وزیرستان تاریخی آئینہ میں ایک بڑے مقام پر

910
0

pakistan-sazish-mehsood-qaum-imamat-wazeeristan-maqam-manzoor-pashtoon-qayadat-maulana-akram-awan-doctor-tahir-ul-qadri-3

فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی    یا بندۂ صحرائی یا مردِ کہستانی
علامہ اقبال نے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کیلئے وزیرستان کے محسود اور وزیر قبائل کا نام لیکر پیشگوئی کی ہے کہ کوئی ایک شخص بھی ان میں ایسا پیدا ہوسکتا ہے جو دنیا کے حالات کو بدل کر رکھ دے۔ علامہ اقبال نے بندۂ صحرائی سے رسول اللہ ﷺ کی طرف اشارہ کیا ہے اور مرد کہستانی سے آنیوالی شخصیت کا نقشہ پیش کیا ہے۔
پیر روشان بایزید انصاری کا تعلق کانیگرم جنوبی وزیرستان سے تھا۔ مغل اعظم اکبر بادشاہ کے دور میں شیخ احمد سرہندی المعروف مجدد الف ثانی نے سجدۂ تعظیمی سے انکار کیا تھا اور پیر روشان نے عملی جہاد کیا تھا۔ بیربل اور مُلا دوپیازہ بھی اس معرکے میں مارے گئے تھے جس پر اکبر بادشاہ نے چند وقت کھانا تک نہ کھایا۔ مغل سلطنت کے بعد جب پنجاب پر سکھ رہنما راجا رنجیت سنگھ نے حکومت کی تھی تو بھی قبائل ان کی دسترس سے باہر رہے۔ پورے برصغیر پاک و ہند میں انگریز کو اتنی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا جتنا وزیرستان کی سرزمین پر کرنا پڑا۔ امریکہ کی دشمنی سب کی خواہش تھی اور خواہش تک رہی مگر وزیرستان نے اپنی خواہش کو عملی جامہ بھی پہنایا۔ راؤ انوار نے ایم کیو ایم سندھ اسمبلی کے پارلیمانی لیڈر خواجہ اظہار الحسن کیساتھ بدتمیزی کی اور پیپلز پارٹی نے بھی ایم کیو ایم کا ساتھ دیا لیکن راؤ انوار کو کوئی اپنی جگہ سے نہیں ہلا سکا۔ محسود قوم نے اس کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
محسود قوم کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ جھگڑے میں پہلے زباں کو ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ یہی اسلام ، شریعت اور فطرت کا تقاضہ بھی ہے۔ قرآن میں ایک قانون یہ بھی ہے کہ مرد کے بدلے مرد ، عورت کے بدلے عورت اور غلام کے بدلے غلام کو قتل کیا جائے گا۔ اس قانون کو صرف قبائل کے لوگ ہی بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔ اگر قتل پر صرف مجرم ہی سے بدلہ لیا جائے تو لوگ اپنے بیکار افراد سے دوسروں کے کار آمد افراد کو قتل کروائیں گے اور یوں زمین میں فساد کا سلسلہ ایک دوسرے سے بدلہ چکانے کیلئے جاری رہے گا ، لیکن جب قبائل اس قانون پر اس کی روح کے مطابق عمل کرتے ہیں تو زمین فسادات سے بچی رہتی ہے۔ ہر ایک پر یہ خوف طاری رہتا ہے کہ کسی قبیلے کا کوئی فرد قتل ہوجائے تو مجرم کو نہیں پکڑا جائے گا بلکہ کسی ذمہ دار فرد کو نشانہ بنایا جائے گا۔ یہی وجہ ہے کہ قبائل کو امن کا گہوارہ سمجھا جاتا تھا۔ اگر ماڈل ٹاؤن کے واقعے پر شہباز شریف کی پکڑ ہوتی تو پولیس والوں میں اتنی جرأت کبھی نہ ہوتی کہ کھلے عام بندوں کو مارا جاتا۔
محسود قبائل نے پیر آف وانہ کی سرکردگی میں کشمیر کا جہاد بھی کیا ہے۔ گو خان بدمعاش کی قیادت میں جمع ہوکر قومی تحریک بھی چلائی ہے۔ گل سا خان کی قیادت میں جمع ہوکر بھی بڑی مہم جوئی کی ہے۔ اگر منظور پشتون کی قیادت میں محسود قبائل اکھٹے ہوجائیں تو اس میں کوئی نام نہاد ملک اور قبائلی عمائدین ٹانگ نہیں اڑا سکتے ہیں۔ جب طالبان کا ٹائم تھا تو بہلول زئی اور منزئی نے جو تیر مارنا تھا وہ مارلیا۔ اب سیاست کا ٹائم ہے تو منظور پشتون کو ہی قیادت سونپ دینی چاہئے۔ کچھ افراد منظور پشتون کی جرأتمندانہ اور دانشمندانہ قیادت سے خوفزدہ نہ ہوں۔ جب محسود قوم منظور پشتون کو قومی اسمبلی میں بھیجنے کا متفقہ کرے گی تو پاکستان بھر سے پڑھا لکھا طبقہ قیادت کیلئے منتخب ہوکر آئے گا اور اس کا سہرا محسود کے سربندھے گا۔
