میرا وطن لہو لہو ہے ن لیگ دہشتگردوں کی ساس اور پی ٹی آئی ان کی بہو ہے

468
0

noon-league-and-pti-action-plan-imran-khan-nawaz-shareef-siraj-raesani-zainab-ptm-aman-foundation-mastung-incident

امیرادارہ کلمۃ الحق قدوس بلوچ نے کہا بلوچستان و پختونخواہ میں خون کا کھیل کھیلا گیا۔ مستونگ واقعہ پر عمران خان نے پروگرام میں بلوچوں کے خون پر افسوس کا اظہار تک نہ کیا۔ نواز شریف، مریم نواز، شہباز شریف نے بلوچوں کا خون قابلِ افسوس نہ سمجھا۔ عمران خان میں انسانیت نہیں۔ یہ بندر کی طرح ڈنڈے پر چڑھتا ہے، قلا بازیاں کھاتاہے ، تماشے دکھاتا ہے۔ ن لیگ کا بھی یہی حال ہے۔عالمی قوتیں اقتدار میں لاکرانہیں استعمال کرتی ہیں ۔قوم کو جاگنا ہوگا۔
پاکستانی میڈیامخصوص ایجنڈے کے تناظر میں مختلف سیاسی قائدین، رہنماؤں، دانشوروں اور شخصیات کو کوریج دیتا ہے۔بلوچستان میں خود کش دھماکے سے70افراد کی شہادت اور سینکڑوں زخمی ہونے کی خبر آئی۔ شہیدوں کی تعداد 85بتائی گئی ، میڈیا کا فوکس مریم نواز، نواز شریف کا جہاز تھا اور مخالفت وموافقت کی خبریں چل رہی تھیں۔ کچھ میڈیا چینل عوام کو توجہ دلاتے، ہسپتالوں میں ایمرجنسی اور خون کی ضرورت کی اطلاع دیتے، مگر بلوچوں کے خون کو اہمیت کے قابل نہ سمجھا ۔ صرف آرمی چیف کی طرف سے آئی ایس پی آر نے ایک تعزیتی بیان جاری کیا اور افسوس کا اظہار کیا کہ یہ ملک ایک وفادارو محبِ وطن سیاسی قائد نوابزادہ سراج رئیسانی سے محروم ہوا۔ باقی میڈیا کو یہ فرصت ہی نہیں ملی کہ رہنماؤں کو تعزیت کرنے کی تکلیف دیتے۔ میڈیا کے مختلف چینلوں پربھی تجزےۂ نگاروں کو مریم نواز اور نوازشریف کا طیارہ اترنے ہی کی فکر تھی ۔ کوئی ان کے جیل جانے کا غم منارہاتھا، حوصلہ بڑھارہا تھا، سیاسی اعتبار سے ن لیگ کو تقویت پہنچنے کی بات کررہاتھا اور کوئی ان پر لعن طعن اور جیل جانے کی خوشیاں منارہاتھا۔
وہ صحافی بھی تھے جو احساس دلارہے تھے کہ اس واقعہ کے بعد سیاسی سرگرمیاں معطل کرنے کی ضرورت تھی۔ پھولوں سے شہبازشریف کو منع کرنا چاہیے تھا، عمران خان کو پروگرام میں احساس کی ضرورت تھی کہ مستونگ میں قیامت صغریٰ برپا ہوئی ، ہم اس غم میں برابر کے شریک ہیں۔ میڈیا کو ریج میں واقعے کو بھرپور اہمیت دینی چاہیے تھی لیکن یہ احساس بہت کم تعداد میں اجاگر ہوا۔ ن لیگ یا تحریک انصاف کے قائدین اس کو اہمیت دیتے تو ان کے پُجاری میڈیا چینل بھی لگ جاتے اور لہو لہو مستونگ کے لوگوں کی داد رسی ہوجاتی، ان کو حوصلہ ملتا، ان کے زخموں کو مرہم ملتا کہ ہمارا دکھ درد بانٹنے والے بہت ہیں اور اس حادثہ میں اصحابِ اقتدار نے ہمیں یاد رکھا ہے۔
اگر ہمارے اصحابِ سیاست سے یہ غلطی ہوئی ہے کہ صادق سنجرانی کو چیئرمین سینٹ بنایا، ن لیگ کی حکومت گرا کر اقتدار کا مزہ چکھ لیا تو پنجاب کے سیاستدانوں نے کبھی یہ غلطی نہیں کی؟۔ کیا اسلام ، انسانیت اور پاکستانیت ہمیں اجازت دیتی ہے کہ ہم بھی بے حس ہوجائیں؟۔ اگر فرقہ واریت، لسانیت کے نام پر ہمارے ہاں قتل وغارتگری ہوئی ہے تو کھل کر اس کا اظہار کرو تاکہ ٓائندہ ہماری آنکھیں کھل جائیں۔ مجھے معلوم ہے کہ میڈیا کے پاس نوازشریف اور مریم نواز کا ایشو نہ ہوتا تو بہت ہمدردی دکھائی جاتی، یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک آزمائش تھی کہ کوریج کی بھوکی میڈیا نے بلوچوں کے اس بڑے واقعہ میں ساتھ نہ دیا۔ بلوچستان میں فرقہ واریت اور لسانیت کے نام پر کھیل کھیلا جارہا تھا تو میری قوم خاموش تھی۔ ہزارہ برادری کوآنسو پونچنے کیلئے ٹرک میں ٹشو پیپر بھیجنے کی بات کی جاتی تھی۔ مسافر مارے جاتے تھے، اس بربریت کا دکھ درد اللہ تعالیٰ نے دِکھانا تھا۔ اس میں معصوم لوگ لپیٹ میں آگئے ہیں۔ دل سے دکھ درد محسوس کر رہا ہوں۔ شکر ہے کہ میڈیا کو فراغت بھی نہ ملی ورنہ ماؤں اور بہنوں کی چیخ و پکار بھی چینلوں پر دکھائے جاتے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی مہربانیوں سے بلوچوں کی عزت رکھ دی۔ ان کی چیخ وپکار کو دنیا کے سامنے اجاگر کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔
پختونوں نے دھماکہ کے بعد نعرہ لگایا ’’ یہ جو دہشت گردی ہے اسکے پیچھے وردی ہے‘‘ اسلئے میڈیا نے دھماکہ کے بعد کے مناظر دکھانے سے گریز کیا۔ ان کی چیخ وپکار بھی اسلئے میڈیا پرنہیں دکھائی جاسکی ، ورنہ تو میڈیا نے اپنی ریٹنگ کیلئے بہت کچھ کرنا ہوتاہے۔ پنجاب میں عوام کی عزتیں تک بھی محفوظ نہیں تو چیخ وپکار دکھانے سے فرق نہیں پڑتا۔ سعودیہ میں لڑکی سے زیادتی کرنیوالوں کے سر قلم کرنے کی ویڈیو نیٹ پر موجود ہے۔ اگر قصور کی زینب کے گرفتار مجرم کو قرآن کے مطابق قتل اور حدیث کیمطابق سنگسار کیا جاتا تو بہت خواتین کی عزتیں محفوظ ہوجاتیں۔ مستونگ کی عوام شکر کریں کہ انکے ساتھ یہ واقعات نہیں ہوئے جو پنجاب میں بڑے پیمانہ پرہورہے ہیں۔
پہلے عزتوں جانوں کا، اسکے بعد کرپشن کامعاملہ ہے۔ عزتوں و جانوں کا تحفظ سیاسی جماعتوں کا ایجنڈا نہیں۔ کرپشن ایجنڈا نہیں ہے۔عمران خان نے کہا کہ’’ نتھیا گلی میں وزیراعلیٰ کے محل میں اپنے خرچے پر رہا ہوں‘‘۔ (تعلیمی ادارہ نہ بنایاتوکرایہ اداکرتے) سلیم صافی نے جیونیوز پر کروڑوں کا حساب بتایا تھا کہ ڈیڑھ ڈیڑھ، ڈھائی ڈھائی اور ساڑے تین تین لاکھ چائے پر سرکاری خزانے سے خرچ کیا۔ پی ٹی آئی کی جماعتی سرگرمی پر پختونخواہ کی عوام کے ٹیکس کا پیسہ خرچ کرنے سے بڑی کرپشن کیا ہوسکتی ہے؟۔ یہ اچھا وطیرہ ہے کہ دوستوں پر سرکاری خرچہ کرو اور دوستوں سے اپنے اوپر خرچ کراؤ؟۔
کراچی سے ایک ’’امن ‘‘ کے ملازم فاروق نے اپنی انتظامیہ سے کہا کہ مستونگ میں ایمبولینس بھیجو،مگر اسکے نالائق ذمہ داروں نے کہا کہ جب تک ہم سے درخواست نہیں کرینگے ہم نہیں بھیجیں گے۔ایک گھر کے 15افراد شہید ہوگئے ہیں، ایک گھر میں خواتین اور بچیاں رہ گئیں، کوئی مرد ہی نہیں بچا ہے۔ ملالہ یوسف زئی کو سوات سے پشاور اور پھر بیرون ملک پہنچاکر موت کے منہ سے نکالا۔ نوابزدہ سراج رئیسانی پاکستان سے محبت اور بھارت سے نفرت کی سیاست کرتا تھا لیکن پھر بھی اس کی جان بچانے کی کوشش نہیں ہوئی۔دشمن تو دشمن ہوتا ہے مگر گلہ دوستوں سے ہوتا ہے۔ عمران خان اور نوازشریف وہ دلے اور بے غیرت ہیں جو بلوچوں کے زخم پر مرہم کے بجائے نمک ہی چھڑکتے ہیں۔ افواجِ پاکستان اس بات کا خیال رکھے کہ PTMوالے ناراض ضرور ہیں لیکن بے غیرت نہیں ہیں اگر کبھی ملک وقوم کو ضرورت پڑی تو منظور پشتین سب کی قیادت کریگا۔ناراض بلوچ بھی غیرتمند ہیں اور جب ان کا گلہ شکوہ ختم کرنے کیلئے درست پالیسی تشکیل دی جائے گی تو پاکستانی ریاست کیساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہونگے یہ بے غیرت سیاسی جماعتوں اور میڈیا کا کام نہیں ہے۔