رسول فرمائیگا اے میرے رب! بیشک میری قوم نے اس قرآن کو چھوڑ رکھا تھا. القرآن

742
0

مسلم امہ کی گراوٹ کا یہ عالم ہے کہ دنیا کی واحد مسلم ایٹمی پاور کے وزیراعظم نوازشریف کو امریکی ٹرمپ کے سامنے چاکری کرنے کا موقع نہ ملنے پر طوفان کھڑا ہوا۔ کل نواز شریف طالبان کیساتھ فوج کے خلاف کھڑا تھاکہ فوج امریکی ایجنٹ ہے پھر ’’رات گئی بات گئی‘‘، قطر کی حکومت امریکہ اور دہشتگردوں کا مشترکہ اثاثہ تھا مگر اچانک عرب نے قطر سے تعلقات منقطع کرلئے کہ دہشتگردوں کا سرپرست تھا۔ حقائق کی سمجھ دیر سے آئی تو بھی یہ المیہ تھا اور اچانک معاملہ بگڑنے پردوسروں کیلئے بھی غیر یقینی کی کیفیت ہے۔جنرل راحیل شریف اور پاکستانی فوج کو چاہیے کہ وقتی طور سے گھمبیر صورتحال میں اُمہ کے مفادکوسامنے رکھیں۔ قیادت خدمت ہے، بچوں کیلئے باہر اثاثے بنانے والے لٹیروں کو عدالت سے سزا ہونے دیں ورنہ قوم تباہ وبرباد ہوجائیگی اور ملک قائم نہیں رہیگا۔نام نہاد لٹیری قیادت کو سزا ملے تو کوئی بھی قیادت کے حصول پرکبھی نہیں لڑیگا۔ سیاسی رہنماؤں نے اپنی وفاداری بدل بدل کر نظریاتی اور کردار کی سیاست کا قلع قمع کردیا ہے ۔میڈیا لوگوں کو مزید بے حسی کی طرف دھکیل رہاہے۔ مدارس و مساجد فکر وشعور ، عمل وکردار اور نظام خلافت کے قیام کیلئے بہترین پلیٹ فارم ہیں۔علماء کو اپنے نصاب، فرقہ وارانہ انتہاپسندی اورصرف پیٹ و جیب کا خیال رکھنے کے بجائے میدان میں متحد ہوکر اترناہوگا۔ بروزِ قیامت رسولﷺ کی قرآن کے بارے میں شکایت قابلِ غور ہے۔ جب تک اس شکایت کا ازالہ کرنے کی کوشش نہ کرینگے تو زوال وپستی سے نہیں نکل سکتے ۔ خواجہ سعد رفیق کا بیان قابلِ تعجب تھا کہ ’’ لیاقت علی خان، حسین سہروردی، ذوالفقار علی بھٹو اور یوسف رضا گیلانی کیساتھ کیاہوا؟‘‘ نوازشریف کی تاریخ بڑی بھیانک ہے، دُم پر پاؤں پڑنے لگا تو چیخ نکلنا شروع ہوئی۔ علماء و مشائخ صرف اپنے پلیٹ فارم کی اہمیت کو سمجھ لیں اور قرآن وسنت کے منشور کو پیش کردیں تو وہ قائدہیں۔ آزادی کے وقت دو قومی نظریہ کاعلامہ اقبال اور قائداعظم نے قوم کو دیا ، کچھ علماء ومشائخ مسلم لیگ کیساتھ تھے اور کچھ کانگریس کیساتھ۔ آج پاکستان کا نظریاتی وجود بے کردار سیاسی قیادت کی نذر ہوا۔ بھٹو کی طرف سے اسلامی سوشلزم کا نعرہ اسلام تھا اور نہ سوشلزم۔ معجون مرکب ختم ہوا تو سود کیلئے حلالہ کی لعنت ہے۔اسلام منافقت کو جہنم کا پست ترین درجہ دیتا ہے مگر قوم منافقت در منافقت کی شکار ہوئی۔ سیاسی علماء نے بھی آخرت کے خیال کو دل سے نکال کر فیصلہ کرلیاہے کہ اسلام تو ویسے بھی نہ آئیگا، بس اقتدار کیلئے ہر دور میں کسی کا دُم چھلہ بن کر اپنا مفاد حاصل کرنے میں ہوشیارسیاست ہے۔
