تین طلاق کے موضوع پر مفتی ریاض حسین کی جواب الجواب طلب تحریر پر الجواب از عتیق گیلانی

570
0

pir-roshan-baba-kaniguram-south-waziristan-talaq-in-quran-nabi-noor-or-bashar-ghulam-ahmad-pervez-fatwa-fiqhi-maqalat-peshab-se-surah-fatiha-likhna-haji-usman-allama-ghulam-rasool-saeedi

مفتی ریاض حسین صاحب
مفتی دارالعلوم قادریہ رضویہ ملیر سعود آباد کراچی
کی طرف سے مزید جواب الجواب طلب تحریر

جناب عتیق الرحمن صاحب ! وعلیکم السلام ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
آیت230البقرہ کی جو وضاحت آپ کی طرف سے شائع کی گئی ہے وہ غلط ہے۔ اس آیت کی درست تشریح وہ ہے جو قرآن پاک کے تراجم کنزالایمان مع نور العرفان میں ہے اور دیوبند کے شیخ الاسلام مولانا شبیر عثمانی کی تفسیر میں ہے اور شاہ فہد اٰل سعود کی طرف سے حاجی صاحبان کو جوقرآن پاک بطورِ ہدیہ حاجی صاحبان کو پیش کیا جاتا ہے، ان سب کے اندر اس آیت230کے متعلق ایک جیسی تفسیر ہے۔ اس مسئلے میں بریلوی،دیوبندی ،اہلحدیث سب متفق ہیں کہ تین طلاق کے بعد عورت حرام ہوجاتی ہے۔ ایک آپ ہیں کہ اس متفق علیہ مسئلہ کو نہیں مانتے۔ آپ نے ایک غلط مسئلہ بیان کیا جو کہ قرآن پاک کی صریح اور واضح آیت کے خلاف ہے اور ابھی تک اس پر اڑے ہوئے ہیں اور غلط تشریح کر رہے ہیں، میں دوبارہ آپ سے کہوں گا کہ آپ کا مؤقف غلط ہے۔آپ اس سے توبہ کریں۔ آیت230کی وہی تشریح شائع کریں جو علماء کرام نے بیان کی ہے۔
پیارے بھائی میرا فرض تھا، میں نے آپ کی غلطی کی نشاندہی کردی۔ ہدایت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ جسے چاہے گا،اللہ تعالیٰ ہدایت عطاء فرمائیگا۔ آپ کی خدمت میں ایک حدیث پیش کررہا ہوں۔
عن مجاہد قال کنت عند ابن عباسؓ فجاہ رجل فقال انہ طلق امرأتہ ثلاثا ،قال فسکت حتی طننت انہ رادھا الیہ ثم قال ینطلق احدکم فیرکب الحموقۃ ثم یقول یا ابن عباس یا ابن عباس وان اللہ قالمن یتق اللہ یجعل لہ مخرجاعصیت ربک وانت منک امرأتک ،سنن أبی داؤد، کتاب الطلاق باب بقےۃ نسخ المراجعۃ بعد التطلیقات الثلاث
مجاہد سے روایت ہے کہ حضرت ابن عباسؓ کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ایک آدمی آیا اور اس نے بتایا کہ اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیدی ہیں،یہ سن کر وہ خاموش رہے، یہانتک کہ مجھے گمان ہوا کہ آپ اس کی بیوی لوٹادیں گے، پھر ابن عباسؓ نے فرمایا: تم میں جو احمق ہوجاتا ہے،پھر چیختا ہے ،اے ابن عباس ! اے ابن عباس(اب ابن عباس کیا کرے؟)