پارلیمنٹ لاجز سے بھاگتی ہوئی برہنہ لڑکی کو سیکورٹی گارڈز نے پکڑ کر پھر حوالے کردیا، جمشید دستی

785
0

parliament-lodges-islamabad-barhana-larki-jamshed-dasti-deara-ismail-khan-jail-bhook-hartal-senators-of-pakistan-corruption-muhammad-bin-qasim

نوشتۂ دیوار کے خصوصی ایڈیٹر سید ارشاد علی نقوی نے کہا: پاکستان کی تشکیل اسلام کے نام ہوئی مگر اسلام سے علماء ومفتیان نہ صرف ناواقف تھے بلکہ خود بھی اسلام پر عمل نہیں کرنا چاہتے تھے۔ جب اللہ تعالیٰ نے رسول ﷺ کو حکم دیا کہ ’’ مسلمانوں سے زکوٰۃ لو ، ان کیلئے یہ تسکین کا ذریعہ ہے‘‘ تو نبیﷺ نے اقارب پر زکوٰۃ کو حرام قرار دیدیا۔خلیفہ اول حضرت ابوبکرؓ کی بیگمؓ نے تھوڑا تھوڑا بچاکر حلوہ بنایاتھا تو حضرت ابوبکرؓ نے اپنی اتنی تخواہ کم کردی۔ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی مسند پر بیٹھنے کے دعویدار حکمران کے دسترخوان پر گزارا کرتے ہیں، مولانا فضل الرحمن اور سراج الحق نے ابھی مرکزی اور صوبائی حکومتوں کو بھی نہ چھوڑا ہے کہ اسلام کا راگ الاپنے لگے ہیں۔ یہ دھوکہ دہی کی انتہاء ہے ۔جمشید دستی کا تعلق پیپلز پارٹی سے تھا اور اب وہ قومی اسمبلی کی آزاد رکنیت رکھتے ہیں۔ پارلیمنٹ لاجز میں شراب و کباب اور برہنہ لڑکی کے بھاگنے کی ناکام کوشش پر مذہبی جماعتوں کو آواز اٹھانے کی ضرورت تھی لیکن جمشید دستی اٹھارہے ہیں۔ یہ بالکل اٹل حقیقت ہے کہ مذہبی سیاسی جماعتوں نے ہمیشہ دُم چھلہ بن کر اپنا کردار ادا کیا ہے۔ مولانا سمیع الحق اور جماعت اسلامی کو یاد ہوگا کہ جب پیپلز پارٹی سے برگشتہ نیشنل پیپلز پارٹی کے لیڈر غلام مصطفی جتوئی کو اسلامی جمہوری اتحاد کا سربراہ بنایا گیا اور پھر الیکشن میں وہ ناکام ہوا۔ پھر سینئر نائب امیر مولانا سمیع الحق نے اسلامی جمہوری اتحاد پنجاب کے صوبائی رہنما نواز شریف کو ہی وزیر اعظم بنوایا۔ پہلے ایم آر ڈی میں شمولیت کی وجہ سے مولانا فضل الرحمن پر کفر و گمراہی کے فتوے لگائے جسکی وجہ پیپلز پارٹی کی ایم آر ڈی میں شمولیت تھی۔ پھر اسی پیپلز پارٹی والے کو ہی اسلامی جمہوری اتحاد کا سربراہ بنایا۔ نواز شریف نے مولانا سمیع الحق کے خلاف میڈم طاہرہ کا اسکینڈل میڈیا میں دیا۔ پھر جب امریکہ سے معین قریشی کو نگران وزیر اعظم بناکر لایا گیا اور اس نے قبائل کو بالغ رائے دہی کی بنیاد پر ووٹ کا حق دیا۔ مولانا نور محمد وانا جنوبی وزیرستان پہلے جمہوریت کو کفر کہتے تھے اور پھر الیکشن میں جیتنے کا موقع ملا تو انتخاب لڑا۔ جیت کر نواز شریف کی کابینہ میں فلم انڈسٹری کے سینسر بورڈ کے وزیر بن گئے۔ اخبار اوصاف کے کارٹون میں ان کی اچھی تصویر کشائی کی گئی تھی۔ یہ لوگ علمی بنیادوں پر ہمت کرکے فرقہ وارانہ و فقہی مسائل کو حل کریں تو معاشرے میں خود بخود اسلامی انقلاب آجائیگا ۔ ورنہ سیاست میں منافقت کا بازار گرم رکھنے کے یہ ذمہ دار ہونگے۔