پاکستان کو نعمت سمجھ کر قرآن کے شعور کیلئے تحریک شروع کی تو عروج کی منزل ملے گی۔ قرآن شبِ قدر میں نازل ہوا، سورۃ القدرکی تفسیر میں مولانا سندھیؒ نے خطہ اسلام کی نشاۃ کا ذریعہ قرار دیکر لکھاکہ: امام ابوحنیفہؒ ائمہ اہلبیت کے شاگرد تھے، اسلئے ایران بھی ہماری ہی امامت قبول کرلے گا،یہ وقت آگیاہے۔
مولانا عبیداللہ سندھیؒ کی تفسیر’’ مقام محمود‘‘ میں اسلام کی نشاۃ ثانیہ اور امامت کیلئے سندھ، بلوچستان، کشمیر، پنجاب، سرحد اور افغانستان میں بسنے والی قوموں کو امامت کا حقدار قرار دینا بڑی بات تھی۔ مولاناسندھیؒ نے قرآن کی طرف متوجہ کرنے کیلئے حنفی مسلک کو بنیاد قرار دیا ہے۔ امام مہدی کے حوالے سے شیعہ سنی اپنے اپنے مسلک کے مطابق ضرور انتظار کریں لیکن قرآن کی طرف توجہ دینے میں آخر حرج کیا ہے؟۔ کیا قیامت کے دن ہمارا مواخذہ اسلئے نہیں ہوگا کہ ہم امام مہدی کے انتظار میں بیٹھے رہے ؟۔ ہرگز ہرگز نہیں۔
اصول فقہ کی شریعت کے چار دلائل ہیں۔ 1کتاب،2 سنت،3اجماع اور4قیاس۔ کتاب سے مراد پوری کتاب نہیں بلکہ 500 آیات ہیں جو احکام سے متعلق ہیں قرآن کی باقی تمام آیات قصے، نصیحت اور مواعظ ہیں۔ ہونا یہ چاہیے تھا کہ ان500آیات کو اپنے موضوع و ابواب کے حوالہ سے درج کیا جاتا۔ طلبہ کو قرآن کے متن سے بھرپور طریقے سے رہنمائی فراہم کی جاتی مگر افسوس کہ معاملہ اس کے بالکل برعکس ہے۔ مثلاًصرف طلاق سے متعلق آیات کو ایک باب کے تحت جمع کرکے پڑھایا جاتا تو مسلم امہ گمراہی کی راہ پر گامزن نہ ہوتی۔ قرآن میں ہے کہ رسولﷺ کی اپنی امت کے حوالہ سے یہ شکایت ہوگی کہ انہوں نے قرآن کو چھوڑ رکھا تھا۔ طلاق کے حوالہ سے آیات میں کافی وضاحتیں ہیں۔ صرف ان آیات ہی کو دیکھ لیجئے جو طلاق سے متعلق ہیں تو یقین ہوگا کہ اللہ نے سچ فرمایا کہ’’ قرآن ہر چیز کو واضح کرتاہے‘‘۔ تبیانا لکل شئی
امام ابوحنیفہؒ نے علم الکلام میں زندگی گزاری تھی پھر تائب ہوکر فقہ کی طرف توجہ دی تھی۔ اصول فقہ میں یہ گمراہانہ عقیدہ ہے کہ ’’ تحریری شکل میں قرآن لفظ ہے نہ معنی، بلکہ نقشِ کلام ہے‘‘۔ جسکی بنیاد پر فقہی مسئلہ ہے کہ ’’ قرآن کے مصحف پر حلف نہیں ہوتا اور اگر زبان سے کہا جائے کہ قرآن کی قسم تو حلف ہوتاہے‘‘۔ اگر علم الکلام کی موشگافی پڑھانے کے بجائے کتاب کی تعریف میں قرآن کی آیات کے حوالے ہوتے تو دینی مدارس اسلام کی حقیقت کو سمجھنے میں مغالطہ نہ کھاتے۔ اللہ نے فرمایا: الذین یکتبون الکتٰب بایدیہم ’’جو کتاب کو اپنے ہاتھ سے لکھتے ہیں‘‘۔ کتاب جو ہاتھ سے لکھی جائے ۔ پہلی وحی میں قلم سے علم سکھانے کا بتایا ۔ والقلم ومایسطرون ’’ قلم کی قسم اور جو سطروں میں ہے‘‘ کتاب لکھی چیز کا نام ہے، کتابت پر مختلف الفاظ آئے ہیں، فلیکتب کاتب بالعدل’’معاملہ انصاف سے کاتب لکھے‘‘۔ املاء کا بھی ذکر ہے کہ املاء کون کرائے؟۔باربار اللہ نے کتاب کا ذکر کیا ہے، جاہل مشرکین بھی یہ سمجھتے تھے کہ قالوا اساطیر الاولین اکتتبہا بکرۃ واصیلا ’’صبح شام لکھوائے جانیوالے پرانے قصے کہانیاں ہیں‘‘ کتاب کیا ہے؟۔
حنفی مسلک کی بنیادیہ تھی کہ قرآن اور حدیث میں تطبیق ممکن ہو تو تطبیق ضروری ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ہوسکے تو قرآن کو احادیث سے متصادم قرار دینے سے گریز کیا جائے مگر افسوس کہ اصول فقہ کا پہلا سبق اس اصول کے خلاف ہے۔ قرآن میں نسبی اورسسرالی رشتہ نعمت ہے، اگر لڑکی باپ کی اجازت کے بغیر بھاگ کر شادی کرلے تو رشتہ داری نعمت نہیں زحمت بنتی ہے۔ قرآن کیمطابق نبیﷺ نے فرمایا ’’ جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر شادی کرلی تو اس کا نکاح باطل ہے، باطل ہے، باطل ہے‘‘۔ اس حدیث کو انسانی فطرت کے مطابق سمجھاجا سکتاہے۔ نبیﷺ نے یہ فرمایا کہ ’’ اگر کوئی باپ اپنی بیٹی کا نکاح اسکی رضاکے بغیر کردے تو یہ نکاح نہیں ‘‘۔ ہونا یہ چاہیے تھا کہ معاشرہ قرآن وسنت کیمطابق ایک اچھے ماحول کا مظاہرہ کرتا۔ حال ہی میں ہمارے علاقہ گومل میں واقعہ پیش آیا کہ برسوں سے وہاں رہنے والے افغانی کوچے نے اپنی لڑکی کی منگنی کسی بوڑھے شخص سے کرادی تھی۔ وہ لوگ اپنی بیٹیوں کو جانوروں کی طرح مال سمجھ کر بیچتے ہیں۔ باقی پٹھانوں میں بھی یہ بے غیرتی پائی جاتی ہے اسلئے اس کو شریعت اور غیرت کے منافی نہیں سمجھا جاتاہے، چنانچہ وہ کوچی لڑکی ایک کم عمر مقامی وزیرستانی کے ساتھ بھاگ گئی۔ کوچوں نے اسکے ردِ عمل میں بڑی تعداد میں جمع ہوکر مقامی بچے کے گھر سے ایک 12سال کی بچی اٹھالی۔ عوام کا بس نہیں چلا تو پولیس کو طلب کیا مگر پولیس نے بھی مار کھالی۔ پھر پاک فوج نے 10منٹ کی وارننگ پر مقامی بچی کو کوچوں سے بازیاب کروایا۔یہ افسوسناک واقعات رونما ہوتے ہیں جو قرآن وسنت سے دوری کا نتیجہ ہیں۔
