پاکستان لیلۃ القدر میں اپنے حریف بھارت کے ساتھ بنا تھا ، ڈاکٹر سید وقار حیدر شاہ سیالکوٹی

819
0

مولانا عبید اللہ سندھیؒ نے ’’المقام المحمود‘‘سورۃ القدر کی تفسیر میں سندھ پنجاب فرنٹیئر بلوچستان ، کشمیر افغانستان میں بسنے والوں کو امامت کا حقدار قرار دیا

پاکستان اور افغانستان میں پہلے ایک سپر طاقت روس اور پھر دوسری سپر طاقت امریکہ کو نیٹو سمیت بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا ، کچھ کھویا ہے توپایا بھی

علاقہ غیرمیں 40FCR کا قانون تھا ، چھ سات ہزار بارود کی فیکٹریاں تباہ کی گئیں تو ضرب عضب میں وزیرستان کو تاریخ کی بڑی سزا کا سامنا کرنا پڑا

پوری دنیا کو خود کش بمباروں نے خوف و ہراس میں مبتلا کیا ہے جسکے حل کیلئے پاکستان کی باشعور قیادت ہی زبردست ذہنی اور عملی کردار ادا کرسکتی ہے

دوسروں سے پہلے اپنی اصلاح کرنی ہوگی اور جب پاکستان امن و سلامتی ، دیانت و امانت اور عدل و انصاف کا گہوارہ بنے گا تو دنیا کی امامت کریگا

قرآن کریم اور احادیث صحیحہ کے ذریعہ سے اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا مرکزی کردار ادا کیا جائیگا تو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے مسلمان اٹھ کھڑے ہونگے

پاکستان اسلام کی بنیاد پر بنا ، علماء نے فرقہ بندی سے اسلام کو اجنبیت کی طرف دھکیل کر منفی کردار ادا کیا ، اب مثبت رویہ اپنانا ہوگا،ڈاکٹر سیدوقارشاہ

 

مولانا عبید اللہ سندھیؒ سورۃ القدر مکیہ کے ضمن میں لکھتے ہیں:
*قرآن مجید کی پہلی سورت ’’اقراء باسم ربک الذی خلق‘‘ لیلۃ القدر میں نازل ہوئی ۔ لیلۃ القدر کا اگر آج کی زبان میں ترجمہ کیا جائے تو کہا جائیگا کہ بجٹ کی میٹنگ میں خطیرۃ القدس میں ایک کام پیش ہوتا ہے، پھر اس پر فیصلہ ہوتا ہے تو یہ کام جو خطیرۃ القدس میں پیش ہوا ایک ہزار ماہ کیلئے ہوا ۔ غرض اس مجلس میں (خطیرۃ القدس) قرآن کے نازل ہونے کا فیصلہ ہوا تو قرآن مجید کا اثر شخصی (لفظی یعنی صورت کا اثر) ایک ہزار ماہ تک دنیا میں قطعی طور پر کامل ہوکر رہیگا(یعنی یوں تو یہ کتاب ہمیشہ کیلئے دنیا میں رہیگی مگر صحیح لفظوں میں اس پر عمل ایک ہزار ماہ تک کامل ہوکر رہیگا)۔ ہماری سمجھ میں ایک سال دس ماہ کا ہوتا ہے ۔ رمضان اور ذی الحج کے دو ماہ شمار میں نہیں آتے، انہیں چھٹی کے دو ماہ سمجھنے چاہئیں اور سال میں عملی مہینے دس ماہ سمجھنے چاہئیں تو اس طرح ایک ہزار مہینے ایک سو سال کے برابرہوجائیں گے۔ جیسا کہ سورۃ ق و القرآن المجید میں پہلے بیان کیا جاچکا ہے، اور اسی کی مساوی یوں سمجھئے کہ ۸۶ ؁ھ میں یہ سو برس پورے ہوتے ہیں۔ اسی سال ولید نے عمر بن عبد العزیزؒ کو مدینہ منورہ کا حاکم مقرر کیا اور انہوں نے مدینہ کے علماء کو جمع کرکے سنت (حدیث) لکھنے کی بنیاد ڈالی۔ اس وقت تک مسلمانوں کے پاس قرآن مجید کے سوا کوئی اور قانون نہیں تھا۔ اب یہ قانون اقصائے چین سے لیکر مغرب تک پہنچ گیا متمدن اقوام عالم میں اس قانون کو اپنا دستور العمل بنالیا اور اپنا سمجھا۔(مسلم امہ نے قرآن کی شکل مسخ کی ہے)
شروع میں سنت کو قرآن کا ایک شارح (Bye.Laws) بنایا گیا ،اساسی قانون قرآن اور سنت اسکی شارح، مگر آگے چل کر قرآن کا صرف اتنا حصہ مسلمانوں میں باقی رہا جواس سنت کے مطابق تھا اور بہت سا حصہ چھوٹ گیا۔ اس سنت میں عربی قومیت کے خواص خاص طور پر نمایاں ہیں۔ دوسری صدی میں قرآن عربی قومیت کا ایک قسم کا قانون تھا اور سنت اسکی پوری شارح۔ قرآن مجید کی بین الاقوامی روح اس دوسری صدی میں اتنی نمایاں نہیں رہی جتنی پہلی صدی میں تھی۔ تیسری صدی میں جب بنو ہاشم کی سرپرستی میں عجمی قومیں آگے بڑھیں تو قرآن مجید کی انٹرنیشنل روح زیادہ نمایاں ہونے لگی۔(آج سادہ ترجمہ سمجھ میں آئے تو بات بنے)
* آیت انا انزالناہ فی لیلۃ القدر ہم نے قرآن کو لیلۃ القدر میں نازل کیا یعنی جس رات انسانیت کی فطرت کا بجٹ تیار ہوا ،اس رات یہ پروگرام منظور ہوا ہے۔ وماادراک ما لیلۃ القدر القدر کی تفصیل ہے۔ لیلۃ القدر خیر من الف شہر لیلۃ القدر ایک ہزار مہینہ سے بہتر ہے ۔ انسان کسی کام کے کرنے کا مصمم ارادہ کرلے تو وہ کام نصف سے زیادہ ہوجاتا ہے۔ اب صحیح فیصلہ کے بعد اس کا صحیح دور شروع ہوگا تو آدھے سے بھی کم کام رہ جائیگا۔ ہمارا خیال ہے کہ اس لیلۃ القدر کی رات میں سو سال کے کام کا فیصلہ تھا تو فیصلہ کی رات اس زمانہ سے بہتر ہونی چاہیے۔ یعنی پروگرام بنانے والی رات اس زمانہ سے تو اچھی ہے جس زمانہ میں یہ کام عملی طور پر شروع کردیا جائے۔ (کیونکہ مصمم ارادہ کرنے سے آدھے سے زیادہ کام ہوجاتا ہے) غرض کہ جس وقت یہ فیصلہ رسول کریم ﷺ پر نازل ہوا تو آپ نے اپنی فطرت کے مطابق عمل کیا، آپﷺ کی فطرت تھی کہ جب علم ہوجائے کہ اللہ کی طرف سے فلاں فیصلہ ہے تو آپ اپنی پوری قوت اس کام کے سر انجام دینے میں صرف کردیتے تھے اور پوری طرح اللہ تعالیٰ کے حکم کے آگے جھک جاتے تھے۔ غرض یہ رات زمین پر بھی ہزار مہینے سے بہتر ہے کیونکہ رسول ﷺ کا فیصلہ بھی اسی طرح مکمل ہے جس طرح ملاء اعلیٰ میں مکمل فیصلہ ہوا۔
*آیت تنزل الملٰئکۃ و الروح فیھا باذن ربھم من کل امرٍ مصمم فیصلہ کا یہ اثر ہوتا ہے کہ ہرقسم کا کام کرنے والے فرشتے اور روح اس ہزار مہینے کا کام کرنے کیلئے اسی وقت نازل ہوجاتے ہیں اور وہ اللہ کے حکم سے اس کام کی بنیاد ڈالنی شروع کردیتے ہیں اور تمام شعبوں میں کام کرنے لگ جاتے ہیں اور اس کام کے مبادی شروط اور علل کے مہیا کرنے میں وہ فوراً اپنا کام شرو ع کردیتے ہیں، اور وہ کام ایک ہزار ماہ میں پوری طرح مکمل ہوجاتا ہے، جیسا کہ فیصلہ ہوا تھا۔ سلام ھی حتی مطلع الفجر اس رات جس کام کی بنیاد رکھی جاتی ہے اس میں کامیابی ہی کامیابی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کام میں ناکام بنانے والے کوئی طاقت آہی نہیں سکتی۔ اگر ادنیٰ آدمی کو بھی اس کام پر مأمورکیا جائے تو بھی صحیح سلامت کام ہوجائیگا اسلئے کہ لوگوں (انسانیت) میں روحانیت اور ملکیت کی تشنگی اس رات نازل کی گئی ۔ اب آنحضرت ﷺ کو اس کام کے چلانے میں تکلیف نہ ہوگی۔ سورۃ العلق میں آیت ۱۹ کل لا تطع میں جو ذکر ہے کہ تم مخالفوں سے صلح نہ کرو ، اسکے متعلق اس سورۃ میں یقین دلایا گیا ہے کہ اس سو برس کے عرصہ میں کوئی چیز تم کو ناکام نہ بناسکے گی۔ اس واسطے تم کو ڈٹ کر اپنا کام کرنا چاہیے۔ اگر کوئی مخالفت کریگا تو اس کا ہم سر توڑ دیں گے۔ مطلع الفجر سے اگر قیامت مراد لی جائے تو معنیٰ ہوں گے کہ تشنگی ، ملکیت اور روحانیت انسانوں میں نازل ہوتی رہیں گی۔ ملکیت کا تقاضہ ہے نظام احسن ، طہارت اور عدالت ۔ روحانیت کا تقاضہ ہے تعلق باللہ اور اس کے نور میں فنائیت۔ اگر روحانیت فقط ہے تو رہبانیت ہے۔
* دنیا کا انٹرنیشنل مرکز سو برس میں مضبوط ہو تو اسکے بعد کیا پروگرام دیا جائے اسکے متعلق ذکرکرنے کی ضرورت نہیں ،دوسری نسل والے خود سوچیں گے اور اس پر وقت کے اقتضاء کیمطابق کام کرینگے، اس واسطے اسکے متعلق ذکر کرنے کی حاجت نہیں ۔ بعض لوگ عمر بن عبد العزیزؒ کو مجدد مانتے ہیں اور وہ 100 ؁ھ میں خلیفہ اسلام ہوئے تو اس زمانہ کو ان کی تجدید کا زمانہ کہتے ہیں کہ دوسری صدی کے سر پر ایک مجدد آگیا۔ مگر ہم اس کی تجدید 87 ؁ھ سے گنتے ہیں جو نبوت کے 100 برس بعد ہوئی اور 14 برس مسلسل رہی۔ یہاں تک کہ خلافت پر پہنچے، خلافت کا کام صرف دو سال کے قریب انہوں نے سر انجام دیا، مگر ان کا کام درحقیقت نبوت کی صدی سے شروع ہوتا ہے ۔ انہوں نے انٹرنیشنل روح قائم کرنے کیلئے آیت ان اللہ یامر بالعد ل و الاحسان الاٰیۃ کا خطبہ جمعہ میں داخل کردیا جس کا مسلمانوں کے خطبہ میں آج تک اعلان ہوتا ہے۔ عمر بن عبد العزیز ؒ کی تجدید کا جو دور ہے اسکے متعلق ہمیں خوشی ہے کہ اسی زمانہ میں سندھ فتح ہوا۔ آپ کی خلافت کے زمانہ میں جو دو سال کے قریب رہی سندھ کا اکثر حصہ اسلام میں داخل ہوگیا۔ ہندوستان میں اسلام کا یہ اول بیج ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ پنجاب ، کشمیر ، سندھ ، فرنٹیئر اور افغانستان وغیرہ میں جس قدر قومیں بستی ہیں یہ ہندوستان کے مسلمانوں کی مرکزی جماعتیں ہیں اور یہی امامت کی حقدار ہیں۔ دریائے سیحون درحقیقت یہی دریائے سندھ ہے جس کا حدیث میں ذکر آتا ہے ، ہندی میں اس کا نام سے سین ۔اور رسول کریم ﷺ نے اس کانام سیحون ذکر کیا ہے یہ زیادہ اختلاف نہیں ہے ملکی زبانوں میں ایسے اختلافات عموماً ہوتے ہیں۔ پنجاب کے پانچوں دریا اور کابل کا دریا وغیرہ دریائے سندھ کا احاطہ ہیں۔ ہندوستان ہم تمام ہندوؤں کے لئے چھوڑ سکتے ہیں مگر اس علاقہ یعنی پنجاب ، کشمیر ، سندھ ، فرنٹیئر ، بلوچستان اور افغانستان سے ہم کبھی دستبردار نہیں ہوسکتے خواہ وہ تمام دنیا کو ہمارے مقابلے پر لے آئیں۔ غرض مسلمانوں کا مرکزی حصہ یہی ہے ۔ اس طرح عربی قوموں کا مرکز نیل اور فرات کا درمیانی حصہ ہے۔ اور عجمی قوموں کا مرکزی حصہ جیحون اور سندھ کا درمیانی حصہ ہے۔ امام ابو حنیفہؒ اس عجمی سرزمین سے تعلق رکھنے والے تھے ۔
*عمر بن عبد العزیزؒ نے قرآن کے ماتحت عربی ذہنیت کو مہذب کردیا ہمارا خیال ہے کہ عجمی ذہنیت کو امام ابو حنیفہؒ نے زندہ اور مہذب کردیا۔ آپ بہت بڑے امام ہیں۔ آپ عجمی قوم کو قرآن مجید اور فقہ کے مطابق اور حدیث پر عمل کرانے کیلئے عجمی ذہنیت مدنظر رکھتے ہیں۔ مثلاً ایک عورت ہے اس کو حمل ہے ۔ اس کی شادی نہیں ہوئی اور وہ زنا کی بھی قائل نہیں اور اسکے خلاف شہادت میسر نہیں، حضرت عمرؓ اسکو رجم کی سزا دیتے مگر امام ابو حنیفہؒ اس کو رد کرتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ جب وہ زناکی مرتکب ہونے کی قائل نہیں اور اسکے خلاف ثبوت بھی نہیں ملتا تو اس حالت میں اسے کیسے رجم کیا جاتا ہے ۔ مثال کے طور پر حضرت مریم علیہا السلام کا واقعہ لیجئے کہ آپکو حمل تھا اور آپ زنا کی بھی مرتکب نہیں ہوئیں، آپکی دینداری کی دنیاگواہ ہے۔ غرض اسی طرح اس عورت کا بھی معاملہ ہے، شک کا فائدہ ہمیشہ ملزم کو دینا چاہیے۔امام ابوحنیفہؒ نے نہ امامت کا دعویٰ کیا، نہ حکومت سے منصب لیا اور نہ کسی سے کوئی پیسہ لیا بلکہ اپنا تمام علم مسلمانوں کو دیدیا۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کی آیات میں سے ایک آیت تھی کہ اس نے عجمی قوموں کی ہدایت کیلئے ابوحنیفہؒ جیسے برگزیدہ انسان پیدا کیا، جس نے قرآن کو سمجھنے کیلئے عجمی لوگوں کی ذہنیت بدل دی، ہم امام ابوحنیفہؒ کے فقہ کی تقلید اسلئے نہیں کرتے کہ ہمارے آباواجداد اسکے مقلد تھے بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہندوستان ،ایران، افغانستان اور ترکستان میں ابوحنیفہ کے فقہ کے سوا کوئی حکومت قائم نہیں ہوسکتی اس میں اگر اختلاف ہے تو صرف ایران کے شیعوں کا۔ مگر ہم امام ابوحنیفہؒ کے فقہ کو ائمہ اہلبیت کیساتھ ملاسکتے ہیں۔شیعوں کے دو فرقے ہیں، ایک زیدی اور دوسرا امامیہ، زیدی فرقہ کے امام حضرت زیدؒ ہیں اور امامیہ فرقہ کے امام حضرت امام جعفر صادق ہیں۔ اور امام ابوحنیفہ ؒ ان دونوں بزرگوں کے براہِ راست شاگرد ہیں، اسکے علاوہ امام ابوحنیفہؒ امام باقرؒ کے بھی شاگرد ہیں۔
