پختون آئین کے تحت پاکستان سے ناروا قتل، ظلم وجبر پر انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں، منظور پشتون

395
0

pakhtoon-history--constitution-pakistan-insaf-demand-manzoor-pashtoon-fc-police-army-court-quatta-media-balochistan--culture

پشتون تحفظ موومنٹ کے قائد منظور پشتین ایک تعلیم یافتہ ، بہادر ، نڈر ، جرأتمند ، دانشمند، ٹھنڈے دل و دماغ اور زبردست شعور رکھنے والا جوان ہے۔ ایک فوجی کی شہادت پر جب وزیرستان میں تشدد کرکے ایک محسود جوان کو اس کی ماں کے سامنے شہید کیا گیا اورگاؤں پر تشدد کی انتہاء کی گئی ، دور دراز کے علاقوں تک کرفیو لگایا گیا تو منظور پشتون نے اس تحریک کا آغاز کیا۔ عید کے دوسرے دن فوجی اٹھا کر اس کو لے گئے اور دوسرے جوان ساتھیوں کی طرف سے احتجاج کے بعد چھوڑ دیا گیا۔ فوج کا کہنا تھا کہ تم ہمارے مورال کو ڈاؤن کررہے ہو ۔ منظور پشتون نے کہا کہ اب ڈر اور خوف کو ہم نے دل سے نکال دیا ہے۔ بچوں کے قتل ، گھروں کو مسمار کرنے، بزرگوں کی بے عزتی کے ہم عادی ہوچکے ہیں ۔
علاقے میں بارودی سرنگوں کی وجہ سے بہت اموات ہورہی تھیں ، کوئی دھماکہ ہوتا تو مرنے والے بھی علاقہ والے ہوتے اور تشدد بھی انہی پر کیا جاتا۔ جبکہ عوام کے پاس چھرے رکھنے کی اجازت بھی نہیں تھی اور پالے ہوئے دہشتگرد کو فوج کی حمایت حاصل تھی۔ مولانا ابو الکلام آزادؒ نے ہندوستان کی آزادی کیلئے جنگ لڑتے وقت کہا تھا کہ ’’جب کسی قوم کو دبایا جاتا ہے تو اسکی ایک انتہاء ہوتی ہے جسکے بعد قوم دباؤ کو قبول نہیں کرتی ہے‘‘۔ پہلے یہ بات ہندوستان کی آزادی کی جنگ لڑنے والوں پر کھلی تھی اور اب وزیرستان والوں نے خوف کو پھینک ڈالا ۔ تحریک کی قیادت منظور پشتون کو ملی ہے اور علی وزیر بھی انکے ساتھ ہیں جو محسود اور وزیر سے نکل کر تمام پشتونوں تک پھیل گئی ہے۔ اس تحریک کی حمایت ہزارہ برادری اور بلوچ عوام نے بھی کردی۔
منظور پشتون کے انٹرویوز اور تقاریر پشتو زبان میں ہیں۔ انکو اُردو اور دوسری زبانوں میں منتقل کرنا ضروری ہے۔ جن کا مدعا یہ ہے کہ ہم سے 100روپے موبائل بیلنس پر 25روپے ٹیکس وصول کیا جاتا ہے اور ان پیسوں سے ریاست ہماری حفاظت کا ذمہ لیتی ہے۔ ہمیں ریاست مارے ، طالبان مارے یا خود کش حملوں میں ہم مریں ان سب کی ذمہ دار یاست ہے ۔ جتنے بھی قتل ہوئے ہیں ان سب کا حساب ریاست نے ہمیں دینا ہے ، پاکستان کے آئین کے تحت سب کے اپنے اپنے فرائض ہیں۔ دستورنے کسی کو حق نہیں دیا ہے کہ وہ کسی کو ماورائے عدالت قتل کرے۔ ہم ریاستی اداروں کی آنکھیں کھولنا چاہتے ہیں کہ ہم بھی انسان ہیں ، ہمارے بھی جذبات ہیں، کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم جو اپنی زندگی سے تنگ آچکے ہیں ، بچوں کو قربان کرنا ہمارے لئے مسئلہ نہیں رہا۔ اس کا ہمیں عادی بنادیا گیا۔ گھروں کو مسمار کرنا ہو تو اپنے جہازوں اور توپوں کو آزمالو ، بزرگوں اور خواتین کی بے عزتی کرنی ہو تو اسکے بھی ہم عادی ہوچکے ہیں۔ یہ سب کچھ امریکہ سے ڈالروں کے وصول کیلئے ہورہا ہے۔ دنیا مانتی ہے کہ ہمیں استعمال کیا گیا،جرنیل بھی کہتے ہیں کہ ہم نے آپ کو استعمال کیا۔ ہم بھی سمجھتے ہیں کہ پشتون سیدھے لوگ ہیں اور وہ اسلام ، جہاداور افغانستان کے نام پر استعمال ہوگئے۔ جنگ میں کس نے گھر بار ، جان و مال اور عزتوں کی قربانی دی؟ کون ڈالر کما رہا ہے؟۔ یہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔
فوج کے افسر ہمیں کہتے ہیں کہ ہماری فوج تمہاری فوج ہے ، ہماری ریاست تمہاری ریاست ہے ، ہمارا ملک تمہارا ملک ہے مگر وہ ہمیں اپنا سمجھتے تو یہ کیوں کہتے؟۔ ظلم و بربربیت کا بازار گرم کیا گیا پھر بھی قبائل نے کہا کہ ہمیں پاکستان کی ریاست کا حصہ بنالو۔ وہ ہمیں اپنا حصہ بنانے کیلئے تیار نہیں۔ لوگ ایسی ریاستوں سے علیحدگی کیلئے تحریکیں چلاتے ہیں اور ہمیں شامل کرنے کیلئے یہ تیار نہیں ہیں۔ یہ ہماری کیسی ریاست ہے؟۔
2010ء میں ایک شخص کو پکڑا گیا جس نے جہاد سے توبہ کی تھی اور وہ فون کے بلاوے پر جا نہیں رہا تھا۔ پھر اس کو گرفتار کیا گیا اور جب 2016ء میں آرمی پبلک اسکول کاواقعہ ہوا تو اس کو سزا دی گئی۔ وہ قوم جو کبھی کسی سے خوفزدہ نہیں ہوئی ہے اس کو اتنا ڈرا دیا گیا کہ اپنے حق کیلئے بھی آواز اٹھانے کیلئے تیار نہیں ہورہی تھی۔ اس ظلم ، بربریت اور جبر کا اب خاتمہ ہونا چاہیے۔ منظور پشتون قوم کا درد لیکر اٹھا ہے اور اپنے ساتھیوں سمیت اسکا یہ درد پوری قوم کو بیدار کررہا ہے جو انقلاب کا ذریعہ بنے گا۔