خاندان کی عزت، غیرت اور تہذیب وتمدن کے روایتی رسوم ورواج اگر اسلام و انسانیت کے بنیادی حقوق اور شرافت کے بالکل منافی ہوں تب بھی لوگ حقائق کی طرف اس وقت نہیں دیکھتے جب انکے ہاتھ میں طاقت ہوتی ہے۔ ایسے کھوکھلے معاشرے کو دنیا میں عروج کا ملنا تو بہت دور کی بات ہے، بسا اوقات ان کی عزت ایسی خاکستر ہوجاتی ہے کہ وہ جیتے جی مرنے سے بھی بدتر ہوتاہے۔ کانیگرم جنوبی وزیرستان میں ایک شخص نے اپنی چچا زاد منگیتر سے منگنی توڑ دی تویہ واقعہ پیش آیا کہ پیر گل اعظم شاہ نے منگنی کرلی۔ لیکن چچازاد کی طرف سے دوبارہ اپنی منگیتر سے شادی کا اعلان ہوا۔ علماء کرام نے بھی کہا کہ ’’یہ غلط ہے منگنی ٹوٹ گئی تھی اور پھر گل اعظم شاہ سے منگنی ہوئی تو یہ نکاح ہے‘‘۔ مگر طاقت کے زعم نے شادی بڑی دھوم سے کروائی۔ پیر گل اعظم شاہ نے کہا:’’ یہ میری شادی کے شادیانے بج رہے ہیں‘‘۔ اور موقع پاکر دلہن کو اٹھایا اور دوبئی پہنچادیا۔ دوسرا شخص ایسا غائب ہوا کہ پتہ نہ چل سکا کہ اسکو کیا ہوا؟، زمین نگل گئی یا آسمان کھا گیا؟۔
طالبان نے ایک کام بڑا زبردست کیا تھاکہ اگر کوئی لڑکی اپنے کزن سے شادی پر راضی نہ ہوتی تو اس کو اسکے اور اسکے گھروالوں کی مرضی سے شادی کرادیتے تھے۔ حالانکہ ایک غیرت مند معاشرے میں یہ گنجائش نہیں ہونی چاہیے کہ گھر والے اور لڑکی راضی نہ ہوں تب بھی غیرت سمجھ کر اسکی مرضی کے مطابق شادی نہ کرنے دیجائے۔ اسلام کی نشاۃ ثانیہ کیلئے معاشرے کا کردار بڑااہم ہوتا ہے، مفتی اعظم پاکستان مفتی محمودؒ صوبے کے وزیراعلیٰ رہے، متحدہ مجلس عمل کو حکومت ملی تو کسی عالم دین کو وزیراعلیٰ بنانے کے بجائے اکرم خان درانی کو داڑھی رکھواکر وزیراعلیٰ بنایا گیاتھا۔ جمعیت علماء اسلام ف کے رہنمامولانا مفتی کفایت اللہ نے اے این پی کے دور میں قرار داد پیش کی کہ ’’ پشاور، مردان، چارسدہ، سوات اور صوابی کے پانچ اضلاع میں خواتین کو نکاح کے نام پر بدکاری کیلئے بیچا جارہاہے ، ان پر پابندی لگائی جائے، جس کو پختونخواہ کی اسمبلی نے منظور کیا‘‘۔ اب حال ہی میں سندھ میں رینجرز سے دو خواتین نے بس میں تلاشی کے دوران مدد مانگ لی کہ ان کو بدکاری کیلئے بیچ دیا گیاہے، جس پر میڈیا میں پورے گینگ کی خبر بھی آئی مگر تحریک انصاف نے خبر پر ایکشن لینے کے بجائے سندھ اسمبلی میں یہ آواز اٹھائی کہ ’’ پہلے پنجاب میں پختونوں کو تنگ کیا جا رہاتھا، اب سندھ میں بھی وہی سلوک ہو رہا ہے‘‘۔ ہمارے استاذ مولانا محمد امین ہنگو شاہو وام کوہاٹ نے کہا تھا کہ ’’ اس دور کا مجدد وہ ہوگا جو پٹھان خواتین کو انکے حقوق دلائے‘‘۔
