود ایسا مظاہرہ کرتا ہے تو پہلے کتنی بدمعاشی کرتا ہوگا؟۔ پاکستان کو چلانے کیلئے احمقوں، بدمعاشوں ، غنڈوں اور مفاد پرستوں کی بجائے پاکستان کی تمام قوموں سے مخلص ، ہوشیار، سمجھدار ، باوقار اور اچھے لوگوں کو قیادت وامامت کیلئے نکالنا ہوگا، چترال کی عوام تو سب ہی تقریباً اچھے اور شریف لوگ ہیں، وہاں ڈیم بناکر عوام کو سستی بجلی فراہم کی جائے ، افغانستان بھارت کی مدد سے اسی پانی پر ڈیم بنارہا ہے۔ نوازشریف نے مودی سے دوستی نبھانے کیلئے تو یہ مذاق نہیں کیا کہ خاص خوشخبری لیکر آیا ہوں لیکن ڈائری میں کاغذ ہے ، کاغذ مل نہیں رہا ہے، یہ تو ایک مذاق ہے، قومی اسمبلی ، سینٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں اس پر بحث کی جائے اور نوازشریف سے وضاحت طلب کی جائے کہ اس کے پسِ پردہ عوامل کیا ہیں؟۔
نوازشریف عام لوگوں کے جذبات کو دیکھ کر دھوکہ نہ کھائیں، پشاور میں ہمارے اخبار ضربِ حق کا ایک قاری تھا ، وہ دو، دو اخبار ایک ساتھ لیتا تھا، ایک دن شاہ وزیر خان اس کو اخبار دینے گیا تو اس نے کہا کہ میں اخبار نہیں لیتا کافر ہوگیا ہوں، پوچھا کہ کیوں؟، اس نے کہا کہ میں نے اجمل خٹک کو یہاں آفس کیلئے جگہ دی تھی، ان پر بہت خرچہ کرتا تھا، میری بڑی دکان اس وجہ سے اتنی مختصر ہوگئی ہے، میرے ذہن میں تھا کہ پرویزمشرف اسے وزیراعظم بنادینگے اور میں اپنے خرچے کئی گنا وصول کرونگا لیکن ایسا نہ ہوسکا، اسلئے کافر بن گیا، شاہ وزیر نے کہا کہ کافروں کی تو بہت اقسام ہیں تم کونسا کافر بناہے؟، اس نے کہا جو سب سے زیادہ سخت ہوتا ہے ، وہ کونسا ہے ، شاہ وزیر نے کہا کہ ڈونگرا، اس نے کہا کہ بس میں وہی ہوں، شاہ وزیر نے کہا اجمل خٹک نے تمہیں یقین دلایا تھا؟، اس نے کہا کہ نہیں میں خود سے یہ سمجھ رہا تھا۔ عوام کالیڈروں سے لگاؤ خیالی پلاؤ کا ہی ہوتاہے۔