بے شک ، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے جو اللہ سے ڈرتا ہے تواللہ اس کیلئے نجات کی راہ نکال دیتا ہے اور تم ڈرے نہیں، تو تمہارے لئے مجھے کوئی راستہ نہیں سوجھتا، تم نے اپنے ربّ کی نافرمانی کی،(تین طلاق ایک ساتھ دیکر) اور تم سے تمہاری عورت جدا ہوگئی۔(سنن ابی ابوداؤد)
ان رکانۃ ابن عبدیزید طلق امرأتہ سھیمۃ البتہ فأخبرالنبیﷺ بذالک الا واحدۃ فقال رسول اللہ ﷺ: وللہ ما اردت الا واحدۃ فقال رکانۃ : واللہ مارادت الا واحدۃ فردھا الیہ رسول اللہﷺ فطقہا الثانیۃ فی زمان عمروالثالۃ فی زمان عثمان ابوداؤد کتاب الطلاق باب فی البتۃ
بیشک رکانہ ابن عبد یزیدنے اپنی بیوی سھیمہ کو طلاق البتہ دی، رسول اللہ ﷺ کو اس بارے میں بتایا گیا،اور حضرت رکانہؓ نے کہا کہ ’’ اللہ کی قسم میرا ایک طلاق ہی کا ارادہ تھا، رسول اللہﷺ نے پھر حلفیہ پوچھا، کہ تمہاراایک ہی کا ارادہ تھا،تو حضرت رکانہؓ نے کہا کہ قسم بخدا میں نے نہیں ارادہ مگر ایک کا، پھر رسول اللہﷺ نے ان کی بیوی کو ان کی طرف پھیر دیا۔پھر حضرت رکانہؓ نے حضرت عمرؓ کے دور میں دوسری طلاق دی اور حضرت عثمانؓ کے دور میں تیسری طلاق دی۔ ابوداؤد کتاب طلاق باب البتۃ
تین طلاق کے بعد تو رسول اللہﷺ اور حضرت ابن عباسؓ نے عورت واپس کرنے کی اجازت نہیں دی اور نہ ہی اللہ تعالیٰ نے تو اب یہ سید گیلانی کون ہے؟۔جو اس کی اجازت دے رہا ہے جسے نہ اللہ کا ڈر ہے، نہ رسولﷺ کی شرم ہے اور نہ ہی ابن عباسؓ کے فتوے کی پروا ہ ہے۔
نوٹ: صفحہ نمبر 3پر بھی اسی سے ملتی جلتی تحریر اور اس کا جواب دیکھئے۔

الجواب
ازسید عتیق گیلانی

محترم مفتی ریاض حسین دامت برتکم العالیہ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ جناب نے بہت محنت اور دینی جذبے سے سمجھایا اور ڈانٹا بھی ہے۔ یہ آپ کی ذرہ نوازی ہے۔
میں نے درسِ نظامی کی کتابوں’’ اصولِ الشاشی‘‘ اور ’’ نورالانوار‘‘ سے وہ حنفی مؤقف پیش کیا جس سے بریلوی دیوبندی اکابر قابلِ اعتماد علماء بن گئے ۔ اس کی تائید میں حضرت ابن عباسؓ کی تفسیر پیش کی اور قرآن وسنت سے دلائل دئیے تھے۔ مجدد الف ثانیؒ نے اکبر بادشاہ کو سجدہ تعظیمی سے انکار کیا اور کانیگرم وزیرستان کے پیرروشان بایزید انصاریؒ نے اکبر بادشاہ کیخلاف جہاد کیا۔ جنوبی وزیرستان کا شہر کانیگرم علوم کا مرکز تھا۔ سیدشاہ محمد کبیر الاولیاءؒ کے بیٹے سید ابوبکر ذاکرؒ اور پوتے سید شاہ محمود حسن دیداریؒ سے میرے پرداد سید حسن شاہؒ اور دادا سید امیر شاہؒ تک مرکزی علماء ومشائخ تھے، حضرت سید عبدالقادر جیلانیؒ سے نسب ہے۔ شاہ ولی اللہؒ نے قرآن کا فارسی میں ترجمہ کیا تو ہندوستان کے علماء ومفتیان نے ان پر واجب القتل کا فتویٰ لگایا جس کی وجہ سے ان کو دوسال تک روپوش ہونا پڑا تھا۔
