منظور پشتون کی قیادت میں سب پختون متحدمگر

737
0

pakistan-sazish-mehsood-qaum-imamat-wazeeristan-maqam-manzoor-pashtoon-qayadat-maulana-akram-awan-doctor-tahir-ul-qadri-4

امریکہ نے گڈ اور بیڈ طالبان کا تصور پیش کیا تھا۔ تاپی گیس پائپ لائن پر پاکستان ، افغانستان ، طالبان اور بھارت کا امریکہ کی قیادت میں مشترکہ معاہدہ کوئی اچھنبے کی بات نہیں ہے۔ جب تک پختون قوم کی قیادت باشعور لوگوں میں نہیں آئے گی اس خطے کے مسائل کا حل ممکن نہیں ہے۔ اسٹیبلشمنٹ نے جمہوری قیادت کو گھوڑے سے خچر بنادیا اور جن گدھیڑوں کو قیادت کیلئے میدان میں اُتارا تھا وہ جب باغی بن گئے تو زیادہ سے زیادہ گھوڑوں کے ملاپ سے وہ بھی خچر بن گئے۔ خچروں میں وزن اٹھانے کی صلاحیت ہوتی ہے مگر قیادت کی نہیں۔ قیادت کی صلاحیت اللہ کی طرف سے فضل اور مہربانی کے نتیجے میں ملے تو حقیقی قیادت ہوتی ہے۔ اگر کسی اور کی طرف سے مداخلت ہو تو اپنی فطری صلاحیت بھی کھودی جاتی ہے۔ صحافت کیلئے بنیادی قانون غیر جانبدارانہ تجزئے ہیں ۔ سردار امان الدین خان کی قیادت میں شمن خیل قوم نے چھوٹے پیمانے پر ایک تحریک اٹھائی تو پختونخواہ کے مقبول ترین اخبار روزنامہ مشرق پشاور میں ہردلعزیز کالم میں مریم گیلانی نے اس تحریک کو پاکستان میں تبدیلی کی نوید کا نام دیا تھا۔ ایک مرتبہ اس کے زیر اہتمام مولانا اکرم اعوان ، مولانا نور محمد وزیر ایم این اے جنوبی وزیرستان اور مجھے (سید عتیق الرحمن گیلانی) کو بھی ایک جلسے میں مدعو کیا تھا۔
مولانا اکرم اعوان نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ ’’میں ایک کسان ہوں اور کاشتکاری کے فن کو جانتا ہوں ، جب ہم فصل اٹھاتے ہیں تو کچھ فصل زمیندار بیچ دیتا ہے ، کچھ اپنی گزر بسر کیلئے رکھتا ہے اور کچھ آئندہ فصل کیلئے محفوظ رکھتا ہے۔ جو سب سے بہترین گندم ہوتی ہے اس کو بیج کیلئے محفوظ رکھا جاتا ہے۔ اس خطہ کے لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے قیادت کیلئے بیج کی طرح محفوظ رکھ دیا ہے‘‘۔ جب محسود قوم گو خان ، گلسا خان اور علماء و قبائلی عمائدین کی قیادت قبول کرسکتی ہے تو منظور کی قیادت بصد چشم اسلئے قبول ہونی چاہئے کہ پوری پختون قوم نے بھی منظور پشتون کو اپنا قائد تسلیم کرلیا ہے۔ محمود خان اچکزئی ، اسفندیار ولی ، مولانا فضل الرحمن اور دیگر رہنماؤں کو چاہئے کہ وہ بھی اس قیادت کو نہ صرف اپنے لئے بلکہ پشتون قوم اور پاکستان کیلئے دل کی گہرائیوں سے قبول کرلیں۔ اکرم خان درانی کو اس وقت وزیر اعلیٰ بنایا گیا جب علماء سے پختونخواہ اسمبلی بھری پڑی تھی۔ مال ٹال بنانے میں جن کو مہارت حاصل ہو اگر یہی قیادت کا معیار ہے تو ایسے جاہلوں کو سلام کرنا چاہئے۔ جو لوگ اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت کے نام پر نواز شریف کاساتھ دے رہے ہیں ان میں ذرا بھی غیرت کی رمق ہو تو اسٹیبلشمنٹ کی پیداوار کو کبھی اسٹیبلشمنٹ کی مخالفت کے نام پر سپورٹ نہ کریں۔ اسلئے سیاست کو منافقت کہاجاتا ہے۔
جب پختون قوم نہ صرف منظور کی قیادت پر متحد ہوگی بلکہ پورے پختونخواہ اور بلوچستان کے پختون علاقے سے غریب اور پڑھے لکھے تعلیم یافتہ طبقے کو ہی اسمبلی میں کامیاب کروائے گی تو نہ صرف پختون کی تقدیر بدلے گی بلکہ دوسری قوموں کے اندر بھی شعور پیدا ہوگا اور پاکستان کی سطح پر ایک بڑی تبدیلی آجائے گی۔ بلوچ ، سرائیکی ، پنجابی ، سندھی، مہاجر ، کشمیری، گلگت و بلتستانی ، چترالی اور ہزاروی سب کے سب باشعور تعلیم یافتہ قیادت کو میدان میں لائینگے تو ہمارے سیاسی میدان سے منافقت و تجارت اور بد اخلاقی و بدکرداری کا صفایا ہوگا۔