مدارس اپنے نصاب پر غور کرکے پاکستان کو دنیا کا امام بناسکتے ہیں۔اصول فقہ کی پہلی کتاب ’’ اصول الشاشی‘‘ میں پہلا سبق یہ ہے کہ آیت حتی تنکح زوجا غیرہ’’یہاں تک کہ وہ کسی دوسرے سے نکاح کرلے‘‘۔ میں عورت کی طرف نکاح کی نسبت ہے۔ حدیث میں ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کو باطل قرار دیا گیا تو حدیث آیت سے متصادم ہے اسلئے حدیث کو ترک کیا جائیگا، قرآن پر عمل ہوگا۔ حالانکہ قرآن میں طلاق شدہ مراد ہے اور حدیث سے کنواری مراد لی جائے تو قرآن کا حدیث سے ٹکراؤ نہیں۔ مخلوط نظام تعلیم اور دیگر وجوہات کی بنیاد پر ہمارا معاشرہ کروٹ بدل رہاہے، پسند کی شادیاں کورٹ میرج کے ذریعے ہورہی ہیں، علماء کو پتہ نہیں کہ اسکے ذمہ دار وہ خود ہیں۔ اگرقرآن وسنت کا پورا نقشہ پیش ہوتا تویہ سانحات نہ ہوتے۔ والدین بھی لڑکی کی رضامندی کو ضروری سمجھتے اور لڑکی بھی باپ کا خیال رکھتی۔ ہم غلط رسوم ورواج کیوجہ سے قرآن و فطرت اور معاشرتی اقدار سب کچھ بے سمت منزل کھو رہے ہیں۔
اصول فقہ کی دوسری کتاب’’ نوراالانوار‘‘ میں پڑھایا جاتاہے کہ ’’ قرآن میں طلاق شدہ کیلئے عدت 3قروء کی ہے۔ 3کا لفظ خاص ہے جو ڈھائی نہیں ہوسکتا، اسلئے احناف اس سے تین حیض مراد لیتے ہیں، طہر کی حالت میں طلاق دینا شریعت کے مطابق ہے ، جس طہر میں طلاق دی جائے تو وہ ادھورا شمار ہوگا اسلئے قرآن کے لفظ پر عمل کرنے کا تقاضہ ہے کہ پورے 3مراد ہوں ‘‘۔ حالانکہ اس طرح سے پاکی کے ایام میں طلاق دی جائے تو تین حیض کے علاوہ وہ ایام بھی شمار ہوں گے تو پھر عدت ساڑھے تین ہو گی۔ قرآن نے حیض نہ آنے یا اشتباہ کی صورت میں 3قروء کاقائم مقام 3 ماہ کو قرار دیا اور مہینہ طہرو حیض دونوں کا قائم ہے اسلئے دونوں مراد ہیں۔ طلبہ ان الجھنوں کو نہیں سمجھتے۔اگر قرآنی آیات و احادیث صحیحہ پڑھائی جاتیں تو معاشرہ بھی قرآن سے فائدہ اٹھاتا۔ لیکن افسوس کہ علماء خود بھی حقائق سے بے بہرہ ہیں۔عربی سیکھنے کا فائدہ اٹھایا جائے اورمعاشرے کو قرآن وسنت کے رنگ میں رنگا جائے، تو انقلاب عظیم آنے میں دیرنہ لگے۔