شاہ ولی اللہؒ کے فرزندوں شاہ عبدالقادرؒ اور شاہ رفیع الدینؒ نے پہلے اردو کا بامحاورہ اور لفظی ترجمہ کیا۔ ہندوستانی علماء نے ذوق و طبع کیمطابق ان تراجم کی نقل اُتاری ہے۔ مگرعربی سمجھنے والے کیلئے کسی اور ترجمے پر انحصار کی ضرورت نہیں، اردو عربی سے قریب ہے اور ترجمہ کی غلطی پر عام آدمی بھی گرفت کرسکتا ہے۔ میں آٹھویں جماعت میں تھا۔ لیہ شہر پنجاب میں دیوبندی بریلوی سے بحث رہتی ۔ ہمارے کرایہ کے مالک مکان ایک بریلوی شیخ الحدیث کو لائے کہ یہ مولانا احمد رضاخان بریلویؒ کا ترجمہ وتفسیر پڑھائیں گے۔ میں نے کہا کہ میں گھر کیلئے سبزی لیکر آتا ہوں، توکہنے لگے کہ پہلے ترجمہ پڑھو۔ میں نے کہا کہ پہلے وضو کرکے آتا ہوں ، کہنے لگے کہ وضو کے بغیر ہاتھ لگائے بغیر پڑھ لو۔ میں نے عرض کیا کہ انما انا بشر مثلکم کا کیا ترجمہ لکھا ؟۔ دکھایا تو یہ تھا کہ ’’ کہہ دیجئے کہ میں بظاہر ایک بشر ہوں‘‘۔ میں نے عرض کیا کہ مثلکم کا ترجمہ عربی کی کونسی لغت میں بظاہر بنتا ہے؟۔ اسکے پاس جواب نہ تھا۔ میں نے کہا کہ ہل کنت الا بشرا رسولا کا ترجمہ دکھاؤ۔ تو اس میں بشر اور رسول لکھا تھا۔ جسکے بعد صاحب غائب ہوگئے۔ کافی دنوں بعد بازار میں نظر آئے تو وہ شیخ الحدیث جو پہلے سید ہونے کے ناطے قابلِ قدر قرار دے رہے تھے ، پھر ان کا رویہ بہت بدلا۔ میں تو کسی اچھوت ہندو سے بھی اتنی کراہت کیساتھ چہرہ پھیرنے کی جرأت نہ کرتا۔ بجائے سلام کا جواب گالیاں کھائیں اور بات ختم ہوگئی۔
پھر میں نے کراچی کا رُخ کیا، درسِ نظامی کی کتابیں پڑھ لیں۔ ’’ اختلافِ امت اور صراطِ مستقیم: مولانا یوسف لدھیانویؒ ‘‘ پڑھ چکا تھا۔ مولانا مودودیؒ کے حوالہ سے مولانا یوسف لدھیانویؒ نے لکھا کہ ’’ لوگ ان کی قلم کی تعریف کرتے ہیں، مجھے انکے قلم سے ہی سب سے زیادہ اختلاف ہے، جب وہ الحاد کے خلاف لکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ دارالعلوم دیوبند کا شیخ الحدیث گفتگو کررہا ہے اور جب وہی قلم اہل حق کیخلاف اٹھاتا ہے تو لگتا ہے کہ مزرا غلام احمد قادیانی اور غلام احمد پرویز کا قلم اس نے چھین لیا ہے‘‘۔
تاہم حیرت ہوئی کہ جماعت اسلامی کے رہنما پروفیسر غفور احمدؒ کو منبر پر تقریر کرتے اور مولانا یوسف لدھیانویؒ کو خاموش امام کی جائے نماز پربیٹھے دیکھا۔ مجھے لگا کہ جماعت اسلامی کی مسجدمیں مولانا یوسف لدھیانویؒ امام ہیں۔ پھر مولانا یوسف لدھیانویؒ سے مسئلہ سنا تو دَم بخود ہوکر رہ گیا کہ ’’ تحریر ی شکل میں قرآن اللہ کی کتاب نہیں نقش ہے۔ اگر ہاتھ رکھ کر حلف اٹھایا جائے تو یہ حلف نہیں۔ البتہ زباں سے کہا جائے کہ اللہ کی کتاب کی قسم تو یہ حلف ہے اور اسکا کفارہ ہے‘‘۔ میں سوچ رہا تھا کہ جاہل اور علماء میں واقعی بہت بڑا فرق ہے۔ جاہل اللہ کی کتاب پر الفاظ میں بات بات پر قسم اٹھاتے ہیں لیکن قرآن کے مصحف پر حلف اٹھانے سے بہت ڈرتے ہیں ۔یہاں تک کہ سچ پر بھی قسم اٹھانا مناسب نہیں سمجھتے ۔ فقہ اور علماء کا یہ پہلا سبق مجھے عجیب تو لگا مگر علماء اور علم کی بات سمجھ کر قبول بھی کرلیا،اسلئے کہ ایمان اور عقیدہ تو مستند علماء کا مرہونِ منت تھا۔
اگلے مہینے شوال میں جامعہ بنوری ٹاؤن میں داخلہ ملا۔ درجہ اولیٰ میں ابتدائی کتب ہیں۔معروف استاذ مولانا عبداسمیع سندھیؒ کیساتھ صیغے پر بحث ہوئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ماضی کے دو صیغے ضربتماضربتما عرب سے نقل ہیں، میرا سوال تھا کہ صیغہ ایک تھاتودو دفعہ کیوں لکھا۔ آخر پونے تین گھنٹے تک بات یہاں تک پہنچی کہ اس نے قرآن کا مصحف منگوا کر کہا یہ اللہ کی کتاب ہے؟۔ میں نے کہا کہ نہیں، یہ نقش ہے، اس پر حلف نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ آپ کافر ہوگئے، اللہ کی کتاب کو نہیں مانتے؟۔ میں نے کہا کہ فتویٰ مجھ پر لگایا ۔اس کی زد میں مولانا یوسف لدھیانوی آئے ، پوچھتے ہیں۔ مولانا نے خوب سنائی کہ تم افغانی پڑھ کر آتے ہو ، مقصد پڑھنا نہیں ہماری تذلیل ہے۔ میری آنکھوں میں آنسو آئے تو ایک طالب علم نے مجھے اٹھایا اور مسجد کے کونے میں ذکر کرنے کا مشورہ دیا۔
پہلے مولانا عبدالسمیعؒ ہمارے استاذ نہ تھے، چوتھے سال میں شرح جامی ہمیں پڑھائی اور نورالانوار مولانا بدیع الزمانؒ نے پڑھائی لیکن مجھے اس تعریف پر کوئی تعجب بھی نہ تھا کہ مصاحف میں لکھے سے مراد اللہ کی کتاب نہیں بلکہ نقوش ہیں جو نہ لفظ ہے اور نہ معنیٰ۔ مفتی محمد تقی عثمانی کی کتاب ’’ فقہی مقالات‘‘ میں دیکھا کہ ’’ سورہ فاتحہ کو علاج کیلئے پیشاب سے لکھنا جائز ہے‘‘۔ تو بڑی بے چینی ہوئی۔ جامعہ بنوری ٹاؤن سے حوالہ دئیے بغیر اسکے خلاف فتویٰ طلب کرکے شائع کیا۔ بریلوی مکتبۂ فکر نے مفتی تقی عثمانی کیخلاف طوفان کھڑا کیا۔ موجودہ شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی نے اپنی کتابوں’’ فقہی مقالات‘‘ اور’’ تکملہ فتح المہلم‘‘ سے صاحب ہدایہ کی کتاب تجنیس کا مذکورہ حوالہ بھی نکالنے کا اعلان کردیا۔
