آرمی چیف راسخ العقیدہ سنی مسلمان ہیں، گھکڑ منڈی کے علامہ زاہد الراشدی و دیگر ذرائع سے سوشل میڈیا کی افواہ غلط ثابت ہوئی ہے۔ قرآن کی آیت سچ ثابت ہوئی ہے۔سید عتیق الرحمن گیلانی

595
0

انگریز کے جانے کے بعد بھارت اور پاکستان میں فوج ، عدلیہ اور بیورو کریسی کا نظام جوں کا توں ہے۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا لیکن اسلامی نظام تو بہت دور کی بات ہے ہماری مملکت خدا داد میں فلاحی ریاست بھی قائم نہ ہوسکی۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح آغاخانی ، پہلے دو آرمی چیف انگریز ، پہلا وزیر خارجہ قادیانی اور پہلا وزیر قانون ہندو تھا۔ 1971 ؁ء میں سقوط ڈھاکہ پیش آیا، باقی ماندہ مغربی پاکستان میں ذو الفقار علی بھٹو نے اسلامی سوشلزم کا نعرہ لگایا، آخر کار 1973 ؁ء میں پہلی مرتبہ پاکستان کو اسلامی جمہوری آئین ملا۔ پہلے ختم نبوت کی تحریک والوں پر بغاوت کے مقدمات قائم ہوئے ، تحقیقاتِ عدالت پنجاب کے نام سے حکومت نے جو کتاب شائع کی ، اسمیں جسٹس منیر کی سربراہی میں مرزائی اور ان کو تحفظ دینے والوں کو اصل مسلمان اور انکے مخالف فسادی قرار دئیے گئے، جن کو اسلام اور مسلمانوں کی تعریف کا بھی پتہ نہیں تھا۔ شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانی نے قائداعظم کا نمازِ جنازہ پڑھایا لیکن وزیرخارجہ سر ظفراللہ نے یہ کہہ کر جنازہ پڑھنے سے انکار کیا کہ ’’ایک کافر کا جنازہ مسلمان نہیں پڑھ سکتا یا پھر ایک کافر مسلمان کا جنازہ نہ پڑھے‘‘۔
ذوالفقار علی بھٹو نے تحریکِ ختم نبوت والوں کی حوصلہ افزائی کی اور پاکستان میں قادیانیوں کو کافر قرار دینے کا قانون بنایا گیا۔ سوشل میڈیا پر یہ خبر پھیلائی گئی ہے کہ غیرمسلم فوج میں بریگیڈئر کے عہدے سے زیادہ ترقی نہیں کرسکتا۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے فوج میں ترقی کیلئے قادیانیت کا مذہب ترک کردیا ہے۔ جنرل ضیاء الحق کے سسر جنرل رحیم کے بارے میں بھی مشہور ہے کہ وہ کٹر قادیانی تھے۔ جمعیت علماء اسلام (ف) کے امیر مولانا عبد الکریم بیر شریفؒ لاڑکانہ کا اصرار تھا کہ جنرل ضیاء الحق قادیانی ہیں۔ جنرل ضیاء الحق نے علماء کی تحریک پر نہ صرف قادیانیت سے برأت کا اعلان کیا تھا بلکہ قادیانیوں پر سخت ترین پابندیاں بھی لگادی تھیں۔ قائد اعظم محمد علی جناح کے رشتے ناطے اپنے کزن پارسیوں سے تھے۔ قائد اعظم کو تعلیم بھی انکے والد کے دوست کراچی کی معروف پارسی شخصیت نے ہی لندن میں دلائی تھی۔ پاکستان بنتے وقت بنگلہ دیش اور چاروں صوبوں میں کسی کو بھی اُردو نہیں آتی تھی۔ سر آغا خان نے تجویز دی تھی کہ پاکستان کی قومی زبان عربی ہو، تاکہ قرآن و سنت اور عرب ممالک سے روابط پیدا کرنے میں آسانی ہو۔ ہمارے ارباب اختیار نے اردو کو مسلط کرکے مشرقی پاکستان بنگلہ دیش کو کھودیا۔ 69سال ہوگئے کہ قومی زبان اردو کو سرکاری زبان نہ بناسکے۔ سرتاج عزیز بھارت سے بے آبرو ہوکر نکالا جاتا ہے تو انگریزی میں تقریر کرکے عوام سے نہیں ڈونلڈ ٹرمپ سے مخاطب ہوتا ہے۔ میڈیا پر اردو میں ترجمہ کرکے لکھا گیا کہ افغان صدر اشرف غنی کا بیان قابل مذمت ہے اس بیان سے اس کی گھبراہٹ واضح ہوتی ہے۔ سرتاج کا دماغ شاید چل گیا ہے ، جب افغانستان اور دنیا کو یہ شکایت ہے کہ پاکستان سے دراندازی ہوتی ہے تو یہ کہنا کہ ’’اشرف غنی کے بیان سے پتا چلتا ہے کہ گھبراہٹ طاری ہے‘‘ سے وہی مؤقف واضح ہوتا ہے جس کا ہمارے بزرگ وزیر خارجہ نے ازالہ کرنا تھا۔اگر ہم افغان صدر کو ڈرانا چاہتے پھر یہ بیان درست ہوتا۔ ہماری دیرینہ خواہش یہ ہے کہ ہم سے انکا خوف نکل جائے۔
پاکستان کی تاریخ میں اگر رانا بھگوان داس کو ایک عرصے تک مستقل چیف جسٹس بنادیا جاتا تو عدالت کی تاریخ میں سب سے زیادہ انصاف اور قانون کیمطابق فیصلے ہوتے۔ انگریز آرمی چیف کی قیادت میں پاک فوج نے قبائلیوں کی مدد سے سرینگر تک کشمیر کو فتح کرلیا تھا۔ پھر سیاسی قیادت نے اقوام متحدہ کے آسرے پر پاکستانی افواج اور قبائلیوں کو واپس بلالیاپھر کشمیر کا مسئلہ حل نہ ہو سکا، پہلے مسلمان آرمی چیف جنرل ایوب خان نے بیوروکریسی کے صدر کو معطل کرکے اقتدار پر قبضہ کیا اور ذو الفقار علی بھٹو کو وزیر خارجہ بنادیا۔ بھٹوکو اپنے محکمے اور ملک میں قادیانی کی طاقت کا اندازہ تھا اسلئے مذہبی طبقوں کو قادیانیوں کے خلاف تحریک کی کھلی چھوٹ دے دی۔ پاکستان کی بنیاد ہی مکس ملغوبہ تھا۔ سیکولر لوگوں نے اسلام کے نام پر عوام میں مذہبی منافرت کی بنیاد رکھ دی تھی۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ’’ اگر شریعت میں اللہ کے سوا کسی کو سجدے کی اجازت ہوتی تو عورت کو حکم کرتا کہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے‘‘۔ کمزور کو طاقتور سے نہ لڑانے کی یہ بہترین حکمت عملی ہے۔ صحافت و سیاست کے شعبے میں ایسے لوگوں کی بہتات ہے کہ اگر آرمی چیف کو سجدے کی بھی ملک میں روایت ہوتی تو بہت سارے قطار اندر قطار کھڑے رہتے۔ مغل بادشاہ اکبر کے دربار میں بھی درباری ملاؤں اور حکومت کے دست و بازو نے سجدہ تعظیمی کا ارتکاب کیا تھا۔ جنرل رحیم کے داماد جنرل ضیاء الحق نے جو احسانات نواز شریف اور اسکے خاندان پر کئے تھے ، احسان کے بدلے میں احسان کے طور پر ہی نہیں بلکہ سُود جیسے بدترین گناہ کے طور پر بھی اگر نواز شریف جنرل قمر باجوہ کو چیف آف آرمی اسٹاف بناتا تو قابل تعریف تھا۔ لیکن اگر اس نے پاک فوج کو کمزور پوزیشن پر لانے کیلئے کسی بدنیتی کا مظاہرہ کیا ہے تو اسکے نتائج بھی خود ہی بھگتے گا۔ بھارت میں سکھ نالاں ہیں اور باغیانہ ذہنیت رکھتے ہیں لیکن اکثر و بیشتر سکھ ہی آرمی چیف بنتا ہے۔ ہمارے ملک میں اقلیت سے تعلق رکھنے والے قادیانیوں پر بغاوت کا کوئی الزام نہیں ہے بلکہ پاکستان بنتے وقت قادیانیوں نے بھارت کے قادیان کو چھوڑ کر ربوا چنیوٹ پنجاب کو اپنا مرکز بنایا۔ جب طالبان ، مجاہدین اور پاک فوج کے جوان قبائلی عوام اور پاکستانیوں پر مظالم ڈھاتے تھے تو شریف برادران اور عمران خان وغیرہ کی ہمدردیاں طالبان سے ہوتی تھیں۔ عوام کے سمجھدار لوگوں میں یہ سوچ بھی موجود تھی کہ فوج میں قادیانیوں کا غلبہ ہے اور جان بوجھ کرخاص طور پرپختون اور عام طور پردوسری قومیتوں کے لوگوں کو قادیانی ذہنیت کی خاطر تباہ و برباد کیا جارہا ہے۔ جنرل راحیل شریف سے عوام کی محبت اسلئے بڑھی کہ ملک میں اس فتنے و فساد کا ایک حد تک قلع قمع کردیا گیا ہے۔
حضرت عمر فاروق اعظمؓ نے حضرت علیؓ کی مشاورت سے اپنے دور حکومت میں جو نظام تشکیل دیا اس میں پولیس ، فوج ، عدلیہ اور بیت المال وغیرہ میں دوسرے ممالک سے استفادہ لیا گیا۔ آج شدت پسند بھی اغیار کے فوجی تعلیم و تربیت اور جدید آلات سے ہی مدد لیتے ہیں۔ پاکستان بہت نازک موڑ پر کھڑا ہے ، میڈیا کا کردار عدل و اعتدال کے قیام کے بجائے افراط و تفریط پھیلانا رہ گیا ہے۔ صحابہ کرامؓ کے دور میں اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا کہ جب کوئی فاسق خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کرو اور اس کو سمجھنے میں دشواری ہو تو اولی الامر سے تصدیق کرواؤ ۔ آج فاسق فاجر میڈیا کا فائدہ اٹھا کر جس طرح سے ہوش ربا خبریں پھیلاتے ہیں اور ملک میں جو صورتحال موجود ہے اس کے کچھ بھی نتائج نکل سکتے ہیں۔ بڑے علماء کرام اپنے نصاب تعلیم میں کفر کے مترادف مضامین کو تسلیم کرنے کے باوجود تبدیل کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے توعام مسلمانوں سے کیا توقع ہوگی؟ ۔
ڈاکٹر طاہر القادری نے داعش کے اوپر احادیث کو فٹ کیا تو انہی احادیث میں یہ بھی ہے جو مولانا یوسف لدھیانوی نے اپنی کتاب ’’عصر حاضر حدیث نبوی ﷺکے آئینہ میں‘‘ نقل کیا ہے کہ ’’لوگوں پر ایک وقت ایسا بھی ضرور آئیگا جب کمینہ ابن کمینہ کو بہت معزز سمجھا جائیگا‘‘۔ موجودہ دور کی وہ شخصیات جنہوں نے محض اپنی چالاکیوں سے ایسا مقام حاصل کیا ہے کہ ہر قسم کی الٹی سیدھی ہانکتے ہیں مگر پھر بھی انکی سیکورٹی پر خاطر خواہ پیسے خرچ کئے جاتے ہیں۔ کوئی ان سے درست بات پوچھتا بھی ہے تویہ جواب دینے کی پوزیشن میں بھی نہیں ہوتے ہیں۔ سید عتیق الرحمن گیلانی