تحریک انصاف کی اتحادی حکومت،PDM، جماعت اسلامی اور PTM کے زوال کی بالکل انتہاء

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے گھر کو ٹھیک کرنے ،اندرونی وبیرونی دفاعی معاملے میں بھی زیادہ خطرات کا اعتراف کیامگر مولانا فضل الرحمن، نوازشریف ،رؤف کلاسرا کے علاوہ سارے سیاستدانوں اور صحافیوں نے اعتراف کو غلط رنگ دیا

آرمی چیف کا مقصد پاکستان کی نظریاتی اساس ”اسلام” اور آئین کی روح ” قرآن وسنت” کو عملی جامہ پہنانے کیلئے ہندو برہمن سے توقع ہے مگرعلماء اور مذہبی جماعتوں سے نہیں ہے

وفاق المدارس کے قاری حنیف جالندھری نے کہا کہ عدالت میں عورت کے حقِ خلع کے خلاف ہم تحریک چلائیں گے ، حالانکہ علماء ومفتیان نے قرآن وسنت کیخلاف مسلک بنارکھا ہے

مولانا غفور حیدری نے کہا کہ مرزائیوں کے حق میں قومی اسمبلی سے قانون پاس ہوچکا تھا ۔ مجھے خوف تھا کہ چیئرمین سینیٹ کی غیر حاضری میں مجھے بل پاس ہونے پر دستخط کرنے پڑینگے !

پاکستان اسلام یا مسلمانوں کے نام پر بنا۔ اسلام اور مسلمان ایکدوسرے سے الگ نہیں، جو اسلام کو مانتا ہے وہ مسلمان اور جو نہیں مانتا وہ مسلمان نہیں۔ اسلام احکامِ خدا کے آگے سرِ تسلیم خم کرناہے جو اللہ کی کتاب اور خاتم الانبیائۖ کی سنت میں ہیں۔ آئینِ پاکستان میں قرآن وسنت کی بنیادی حیثیت ہے۔
یہودونصاریٰ کے افراط وتفریط میں مسلمان اعتدال پر ہے۔یہودکا عیسیٰ علیہ السلام کے بارے میں گستاخانہ اور عیسائی کا مشرکانہ عقیدہ تھا۔اسلام نے ان کی خواتین کیساتھ نکاح کو حلال قرار دیا ہے۔حضرت عائشہ کے حوالے سے روایات میں آتا ہے کہ رسول اللہۖ سے پہلے مشرک سے رشتہ طے تھا اور پھر اس نے اسلام کی وجہ سے رشتہ ختم کیا۔ تب حضرت ابوبکر نے رسول اللہۖکا حضرت عائشہ کیلئے پیغام قبول کیا، اسوقت ایک اور خاتون نے بھی اُم المؤمنین بننے کا پیغام قبول کرلیا تھا اسلئے پہلے ان کی رخصتی ہوئی اور حضرت عائشہ کی رخصتی تین سال بعد ہوئی۔ منگنی و نکاح کا اسلام میں فرق نہیں کیونکہ ایجاب وقبول ہی نکاح ہے۔ نکاح کے فوراً بعد رخصتی اور ازدواجی تعلقات قائم ہوں تو پھردو گواہ کی ضرورت ہے۔ اعلانیہ منگنی کے بعد دو گواہوں کی حیثیت محض قانونی ہے۔
رسولۖ کے وصال کی مشہورتاریخ بارہ (12) ربیع الاوّل ہے۔ یومِ وصال نہیں یوم ولادت منایا جاتا ہے اور یومِ ولادت پر اختلاف کو اجاگر کیا جاتا ہے اوریومِ وصال میں بھی اختلاف ہے، شیعہ کے ہاں یومِ ولادت اٹھارہ (18) ربیع الاوّل اور یومِ وصال اٹھائیس (28) صفر ہے۔ جب رسول اللہۖ کے یومِ وصال میں تاریخ کا نہیں بلکہ مہینوں کا فرق ہے تو اس سے تاریخی یاد داشت کی کمزور ی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ قرآن وسنت اورا سماء الرجال سے یہ ثابت ہے کہ نکاح کے وقت حضرت عائشہ کی عمرسولہ (16)سال اور رخصتی کے وقت اُنیس (19) سال تھی۔ علماء حق کو کھلے عام جشن کی ضرورت تھی کہ رسول اللہۖ نے اس عمر میں حضرت عائشہ سے شادی کی تھی جو موجودہ پاکستان کے قانون سے بھی ایک سال زائد تھی۔ ایک طرف علماء کی ہٹ دھرمی اور دوسری طرف اسلام دشمن ایجنڈا رکھنے والوں کا گستاخانہ رویہ دنیا کو ایک نئے تصادم کی طرف لے جارہاہے۔
قرآن وسنت اور اصولِ فقہ کے درست قواعد کی روح سے حلالہ کی لعنت کا کوئی جواز نہیں لیکن اس بے غیرتی کو مذہبی طبقے نے مسلط کررکھا ہے۔ قرآن وسنت میں مرد کو طلاق اور عورت کو خلع کا حق ہے لیکن مذہبی طبقے نے عورت سے خلع کا حق چھین رکھا ہے اور عدالت کے خلاف بھی اپنے احتجاج کے حق کو محفوظ سمجھتے ہیں۔وفاق المدارس کے قاری محمد حنیف جالندھری نے عدالتی خلع کے خلاف احتجاج کرنے کا عندیہ بھی دیا ہے۔
مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ قادیانیوں کی حمایت میں بل قومی اسمبلی سے منظور ہوچکا تھا اور سینیٹ سے منظور ہوجاتا تو مجھے دستخط کرنے پڑتے اسلئے کہ چیئرمین کی جگہ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کو یہ ڈیوٹی دینی پڑتی ہے لیکن الحمدللہ بل سینیٹ میں ناکام ہوا، پھر حکومت نے اس کو پاس کرنے کیلئے قومی اسمبلی وسینیٹ کا مشترکہ اجلاس بلایا ۔اس وقت نوازشریف کی حکومت تھی اور مولانا لوگ اسکے اتحادی تھے۔ یہ مولانا حیدری نے اپنی حسنِ کارکردگی پیش کی تھی جو اپنے مذہبی طبقے کو سمجھا رہے تھے کہ جمعیت علما ء اسلام اپنے فرضِ منصبی سے غافل نہیں ۔
مذہبی اور سیاسی طبقے کے اس گٹھ جوڑ کے خلاف شیخ رشید نے آواز اٹھائی۔ آج شیخ رشید وزیرداخلہ ہے جس نے کہا کہ مولویوں نے مجھ پر اس وجہ سے حملہ کیا تھا۔عمران خان کی ناکامی سامنے ہے اور سیاسی رہنماؤں کیساتھ آئندہ کچھ ہو یا نہ ہو لیکن پاک فوج کے کرتے دھرتوں کی خیر نہیں۔ براڈ شیٹ سے تین فوجی جرنیلوں کی نالائقی کے علاوہ پرویزمشرف کا آفتاب شیرپاؤ کو معاف کرکے وزیرداخلہ بنانا فوج کے کردار کو ناپاک کرنے کیلئے کافی ہے۔ عدالتی نظام نے سیاستدانوں کا کچھ نہیں بگاڑنا۔ عمران خان نے حکومت کے خاتمے تک اپوزیشن کی زبان میں بک بک کے سوا کچھ نہیں کرنا ۔ اسٹیٹ بینک کے بعد پاک فوج اور ہمارے ریاستی اداروں کو عالمی اداروں کی تحویل میں دینے کا ایجنڈا ہے۔
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی تقریر اس بکرے کی طرح چیخنا ہے جس نے عید کے دن قصائی کے ہاتھوں اپنے اور اپنے ساتھیوں کے کٹ مرنے کا بس انتظار کرنا ہے۔ اگر پاک فوج کی طاقت کا خوف نہیں رہا تو غیظ وغضب سے بھری ہوئی عوام جہاں فوجی جرنیلوں کا بنگلہ دیش سے برا حشر نشر کردینگے وہاں عدلیہ، پولیس، سول بیوروکریسی اور سیاستدانوں اور انکے ٹاؤٹ لوگوں کو بھی انقلابِ فرانس سے زیادہ سبق سکھائیں گے، مذہبی طبقے اور تاجر وں کی بھی خیر نہیں ہوگی۔ لوگ تنگ آمد بجنگ آمد کی طرف جارہے ہیں اور صحافیوں نے تجوریاں بھریں یا بھنگ کے نشے کاہدف حاصل کرنے کے سوا کچھ نہیں کیا۔ نوازشریف نے جیل سے جھوٹ کی بنیاد پر رہائی حاصل ہونے اور نظریاتی بننے کے بعد بھی جنرل قمر جاوید باجوہ کو توسیع دیدی اور باپ بیٹی پھر نظریاتی بن گئے اور حسن نثار عمران خان کی ساری نالائقی کو سپورٹ کرنے کے بعد آج پھر بچکانہ باتوں کی ٹرٹر کرنے سے اپنے سامعین کو لوریاں دے رہاہے۔ جب تک کم بخت لوگوں کا منہ سرِ عام کالا کرکے ان کی تذلیل نہیں کی جائے کہ تم بیوقوف نہیں بلکہ بیوقوف بنانے کے جرم میں برابر کے شریک ہو۔ اب اس عمر میں لاہوریوں کے دماغ کی رگیں صرف اس وقت کھلیںگی جب وہ میڈیا پر ٹانگ اٹھاکر ٹیٹ مار کر دکھائیںگے۔ مریم نواز بتائے کہ اسکا باپ بزدلی کی وجہ سے نہیں آرہاہے یا کوئی بیماری ہے؟۔ سہیل وڑائچ ، حامدمیر ، سلیم صافی ، شاہ زیب خانزادہ اور دیگر اینکر پرسن اپنی نوکری کا نمک حلال کرنے کیلئے کچھ کریںگے یا پھرہم بتائیں؟۔
جانی خیل بنوں میں گڈ طالبان کے ہاتھوں مارے جانے والے چار بچوں کی لاشوں کا احتجاج اسلام آباد کی طرف جانے سے بڑی مشکلوں کے بعد روکا جاسکا۔ الیکٹرانک میڈیا نے کوریج نہیںدی ورنہ ہزارہ برداری کوئٹہ سے بھی ان لاشوں کا احتجاج خطرناک تھا اسلئے کہ شمالی وزیرستان کے لوگ بھی بہت تھک چکے ہیں۔ پاکستان بھر میں بچیوں کا ریپ ہوتا ہے مگر خٹک بچی پر سابق ایم این اے (MNA) مولانا شاہ عبدالعزیز نے آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی کو دھمکی دی کہ ہمیں ہتھیار اٹھانے پر مجبور نہ کیا جائے، یہ قصور، فیصل آباد، گوجرانوالہ ، گجرات نہیں۔

NAWISHTA E DIWAR April Edition 2021
Chief Editor: Syed Atiq Ur Rehman Gilani
www.zarbehaq.com www.zarbehaq.tv
#zarbehaq #nawishta_e_diwar #ittehad_e_ummatorbit

Leave a Reply

Back to top button