علامہ غلام رسول سعیدیؒ کے پاس گیا تو انہوں نے بتایا کہ’’ اپنے مکتبۂ فکر والوں نے میرا گریبان اس بات پر پکڑ لیا کہ سورۂ فاتحہ کو علاج کیلئے پیشاب سے لکھنے سے بہتر آدمی کا مرجانا ہے۔تم نے کیوں لکھ دیا ہے۔یہ علامہ شامی کی توہین کی ہے۔ اب مجھ میں ہمت نہیں ‘‘۔ جب غوروفکر کیا تو نتیجے پر پہنچ گیا کہ اصولِ فقہ میں پڑھایا جاتا ہے کہ’’ لکھائی کی شکل میں یہ اللہ کا کلام نہیں‘‘ ۔اسلئے بڑوں نے پیشاب سے لکھنے میں حرج نہیں سمجھا ۔
پھر قرآن کی ڈھیر ساری آیات مل گئیں کہ ’’ کتاب لکھی جانے والی چیز ہے‘‘۔ قرآن کتاب مسطور ہے۔ قلم اور سطروں میں لکھے ہوئے الفاظ اور معانی کی قسم قرآن میں موجود ہے۔ پھر یہ بھی پتہ چل گیا کہ امام ا بوحنیفہؒ نے زندگی جس ’’ علم الکلام‘‘ میں گزاری تھی اور پھر آخر میں اس سے توبہ کی تھی، یہ اسی گمراہی کا نتیجہ ہے۔ قرآن کے بہت سے الفاظ اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ کتابت الفاظ اور معانی ہیں اور قرآن بھی ۔ بچے کو Bسے بک اور ک سے کتاب پڑھایا جائے تو وہ بھی اسکو بخوبی سمجھتا ہے۔علماء اپنا نصاب ٹھیک کریں۔
ذہن میں شرعی پردے کا تصور آیا تو بھابھی،ممانی، چاچی اور دیگر رشتہ داروں سے پردہ شروع کردیا۔ بھائی کہتے تھے کہ یہ پردہ ہم نے کسی سے نہیں سنا لیکن علماء نے تصدیق کردی کہ ہم بے عمل ہیں اور یہی شرعی پردہ ہے۔یہ ہے چلتی کا نام گاڑی۔ پھر ایک دن قرآن کی آیت لیس علی الاعمیٰ حرج ولا علی الاعرج حرج و علی المریض حرج ولاعلی انفسکم ان تأکلوا فی بیوتکم او بیوت اباء کم او بیوت امھاتکم ۔۔۔نابیناپر حرج نہیں، پاؤں سے معذور پر حرج نہیں ، مریض پر حرج نہیں اور نہ تمہارے جانوں پر کوئی حرج ہے کہ کھاؤ اپنے گھروں میں،یا اپنے باپ، ماں،بھائی، بہن، چاچا، ماموں، خالہ، پھوپھی، اپنے دوست، جن سے تمہارا معاہدہ ہے، جنکے گھروں کی چابیاں تمہارے لئے کھلی ہیں کہ الگ الگ کھاؤ یا اکٹھے کھانا کھاؤ۔ اس آیت کا پس منظر پردے کے احکام ہیں۔ دنیا میں یہ آیت کسی کے سامنے بھی پردے کے حوالے سے رکھی جائے تو وہ آمنا و صدقنا کہیں گے۔ اجنبی مریض ، معذورکے علاوہ جن رشتہ داروں کا ذکر ہے، عام طور پر یہ لوگ ایکدوسرے سے کھانے کے حوالے یہی رسم نبھاتے ہیں۔ شاہ ولی اللہؒ کے فرزند شاہ عبدالقادرؒ نے اپنی تفسیر موضح القرآن میں لکھ دیا ہے کہ ’’ نابینا، پاؤں سے معذور اور مریض پر حرج نہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ جمعہ کی نماز ، جہاد وغیرہ کیلئے ان کو رخصت ہے‘‘۔ اس تفسیر کو شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی نے بھی نقل کیا ہے۔ حالانکہ آیت سے کیا مناسبت ہے؟۔ پردے کے احکام کی تفصیل اور واضح حکم کے بیچ میں کہاں بات لیکر گئے ہیں؟۔ اس سے اندازہ لگاسکتے ہیں کہ کتنی قابلیت ہے؟۔
مفتی صاحب! کتب احادیث میں ضعیف روایات کے ذخائر ہیں۔ امام ابوحنیفہؒ نے قرآن کے مقابلہ میں احادیث صحیحہ کا انکار کیا۔ اصولِ فقہ پڑھ کربھی تقلید پر لڑنے والے علماء کتنے جاہل تھے؟، امام ابوحنیفہؒ کے نالائق مقلدین نے حنفی مسلک کابیڑہ غرق کردیا۔ جس حدیث میں میں ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کو باطل باطل باطل قرار دیاگیا، اس کی صحت وسند دیکھ لی جائے جو حتی تنکح زوجا غیرہ کے مقابلہ میں پیش کرکے مسترد کی جاتی ہے اور پھر آیت وبعولتھن احق بردھن فی ذالک ان ارادوا اصلاحا کے مقابلہ میں کوئی حدیث پیش کرکے اس کو آیت کے مقابلے میں دیکھا جائے۔ پھر اس کی صحت وسند دیکھ کر موازنہ کیا جائے۔احنافؒ کے نزدیک وضو میں واجب نہیں ہوسکتا۔ قرآن میں طواف کا حکم ہے فلیطوفوا بالبیت العتیق اس میں وضو کا حکم نہیں۔ حدیث صحیحہ میں طواف کیلئے بھی وضو کا حکم ہے ،اسلئے طواف کیلئے وضو فرض نہیں واجب ہے۔
جن ضعیف روایات کو نقل کیا، یہ روایت بالمعنیٰ ہیں، روایوں نے اپنا خیال بھی ٹھونسا ہے۔ قرآن میں صلح کی شرط پر رجوع ہے توحضرت ابن عباسؓ کے فتویٰ کی یہ تاویل ہے کہ اس کی بیوی صلح پر راضی نہ ہوگی۔ اگر شوہر اللہ کا خوف رکھ کر بیگم سے حسنِ سلوک کرتا ہے تو عدت میں وہ رجوع سے انکار نہ کرتی، سورۂ طلاق کی آیات میں نہ صرف عدت کے اندر اور عدت کی تکمیل پر رجوع ہے بلکہ دوعادل گواہ مقرر کرنے کے بعد اللہ سے خوف رکھنے والوں کیلئے رجوع کی گنجائش رکھی ۔ ابن عباسؓ کے قول کی توجیہ سمجھنے میں مشکل نہیں۔اگر دوسری ضعیف بالمعنیٰ روایت درست ہو تو نبیﷺ نے ڈانٹ ڈپٹ کیلئے اور صلح میں کردار ادا کرنے کی غرض سے پوچھا ہوگا۔ جسکے قرائن سے بیشمار دلائل بھی دئیے جاسکتے ہیں ۔
