طلاق کے متعلق قرآن و سنت کی روشنی میں نئی فیصلہ کن تحقیق

طلاق کی ملکیت کا باطل تصور
ایک مولانا نے اپنی بیوی کو ایک طلاق دی، عدت کے بعد ایک مفتی سے اس کا نکاح ہوا. حنفی فقہ میں وہ مولانا بھی بدستور دو طلاق کا مالک ہے، مفتی نے دو لاق دے کر عدت ہی میں رجوع کرلیا تو اب مفتی ایک طلاق کا مالک ہے اور پہلا شوہر مولانا دو طلاق کا. اگر طلاق کی ملکیت کا یہ غیر فطری تصور درست ہے تو مشترکہ مملوکہ بیوی پر پہلے شوہر دو طلاق کے مالک مولانا کا زیادہ حق ہے یا دوسرے شوہر ایک طلاق کے مفتی کا؟
اے نا معقول: شوہر طلاق کا مالک نہیں بلکہ طلاق اور اسکی عدت کا حق رکھتا ہے اور رجوع کا تعلق بھی عدت سے ہے

کتاب ابر رحمت پڑھنے کیلئے ٹائٹل پر کلک کریں

AbrRhmt_Title(small)

اپنا تبصرہ بھیجیں