فوج کیخلاف نواز شریف کا بیانیہ درست مگر ساتھیوں سمیت اپنی سیاست اور کرپشن کا حساب دیں.

852
0

nawaz-sharif-corruption-accountability-army-journal-isi-akhrar-abd-ur-rehman-khwaja-asif

اعلاء کلمۃ الحق AKHکے نومنتخب سیکرٹری جنرل محمدفاروق شیخ نے کہاہے کہ نوازشریف کا بیانیہ درست ہے کہ فوج کا سیاست میں مداخلت کا بالکل خاتمہ ہونا چاہیے۔ اسلامی جمہوری اتحاد کا سائیکل، پھر شیرپر چڑھنے والا جنرل جیلانی و ضیاء کا روحانی بیٹاتھا،جب کورٹ سے کرپشن کی سزا مل رہی ہو تو یہ توبہ ملک الموت کے نظر آنے کی صورت میں قبول نہیں ہوسکتا۔ جنرل ضیاء نے مالی کرپشن نہ کی تو اعجازالحق کے پاس پیسہ نہیں ۔ نوازشریف اور اسکا خاندان کرپشن کیلئے سیاست میں آیااور نظرئیے کا خاتمہ کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کو بھی فوج سیاست میں لائی مگر وہ نظریاتی تھا۔ نوابزادہ نصر اللہ نے کہا تھا کہ ’’ نوازشریف نے سیاست کو تجارت میں بدل دیا‘‘۔ نظریات کی تجارت نہیں ہوتی ۔ آئی ایس آئی کے سربراہ اختر عبدالرحمن نے پیسہ بنایا تو فرزندانِ اختر نواز شریف کیساتھ ہیں۔ کرپٹ لوگوں کا کونسا نظریہ ہے؟۔کالوخان امیر مقام جماعت اسلامی،پرویز مشرف اور اب نوازشریف کیساتھ ہے۔مریم نواز کو شرم بھی نہیں آتی کہ فارمی بیل کیساتھ کھڑی ہوکر نظرئیے کی بات کرے مگر بات امیر مقام کی نہیں ابا حضور سے لیکر نئے پرانے ساتھی تمام فہرست ہی ماشاء اللہ ہے۔
لوٹاکریسی، خلائی مخلوق اور غیرنظریاتی سیاست کا خاتمہ ممکن ہے لیکن اپنی ذات، خاندان اور پارٹی سے آغاز کرنا ہوگا۔ آج نوازشریف کہہ دے کہ سیاست میں میرا اپناوجودہی خلائی مخلوق کا مرہون منت ہے ، میں نے جو کرپشن کی ، میرے خاندان اور ساتھیوں نے جو کرپشن کی ہے۔ اللہ کے حضور بھی معافی مانگتے ہیں اور عوام و سرکاری ادارے بھی معاف کردیں۔ سارا کرپشن کا پیسہ ہم اس ملک وقوم کو واپس کرنے کا اعلان کرتے ہیں پھر یہ بھی وعدہ کرتے ہیں کہ مارشل لاء کی تیار کردہ یہ سیاسی قیادت اب کبھی سیاست میں حصہ نہیں لے سکتی ہے۔ ہماری جگہ دوسری کٹھ پتلی سیاسی قیادت عمران خان کا راستہ عوام روک دے۔ یہ حقیقی نظریاتی سیاست کا آغاز ہوگا۔ نوازشریف دھمکیاں دینے کے بجائے ان کرپٹ جرنیلوں کا نام لے جنہوں نے بڑا پیسہ بیرون ملک منتقل کیا ہے۔ جنرل راحیل شریف کی ریٹائرڈمنٹ سے پہلے جنرل اشفاق کیانی کے بھائی کو آسٹریلیا سے انٹرپول کے ذریعے لانے کی الیکٹرانک میڈیا پر سلائیڈ چلی تھی مگر اس پر عمل در آمد نہ ہوسکا۔ سیاستدان اور سول وملٹری بیوروکریسی کے افسران نے اپنا جائز وناجائز سرمایہ بیرون ملک منتقل کیا ہو تو ان کو واپسی کیلئے اقدامات کی ضرورت ہے۔ نوازشریف نے بری طرح سے ملک کو قرضوں میں پھانس دیا ہے۔جو لوگ قوم اور وطن کیلئے بیرون ملک سرمایہ کو لانے کی قربانی نہیں دے سکیں تو ان کو پھانسی پر لٹکانے کی نہیں کرش مشین میں ڈالنے کی ضرورت ہے تاکہ نشانِ عبرت بن جائیں۔ ایک چھوٹے سے طبقے نے عوام کو بدحال کرکے رکھ دیا۔ سیاسی جماعتوں نے الیکشن کے فارم سے جائیداد کی تفصیل کے کوائف بھی نکال دئیے ہیں جن کو اصلاحات کا نام دیا جارہاہے۔ نوازشریف، جہانگیر ترین ، خواجہ آصف جس بنیاد پر نااہل ہیں اب کوئی نااہل نہ ہوسکے گا۔
عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے حکمران کی ساحری کا انداز بدل رہاہے۔ پانچ سال میں جتنا قرضہ لیا گیا، تاریخ میں مجموعی طور پر بھی اتنا قرضہ نہیں لیا گیا تھا۔ نوازشریف ڈراونے خواب کے مناظر دکھا رہاہے کہ مجھے قرضہ دیا گیا، 5ارب ڈالر کی پیشکش ہوئی اور میں ہی اس ملک میں بے انتہا کرپشن کیلئے سب سے بڑی بنیاد ہوں۔ ساری نادیدہ قوتیں مجھ سے فائدہ اٹھائیں ورنہ میں بھی ان کی کرپشن کے پردے چاک کردوں گا اور اس بیانیہ کو سیاسی رنگ دیا جارہاہے۔ نوازشریف نے پہلے بھی کہا تھا کہ میں تمام اداروں سے بات کیلئے تیار ہوں۔ اس کو کسی نے جواب نہیں دیا کہ مابدولت! جب فوج کی حکومت تھی پرویزمشرف سے معاہدہ کرکے باہر گئے، اسوقت تیری حکومت کا خاتمہ ہوچکا تھا اب تو تیری حکومت بحال ہے۔اب کسطرح اور کس سے مذاکرات کرنے ہیں؟۔ اب خلائی مخلوق کا دور نہیں تو مذاکرات کس سے کرنے ہیں؟۔ بس چلتا ہے تو گریبان میں ہاتھ ڈالتا ہے اوربس نہیں چلتا تو بہت کچھ پکڑتا ہے کہ نہیں؟۔
حضرت علیؓ نے فرمایا کہ ’’جس پر احسان کرو، تو اسکے شر سے بچنے کی تدبیر بھی کرو‘‘۔ یہ کمینے لوگوں کے حوالہ سے ہوسکتا ہے۔ پاک فوج نے نوازشریف پر احسانات کی بھرمار کی تھی اور اب تو اسکے شر سے بچنے کی فکر میں مبتلا ہے۔ جن فوجیوں نے کرپشن کی تھی یا جو آج بھی کررہے ہیں ان کا بھانڈہ پھوڑنے میں کوئی دیر نہیں لگانی چاہیے لیکن فوج کا ادارہ وطن کا محافظ ہے اور اسکی اکثریت عوام کی طرح مظلومیت کی چکی میں پِس رہی ہے۔