*ان بزرگوں کے علاوہ دو حسنی امام ہیں (ا) : محمد بن عبداللہ بن حسن(۲):ابراہیم بن عبداللہ بن حسن بن حسن بن علیؓ۔ انہیں حسن مثنیٰ کہتے ہیں۔ یہ دونوں بزرگ خلیفہ منصورسے لڑتے ہیں اور امام ابوحنیفہؒ ان دونوں کے شاگرد اور ان دونوں بزرگوں کی تحریکِ خلافت کے مؤید ومعاون ہیں اور ان کو مدددیتے رہے۔ان دونوں اماموں کے والدعبداللہ بن حسن بھی امام ابوحنیفہؒ کے استاذ تھے۔ غرض حضرت علیؓ کی اولاد میں جتنے امام گزرے ہیں امام ابوحنیفہؒ کا تعلق ان تمام اماموں سے ثابت ہے۔ اسی طرح عبداللہ بن مسعودؓ کی اولاد میں جتنے امام پیدا ہوئے، امام ابوحنیفہؒ کا ان تمام کیساتھ تعلق تھا۔اور یہ تمام ائمہ اہلبیت ظالم مسلمان بادشاہ سے لڑنا فرض سمجھتے تھے۔ اسی واسطے آپ خلیفہ منصور کے خلاف سید حسن مثنیٰ کی تحریک کے مؤید تھے۔ امام مالکؒ بھی مدینہ میں امام ابو حنیفہؒ کی مانند اس تحریک خلافت کے مؤید تھے۔ منصور کے نائب مدینہ نے امام مالکؒ کو تو خود سزا دی اور خلیفہ منصور نے امام ابو حنیفہؒ کو جیل میں ڈال کر کوڑے کی سزا دلائی۔ حتیٰ کہ آپ جیل ہی میں فوت ہوگئے۔تفسیر المقام محمود ( آخری پارہ)تفسیر سورۃ القدر۔ مولانا سندھیؒ
مولانا عبید اللہ سندھی ؒ پاکستان بننے سے پہلے فوت ہوئے، وہ کانگریس کے رکن بھی تھے۔ اسلام کی نشاۃ اول عرب سے ہوئی تھی،اس کی نشاۃ ثانیہ کی پیشگوئی عجم سے ہے، جس کا ذکر قرآن کے سورۂ محمد ، سورۂ واقعہ اور سورۂ جمعہ میں بھی ہے۔ جب ایرانی انقلاب آیا تو قرآن کے الفاظ ثم لایکون امثالکم ’’ پھر وہ تمہارے جیسے نہ ہونگے‘‘۔ کی تفسیر میں مغالطہ کھاکر خمینی نے کہا کہ ’’ میرے ساتھی اصحاب محمدؐ سے افضل ہیں‘‘ حالانکہ آیت سے مراد نشاۃ اول کے مقابلہ میں نشاۃ ثانیہ کے افراد نہ تھے ۔ سورۂ جمعہ میں وضاحت ہے کہ نبیﷺ کی بعثت اولین کے مسلمانوں کیلئے بھی ہے اور آخرین کیلئے بھی۔ آخرین کا اعزاز ہوگا کہ پہلوں سے مل جائیں۔ جب پہلے والوں سے بدظنی ہوگی تو انکے نقشِ قدم پرچلنے کا کیا سوال پیدا ہوتا ہے۔ حالانکہ اللہ کی طرف سے کھل کر وضاحت ہے کہ السابقون اولون من المھاجرین والانصار والذین اتبعوھم باحسان سبقت لے جانے والوں میں سے پہلے مہاجرینؓ و انصارؓ میں سے اور جن لوگوں نے نیکی کیساتھ انکی اتباع کی۔ سورۂ واقعہ میں سبقت لے جانے والوں میں سے پہلوں میں بڑی جماعت اور آخر میں تھوڑوں کا ذکر ہے۔ ثلۃ من الاولین وقلیل من اٰخرین یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک عظیم قائد ہوں ۔ آپﷺ کی جماعت میں سے کم لوگ سبقت لے جانے والے ہوں اور آخر میں آپ ﷺ کی طرف منسوب کسی قائد کی جماعت میں زیادہ اکثریت والی بڑی جماعت نے سبقت حاصل کی ہو؟۔پاکستان کا قومی ترانہ بھی حقائق کا ترجمان ہے۔
ایران کے انقلاب نے شیعہ سنی کے درمیان تفریق وانتشار کی فضاء کو مزید بڑھا دیا، حالانکہ بانی انقلاب کا یہ نعرہ تھا کہ شیعہ سنی کو لڑانے والے طاغوت کے ایجنٹ ہیں۔ اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اہل تشیع کے بڑے عالم دین علامہ طالب جوہری نے اپنی کتاب ’’ظہور مہدی‘‘ میں اپنے ائمہ اہلبیت کے حوالہ سے لکھا ہے کہ ’’ ہمارے قیام قائم سے پہلے اگرہم میں سے کسی نے قیام کیا تو وہ طاغوت کا ایجنٹ اور دوسروں کے ہاتھوں کاپلا ہوا پرندہ ہوگا‘‘۔ اہل تشیع کے ائمہ اہلبیت کا تعلق حسینی سادات سے ہے، انکے نزدیک مہدی غائب سے قبل حسینی خاندان کیلئے خروج اور قیام کی کوشش یقیناًقابل غور ہے۔ حضرت حسنؓ کی اولاد میں پہلے جس نے خروج کی کوشش کی ہے، ان پر اس پیشگوئی کا اطلاق نہیں ہوتا۔ علامہ طالب جوہری نے مہدی غائب سے پہلے کئی قیام قائم کا ذکر بھی کیا ہے۔جس میں ایک مشرق سے دجال اور اسکے مقابلہ میں سید حسنی کا ذکر ہے جو علامہ طالب جوہری کی وضاحت کے مطابق ’’سید گیلانی بھی مراد ہوسکتے ہیں‘‘۔ یہ تفصیل ان سے معلوم کی جاسکتی ہے کہ طاغوت کے ایجنٹ اور سید حسنی سے کون کیسے مراد ہوسکتے ہیں؟۔
پاکستان میں جو سیاسی، مذہبی اور کارکردگی کی آزادی ہے کسی دوسرے مسلم ملک میں اس کا تصور بھی نہیں ہوسکتا۔ رسول اللہ ﷺ اور اسلام کو تقویت بخشنے کیلئے اللہ تعالیٰ نے حضرت عمر فاروق اعظمؓ کی شخصیت عطاء کردی تھی، جس نے کھلم کھلا آذان دی، کھل کر مکہ سے مدینہ ہجرت کی، بدر کے قیدیوں پر فدیہ لینے،صلح حدیبیہ، حدیث قرطاس میں اختلاف کا کردار ادا کیا۔ رسول اللہ ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے مردوں میں کسی کا والد نہیں بنایا، ایک بچے کا بچپن میں وصال ہوا، حضرت علیؓ چچازاد اور داماد تھے لیکن خلافت کی مسند پر حضرت ابوبکرؓ بیٹھ گئے۔ انصار کے سردار نے نبیﷺ اور مسلمانوں کو مدینہ میں پناہ دی لیکن وہ خود کو منصب کا حقدار سمجھنے کے باوجود محروم رہے۔
حضرت عمر فاروقؓ ایک طاقتور انسان تھے جس میں بے پناہ صلاحیتیں تھیں، حضرت ابوبکرؓ خلوص کا مرقع تھے لیکن اتنی صلاحیتوں کے مالک نہ تھے۔ جب قیامت میں لوگوں کی طرف سے اللہ سے سوال کیا جائیگا کہ صلاحیت دینا تمہارا کام تھا، ہم پیچھے رہ گئے تو ہمارا کوئی قصور نہیں۔ تو ابوبکرؓ و عمرؓ سامنے ہونگے۔ خلوص والا ابوبکرؓ حضرت عمرؓ سے آگے ہوگا، حضرت ابوبکرؓ پر جتنا اعتماد خلوص کے مرقع ہونے کی وجہ سے تھاحضرت عمرؓ کی صلاحیت پر اتنا صحابہؓ کو نہیں تھا۔ حضرت عثمانؓ نے نبیﷺ پر اپنا بہت مال خرچ کیا لیکن اللہ نے عمرؓ کی صلاحیتوں کو مالی احسانات پر ترجیح دی، حضرت علیؓ کی رشتہ داری بہت قریب تھی لیکن اللہ نے علیؓ کو بالکل آخر میں اپنی صلاحیتیں منوانے کا موقع دیا۔ وجہ اس کی ظاہر ہے کہ خلافت راشدہؓ کے زمانہ میں آئندہ آنے والے مسلمانوں کیلئے مشعل راہ بننا تھا، آج خانقاہوں و مدارس پرناخلف صاحبزادوں اور دامادوں کا قبضہ اسلام کے نام پر کیا جاتا ہے جو خلافت راشدہ کے منافی اور استعداد نہ ہونے کی وجہ سے مسلمانوں کو اندھیر نگری کی طرف دھکیلنے کے مترادف ہے۔ جب ناخلف صاحبزادگان اور داماد جانشینی کے منصب سے دستبردار ہونگے تو خلافت علی منہاج النبوۃ کے دور کا آغاز ہوجائیگا،اصل شیعہ تو یہی لوگ ہیں۔
