پاکستان میں فوج اور جمہوریت کی لڑائی. سید عتیق الرحمن گیلانی

442
0

pakistan-me-fauj-aur-jamhuriat-ki-larai

پاکستان میں فوج اور جمہوریت کی لڑائی

پاکستان کی فوج انبیاء اور جمہوریت کے علمبردار صحابہ نہیں ۔ جنرل ضیاء الحق کی ڈکٹیٹر شپ اورمارشل لاء سے موجودہ جمہوریت کی مارشل آرٹ نواز شریف کی ن لیگ نے جنم لیا ہے۔ اللہ نے انبیاء ؑ و صحابہ کرامؓ سے مخصوص واقعات اسلئے سرزد نہیں کرائے کہ لوگ ان کی توہین کرتے ہوئے ان کی ارواح مقدسہ کو اذیت پہنچائیں بلکہ اس امر تک رسائی مقصود تھی کہ آنیوالے لوگ قیامت تک فرعون کی طرح خدائی کے دعویدار بننے سے گریز کریں۔
جب روس نے افغانستان میں قدم جمائے تو بھارت روس کا ساتھی تھا اور پاکستان کی دوستی امریکہ سے تھی۔ روس کی مخالفت میں امریکہ، یورپ، ایران، چین اور دنیا کے بہت ممالک عرب یہاں تک کہ اسرائیل بھی اس صف میں شامل تھا۔ پھر طالبان کی حکومت تک امریکہ اور پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت شانہ بشانہ تھے۔ افغانوں کے محبوب رہنما ڈاکٹر نجیب اللہ کی لاش کو ٹانگ کر کئی دنوں تک مسخ کرنے کی روش اپنا ئی گئی۔ امریکہ اور پاکستان کے گماشتہ طالبان رہنماؤں کے باقیات کو اس سنگین غلط اقدام پر معافی مانگ لینی چاہیے۔ بینظیر بھٹو کا قتل اور نوازشریف کی نااہلی سے بڑی بات ڈاکٹر نجیب اللہ سے زیادتی تھی۔ جسکا خمیازہ پاکستانی قوم ، طالبان اور ملا عمر کو گمنامی کی موت سے مل گیا۔ یہ انسانی فطرت ہے کہ دوسروں کو آسانی سے توپ مارنے والا آدمی اپنے چوتڑ میں ہلکا سا کانٹا چبھنا بھی برادشت نہیں کرتاہے۔ پاک رزق کو کھاکر ناپاکی بنانیوالی مشین انسان کو تکبرنہ کرنا چاہیے۔
اُسامہ کے بہانے امریکہ آیا تو القاعدہ قائدین پاکستان میں پکڑے اور مارے گئے۔ پاکستان نے صفایا کردیا اور افغانستان میں جہادیوں کی بھرمار ہے ۔گارڈ فادر ٹرمپ ایک بدمعاش ملک کا بدمعاش صدر ہے ۔ افغانستان، عراق ، لیبیا اور شام کے بعد پاکستان پر بھی بدمعاشی جمانے کی بات کررہاہے۔ باکردار ، بزرگ اور بااصول چیئرمین سینٹ رضا ربانی نے درست کہا ’’امریکہ پاکستان کو اپنا قبرستان بنانا چاہتا ہے تو ویلکم‘‘۔ مگر یہ کام لوٹاکریسی اور طبلہ بجاکر سیاستدان نہیں کرسکتے ۔ یہ اسلام اور پاکستان کیلئے جہاد کا جذبہ رکھنے والے مجاہد کرسکتے ہیں۔ فوج کو حکم دیا جائے تو افغانستان میں بیٹھی نیٹو اور بھارت کو تباہ کرسکتی ہے مگر پھر اپنی جان بچانا بھی مشکل ہوگا۔ کراچی کے دل پر راج کرنیوالا الطاف حسین بھی کھلے عام قوم پرست بلوچوں کی طرح پاکستان توڑنے کی بات کررہاہے اور نوازشریف بھی عدالتی حکم ، ریاستی رویہ اور 70سالہ کینسر کی بات کرتاہے۔ دلوں کو حقائق بدلتے ہیں۔گالی دینے والا الطاف بھائی دُم اٹھاکر فوج کو دعوت دیتا تھا اور اب وہی دُم اپنے اندر گھسادی۔
