سیاسی جماعتوں سے کتوں کے ریلوں کی طرح عوام کیوں نفرت کرتی ہے؟

692
0

اگر ہماری سیاسی قیادت عوام سے ہوتی تو عوام کی حالت بھی بدل جاتی، عوام کی حالت بدلتی نہیں لیکن سیاسی قیادتوں، رہنماؤں اور انکے بچوں کی حالت ہی بدلتی رہی ہے۔ نوزشریف ، بھٹواور زرداری کے دوسرے بھی رشتہ دار ہیں کیا انکے بھی کاروبار ایسے چمک رہے ہیں،بچے ایسے دمک رہے ہیں یا یہ سیاست کا کرشمہ ہے کہ دونوں کا احوال ایکدوسرے سے بہت مختلف ہے؟۔نوازشریف کے بچوں میںآخر ایسی کونسی صلاحیت ہے کہ اپنے عزیز واقارب سے اتنا بڑا فاصلہ پیدا ہوا ؟ ،خربوزہ خربوزے کو دیکھ کر رنگ پکڑتا ہے، دوسرے سیاسی رہنماؤں نے بھی سیاست کو تجارت سمجھ کر اسی جانب رخ کردیاہے۔ عمران خان نے سوچا کہ مولویوں کی طرح شریف برادران کا دروازہ کھٹکھٹاکر ہسپتال کیلئے بھیک مانگنے اور کنگلا رہنے سے بہتر سیاسی جماعت بنانا ہے۔ پہلے کوئی پوچھتا نہ تھا مگر جب اقتدار کی خوشبو آنے لگی تو وہ لوگ جو موقع کی تلاش میں سیاستدانوں کا جتھایا کتوں کا ریلا بننے پر آمادہ رہتے ہیں وہی پیچھے میدان میں کود جاتے ہیں۔
قرآن نے انسان کو راہ پر لگانے کیلئے گدھے اور کتے کی ٹھیک مثالیں دیں۔
شاہ محمود قریشی ، مخدوم جاوید ہاشمی وغیرہ کی اپنی حیثیت ، شخصیت ، قد کاٹھ، صلاحیت ،سیاسی خدمت اور نمایاں مقام بلاشبہ عمران خان کے مقابلے میں زیادہ اہمیت کے حامل رہے مگر سیاسی جتھے میں شخصیت میں کمال کی بات نہیں ہوتی ، بس قیادت سے دلہنِ اقتدار کی خوشبو آنی چاہیے ، کتیا جو اورجیسی ہو، بڑے بڑے کتوں کو ریلے میں شامل ہونے کیلئے صرف مطلوبہ قیادت کا احساس ہوتا ہے۔وہ قد کاٹھ، رنگ نسل ،بوڑھی جوان، خصلت وکردار کو نہیں دیکھتے بلکہ اپنے وقتی نفسانی خواہشات کے پیچھے چل کر ثابت کرتے ہیں کہ کتا آخربہت ہی کتا ہوتا ہے، دنیا کے ایسے طلبگار شخص کیلئے کتوں کی مثال قرآن میں زبردست ہے جن کو چھوڑ دیا جائے، تب بھی ہانپے اور بوجھ لاددیا جائے تب بھی ہانپے۔
ذوالفقار علی بھٹو، نوازشریف، آصف زرداری، جنرل ضیاء ، پرویزمشر ف سب کے دورِ اقتدار میں قیادتوں کے گرد اسلئے لوگ اکٹھے ہوجاتے تھے کہ لیلائے قیادت سے اقتدار کی خوشبو آجاتی تھی، چوہدری شجاعت، شیخ رشید اور چوہدری نثار نے کونسی اہلیت نوازشریف میں دیکھی ؟۔ جو کٹ کر دوسری قیادت کے ریلے میں شامل ہوا ،یا وقتی طور سے حالات برداشت کرکے بیٹھا رہا، اس کی بنیاد قائدانہ صلاحیتوں پر اعتماد نہیں تھا بلکہ اپنے اپنے مفاد کا خیال تھا، شاہ محمود قریشی نے واضح طور سے ن لیگ کی قیادت اور عمران خان کے سامنے اپنے تقاضے رکھ لئے۔ شاہ محمود قریشی کو نوازشریف اپنے قریب رکھ لیتاتو ن لیگ میں ہی جاتا، وہ پہلے بھی مسلم لیگ میں تھا، مخدوم ہاشمی نے کہا تھا کہ ’’بے نظیر بھٹو کیخلاف جتنی گندی زباں وہ استعمال کرتا تھا، کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا‘‘۔ شاید شیخ رشید سے بھی بڑھ کر گالیاں دیتا ہوگا، پھر وہی جاویدہاشمی اور شاہ محمود قریشی جب عمران خان کی قیادت کے پیچھے اکٹھے ہوئے تو شاہ محمود قریشی نے نعرہ لگایا کہ ’’ اوپر اللہ نیچے بلا‘‘ جسکی جاوید ہاشمی نے تائید کردی پھر جاویدہاشمی نے جب تحریکِ انصاف سے راستہ جدا کیا تو اس بات کا اظہار کردیا کہ’’ روزِ اول سے یہ احساس تھا کہ کہاں پھنس گیا ہوں؟‘‘۔ جب شاہ محمود قریشی نے نعرے لگوائے کہ ’’باغی ہے یا داغی ہے‘‘ تو ہم نے لکھ دیا تھا کہ تحریکِ انصاف شاہ محمودقریشی سے عہد لکھوا دے کہ اگر تحریک انصاف کو اس نے چھوڑا تو یہ نعرہ نہ لگوائے گا کہ ’’ اوپر اللہ ، نیچے دلا‘‘۔پارٹی بدلنے پر کتوں کیلئے قیادت کی اہمیت کتیا جیسی رہتی ہے۔ نوازشریف اور ڈاکٹر طاہرالقادری ایک ریلے میں تھے،آج بھی کندھے پر غارِ حرا چڑھانے کیلئے ایک تنومند خرم نواز گنڈہ پور آمادہ نہ ہوگا۔ نوازشریف نے طاہر القادری کو چڑھایا تھا، وجہ صلاحیت تھی یا ضعف الطالب والمطلوب؟ عاشق و معشوقہ آج ایکدوسرے کو بہت نیچ اور کھوٹی نظروں سے دیکھتے ہیں؟۔ عامر فرید کوریجہ کو ڈاکٹر طاہر القادری کو چھوڑنے پر گالیاں اور قتل کی دھمکیاں ملتی ہیں؟۔ عامر کوریجہ ہی نہیں ڈاکٹر دلدار قادری مرکزی جنرل سیکرٹری منہاج القرآن، مفتی عبدالمجید اشرفی اور مولانا غلام دستگیر افغانی بھی چھوڑ گئے تھے۔کارکن نہ بدلنے کا دعویدار ڈاکٹرطاہرالقادری رہنماؤں کے بدل جانے کی کہانی کیوں بھول گیا؟۔
قائدانہ صلاحیت کی بات نہیں ہوتی بلکہ بڑے بڑے قد آور رہنما اقتدار کی بُو سونگھ کر ساتھ رہتے ہیں ، کتوں کے ریلے کا نام لینا بار بار اچھا نہیں لگتا لیکن قرآن کی آیت کا ورد کرنے سے ایمان کو تازگی ملتی ہے، مخصوص قسم کے لوگ سیاسی جماعتوں میں شامل ہوکر کسی نظریاتی اہمیت کیوجہ سے قیادتوں کا ساتھ نہیں دیتے بلکہ اقتدار کی خوشبو کتیا قیادت کے پیچھے لگنے کیلئے اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ نوازشریف کیساتھ اقتدار میں شامل لوگ ایکدوسرے سے بہ تکلف بول چال بھی نہیں رکھتے ۔ خواجہ آصف اور وزیر داخلہ ایکدوسرے پر غرانے سے بھی نہیں کتراتے مگر ایک ریلے کا حصہ ہیں، میں نے لیہ میں تعلیم حاصل کی ہے ، وہاں رہنے کیوجہ سے رؤف کلاسرا مجھے کچھ زیادہ اچھے لگتے ہیں یا وہ باکردار اور نظریاتی صحافی ہیں ، بہرحال ان کو سننے سے دلچسپی ہے، وہ حق بات کہنے میں نتائج کی پرواہ نہیں کرتے، برے وقتوں میں لوگوں کی اچھائیاں سامنے لاتے ہیں۔ محمود خان اچکزئی کیخلاف چوہدری نثار نے کچھ بولا، تو جناب رؤف کلاسرا نے یاد دلادیا کہ ’’چوہدری نثار سے میں نے پوچھا تھا کہ کس سیاسی قائد کو اپنا آئیڈیل سمجھتے ہو؟، چوہدری نثار نے کہا کہ میں دو شخصیات کے کردار سے متاثر ہوں، ایک خان عبدالولی خان اور دوسرے محمود خان اچکزئی‘‘۔
چوہدری نثار نے کہا کہ’’ رؤف کلاسرا نے مجھ سے زبردستی سے انٹرویو لیا تھا یعنی میں انٹرویو دینا نہیں چاہتا تھا‘‘۔ یہ ممکن ہے کہ گاڑی یا سواری میں آدمی بیٹھنے پر آمادہ نہ ہومگر کوئی زبردستی کرکے بٹھا دے یا اصرار کرکے بیٹھنے پر مجبور کرے ،یہ ممکن نہیں کہ چوہدری نثار کے منہ میں رؤف کلاسرا نے عبدالولی خان اور محمود خان اچکزئی کو زبردستی ٹھونس دیا ہو۔ اوریہ حیرانگی کی بات بھی نہیں اسلئے کہ مسلم لیگ جنرل ضیاء کی آمریت کا پاجامہ ہے ،جمہوریت پسند چوہدری اعتزازاحسن کا نام تو نہیں لے سکتے تھے، پھر سوال کا جواب دیا جاتا کہ قمر الزمان کائرہ اور منظور وٹو کیساتھ مل کر سیاست کیسے کی جاتی؟۔زرداری نے ق لیگ کو قاتل لیگ قرار کہا اور چوہدری شجاعت و چوہدری پرویز الٰہی نے پیپلزپارٹی کی دشمنی میں نواز شریف کے ریلے میں شامل ہونا گوارا کیا تھا، مگر پھر چوہدری پرویزالٰہی راجہ پرویز اشرف کا نائب وزیراعظم بن گیا۔ شیخ رشید کو ن لیگ والے قبول نہیں کرتے تو وہ برملا کہتاہے کہ’’ کوئی بھی آئے مگر نواز شریف کااقتدارختم ہو‘‘۔بھلے عمران خان، طاہرالقادری، چوہدری شجاعت، الطاف حسین، مولانا فضل الرحمن ، بلاول یا کوئی بھی ہو، ریلے میں شامل ہونے کیلئے قیادت کی خوشبو اہم ہوتی ہے، قیادت کی اپنی کوئی اہمیت نہیں ہوتی ہے۔یہ حال اکثر سیاسی رہنماؤں اور خاندانوں کا ہے، دو سگے بھائی اسد عمراپوزیشن اور وفاقی وزیر زبیرحکومت کے ریلوں کا حصہ ہیں۔
مولانا فضل الرحمن بدلتے حکومتی ریلے میں شامل رہتا ہے، افتخارچوہدری نے بھی اپنی جماعت بنالی ہے۔دوسری ادلتی بدلتی قیادتوں کا معاملہ تو کسی سے مخفی نہیں رہا ہے لیکن جب سے الطاف حسین نے اپنے کارکنوں سے اپنے رہنماؤں کی کُٹ لگوائی ہے اور پھر آہستہ آہستہ فضا بدل رہی ہے تو انکی حالت بھی دوسروں سے مختلف نہیں ، عوام کو اگر سب سے نجات ملے تو سب خوش ہونگے۔ فیصل واوڈا نے جماعت بدلنے پر سوال کاجواب دیا کہ ’’ سیاسی کارکن رہونگا‘‘۔ ایس ایس پی راؤ انوار نے پکڑ کر اچھا کیا۔ایسے لوگوں کو پروان چڑھایا جاتا ہے جنہوں نے اقتدار کی دلہن بننے سے پہلے مایوں اور مہندی جتنی قربانی بھی نہ دی ہو،نظریہ نہ ہو،نوازشریف ، عمران خان، طاہر القادری اور مصطفی کمال جیسوں کو نچایا جاتا ہے اگراسٹیبلشمنٹ نے اس کھیل کو بند کردیا تو قوم کی تقدیر بدل جائے گی۔ سیاسی جماعتوں سے کتوں کے ریلوں کی طرح عوام کیوں نفرت کرتی ہے؟
اگر ہماری سیاسی قیادت عوام سے ہوتی تو عوام کی حالت بھی بدل جاتی، عوام کی حالت بدلتی نہیں لیکن سیاسی قیادتوں، رہنماؤں اور انکے بچوں کی حالت ہی بدلتی رہی ہے۔ نوزشریف ، بھٹواور زرداری کے دوسرے بھی رشتہ دار ہیں کیا انکے بھی کاروبار ایسے چمک رہے ہیں،بچے ایسے دمک رہے ہیں یا یہ سیاست کا کرشمہ ہے کہ دونوں کا احوال ایکدوسرے سے بہت مختلف ہے؟۔نوازشریف کے بچوں میںآخر ایسی کونسی صلاحیت ہے کہ اپنے عزیز واقارب سے اتنا بڑا فاصلہ پیدا ہوا ؟ ،خربوزہ خربوزے کو دیکھ کر رنگ پکڑتا ہے، دوسرے سیاسی رہنماؤں نے بھی سیاست کو تجارت سمجھ کر اسی جانب رخ کردیاہے۔ عمران خان نے سوچا کہ مولویوں کی طرح شریف برادران کا دروازہ کھٹکھٹاکر ہسپتال کیلئے بھیک مانگنے اور کنگلا رہنے سے بہتر سیاسی جماعت بنانا ہے۔ پہلے کوئی پوچھتا نہ تھا مگر جب اقتدار کی خوشبو آنے لگی تو وہ لوگ جو موقع کی تلاش میں سیاستدانوں کا جتھایا کتوں کا ریلا بننے پر آمادہ رہتے ہیں وہی پیچھے میدان میں کود جاتے ہیں۔
شاہ محمود قریشی ، مخدوم جاوید ہاشمی وغیرہ کی اپنی حیثیت ، شخصیت ، قد کاٹھ، صلاحیت ،سیاسی خدمت اور نمایاں مقام بلاشبہ عمران خان کے مقابلے میں زیادہ اہمیت کے حامل رہے مگر سیاسی جتھے میں شخصیت میں کمال کی بات نہیں ہوتی ، بس قیادت سے دلہنِ اقتدار کی خوشبو آنی چاہیے ، کتیا جو اورجیسی ہو، بڑے بڑے کتوں کو ریلے میں شامل ہونے کیلئے صرف مطلوبہ قیادت کا احساس ہوتا ہے۔وہ قد کاٹھ، رنگ نسل ،بوڑھی جوان، خصلت وکردار کو نہیں دیکھتے بلکہ اپنے وقتی نفسانی خواہشات کے پیچھے چل کر ثابت کرتے ہیں کہ کتا آخربہت ہی کتا ہوتا ہے، دنیا کے ایسے طلبگار شخص کیلئے کتوں کی مثال قرآن میں زبردست ہے جن کو چھوڑ دیا جائے، تب بھی ہانپے اور بوجھ لاددیا جائے تب بھی ہانپے۔
ذوالفقار علی بھٹو، نوازشریف، آصف زرداری، جنرل ضیاء ، پرویزمشر ف سب کے دورِ اقتدار میں قیادتوں کے گرد اسلئے لوگ اکٹھے ہوجاتے تھے کہ لیلائے قیادت سے اقتدار کی خوشبو آجاتی تھی، چوہدری شجاعت، شیخ رشید اور چوہدری نثار نے کونسی اہلیت نوازشریف میں دیکھی ؟۔ جو کٹ کر دوسری قیادت کے ریلے میں شامل ہوا ،یا وقتی طور سے حالات برداشت کرکے بیٹھا رہا، اس کی بنیاد قائدانہ صلاحیتوں پر اعتماد نہیں تھا بلکہ اپنے اپنے مفاد کا خیال تھا، شاہ محمود قریشی نے واضح طور سے ن لیگ کی قیادت اور عمران خان کے سامنے اپنے تقاضے رکھ لئے۔ شاہ محمود قریشی کو نوازشریف اپنے قریب رکھ لیتاتو ن لیگ میں ہی جاتا، وہ پہلے بھی مسلم لیگ میں تھا، مخدوم ہاشمی نے کہا تھا کہ ’’بے نظیر بھٹو کیخلاف جتنی گندی زباں وہ استعمال کرتا تھا، کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا‘‘۔ شاید شیخ رشید سے بھی بڑھ کر گالیاں دیتا ہوگا، پھر وہی جاویدہاشمی اور شاہ محمود قریشی جب عمران خان کی قیادت کے پیچھے اکٹھے ہوئے تو شاہ محمود قریشی نے نعرہ لگایا کہ ’’ اوپر اللہ نیچے بلا‘‘ جسکی جاوید ہاشمی نے تائید کردی پھر جاویدہاشمی نے جب تحریکِ انصاف سے راستہ جدا کیا تو اس بات کا اظہار کردیا کہ’’ روزِ اول سے یہ احساس تھا کہ کہاں پھنس گیا ہوں؟‘‘۔ جب شاہ محمود قریشی نے نعرے لگوائے کہ ’’باغی ہے یا داغی ہے‘‘ تو ہم نے لکھ دیا تھا کہ تحریکِ انصاف شاہ محمودقریشی سے عہد لکھوا دے کہ اگر تحریک انصاف کو اس نے چھوڑا تو یہ نعرہ نہ لگوائے گا کہ ’’ اوپر اللہ ، نیچے دلا‘‘۔پارٹی بدلنے پر کتوں کیلئے قیادت کی اہمیت کتیا جیسی رہتی ہے۔ نوازشریف اور ڈاکٹر طاہرالقادری ایک ریلے میں تھے،آج بھی کندھے پر غارِ حرا چڑھانے کیلئے ایک تنومند خرم نواز گنڈہ پور آمادہ نہ ہوگا۔ نوازشریف نے طاہر القادری کو چڑھایا تھا، وجہ صلاحیت تھی یا ضعف الطالب والمطلوب؟ عاشق و معشوقہ آج ایکدوسرے کو بہت نیچ اور کھوٹی نظروں سے دیکھتے ہیں؟۔ عامر فرید کوریجہ کو ڈاکٹر طاہر القادری کو چھوڑنے پر گالیاں اور قتل کی دھمکیاں ملتی ہیں؟۔ عامر کوریجہ ہی نہیں ڈاکٹر دلدار قادری مرکزی جنرل سیکرٹری منہاج القرآن، مفتی عبدالمجید اشرفی اور مولانا غلام دستگیر افغانی بھی چھوڑ گئے تھے۔کارکن نہ بدلنے کا دعویدار ڈاکٹرطاہرالقادری رہنماؤں کے بدل جانے کی کہانی کیوں بھول گیا؟۔
قائدانہ صلاحیت کی بات نہیں ہوتی بلکہ بڑے بڑے قد آور رہنما اقتدار کی بُو سونگھ کر ساتھ رہتے ہیں ، کتوں کے ریلے کا نام لینا بار بار اچھا نہیں لگتا لیکن قرآن کی آیت کا ورد کرنے سے ایمان کو تازگی ملتی ہے، مخصوص قسم کے لوگ سیاسی جماعتوں میں شامل ہوکر کسی نظریاتی اہمیت کیوجہ سے قیادتوں کا ساتھ نہیں دیتے بلکہ اقتدار کی خوشبو کتیا قیادت کے پیچھے لگنے کیلئے اہمیت کی حامل ہوتی ہے۔ نوازشریف کیساتھ اقتدار میں شامل لوگ ایکدوسرے سے بہ تکلف بول چال بھی نہیں رکھتے ۔ خواجہ آصف اور وزیر داخلہ ایکدوسرے پر غرانے سے بھی نہیں کتراتے مگر ایک ریلے کا حصہ ہیں، میں نے لیہ میں تعلیم حاصل کی ہے ، وہاں رہنے کیوجہ سے رؤف کلاسرا مجھے کچھ زیادہ اچھے لگتے ہیں یا وہ باکردار اور نظریاتی صحافی ہیں ، بہرحال ان کو سننے سے دلچسپی ہے، وہ حق بات کہنے میں نتائج کی پرواہ نہیں کرتے، برے وقتوں میں لوگوں کی اچھائیاں سامنے لاتے ہیں۔ محمود خان اچکزئی کیخلاف چوہدری نثار نے کچھ بولا، تو جناب رؤف کلاسرا نے یاد دلادیا کہ ’’چوہدری نثار سے میں نے پوچھا تھا کہ کس سیاسی قائد کو اپنا آئیڈیل سمجھتے ہو؟، چوہدری نثار نے کہا کہ میں دو شخصیات کے کردار سے متاثر ہوں، ایک خان عبدالولی خان اور دوسرے محمود خان اچکزئی‘‘۔
