کوئی ان پڑھ، بیوقوف اور بچہ بھی ایسی حرکت کرنے کی حماقت نہیں کرسکتا ہے.

1695
0

quran-book-mulla-jiwan-dars-e-nizami-noor-ul-anwar-lafz -nuqoosh-naqsh-fatawa-shami-fatawa-qazi-khan-mufti-muhammad-saeed-khan-mufti-taqi-usmani-sura-fatiha

سید ارشاد نقوی مدیر خصوصی نوشتۂ دیوار نے کہا کہ علماء ومفتیان بار بار متنبہ ہونے کے باوجود ڈھیٹ ہوگئے ہیں۔ اصولِ فقہ کی کتاب ’’نورالانوار: ملاجیونؒ ‘‘ نصاب کا حصہ ہے اور معمولی معمولی باتوں پر طوفان کھڑے کرنے والوں کو اتنی موٹی بات بھی کیوں سمجھ میں نہیں آرہی کہ کتاب اللہ سے متعلق بالکل لغو تعلیم دی جاتی ہے کہ المکتوب فی المصاحف المنقول عنہ نقلا متواتر بلاشہ ’’ کتاب اللہ سے مراد مصاحف میں لکھاہوا قرآن ہے جونبیﷺ سے متواتر بلاشبہ نقل ہواہے‘‘۔ اس کی تشریح میں ہے کہ’’لکھاہوا سے مراد لکھا ہوانہیں ، کیونکہ یہ لفظ ہے اور نہ معنیٰ۔ بلکہ لکھائی محض نقوش ہیں‘‘۔ کوئی یہ کہہ سکتا ہے کہ لکھا ہوا سے مراد لکھائی نہیں ہے؟۔ کوئی ان پڑھ جاہل ،کم عقل ، بچہ بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ کتاب اللہ مصاحف میں لکھا ہوا قرآن ہے مگر لکھے سے مراد لکھا ہوا نہیں ۔ یہ علم الکلام کی گمراہی ہے جس سے امام ابوحنیفہؒ نے توبہ کی تھی۔ آیات کا حوالہ ذیل میں دیا گیا، تاکہ علماء ومفتیا ن کیلئے یہ نصاب بدلنے میں آسانی ہو ۔ جس طرح تعلیم یافتہ ہندو بت کی کیمسٹری سمجھنے کے باوجوداسکو پوجتا ہے، اسی طرح اندھی تقلیدسے عقیدت میں علماء ومفتیان اپنے نصاب کے حوالہ سمجھنے پر غور نہیں کرتے ۔ نورالانوار ملا جیونؒ نے لکھی۔ جو شہرت یافتہ سادہ تھے اورانکے انواع واقسام کے لطیفے ہیں۔ یہ بڑی حماقت ہے کہ کتاب سے مراد مصاحف میں لکھا ہواقرآن ہو مگر لکھاہوا کے کلام اللہ ہونے سے انکار ہو۔ اسکے بھیانک نتائج یہ نکلے کہ فتاویٰ شامیہ، قاضی خان اور صاحب ہدایہ نے لکھا ہے کہ ’’سورۂ فاتحہ کو پیشاب سے علاج کیلئے لکھنا جائز ہے‘‘۔ مفتی تقی عثمانی نے عوام کے دباؤ پراپنی کتابوں تکملہ فتح الملہم و فقہی مقالات سے نکالا مگرتحریک انصاف کے رہنما مفتی محمدسعید خان نے پھر بھی اپنی کتاب ’’ ریزہ الماس‘‘ میں پیشاب سے سورۂفاتحہ کو لکھنے کے جواز کا دفاع کیا لیکن جب درسِ نظامی کے بنیادی نصاب میں یہ شامل ہو کہ لکھائی کی شکل محض نقوش ہیں جو الفاظ ومعانی نہیں اور نہ اللہ کا کلام ہے تو پھر پیشاب سے لکھنے میں کیا حرج ہے؟۔ اور اصولِ فقہ کی بنیادی غلطی کو نہ سمجھنے کے نتیجے میں قرآن کی شکل ہی بدل جاتی ہے۔
علماء پڑھتے پڑھاتے ہیں کہ نقل متواتر کی قید سے غیرمتواتر آیات نکل گئیں۔ اگر یہ تعلیم ہو تو پھر قرآن کی حفاظت کا عقیدہ نہیں رہتا۔ یہ بھی پڑھا یا جاتا ہے کہ بلاشہ کی قید سے بسم اللہ نکل گئی ، کیونکہ صحیح بات یہ ہے کہ بسم اللہ قرآن ہے مگر اس میں شبہ ہے اور شبہ کے قوی ہونے کی وجہ سے اسکا منکر کافر نہیں۔ علاوہ ازیں یہ تعلیم ہے کہ آخری 2سورتوں کو عبداللہ ابن مسعودؓ قرآن نہیں مانتے تھے۔ حالانکہ اللہ نے یہ واضح کردیا کہ قرآن کی حفاظت کا ذمہ اللہ نے لیا، شیطان اسکے آگے پیچھے حملہ کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔ کسی نے کئی سوسال بعد عبداللہ ابن مسعودؓکے مصحف کو دیکھاجسکی آخری دو سورتیں اور فاتحہ پھٹ کر ضائع تھے تویہ افسانۂ کفر گھڑ دیا زیبِ داستاں کیلئے۔