امریکہ اور بھارت کو کھلا پیغام دیا جائے کہ پاک فوج کے جذبات ابھارکر ان کو شدت پسندی اور انتہاء پسندی کی طرف دھکیلنے کی سازشوں سے باز رہا جائے ورنہ خیر کسی کیلئے بھی نہیں ہوگی۔ جو کہتے ہیں کہ’’ پاکستان کا ایٹمی ہتھیار شدت پسندوں کے ہاتھ نہ لگ جائے‘‘ وہی سازش کررہے ہیں کہ پاک فوج کے جرنیلوں کو بھی انہی کے صفوں میں دھکیلا جائے۔ صحتمند صحافت بھارت اور امریکہ کے خلاف ’’جیو اورجینے دو‘‘ کی آواز بلندکرتی تو کافی حد تک عوام میں شعور آتا۔ اختلافِ رائے رحمت ہے مگر تعصبات ، جھوٹ اور غلط پروپیگنڈے سے بڑی لعنت کوئی نہیں ۔ جیو ٹی وی نے آئی ایس آئی کے خلاف پروپیگنڈے پر معافی بھی مانگ لی اور سزا بھی بھگت لی۔ بول ٹی وی چینل پرانی یادوں سے پاک فوج کو نقصان پہنچا رہا ہے۔اگر حامد میر پر قاتلانہ حملے کی رپورٹ شائع کرکے بتادیا جاتا کہ اصل مجرم وہ تھے تو پھر بھی پروپیگنڈے کا کوئی فائدہ ہوتا۔ پرویزمشرف پر لال مسجد کے شہداء اور بینظیر بھٹو کا کیس عدلیہ میں چل رہاہے تو یہ فوج کی بدنامی نہیں ، پھر آئی ایس آئی کے سربراہ پر الزام کیوں ادارے اور فوج کی بدنامی تھی؟۔ امریکی سی آئی اے پر کس قسم کا الزام نہ لگا؟۔ خفیہ ایجنسیوں پر دنیا بھر میں الزام لگتے ہیں اور انکے سربراہ بھی الزامات کی زدمیں رہتے ہیں ۔
آرمی چیف جنرل باجوہ ٹھنڈے مزاج اور اچھے آدمی ہیں، ممکن ہے کہ اشفاق کیانی کی طرح ان کو بھی کرکٹ کا ٹک ٹک مصباح الحق کہا جائے۔ شاہد آفریدی کی طرح کیپٹن بعض اوقات ٹیم جتانے اور ہرانے میں اپنا کام دکھاتا ہے، کھیلوں کی طرح جنگوں اور لڑائی میں بھی مختلف مواقع پر مختلف طبیعتوں اور مزاج کے لوگ اپنی اپنی جگہ مفید ثابت ہوتے ہیں۔ جنرل باجوہ کو ایک تھیلا کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا مگر یہ وہ تھیلا ہے جو دودھ بچانے کیلئے بکری کے تھنوں پر باندھا جاتا ہے۔حافظ سعید اور مولانا مسعود اظہر ریاستی لیلے ہیں۔ بکری سینگوں کو دشمن کیخلاف استعمال کرسکتی ہے، اپنے بچوں کے خلاف نہیں۔ڈان لیکس کی کہانی کو بہت غلط رنگ دیا گیا تھا ورنہ تو حقیقت یہ تھی کہ ’’فوج نے کہا کہ حکومت اپنے پالے ہوئے بچوں کو کاٹنا چاہتی ہے تو ہم رکاوٹ نہیں اور ہمیں حکم دے تو بھی اسکے پابند ہیں‘‘۔ حکومت کا یہی موقف ہوسکتا تھا کہ ’’تمہارے بچوں کو کاٹنے کا حکم ہم سے نہ لو ، ہم یہ حکم کیوں دیں؟۔ تمہارا کام ہے ، تم نے پالا اور تمہی ختم کرو، ہمارا نام لینے کی ضرورت نہیں ، یہ ہمارے ووٹر ہیں‘‘۔