جب برصغیر پاک و ہند آزاد ہواتھا تو افغانستان کے بادشاہ امیر امان اللہ خان کا بیٹا مدراس جیل سے دوسرے قیدیوں کے ساتھ آزاد ہوا۔ جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والے شیخ اتار ڈبرہ گومل ٹانک کے رہنے والے عبد الرزاق بھٹی نے بتایا کہ میں اس کو فقیر آف بٹنی کے پاس لیکر گیا ، فقیر صاحب نے کہا کہ ہماری یہ اوقات نہیں کہ اس کو پناہ دے سکیں۔ افغانستان اور پاکستان دونوں کی حکومتوں کیلئے امیر امان اللہ خان کا بیٹا مطلوب ہے۔ یہ صرف محسود قوم کے پاس کریڈٹ ہے کہ اس کو پناہ دے اور افغانستان و پاکستان کی حکومتوں کو حوالے نہ کرے۔ یہ ذہن بننے کے بعد وہ شمن خیل قبیلے کے سردار رمضان خان کے پاس لیکر گئے تو وہ پناہ دینے پر بخوشی اور اعزاز سمجھ کر راضی ہوئے۔ تاریخ کے دوراہے میں بڑے واقعات ہیں لیکن 1991ء کا واقعہ ہے کہ جب تحریک انصاف کے موجودہ ایم این اے داور خان کنڈی کے والد امان اللہ کنڈی کو کراچی میں ہیروئن کیس پر پکڑ لیا تھا تو وہ ڈی آئی خان جیل سے ہسپتال اور ہسپتال سے وزیرستان فرار ہونے میں کامیاب ہوا۔ جب سیکورٹی فورسز نے اس گاؤں کا گھیراؤ کیا اور مطالبہ کیا کہ امان اللہ کنڈی کو حوالے کردو ورنہ سارے گاؤں کو مسمار کردیں گے۔
محسود قبائل کے جوان ڈھول کی تھاپ پر رقص کرنے لگے اور امان اللہ کنڈی کو دوسری جگہ منتقل کردیا۔ وزیر قبائل کے افراد تبصرے کررہے تھے کہ محسود قوم کی بہادری میں کوئی شبہ اسلئے نہیں ہے کہ مسلح دستوں کی موجودگی میں اپنے مہمان کو نکالنے میں کامیاب ہوگئے۔ سیکورٹی فورسز کے جوانوں سے کہا گیا کہ دن میں آپ ہمارے مہمان ہو لیکن رات کو مہمان اور چور کاپتہ نہیں چلتا۔ اسلئے تمہارے لئے بہتر ہے کہ اپنی راہ لو۔ سیکورٹی فورسز کے جوان بھی محسود قبائل کو داد دئیے بغیر نہ رہ سکے کہ جہاں ہمیں ایکشن کرتے ہوئے کوئی دیکھتے ہیں تو ان کی شلواریں گیلی ہوجاتی ہیں اور یہ جواں مرد ڈھول کی تھاپ پر رقص کررہے ہیں۔
حکومت پاکستان سے قبائلی عمائدین نے تاریخی مذاکرات کئے اور آخر کار اس نتیجے پر پہنچے کہ اخبارات میں سرخیاں لگیں کہ ’’رشدی ہمارے حوالے کردو اور کنڈی تمہارے حوالے کردیں گے‘‘جس پر حکومت نے بی بی سی کے نمائندے سیلاب محسود کو رپورٹنگ پر ڈی آئی خان جیل بھیج دیا۔ مولانا محمد خان شیرانی نے اپنے ایک بیان میں ایک عالمی منصوبے کا انکشاف کیا ہے کہ محسود قوم کو تباہ و برباد کرکے صفحہ ہستی سے مٹادیا جائے اور پھر وہاں عالمی دہشتگردوں کو آباد کرکے اس خطے میں عظیم جنگیں برپا کی جائیں۔ وزیرستان میں جو کچھ ہورہا ہے اس کا واحد حل یہی ہے کہ پاک فوج محسود قبائل کو اعتماد میں لیکر ساری بارودی سرنگوں سے وزیرستان کو صاف کردے اور قدیم طرز پر ان کو آباد کرنیکا موقع فراہم کرے۔
اس قوم کے ہوتے ہوئے کوئی عالمی منصوبہ اس وقت تک کامیاب نہیں ہوگا جب تک ریاست پاکستان کیساتھ ایک اعتماد والی فضا موجود ہو۔ اب بہت ہوچکا اور اس میں شک نہیں کہ فوج سے زیادہ محسود قوم کی اپنی غلطیاں ہیں ، چور ، ڈکیت اور بیکار لوگوں کو طالبان کمانڈر کی حیثیت سے بزدلی کے ساتھ برداشت کیا اور اس کے نتائج بھگت لئے۔ یہ قوم نہ صرف اپنے علاقے ، ملک ، قوم اور خطے سے لا قانونیت ختم کرسکتی ہے بلکہ عالم اسلام و انسانیت کی امامت بھی کرسکتی ہے۔