تفسیر عثمانی میں علامہ شبیر احمد عثمانی نے لکھا ہے کہ ابن مسعودؓ ان آخری دوسورتوں کے نزول کے منکر نہ تھے مگر قرآن کا حصہ نہ سمجھتے تھے اسلئے قرآن میں درج نہ کیا۔ کسی نے یہ بھی لکھ دیا کہ نماز میں بھی پڑھنے کو جائز نہ سمجھتے تھے، یہ محض دم تعویذ کیلئے اتری تھیں۔ بریلوی مکتبہ فکر کے علامہ غلام رسول سعیدی نے اپنی تفسیر’’ تبیان القرآن‘‘ میں طویل بحث میں لکھا کہ ’’ صحیح روایات سے ثابت ہے کہ عبداللہ بن مسعودؓ نے اپنے مصحف میں آخری دو سورتوں کو نہیں لکھااور اسکا انکار ممکن نہیں۔ اسکا حل یہ ہے کہ صحابہؓ کے دور میں قرآن پر اجماع نہیں ہوا تھا، اس وقت قرآن کی ان دو سورتوں کا منکر کافر نہیں تھا جبکہ اب اجماع ہوچکا ہے اور اب اس اجماع سے انکار پر وہ شخص کافر ہوگا جو ان دو سورتوں کو نہ مانے گا‘‘۔یہ عقل دیکھ لو کہ قرآن کا منکر کافر نہیں مگر اجماع کا منکر کافر بن جائیگا؟۔ علامہ غلام رسول سعیدی نے لکھا کہ ’’ شیخ انور شاہ کشمیری نے فیض الباری میں لکھاہے کہ قرآن میں معنوی تحریف تو بہت ہوئی لیکن لفظی تحریف بھی ہوئی ہے، انہوں نے جان بوجھ کی ہے یا مغالطہ سے ایسا ہواہے۔ اس عبارت کا حوالہ دئیے بغیر ہم نے دارالعلوم کراچی کورنگی سے فتویٰ لیا تو وہاں سے اس پر کافر کا فتویٰ لگایا گیا‘‘۔ جبکہ قاضی عبدالکریم کلاچی نے یہ عبارت لکھ کر اکوڑہ خٹک کے مفتی اعظم مفتی فرید صاحب کو لکھ دیا کہ عبارت پڑھ کر پاؤں سے زمین نکل گئی ۔ مفتی فرید صاحبؒ نے اسکا غیر تسلی بخش جواب دیا جو انکے ’’فتاویٰ دیوبند پاکستان ‘‘ میں شائع ہوچکا ہے۔
ایک وقت تھا برطانیہ کی حکومت پر سورج غروب نہیں ہوتا تھا، اب سوشل میڈیا کے ذریعے حکومت کے بغیربھی کسی پیغام کو عام کرنے کا مسئلہ نہیں رہاہے۔ علماء ومفتیان تشویش کا اظہار کر رہے ہیں کہ نوجون اور پڑھا لکھا طبقہ بے دینی کی طرف جارہا ہے ۔ ان کو یہ احساس نہیں ہے کہ روڈ پر کھڑے ہوکر گدھے کی طرح آنکھیں بند کرنے سے کوئی کمزور گدھا لاری کی ٹکر سے بچ سکے گا یا ٹکر سے ملیا میٹ ہوجائیگا؟۔ درسِ نظامی کی کتابوں میں قرآن کے متعلق اصولِ فقہ کی بنیادی تعلیم میں اس طرح کا کفر کب تک عوام کی نظروں سے پوشیدہ رکھا جاسکے گا؟۔ ایک دن کسی بڑے انقلاب کی شکل میں کوئی طاقت ان کو دبوچ لے گی تو دفاع کا موقع بھی نہیں مل سکے گا۔ لوگ بہت بے حس ہیں مگر جب کوئی احساس دلانے والا احساس دلائے گا تو مدارس کو صرف ذریعہ معاش سمجھنے والے سنبھل بھی نہیں سکیں گے۔ اسلئے اللہ کا خوف کا کھانے کیساتھ اپنا بھی خیال رکھیں۔ سورۂ اعراف کی متعلقہ آیات کوغور سے تلاوت کریں اور سمجھیں جن میں آگے یہ بھی ہے کہ درجہ بدرجہ اللہ تعالیٰ ان کو وہاں تک لے جاتا ہے کہ وہ سمجھ نہیں سکتے ہیں اور پھر اللہ اچانک دبوچ لیتا ہے۔ قرآن کی سمجھ اور اس کو دستور العمل بنانے سے ہی ہمارا بیڑہ پار ہوگا۔