آیات میں اصلاح کی شرط پر عدت اور بار بار معروف طریقے سے عدت کی تکمیل پر رجوع کی وضاحت کے مقابلے میں کوئی ٹھوس اور مستند حدیث نہیں۔ عوام حلالہ کے رسیا فقہاء پر اعتماد کرکے قرآن وسنت سے دورہوگئے جسکا آخرت میں پوچھا جائیگا۔ علامہ بدر الدین عینیؒ اور امام ابن ہمام ؒ کی وفات950ھ اور 980ھ میں ہوئی جو شیخ الاسلام شبیر احمدعثمانیؒ اور امام احمد رضاؒ سے بڑے علماء تھے، انہوں نے لکھاکہ ’’ زبان سے نہ کہا جائے اور دل میں حلالہ ہو تو نیت کا اعتبار نہیں پھر حلالہ لعنت ومکروہ نہیں ۔بعض مشائخ نے کہاکہ خاندان کو ملانے کی نیت ہو تو حلالہ کارِ ثواب ہے‘‘۔ حلالہ لعنت ہوتو نیت کا اعتبار نہیں اور ثواب ہو تو نیت کا اعتبار ہے، یہ انما الاعمال بالنیات ہے؟ ۔تفصیل لکھ دی تو پڑھتا جا شرماتاجا۔مفتی اکمل کہتاہے کہ’’ امام ابوحنیفہؒ نے حلالہ کو کارِ ثواب قرار دیا‘‘ ۔واہ بھئی واہ۔
مفتی عطاء اللہ نعیمی نے لکھ دیا کہ ’’ رسول اللہ ﷺ نے حلالہ والے پر لعنت بھیجی۔ اس کو کرائے کا بکرا قرار دیا، جس کی وجہ غیرت کی کمی اور ہتک ہے۔ جوحلالہ کو بے غیرتی و بے حیائی کہتا ہے تو اسکے ایمان وایقان کی جگہ بے غیرتی و بے حیائی نے لے لی ہے‘‘۔ اس گستاخانہ الفاظ سے نبیﷺ کی شان میں گستاخی نہیں ہے؟۔ ذرا وضاحت کیجئے گا۔
بریلوی آپس میں اور دیوبندیوں کیساتھ سورۂ فتح کی آیات کے ترجمے پر جھگڑ رہے تھے۔ انا فتحنا لک فتحا مبینا لیغراللہ لک ماتقدم من ذنبک وماتأخر ’’بیشک ہم نے آپ کو فتح مبین عطاء کی، تاکہ تجھ سے تیرا اگلاپچھلا بوجھ اللہ اُتاردے‘‘۔ کوئی کہتا تھا کہ نعوذباللہ نبیﷺ کی لغزش یا گناہ مراد ہیں اور کوئی والدین کے گناہ کی گالی دیتا تھا۔ جبکہ کوئی کم عقل سے کم عقل آدمی بھی اس بات کو سمجھ سکتا ہے کہ جب ذنب کے معنی گناہ اور بوجھ دونوں ہوں تو سیاق وسباق سے بات سمجھ میں آئے گی۔ اگر پس منظر میں یہ ہوگا کہ ہم نے یہ سزا اسلئے دی ہے تو گناہ معاف ہونا مراد ہوگا۔ لیکن جب پسِ منظر میں فتح مبین عطاء کرنے کا ذکر ہو تو اس سے بوجھ مراد ہوگا۔ نبی ﷺ پر دین کی تبلیغ اور غلبے ہی کا بوجھ تھا۔ ووضعنا عنک وزرک الذی انقض ظہرک ’’ہم نے تجھ سے وہ بوجھ اتارا،جس نے تیری کمر توڑ رکھی تھی‘‘۔ ظاہر کہ فتح مبین سے بوجھ ہی مراد لیں گے۔ مولانا کا لفظ غلام کیلئے بھی آتا ہے اور آقا کیلئے بھی۔ کیا اللہ کیلئے مولانا کہتے ہوئے غلام مراد لینا بدترین کفر نہیں ہوگا؟۔ میرے مرشدحضرت حاجی عثمانؒ پراس وجہ سے فتویٰ لگا کہ ایک مرید سے کہا کہ حدیث میں اگلے پچھلے گناہ معاف ہونے کی نسبت پوچھ لو، نبیﷺ نے فرمایا کہ’’ حدیث صحیح ہے مگر الفاظ میں ردوبدل ہے‘‘۔ یعنی ذنب کا معنی گناہ نہیں بوجھ ہے۔ جو علماء دیوار پر لکھے گئے مشاہدے پر فتویٰ نہیں لگاتے تھے وہ مفادت پر بک گئے۔