بانئ پاکستان کی ایک بہن اور ایک بیٹی تھی، پاکستان میں اللہ نے موروثی نظام قائم نہیں کرنا تھا، اسلئے بیٹی اور نواسے کے نام سے پارٹی بازی کی گنجائش یہاں موجود نہ تھی۔ مدارس اور خانقاہوں والے اہل تشیع سے بدتر اسلئے ہیں کہ وہ تو حسینؓ کے مقابلہ پر یزید کو برا بھلا کہتے ہیں، یہ تو خود یزید بن کر وقف شدہ مدارس ، مساجد اور خانقاہوں پر قبضہ کرکے بیٹھ گئے ہیں۔ مسلمانوں نے اپنی قیمتی سرمایہ سے دینی اداروں کو چندے اسلئے نہیں دئیے ہیں کہ کوئی ذاتی اور موروثی سمجھ کر اپنی دنیا سنوارلے اور آخرت بگاڑ دے۔مفتی سعید خان نے بھی اس پر بڑا اچھا لکھا ہے۔
پاکستان نے مشکل ترین دور میں جس طرح اپنی حکمت عملی سے دنیا کی سپر طاقتوں کو شکست دی ۔ یہ کسی فرد ، جماعت ، ادارے اور مذہبی فتوؤں کا کریڈٹ نہیں بلکہ محض اللہ کا فضل ہے۔ دنیا میں پاکستان کے خطے کی حیثیت ہی کیا ہے؟ ۔ ایسے بڑے مقاصد کیلئے کام کرنا چھوٹی بات نہیں۔ رو س کیخلاف جہاد میں عتیق گیلانی نے شرکت کی اور بتایا ہے کہ ’’روسی ٹینکوں کی گولہ باری ایسی لگتی تھی جیسے یہ زندگی اور موت کا کھیل نہیں ہو بلکہ کسی فلم کیلئے شوٹنگ ہورہی ہو۔ حرکت الجہاد الاسلامی کے خالد زبیر شہید وغیرہ اس وقت بھی روس سے زیادہ امریکہ سے نفرت کا اظہار کررہے تھے۔‘‘ جس طرح مجاہدین میں اللہ کیلئے کام کرنے والے موجود تھے اسی طرح پاک فوج میں بھی اسلام کی سربلندی کا جذبہ تھا۔ کسی کے جذباتی عمل سے اختلاف کرنا ہی رحمت ہے لیکن اختلاف کی وجہ سے کسی کے خلوص پر دھبہ لگانا اور بدظنی کا اظہار کرنا کوئی درست رویہ نہیں ہے۔
آج ہماری ریاست نازک موڑ پر کھڑی ہے اس پر صرف تنقید نہیں بلکہ حوصلہ دلانے کی ضرورت ہے،قوم کو ریاست کیساتھ کھڑا ہونے کی ضرورت ہے،اگر یہ اغیار کی سازش سے بکھیر دی گئی تو پھرہماری عزتیں،اقدار، آزادی اور سب کچھ پامال ہوجائے گا۔۔۔۔
تاریخ میں قوموں نے وہ دور بھی دیکھے ہیں لمحوں نے خطاء کی ہے صدیوں نے سزا پائی
پختون، بلوچ، سندھی اور مہاجر کے دلوں میں اس نظام سے گلہ شکوہ اور بغاوت کے رحجانات ، جذبات اورولولے موجود ہیں، وہ سمجھتے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ ہو، جمہوری حکومت ہو یا اپوزیشن پنجاب ہی پنجاب سے کھیل رہا ہے۔ عوام کی خواہشات کے برعکس جن جن کو اقتدار ، میڈیا اور اپوزیشن میں لایا جاتا ہے یہ سب مخصوص ہاتھوں کا کھیل ہے، حکومت کبھی کمزوراور کبھی توانا بنتی ہے تو اس میں عوام کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔ ماڈل ٹاؤن کے واقعہ پر ڈاکٹر طاہرالقادری شہداء کے جنازوں پر بھی نہیں آئے، گرم خون ٹھنڈا ہوجائے تو سیدالشہداء حضرت امیرحمزہؓ کا کلیجہ نکالنے اور چبانے والوں سے بھی انتقام کا جذبہ وہ نہیں رہتا،جسکے بدلہ میں سرکار دوجہاں ﷺ نے 70افراد کیساتھ ایسا سلوک کرنے کی قسم کھائی تھی۔ یہ سیاست کا کرشمہ ہے اور اسکے پیچھے کھیل اور کھلواڑ کرنے والوں کی رسی ہل رہی ہے کہ پہلی برسی پر سال گرے منائے گئے اور دوسرے سال حالات کا فائدہ اٹھانا ضروری سمجھا گیا یا کسی نے ڈور ہلا کر حکومت گرانے کا تماشہ لگانے کی ڈیوٹی لگادی۔ پاکستان میں اس قسم کی سیاست سے ملک کو نقصان ہی ہوسکتا ہے۔
چراغ تلے اندھیرا، پنجاب پورے ملک کو شعور، سیاست، حکمرانی، انسانی حقوق اور انواع واقسام کی حب الوطنی، اسلام دوستی اور اخلاقیات کے درس وتدریس کا مرکزومحور ، منبع ومینار سمجھا جاتا ہے، اس میں کوئی شک وشبہ بھی نہیں کہ پنجاب کے لوگ وسیع القلب، خلوص کا مرقع، وفا شعار، محنت کش، تہذیب یافتہ اور بہت سے ان صفات سے متصف ، مزین اور آراستہ ہوتے ہیں جن کی مجموعی حیثیت تک دوسری کوئی قوم نہیں پہنچ سکتی ہے مگر ساتھ ساتھ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ پنجاب میں بدمعاشی، بداخلاقی، بد تہذیبی ، زبردستی سے عزتیں لوٹنے کے واقعات ، دھوکہ بازی، فراڈ اور بہت ساری وہ خرابیاں ہیں جن کی ہوا سے بھی اللہ تعالیٰ دوسرے صوبوں کو اپنی حفظ وامان میں رکھے۔ وجہ اس کی یہی ہے کہ نظام کی تبدیلی کیلئے جہاں حبیب جالب، مولانا سیدعطاء اللہ شاہ بخاری، شورش کاشمیری، علامہ عنایت اللہ مشرقی،شاہ احمدنورانی اور انکے والدشاہ عبدالعلیم صدیقی ،غلام احمد پرویز، مولانا سید مودودی،مولانا احمدعلی لاہوری، مفتی محمود،اصغر خان،نواب زادہ نصر اللہ خان، ڈاکٹر مبشرحسن،مہدی حسن،ڈاکٹر اسرار،اکرم اعوان، صوفی برکت علی لدھیانوی وغیرہ کی ایک فہرست ہونی چاہیے تھی وہاں نوازشریف، شہبازشریف،چوہدری شجاعت، شیخ رشید، ڈاکڑطاہرالقادری، عمران خان کی ایک لمبی لائن کی ایک فہرست اپنے اکابرین جنرل ضیاء الحق، اخترعبدالرحمن،جنرل پاشا سے ہوتی ہوئی وہاں پہنچتی ہے جن کی وجہ سے پاکستان کا بیڑہ غرق ہوا ہے۔میڈیا پر اچھے لوگوں کو سامنے بھی لانے نہیں دیا جاتا تو عوام بک بک کرنے والوں کے واعظ، تقریراور ٹاک شوز سے ڈھیٹ ہوگی یا سدھرے گی؟۔
شہبازشریف جس لہجہ میں زرداری کیخلاف بات کرتا تھا ، اسی لہجے میں پانالیکس پر تقریریں کرے تو قوم کو پتہ چل جائے کہ واقعی جالب کی ناراض روح شوبازمیں جاگ گئی ہے، یہ زیادہ مکروہ اور گھناؤنی بات ہے کہ دوسروں کو چوکوں پر لٹکانے والوں کا اپنا دامن اس قدر داغدار ہو اور اپنے جرائم کو چھپانے کیلئے دوسروں کو اوقات میں رہنے کی بات کیجائے، سیدعتیق گیلانی میڈیا پر آجائے تو انقلاب آئے،قوموں کی اصلاح کیلئے بنیادی نظریے اور قربانی کی ضرورت ہوتی ہے اس میں کٹھ پتلی لوگوں کو قائد بناکر کھڑا کرنے سے بات نہیں بنتی۔ ڈاکٹرسیدوقار حیدر شاہ سیالکوٹی