اہلسنت شیعہ پر الزام لگاتے ہیں کہ مہدئ غائب نے قرآن اپنے ساتھ چھپالیا ، جب وہ منظر عام پر آئیں گے تو پھرقرآن پر عمل ہوگا۔ شیعہ اہلسنت پر الزام لگاتے ہیں کہ احادیث کے مطابق قرآن اور اہلبیت کو سب پکڑ لیتے تو امت اس قدر زوال کا شکار اور قرآن سے دور نہ ہوتی۔ کیا اہلسنت رسول اللہ ﷺکی طرف سے قیامت کے دن اللہ کی بارگاہ میں شکایت کرنے کا جواب دینگے کہ ہم سے سنت غائب ہوگئی، اسلام اجنبی بن چکا، گمراہانہ نصابِ تعلیم کی وجہ سے قرآن کو چھوڑ رکھا تھا؟۔ اور اہل تشیع جواب دینگے کہ مہدی غائب کے ظہور کا انتظار تھا اسلئے قرآن چھوڑ رکھا تھا؟۔ جماعتِ اسلامی والے کہیں گے کہ ہم علماء نہ تھے، بس علماء کے نصاب نے ہمیں قرآن سے دور رکھا تھا؟۔کیا اہلحدیث کہیں گے سلفی مذہب کی وجہ سے ہم قرآن کے قریب نہ جاسکے تھے؟۔ کون ہے جو خود کو نبیﷺ کی قوم نہیں سمجھتا ہے؟۔ نبیﷺ فرمائیں کہ سنت اور اہلبیت غائب لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ’’قرآن موجود تھا، اسکو ہدایت کیلئے ذریعہ کیوں نہیں بنایا تھا؟‘‘۔
قرآن ہدی للمتقین ہے اور ہدی للناسبھی، علماء ومشائخ متقین بن کر نماز کی صراط مستقیم کی دعا کریں مگر درست راستہ نظر آتا ہو اس پر خود چلنے کی کوشش نہ کریں تو پھر وہ متقین نہیں اور عوام الناس کے سامنے قرآن کے واضح وہ حقائق رکھے جائیں جس سے کوئی بھی قوم اپنا عروج حاصل کرسکتی ہے تو عوام ہدایت پائیں گے۔ بڑا المیہ ہے کہ علماء اکابر پرست اور عوام مقابرپرست بن گئے اور اس کا یہ فائدہ ضرور ہے کہ نصاب کو سمجھنے سے قاصر ہیں ، بس تضاد پر عقیدہ رکھاہے جس کی وجہ سے کھلی گمراہی سے محفوظ ہیں جبکہ ڈاکٹر منظور احمد جیسے لوگ انتہائی مخلص ہیں اور وہ نصاب کو سمجھ کر کھلی ہوئی گمراہی کا عقیدہ رکھ واضح طور سے گمراہ ہوگئے مگر جب پتہ چل گیا تو بات سمجھ میں آئی اور اللہ نے انکا خاتمہ بالخیر کرنے کا اہتمام کردیا۔ وہ اپنی بات پر ضد اور ہٹ دھرمی کا مظاہرہ نہیں کررہے تھے۔
تیسرا طبقہ جاوید غامدی جیسے لوگوں کا ہے جو مدارس کے نصاب کی اصل خامیوں سے بھی واقف نہیں اور تقلید کی افادیت بھی نہیں سمجھتے۔ ایسی آیات اور احادیث ہیں جن کو زمانہ ثابت کررہاہے، یہ تقلید کی افادیت ہے،قرآن کے احکام کی طرف توجہ تمام مسائل کا حل ہے۔
ہماری حکومت، اپوزیشن اور ریاست کیلئے یہ مشکل نہیں کہ میڈیا پر حقائق لانے میں کردار ادا کرے۔ بزرگ علماء ومفتیان حقائق لانے سے کنی کترارہے ہیں۔ دنیا کی مسلم ریاستوں میں انقلاب اور یکجہتی کی فضاء بن سکتی ہے۔