تحریک انصاف کا اسپانسر جہانگیر ترین گروپ لگتا ہے کہ غالب آیا ہے اور اسد عمر جیسے لوگوں کی جگہ مافیا مسلط کیا جارہا ہے

تحریک انصاف سندھ کے سابق اسپانسر اشرف میمن نے کہا کہ پاکستان، عالمِ اسلام اور پوری دنیا کی موجودہ صورتحال بہت نازک ہیں۔ پاکستان، عالمِ اسلام اور پوری دنیا اس نازک موڑ پر کھڑی ہونے کے بعد کن حالات کا سامنا ہوگا؟۔ کچھ نہیں کہا جاسکتا۔ پیشین گوئیوں، خوابوں اور اُمیدوں کی کیفیت پر پاکستان کے اصحابِ حل وعقد نے خود کو چھوڑ دیا تو طوفان کے انتہائی بے رحم اور بے مروّت موجوں نے ہمارا خدانخوانخواستہ بہت برا کردینا ہے۔ پاکستان و قوم کی فکر کی نہیں۔ انسانیت کا درداوراسلام کا جذبہ مفادات کی موجوں میں تڑپ تڑپ کر بدحال ہے۔ عمران خانی حکومت میں شاہ محمود قریشی اور جہانگیر ترین کے مافیاز ایکدوسرے کو نیچا دکھا رہے ہیں۔ جہانگیر ترین اسپانسر گروپ کا سرغنہ ہے جو اسد عمر سمیت ایک اچھی تبدیلی کی اُمید رکھنے والی ٹیم کو پچھاڑ چکا ہے۔
تحریک انصاف کے دو اہم ترین گروپوں میں مڈبھیڑ نے سوشل میڈیا پر حکومت کی کمزوری کو دیکھ کر ایک طوفانِ بد تمیزی کا سماں باندھ دیا ہے۔ بلاول بھٹو زرداری نے موجودہ حکومت کو کٹھ پتلی کہنے کی رٹ تیز کردی ہے اور ن لیگی مریم اورنگزیب نے عمران خان کی بے نامی جائیداد علیمہ خان کو چھوٹ دینے پر گرفت کرنے کا کام شروع کردیا ہے۔ پاکستان کے ساتھ ہندوستان کی روایتی دشمنی عروج پر ہے لیکن بدقسمتی سے پڑوسی مسلم ممالک ایران وافغانستان کیساتھ بھارت کے تعلقات اچھے اور ہمارے خراب ہیں۔ چین سے تعلقات اچھے ہوں تو سعودی عرب امریکہ سے مشروط ہے۔ایک گومگوں کی کیفیت عمران خان کو اسمبلیاں توڑ کر صدارتی نظام کی طرف جانے کا مشورہ دیا جارہاہے۔ سیاسی جماعتیں اکٹھی ہوگئیں تو ریاست کمزور ہوگی۔ عمران خان ایک بہت کمزور پوزیشن میں اپنی حکومت چلا رہا ہے۔ کابینہ میں ردوبدل کے بعد اگر اس نے اسمبلیاں توڑ دیں تو عمران خان کے بارے میں یہ کہا جائیگا کہ مشاہداللہ خان وغیرہ ٹھیک کہتے تھے کہ جس سے گھر نہیں سنبھالا جاتا ہے وہ ملک کیسے سنبھال سکتا ہے۔ ایک طرف حکومت اور اپوزیشن کی حالت ناگفتہ بہ ہے تو دوسری طرف امریکہ افغانستان سے جانے کیساتھ خطے میں تبدیلی کا خواہاں ہے اور اسکے پسِ پردہ قوتوں کی زباں عمران خان بھی بولنے لگا ہے۔ عمران خان پہلے تو طالبان کا حامی تھا جو بظاہر پاک فوج سے لڑ رہے تھے اور اب PTMکا بھی کہا ہے کہ”بات ان کی ٹھیک ہے لیکن لہجہ درست نہیں ہے“۔
جب قبائلی علاقہ جات میں حکومت کی کوئی عمل داری نہیں تھی۔ تھانہ، پولیس اور کورٹ، کچہری وزیرستان اور تمام قبائلی علاقوں میں اب بھی نہیں ہے۔ وہاں کے لوگوں نے دل وجان سے ان دہشت گردوں کو پناہ دی جنہوں نے امریکہ کیساتھ مقابلہ کرنے کے بجائے پاکستان اور عوام کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔ پاک فوج کا کردار نہ ہوتا تو PTMکے رہنماؤں اور عمران خان میں تحریک کی جرأت بھی نہ ہوتی۔ اگر سارا ملبہ بھی پاک فوج پر ہی ڈالا جائے تو پاکستان کی ریاست کو صفحہئ ہستی سے مٹانے کیلئے یہ کافی ہے۔اگر عمران خان اورطالبان کی طرح PTMکے پیچھے بھی وردی ہے تو یہ تین تگاڑہ کا دائرہ آخر کار ملک کا کہیں بیڑہ ہی غرق نہ کردے۔