چوہدری نثار نے کہا کہ’’ رؤف کلاسرا نے مجھ سے زبردستی سے انٹرویو لیا تھا یعنی میں انٹرویو دینا نہیں چاہتا تھا‘‘۔ یہ ممکن ہے کہ گاڑی یا سواری میں آدمی بیٹھنے پر آمادہ نہ ہومگر کوئی زبردستی کرکے بٹھا دے یا اصرار کرکے بیٹھنے پر مجبور کرے ،یہ ممکن نہیں کہ چوہدری نثار کے منہ میں رؤف کلاسرا نے عبدالولی خان اور محمود خان اچکزئی کو زبردستی ٹھونس دیا ہو۔ اوریہ حیرانگی کی بات بھی نہیں اسلئے کہ مسلم لیگ جنرل ضیاء کی آمریت کا پاجامہ ہے ،جمہوریت پسند چوہدری اعتزازاحسن کا نام تو نہیں لے سکتے تھے، پھر سوال کا جواب دیا جاتا کہ قمر الزمان کائرہ اور منظور وٹو کیساتھ مل کر سیاست کیسے کی جاتی؟۔زرداری نے ق لیگ کو قاتل لیگ قرار کہا اور چوہدری شجاعت و چوہدری پرویز الٰہی نے پیپلزپارٹی کی دشمنی میں نواز شریف کے ریلے میں شامل ہونا گوارا کیا تھا، مگر پھر چوہدری پرویزالٰہی راجہ پرویز اشرف کا نائب وزیراعظم بن گیا۔ شیخ رشید کو ن لیگ والے قبول نہیں کرتے تو وہ برملا کہتاہے کہ’’ کوئی بھی آئے مگر نواز شریف کااقتدارختم ہو‘‘۔بھلے عمران خان، طاہرالقادری، چوہدری شجاعت، الطاف حسین، مولانا فضل الرحمن ، بلاول یا کوئی بھی ہو، ریلے میں شامل ہونے کیلئے قیادت کی خوشبو اہم ہوتی ہے، قیادت کی اپنی کوئی اہمیت نہیں ہوتی ہے۔یہ حال اکثر سیاسی رہنماؤں اور خاندانوں کا ہے، دو سگے بھائی اسد عمراپوزیشن اور وفاقی وزیر زبیرحکومت کے ریلوں کا حصہ ہیں۔
مولانا فضل الرحمن بدلتے حکومتی ریلے میں شامل رہتا ہے، افتخارچوہدری نے بھی اپنی جماعت بنالی ہے۔دوسری ادلتی بدلتی قیادتوں کا معاملہ تو کسی سے مخفی نہیں رہا ہے لیکن جب سے الطاف حسین نے اپنے کارکنوں سے اپنے رہنماؤں کی کُٹ لگوائی ہے اور پھر آہستہ آہستہ فضا بدل رہی ہے تو انکی حالت بھی دوسروں سے مختلف نہیں ، عوام کو اگر سب سے نجات ملے تو سب خوش ہونگے۔ فیصل واوڈا نے جماعت بدلنے پر سوال کاجواب دیا کہ ’’ سیاسی کارکن رہونگا‘‘۔ ایس ایس پی راؤ انوار نے پکڑ کر اچھا کیا۔ایسے لوگوں کو پروان چڑھایا جاتا ہے جنہوں نے اقتدار کی دلہن بننے سے پہلے مایوں اور مہندی جتنی قربانی بھی نہ دی ہو،نظریہ نہ ہو،نوازشریف ، عمران خان، طاہر القادری اور مصطفی کمال جیسوں کو نچایا جاتا ہے اگراسٹیبلشمنٹ نے اس کھیل کو بند کردیا تو قوم کی تقدیر بدل جائے گی۔