پاکستان کی سرحدوں پر دشمن کے کانٹوں کی یلغار ہے اور جنرل باجوہ بہت کچھ سہنے کی صلاحیت رکھ کر اپنا کردار ادا کر رہا ہے ۔ قوم کی دعائیں، جذبات اور جان ومال کی قربانیاں ساتھ ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ان مشکل اوقات میں تمام اندورنی و بیرونی دشمنوں کا راستہ روکنے کی سب کو توفیق عطا فرمائے۔نوازشریف کیساتھ عدلیہ، فوج اور میڈیا کی روش بہت اچھی ہے۔ سب کھلا سچ بولنا شروع کردیں تو عوام کے اندر بہت بڑی تبدیلی آئے گی۔ اگر پاکستان میں فوج کی حیثیت نہیں رہی تو افراتفری کی فضاء میں پاکستان کے تھنوں سے دودھ رسنا بند ہوجائیگا۔ عدالتی نظام کو درست کرنے کی واقعی ضرورت ہے لیکن دھمکی اور بدمعاشی سے نہیں شرافت ، سیاست، حکمت اور قانونی طریقے سے نظام کو ٹھیک کرناہوگا۔
سینٹ میں اکثریت نہ ہونے کے باوجود نوازشریف کی نااہلی پر جماعت کی سربراہی کا راستہ ہموار ہوا، جب سینٹ میں مارچ کو اکثریت حاصل ہوگی تو قانون ساز ادارہ مزید قوانین پاس کریگا اور 2018ء کے الیکشن پر بھاری خرچہ کرکے 2 تہائی اکثریت حاصل کی گئی تو یہ قانون بھی بن سکتا ہے کہ ن لیگ اور نوازشریف کیلئے نااہلی کی سند جاری کرنے والے جج نااہل ہونگے۔ کرپٹ لیڈر اور صاحبزادی کی خواہشات قانون بنتے ہیں۔ فوج اور عدلیہ اپنی پاکٹ میں اس کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ تحریک انصاف کی کوشش ہے کہ اپوزیشن لیڈر بن کر عبوری حکومت نہ بننے دی جائے اور اگر اپوزشن لیڈر کا عہدہ نہ ملا تو جلسے جلوس اور دھرنے سے اسوقت تک انتخابات کا راستہ روکا جائے جب تک اسٹیبلشمنٹ کی ڈوریں ہلتی رہیں۔ گدھ منتظر تھا کہ گدھا مرے تو کھائے، گدھے کی سانس نکلتی تھی نہ گدھ کی لالچ ختم ہورہی تھی۔عوام کیلئے ایک طرح کی سیاسی پارٹیوں میں دلچسپی لینے کی کوئی خاص وجہ نہیں۔
اگر نوازشریف کو ’’مجھے کیوں نکالا ؟‘‘۔ کا جواب ملے کہ قیادت قوم کی ماں ہے مگرتم ضیاء الحق کی داشتہ رہی اورمحمد خان جونیجو جائز منکوحہ کیخلاف سازش میں حصہ لیا۔ ضیاء الحق کی موت پر بھٹو کو انگریز وں کے کتے نہلانے والا قرار دینے پر تعلق جائزنہیں بن سکتا تھا۔ بینظیر بھٹو نے جائزالیکشن جیت لیاتو پاکستان کو میزائل سے مالامال کرنیوالی محترمہ کیخلاف سازشوں میں شریک تھے۔ اسلامی جمہوری اتحاد سے تعلق جائز نہیں بن سکتا تھا۔سلمان اکرم راجا وکیل ہے، نکاح خواں نہیں۔جس نے اصغر خان کیس میں آئی ایس آئی سے پیسہ لینے کا الزام تم پر عدالت میں ثابت کردیا۔ لندن فلیٹوں پر پارلیمنٹ سے تحریری خطاب میں اعتراف کرلیا اسکے بعد ’’میاں مٹھو‘‘ کے وکیل فیس کھری کرسکتے تھے لیکن عدالت میں جھوٹا ہونے سے نہیں بچاسکتے اور نہ قوم اور دنیاکے سامنے کالے کوٹ سرخرو کرسکتے ہیں۔
نوازشریف نے جس طرح احتساب عدالت میں اسلحہ کی بھرمار کے رعب ودبدبہ میں پیشی بھگتادی۔ کیا آصف زرداری، محمود خان اچکزئی ، الطاف حسین، مولانا فضل الرحمن اور دیگر لیڈروں کیلئے اس کی گنجائش ہے؟۔ آرمی چیف جنرل باجوہ اور فوج کے کور کمانڈروں کو اس معاملہ پر ریاست کی پاسداری کیلئے سامنے آنا چاہیے تھا۔ اس سے تمام قانون شکن ، ریاست بیزار اور ملک توڑنے والوں ہی کی بہت حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ الطاف حسین نوازشریف اور مریم نواز کونذرانۂ عقیدت پیش کررہاہے۔ اور ٹھیک کررہاہے کہ ایک طرف الطاف حسین کی تصویر وتقریر کیلئے پابندی ہے تو دوسری طرف نوازشریف کو کھلے عام ملک توڑنے کی دھمکی اور عدالتی قوانین کی دھجیاں اُڑانے کی اجازت ہے۔ بلاول بھٹوزرداری کھدڑے کیطرح ’’مودی کا جو یار ہے غدار ہے غدار ہے ‘‘ کا نعرہ صرف اسلئے لگاتا تھا کہ آصف علی زرداری کی طرف سے اینٹ سے اینٹ بجانے کی تقریر کا تدارک ہوجائے ۔
عمران نے طالبان کو خوش کرنے کیلئے 7محرم کو ریحام خان سے خفیہ نکاح کیا تھا ۔اب بریلوی اور شیعہ کو خوش کرنے بابوں کے مزارات پر چادریں چڑھا رہاہے۔ ایاک نعبد و ایاک نستعین کا ورد کرنیوالے اب درود پڑھ رہے ہیں۔عمران خان اسٹیبلشمنٹ کی منکوحہ ہے، گرل فرینڈ ہے، داشتہ ہے، چہیتی ہے ، لاڈلی ہے یا متعہ کررکھاہے؟۔ ضرب عضب آپریشن دہشتگردوں کے سہولت کاروں کیخلاف بھی تھا اور عمران خان اس دوران پنجاب پولیس کو طالبان کے حوالے کرنے کی دھمکی دے رہاتھا۔ پختون خوا میں پولیس نہیں ٹوٹل اختیارات فوج کے پاس ہیں۔ بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان جیل توڑنے پر فوجی افسروں کیخلاف تادیبی کاروائی بھی ہوئی؟ اور جب کہیں دھماکہ ، دہشت گردی اور مسلح نقل و حمل ہو تو اسکی ذمہ داری ایجنسیوں پر کیوں نہیں ڈالی جاتی ؟۔ چوہدری نثار نے کہا: ’’واہ کینٹ میں خود کش جیکٹ کیسے پہنچے ؟ میں ذمہ دار پوسٹ پر نہ ہوتا تو سازشوں کا بھانڈہ پھوڑ دیتا‘‘۔ اب چوہدری صاحب وزیرداخلہ نہ رہے تو فوج اور حکومت کا توازن برقرار رکھنے کیلئے کچھ تو بولیں۔ منافقانہ ریاستی نظام اور منافق سیاستدانوں سے شعور کی بنیاد پر جان چھڑانی ہوگی۔