پاکستان اسلام کے نام پر بنا تھا لیکن اسلام اجنبیت کی شکل اختیار کرگیا تھا۔اتنی بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ایک طرف علماء ومفتیان نے نکاح، طلاق اور رجوع کا واضح مسئلہ بھی بگاڑ دیا تھا۔ جمعیت علماء ہند کے رہنما مفتی اعظم ہند مفتی کفایت اللہ صاحب نے ایک ضخیم کتاب لکھ ڈالی کہ ”فرض نمازکے بعد سنت نماز پڑھی جائے تو پھر اجتماعی دعا بدعت ہے“۔ اندورن سندھ دیوبندی مراکز بیرشریف لاڑکانہ، ہالیجی شریف اور امروٹ شریف کی مساجد میں آج بھی سنتوں کے بعد اجتماعی دعا ہوتی ہے۔ افغانستان، پختونخواہ اور بلوچستان میں دیوبندی آپس میں ایکدوسرے سے اس بات پر لڑتے ہیں کہ سنتوں کے بعد اجتماعی دعا بدعت ہے یا نہیں ہے؟۔ اوریا مقبول جان کہتا ہے کہ حکومت دیوبندیوں کیساتھ امتیازی سلوک اسلئے کرتی ہے کہ اس مسلک میں ملاعمر پیدا ہوا ہے۔ دیوبندی خطیب مولانا عبدالمجید ندیمؒ کہتے تھے کہ پہلے دوسرے مسالک والے استعمال ہواکرتے تھے اوراب دیوبندی استعمال ہوتے ہیں۔ اگر مفتی اعظم ہند نکاح، طلاق اور رجوع کے حوالے سے قرآن وسنت کی طرف دھیان دیتے تو دیوبندی آپس میں بھی تقسیم نہ ہوتے اور اسلام کی نشاۃ ثانیہ کا مرکز بھی ہوتے۔ علماء دیوبند کو بریلوی مکتبہئ فکر سے معروف مسائل پر لڑنے سے اپنے مرشد حضرت حاجی امداداللہ مہاجر مکیؒ نے منع فرمایا تھا لیکن دیوبندی اپنے مرشد کی بات بھی نہ مانے۔ اگر وہ قرآن وسنت کی طرف توجہ دیتے تو علامہ انورشاہ کشمیریؒ کو آخری وقت میں یہ نہ کہنا پڑتا کہ ”ساری زندگی قرآن وسنت کی خدمت کرنے کے بجائے مسلکوں کی وکالت میں ضائع کردی“۔ دیوبندیوں نے پہلے تو اپنے مرشد حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ کی کتابوں کو نظر انداز کردیا اور پھر شیخ الہند مولانا محمودالحسنؒ کو نظر انداز کردیا۔ پھر حضرت حاجی محمد عثمانؒ پر فتوے لگادئیے۔ اب ایک موقع اور مل گیا کہ سیدعتیق الرحمن گیلانی پر تمام مسالک اور فرقوں نے حضرت حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ اور حضرت حاجی عثمانؒ کے تسلسل کیساتھ اتفاق الرائے شروع کی ہے جس نے اپنی جوانی مسلک کی وکالت نہیں بلکہ قرآن وسنت اور خلافت کیلئے ہی وقف کردی ہے۔ عمران خان نے 1992ء میں کرکٹ کا میچ جیتا تھا۔ جبکہ سید عتیق الرحمن گیلانی اسلام کی نشاۃ ثانیہ کیلئے جدوجہد کی وجہ سے 1991ء میں کالے قانون 40FCRکے تحت ایک سال بامشقت قید کی سزا کاٹ رہے تھے۔
ٹانک کے دیوبندی اکابر مولانا فتح خانؒ، مولانا عبدالرؤفؒ، مولانا قاری احمد حسن شہیدؒ، مولاناشیخ شفیعؒ، مولانا غلام محمدؒ، مولانا عصام الدین محسود حمایت کررہے تھے جو جمعیت علماء اسلام ف،س اور ختم نبوت کے ضلعی رہنما تھے۔پھر ڈیرہ اسماعیل خان میں مولانا فضل الرحمن کے ایماء پر دیوبندی علماء نے مل کر یہ فتویٰ لگایا کہ ”اس بات پر اجماع ہے کہ شیعہ کافر ہے، یہ شخص اس اجماع کو نہیں مانتا،اسلئے گمراہ ہے“ جب فتوے کا جواب لکھ دیا کہ ”سعودیہ اور ملی یکجہتی کونسل کے رہنماؤں پر بھی یہ فتویٰ لگتا ہے تومعافیاں مانگتے پھررہے تھے“۔ طالبان نے زور پکڑا تو پروپیگنڈہ ہوا کہ گیلانی صاحب بریلوی ہیں۔پاکستان،عالم اسلام اور دنیا کو بچانے کیلئے اس شخص نے جو محنت، سوچ، فکر اور تحریک پیدا کی،وہ قوم کی تقدیر بدلنے کا واحدراستہ ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں