رسول اللہ ﷺ نے پختون قیسؓ عبد الرشید کو بتھان کا خطاب دیا

719
0

مؤلف کتاب کیپٹن (ر) محمد صدیق احمد کراچی نے تاریخی حوالہ جات سے لکھا ہے کہ ’’ خواجہ نعمت اللہ ہرطی کے مطابق بخت نصر نے انہیں حکم دیا کہ ملک شام سے نکل جائیں بلکہ جس جس علاقے پر میری حکومت ہے وہاں نہ رہیں۔ جو لوگ ان کی نگرانی پر مامور تھے انہوں نے اس قافلہ کو بخت نصر کی بادشاہت سے نکال کر غور ، غزنی ، کابل، کوہ فیروزہ اور قندھار کے پہاڑی علاقوں کی طرف دھکیل دیا جو اقلیم پنجم و ششم میں شمار ہوتے ہیں اور خراسان و کوہستان کے صوبے میں شامل ہیں۔ اس طرح افغنہ کی اولادوں نے (موجودہ) ایران و افغانستان کے علاقوں میں سکونت اختیار کی اور وہیں کے ہورہے۔ان کی آل اولاد بڑھتی گئی اور اپنی کثرت کی وجہ سے ان لوگوں نے کافر قبیلوں کے خلاف متواتر جنگیں لڑیں اور اکثر و بیشتر پر فتح حاصل کرکے کوہستان کا سارا علاقہ اپنے زیر نگیں کرلیا۔ یہ علاقہ ولید بن عبد الملک بن مروان کے سپاہ سالار حجاج بن یوسف ثقفی کے بھانجوں عماد الدین محمد قاسم اور محمد ہارون کے آنے تک ان کے قبضہ میں رہا۔ ہارون اور عمادالدین نے سنہ 88ہجری میں (یعنی آٹھویں صدی عیسوی) کیج اور مکران کا علاقہ فتح کیا اور سلطان محمود غزنوی اور سلطان شہاب الدین غوری کے آنے تک یہ لوگ اسی علاقے میں سکونت پذیر تھے۔ یہاں چونکہ افغنہ کا ذکر پھر آگیا اسلئے مناسب ہے کہ اس کو مکمل کرلیا جائے۔ چنانچہ خواجہ نعمت اللہ ہرطی کے مطابق: ’’اہل دانش و بینش سے پوشیدہ نہ رہے کہ تاریخ نویسوں خصوصاً صاحب ’’مجمع الانساب‘‘ و ’’اصناف المخلوقات‘‘ (تاریخی کتابیں، محمد بن علی شہانکارہ ئی نے 743ھ /1342ء میں اور نصیر الدین طوسی متوفی 672ھ میں تصنیف کی تھیں)نے لکھا ہے کہ جب بخت نصر نے بنی اسرائیل اور آصف و افغنہ کی اولادوں کو جن کی تعداد سارے قبیلوں سے زیادہ تھی ، ملک شام سے نکال دیا تو ان میں سے ایک گروہ ملک عرب میں آبسا۔ انہوں نے اپنے دل میں فیصلہ کیا کہ اگر حضرت داؤد ؑ و سلیمانؑ کے بنائے ہوئے خانہ خدا یعنی بیت المقدس کی زیارت اور اس میں خدا کی عبادت سے محروم ہوگئے ہیں اور یہ سعادت ہم سے چھن گئی ہے تو کم از کم حضرت اسماعیل ؑ اور حضرت ابراہیم ؑ کے بنائے ہوئے بیت اللہ کی زیارت اور اس میں اللہ تعالیٰ کی بندگی کی سعادت کو تو ہاتھ سے نہ جانے دیں۔ کیونکہ یہ پاک گھر نبی آخرزماں کی جائے پیدائش بھی ہوگا۔ اگر ہمیں سرور انبیاء ﷺ کی زیارت نصیب نہ بھی ہوئی تو ممکن ہے کہ ہماری اولادوں کا بخت یاوری کرے اور وہ آپ ﷺ پر ایمان لائیں اور زیارت و صحبت سے شرف یاب ہوں۔ اسلئے انہوں نے مکہ معظمہ میں بلکہ حرم پاک میں سکونت اختیار کی۔ انہیں عرب کے لوگ بنی اسرائیل اور بنی افغان کہتے تھے۔ (حضرت خالد بن ولیدؓ اسی قبیلے میں سے تھے )۔ حضرت خالد بن ولیدؓ اور حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے ایران کی تسخیر کی ۔ ان دو خوش نصیب و نیک بخت جوانمردوں کی ہمت سے نوشیرواں کی نسل کا آخری بادشاہ یزد جرد بمقام یزد قتل ہوا اور چار ہزار سات سو سال کے بعد عجم کی وسیع سلطنت اسلام کو منتقل ہوئی۔ خواجہ نعمت اللہ ہرطی لکھتے ہیں ’’جوینی نے ’’تاریخ جہانکشا‘‘ میں حمد اللہ مستوفی نے ’’تاریخ گزیدہ‘‘ میں ، محمد بن علی شبانکارہ ئی نے ’’مجمع الانساب‘‘ میں اور خواجہ نصیر الدین طوسی نے ’’تاریخ اصناف المخلوقات ‘‘ میں اس طرح لکھا ہے کہ جب جمال محمدی ﷺ کے آفتاب جہاں تاب کی شعاعیں چار دانگ عالم میں پھیلیں اور دنیا کی تاریکی کے بادل چھٹنے لگے اور عرب گروہ در گروہ مدینہ منورہ آکر دائرہ اسلام میں داخل ہونے لگے تو خالد نے بھی اسلام قبول کیا اور اس سعادت سے مشرف ہوکر بنی اسرائیل ، بنی افغان اور بنی اعمام کو جو غور کے نواحی پہاڑوں میں بستے تھے ایک خط لکھا جس میں خالد نے ان قبیلوں کو پیغمبر آخر الزماں کی تشریف آوری ، اسلام کی حقیقت اور اپنے ایمان کی خبر دی۔ خالد بن ولیدؓ کا یہ خط جب اس قوم کے پاس پہنچا تو انہوں نے اپنے سرکردہ آدمیوں کا ایک وفد مدینہ منورہ بھیجا بنی افغان کا سب سے بڑا سردار قیس نامی ایک شخص تھا جسکا شجرہ نسب 37واسطوں سے ملک طالوت اور 45واسطوں سے حضرت ابراہیم خلیل اللہ تک پہنچتا تھا۔۔۔ الغرض جب افغانوں کی یہ جماعت مدینہ پہنچی تو حضرت خالدؓ کی وساطت سے حضور سر ور کائناتﷺ کی خدمت میں شرف یاب ہوئی اور دولت اسلام سے مالا مال ہوئی۔ نبی ﷺ نے اس جماعت کیساتھ ہر طرح سے شفقت فرمائی، انمیں ہر ایک کانام پوچھا اسکے بعد آپ ﷺ نے فرمایا کہ قیس عبرانی نام ہے اور ہم عرب ہیں پھر کمال شفقت سے قیس کا نام بدل کر عبد الرشید رکھا اور فرمایا چونکہ تم لوگ ملک طالوت کی اولاد ہو جسے حق تعالیٰ نے قرآن مجید میں ’’ملک‘‘ کے خطاب سے یاد کرکے عزت بخشی اسلئے بہتر ہے کہ تمہیں لوگ ملک کہا کریں۔ آپ ﷺ فتح مکہ کیلئے روانہ ہوئے تو خالدؓ اور عبد الرشیدؓ دونوں کو آپ ﷺ کے ہم رکاب ہونے کا شرف حاصل تھا۔ فتح مکہ کے دن آپ ﷺ نے بنی اسرائیل کے مسلمانوں کی جماع کو حکم دیا کہ وہ عبد الرشیدؓ کے زیر کمان جہاد میں شریک ہوں۔ اس جماعت کے سب لوگوں نے جانثاری کا ثبوت دیکر کارہائے نمایاں انجام دئیے اور قریش مکہ کے 70 کافر خالدؓ اور اس جماعت کے ہاتھوں قتل ہوئے۔ فتح کے بعد خالدؓ حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو ملک عبد الرشیدؓ کی بہادری اور جوانمردی کے واقعات بتائے یہ سن کر آپ ﷺ کی زبان مبارک پر برملا یہ الفاظ جاری ہوئے کہ حق سبحانہ و تعالیٰ اس مرد کی آل و اولاد کو بہت فروغ بخشے گا۔ اس حد تک کہ اس کے قبیلے کی طاقت باقی قبیلوں سے زیادہ ہوگی۔ آپ ﷺ نے فرمایا : ’’مجھے وحی کے ذریعے سے آگاہ کیا گیا کہ اسلام کی خدمت کیلئے اس قبیلے کی کثرت و استحکام کو وہ بنیادی حیثیت حاصل ہوگی جو کشتی اور جہاز کے نیچے والی اس لکڑی کو حاصل ہوتی ہے جس پر کشتی یا جہاز کی عمارت استوار کی جاتی ہے۔ اس لکڑی کو سمندروں کے رہنے والے لوگ ’’بتھان‘‘ کہتے ہیں۔ اسلئے عبد الرشید کو بتھان کا خطاب دیتا ہوں‘‘۔ کثرت استعمال سے یہ لقب بتان یا بتھان سے فارسی کے اثر سے پتھان پھر پٹھان ہوگیا اور آج افغان و پاکستانی سرحدی قبائل اپنے آپ کو پٹھان کہنے پر فخر کرتے ہیں۔ جبکہ انکے رویوں میں وہی بنی اسرائیل یا یہودیوں والی جھلک پائی جاتی ہے اور دینی عقائد میں بھی وہ سوچنے و سمجھنے اور تفکر و تحریر سے عاری ہیں، اور باپ دادا کی پیروی یا تقلید پر ہی اڑے رہتے ہیں۔
بنی اسرائیل یا یہود کے پٹھان بننے کے بعد اب ہم پھر تاریخ کے اس باب کی طرف پلٹتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ یہود کی سرکشیاں شام کے علاقے میں بہت بڑھ جاتی ہیں حتیٰ کے وہ جلیل القدر رسول عیسیٰ علیہ السلام کی مخالفت میں اتنا بڑھ جاتے ہیں کہ انہیں اپنی منافقانہ بد اعمالیوں سے سولی پر لٹکا کر خوش ہوتے ہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ ان پر 70عیسوی میں رومن عیسائی کی افواج عذاب بنا کر مسلط کر دیتا ہے وہ نہ صرف یروشلم کی اینٹ سے اینٹ بجا دیتے ہیں بلکہ انکی مرکزی عبادتگاہ جو تقریباً پانچ سو سال پہلے پارس کی مدد سے دوبارہ تعمیر کی گئی تھی کو زمیں بوس کر دیتے ہیں۔ اسی تباہی کے بعد آج تک کوئی بھی اس عبادتگاہ یا ہیکل سلیمانی کو دوبارہ یا سہ بارہ تعمیر نہ کرسکا۔ وہاں اب کچھ عرصہ قبل کھدائیوں کے نتیجہ میں کسی دیوار یا نبو کے کے آثار ملے ہیں جسے دیکھ دیکھ کر یہودی وہاں کھڑے ہوکر روتے ہیں۔ (چنانچہ اس آثار کا نام ہی ’’دیوار گریہ‘‘ پڑ گیا ہے Wailing Wall) اور ایک اور نبی یا مہدی کے آنے کیلئے دعائیں کرتے ہیں ۔ جس طرح انہی کے پروردہ ایک فرقہ کے لوگ’’ ادرکنی یا صاحب الزماں‘‘کی نہ صرف دعائیں کرتے ہیں بلکہ یہ دعا لکھ لکھ کر آٹے کی گولیوں میں لپیٹ کر دریا یا سمندر میں بہاتے ہیں اور خواب دیکھتے ہیں کہ عراق کے غار میں تقریباً 12سو سال سے چھپا ہوا مہدی نیلا عمامہ پہنے ہاتھ میں دو دھاری اور دو شاخہ تلوار لئے ظاہر ہورہا ہے۔ ادھر ہیکل سلیمانی کے دو ہزار سال سے تباہی کے باوجود بیوقوف مسلمان اور انکے ملا اس کو مسجد اقصیٰ کا نام دیتے ہوئے اسے قبلہ اول قرار دیتے ہیں جبکہ اس عبادتگاہ کا اپنا قبلہ بھی خانہ کعبہ ہی تھا۔ جسے اللہ تعالیٰ نے قبلہ اول بنایا ہوا تھا (اول بیتٍ 96/3)۔ القرآن الحکیم قراء تی تحریف، مؤلف کیپٹن (ر) محمد صدیق احمد
تبصرہ سید ارشاد نقوی
کیپٹن (ر) محمد صدیق احمد نے اپنی کتاب پر اپنا پتہ بھی درج نہیں کیا ہے۔ اس کتاب کی خاص بات یہ ہے کہ قرآن کی مختلف قرأتوں کا انکار کیا گیا ہے اور اس کو قرآن کیخلاف ایک سوچی سمجھی مگر ناکام سازش قرار دیا گیاہے۔
الفاظ کی ادائیگی اور لہجوں کا اختلاف مختلف زبانوں میں ہوتا ہے۔ عرب امارات کے اس معروف ملک کو شارقہ اور شارجہ کہا اور لکھا جاتا ہے۔ مصری حاجی جنت مانگنے کی دعا میں اللہ سے گنا مانگتے ہیں۔ جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی کے استاذ قاری عبدالحق صاحب کہتے تھے کہ مصری حرم میں دعا مانگتے تھے تو میں نے ان سے کہا کہ جنت مانگو، گنا نہیں مانگو، جو اسطرح کھایا جاتا ہے۔ بعض افریقی لیلۃ القدر کو لیلۃ الغدر تلاوت کرتے ہیں۔ اکثربنگالی جنت کو زنت کہتے ہیں،ولاالضالیں کی ادائیگی پر پنیالہ ڈیرہ اسماعیل خان میں مسجد محراب سے دو حصوں میں تقسیم ہوئی ۔ عربی میں لفظ لفظ کلمہ پڑھنے کے بھی چار اقسام کی ادائیگی ہے۔فوج کو پوج، فوز اور پاکستان کو فاکستان کہنے والے بھی کثرت سے موجود ہیں۔
کیپٹن صاحب کی تصنیف اچھی کاوش ہے اور قرآن کی وجہ سے حدیث کا انکار درست ہے۔اہلحدیث اور دیوبندیوں کے حوالہ سے اگر واقعی کسی سازش کا ادراک ہے تو سامنے آنا چاہیے۔ جب شیعہ گمراہ ہیں اور سنی احادیث بھی غلط ہیں تو پھر صحیح کون ہے؟۔ اس کی بھی وضاحت ہونی چاہیے تھی۔ تاریخی غلط بات کو درست ماننا اور صحیح احادیث کا انکار کرنا کوئی منطق ہے؟۔ قیس عربی نام تھا، جاہلیت کے مشہور عربی شاعر امرء القیس تھا، عربی قصہ مجنوں لیلہ میں مجنوں کا نام بھی قیس تھا ۔ہوسکتا ہے کہ نبیﷺ نے اس قوم کو رشید بنانے کیلئے قیس کا نام عبدالرشید رکھا ہو۔ اگر خطاب یہ ہو توبھی ممکن ہے۔ آج کوہ سلمان پر تختِ سلمان اور قیسے غر( قیس کا پہاڑ) اور عبدالرشید کانام اور قبر موجود ہے۔ کیپٹن صاحب نے حاشیہ پر لکھا ہے کہ حدیث کی وجہ سے غلط پیش گوئی کی گئی ہے، حالانکہ سورۂ جمعہ ، سورۂ واقعہ اور سورۂ محمد میں بھی پیش گوئی موجود ہے۔
ملیر کینٹ کراچی سے ریٹائرڈ فوجی صوبیدار بشیر احمدکے بیان نوشتۂ دیوار میں شائع ہوئے ہیں انہوں نے مولانا فضل الرحمن کے خلاف اخباری تراشے بھیجے تھے کہ وہ کہتا ہے کہ ہمیں جمہوری پاکستان چاہیے، جہادی پاکستان نہیں چاہیے۔ حالانکہ جہاد اللہ کا حکم ہے اور جمہوری نظام شرک ہے مگرجب اس سے ہم نے پوچھ لیا کہ پاکستان کا نام اسلامیہ جمہوریہ ہے اور یہاں پارلیمنٹ اور پارلیمانی نظام ہے ،کیا آپ مجاہدین کو پاکستان کیخلاف جہاد کرنے کا کہتے ہیں؟۔ حدیث ہے کہ حق سے خاموش رہنے والا گونگا شیطان ہے تو بشیراحمد نے کہا کہ مجھے کچھ پتہ نہیں۔اس کی بولتی بند ہوگئی اور پھر اس کو بتایا کہ نبیﷺ نے حدیث قرطاس لکھوانے کی بات فرمائی لیکن حضرت عمرؓ نے کہا کہ ’’ ہمارے لئے قرآن کافی ہے‘‘۔ غدیر خم کے موقع پر نبیﷺ نے فرمایا کہ میں جسکا مولی ہوں ، علی اس کا مولی ہے لیکن مسلمانوں نے جمہوری بنیاد پر حضرت ابوبکرؓ کو خلیفہ منتخب کیا تھا۔ رسول ﷺ نے فرمایا کہ اہل مغرب ہمیشہ حق پر رہیں گے۔ (صحیح مسلم)حدیث سے جمہوری نظام ہی مراد ہوسکتا ہے ۔ بشیراحمد نے کہا کہ مجھے کچھ پتہ نہیں، اسلام اپنی ذات پر نافذ کرنا چاہیے اور جہاد کو نظرا نداز کردیا۔
ایک فوجی حدیث کا منکر ہے اور تاریخ سے متاثر ہے اور دوسرا حدیث کو مانتا ہے لیکن خود جہاد نہیں کرتا اور جمہوریت کو شرک قرار دیتا تھا لیکن جب جہاد کا سوال پوچھا تو گونگا شیطان بننے کو ترجیح دی۔ یہ بہت بڑی کم عقلی ہے کہ جو لوگ جمہوریت کی مخالفت کرتے ہیں لیکن وہ جمہوریت کاتحفظ کرنے والے اداروں کو جہاد کے نام پر تحفظ بھی دیتے ہیں۔ ملک میں بہت افراتفری ، منافقت اور نااہلیت کی وجہ جاہلیت اور ذاتی مفادپرستی کے شاخسانے ہیں۔
حضرت خالد بن ولیدؓ نے فوجی مہم جوئی کے دوران قتل کئے تو نبیﷺ نے فرمایا تھاکہ ’’اللہ میں خالد کے فعل سے بری ہوں‘‘۔ابنِ نویرہ کو قتل کرکے اسکی بیگم سے دورِابوبکرؓ میں شادی رچائی تو عمرؓ کایہ مشورہ تھا کہ سنگسار کیا جائے مگر حضرت ابوبکرؓ نے تنبیہ کو کافی قرار دیا کہ ’’خالدؓبن ولید کی اب ضرورت ہے‘‘۔