پاکستان کو تعصب نہیں انتظامی اعتبار سے متوازن بنانے کی ضرورت ہے۔ جہاز کا سر ، دُم، پیٹ ، پر اور کچھ بھی توازن کے خلاف ہو تو وہ پرواز نہیں کرسکتا ہے اور پاکستان میں انتظامی اعتبار سے کوئی توازن نہیں۔ پنجاب کا وزیر اعلیٰ پورے ملک کے وزیر اعظم سے اس وقت زیادہ طاقتور ہوتا ہے جب وزیر اعظم کا تعلق دیگر صوبوں سے ہو۔ کیونکہ پنجاب کا وزیر اعلیٰ 60%کا حکمران ہوتا ہے اور وزیر اعظم 40%کا حکمران ہوتا ہے۔ پورے ملک سے 40%کے 75سینیٹر منتخب ہوتے ہیں اور پنجاب کے 60%سے صرف 25سینیٹر منتخب ہوتے ہیں، پنجاب میں سرائیکی علاقہ کے لوگ ایسی زندگی گزارتے ہیں جیسے ہندوؤں میں اچھوت، یہی صوتحال اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کی طرف سے دیگر صوبوں کے ساتھ روا رکھی جاتی ہے۔ گلگت بلتستان کو الگ صوبے کا صرف نام دینا مسئلے کا حل نہیں تھا۔ سینما کے ٹکٹوں کو بلیک سے بیچنے والوں کو ملک چلانا نہیں آتا۔ نہ لوہے کی بھٹیوں سے کسی میں ملک چلانے کی صلاحیت پیدا ہوتی ہے اور نہ کرکٹ کھیلنے سے۔
ملتان کو نہ صرف الگ صوبے کی حیثیت دینا ضروری ہے بلکہ سرائیکیوں کو یہ حق دینا بھی ضروری ہے کہ 25سینیٹر وہ بھی اپنی مرضی سے منتخب کرسکیں۔ علاوہ ازیں پہلے کراچی پاکستان کا دارالخلافہ تھا اور پھر جنرل ایوب خان اسکو اسلام آباد منتقل کرگیا۔ میرٹ کا تقاضہ یہ ہے کہ ملتان کو دنیا کا جدید ترین شہر اور پاکستان کا دار الخلافہ بنانے سے پاکستان کی ترقی کا آغاز کیا جائے۔ GHQکو راولپنڈی سے ڈیرہ غازیخان کے کوہ سلیمان میں منتقل کیا جائے۔ جو لاہور، کوئٹہ، کراچی اور پشاور کے درمیان سب کیلئے مرکزی مقام ہے۔ پھر پورے پاکستان کے تمام ہی شہروں کو بالکل دنیا کے جدید سے جدید ترین طرز پر بنایا جائے۔ ایک شخص ملک ریاض اسلام آباد ، لاہور اور کراچی میں جدید شہر بحریہ ٹاؤن آباد کرسکتا ہے تو ہماری ریاست میں اتنی صلاحیت بھی نہیں؟۔ ریاست اپنی سرپرستی میں بڑی بلڈنگوں کی تعمیر کرواتی ہے اور پھر آباد ہونے کے بعد مسماری کا حکم دیتی ہے۔ کوئی بنانے پر پیسے بناتا ہے اور کوئی گرانے میں بلیک میل کرتا ہے شرم تم کو مگر نہیں آتی۔
ڈیرہ اسماعیل خان میں نقیب اللہ محسود کے کزن آفتاب محسود کے قتل پر آئی جی خیبر پختونخواہ صلاح الدین محسود نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’یہ ذاتی دشمنی کا نتیجہ لگتا ہے‘‘۔ بعض لوگ جھوٹی افواہوں کے ذریعے سے اس کو ISIکے کھاتے میں ڈالتے ہیں۔ اس طرح کی افواہوں سے شیطان اور ابلیسی ٹولے کو فائدہ ہوسکتا ہے لیکن یہ پختون قوم ، ریاست اور پاکستان کے ساتھ زیادتی ہے۔ طالبان سے وابستگی ملک اور دنیا کی سطح پر ایک منافقانہ کھیل تھا۔ جسکے نتائج سب نے بھگتے ہیں لیکن منظور پختون کے زیر قیادت تعلیم یافتہ باشعور نوجوانوں کی تحریک بہت مثبت ہے۔ جب پاک فوج اور پاکستان کی عوام کو حقائق کی بنیاد پر مظلوم قوموں کا صحیح احساس اور ادراک ہوجائے تو یہ ملک و قوم اور ریاست کی بڑی خدمت ہے۔ بڑا عرصہ ہوا کہ پاک فوج کے جوان اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں اور جب بھی کوئی ناخوشگوار صورتحال ہوتی ہے تو فوج کو بلایا جاتا ہے اگر مستقل تعیناتی مسائل کا حل ہوتی تو پولیس کو بھی فوجی تربیت دی جاتی۔ گلے شکوے کا اظہار ہوگا تو اس کا ازالہ بھی ہوسکے گا۔ اس تحریک کو کامیابی سے ہمکنار کرنا ہوگا۔ سید عتیق گیلانی