فویل اللذین یکتبون الکتاب بایدیھم ثم یقولون ھذا من عند اللہ لیشتروا بہٖ ثمنا قلیلا فویل اللھم مما کتبت ایدیھم وویل اللھم مما یکسبونO تباہی ہے ان لوگوں کیلئے جو اپنے ہاتھوں سے کتاب لکھتے ہیں پھر لوگوں سے کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے تاکہ اس کے ذریعے تھوڑا سا کما لیں۔ پس تباہی ہے ان لوگوں کیلئے اس تحریر کی وجہ سے جو ان کے ہاتھوں نے لکھی اور اس وجہ سے جو انہوں نے کمایا(البقرہ: آیت:79)
ولو نزلنا علیک کتاباً فی قرطاس فلمسوہ بایدیھم لقال الذین کفروا ان ھذا الا سحر مبین Oاگر ہم آپ پر کوئی ایسی کتاب نازل کردیتے جو کاغذ پر لکھی ہوئی ہوتی پھر یہ اسے ہاتھوں سے چھو کر بھی دیکھ لیتے تو جو لوگ کافر ہیں وہ کہتے کہ یہ کھلا ہوا جادو ہے۔ (الانعام: آیت:7)
قرآن سے واضح ہے کہ کتاب کاغذپر لکھی چیز ہے، بچہ بھی جانتاہے ،اصول فقہ کی کتابوں سے گمراہانہ تعلیم کو نہ نکالا گیا تو علماء ومفتیان پرشدید عذاب آسکتاہے۔
و الذین اٰتینٰھم الکتاب یعلمون انہ منزل من ربک بالحق اور جن کو ہم نے کتاب دی ہے وہ جانتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے حق کیساتھ نازل ہوئی ہے ۔ (الانعام: آیت: 114)
الذی یجدونہ مکتوباً عندھم فی التورٰۃ و الانجیلOجس کو وہ لکھا ہوا پاتے ہیں اپنے پاس تورات اور انجیل میں ۔ (الاعراف: آیت:157)
الرOکتاب انزلناہ الیک لتخرج الناس من الظلمٰت الی النور کتاب ہم نے تیری طرف نازل کی تاکہ آپ لوگوں کو اندھیروں سے نور کی طرف نکالیں ۔ (ابراہیم: آیت: 1)
والذین یمسکون بالکتاب و اقاموا الصلوٰۃ انا لا نضیع اجر االصٰلحینO اور جو کتاب سے تمسک کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں تو ہم ان کا اجر ضائع نہیں کرتے ہیں۔( الاعراف: 170)
قرآنی آیات میں بار ہا مکتوب (لکھت : لکھائی )کواللہ کا کلام قرار دیاگیاہے۔
فسئل الذین یقرؤن الکتاب من قبلکOاور پوچھ لیں ان لوگوں سے جو آپ سے پہلے کتاب پڑھتے ہیں ( یونس:آیت:94)
ن و القلم وما یسطرون ما انت بنعمۃ ربک بمجنون Oن قسم ہے قلم کی اور جو کچھ سطروں میں ہے اس کی ، کہ آپ اپنے رب کی نعمت سے مجنون نہیں ہیں۔ (القلم: آیت:1)
اقرا و ربک الاکرم الذی علم بالقلم پڑھ اور تیرے عزت والے رب کی قسم جس نے قلم کے ذریعے سے سکھایا ۔ (العلق: آیت:4)
وقطعنٰھم فی الارض اُمما، منھم الصالحون منھم دون ذٰلک… فخلف من بعدھم خلف ورثوا الکتٰب ےأخذون عرض ہٰذہ الادنیٰ و یقولون سیغفرلناوان ےأتھم عرض مثلہ ےأخذوہ، الم ےؤخذ علیھم میثاق الکتٰب ان لا یقولوا علی اللہ الا الحق و درسوا مافیہ(اعراف کی ان آیات سے علماء ومفتیان کو پورا پورا سبق حاصل کرنے کی ضرورت ہے)
واتل علیھم نبأ الذی اٰتینٰہ آیٰتنا ۔۔۔ من لغٰوینOولو شئنالرفعنٰہ ۔۔۔ فمثلہ کمثل الکلب ان تحمل علیہ یلھث او تترکہ یلھث۔۔۔ لعلھم یتفکرونOولقد ذرأنا لجنھم کثیر من الجن والانس لھم قلوب لایفقھون بھا ولھم اعین لا پبصرون بھاولھم اٰذان لا یسمعون بھا ،اولٰئک کالانعام بل ھم اضل ،اولٰئک ھم الغٰفلونOاور ان کو اس کی خبر بتاؤ،جس کو ہم نے اپنی آیات دیں پھر وہ انسے نیچے اترا،پھر شیطان نے اس کو دھر لیا اور وہ بھٹکنے والوں میں شامل ہوا،اور اگر ہم چاہتے تو اسے بلندی پر انکے ذریعے پہنچاتے مگر اس نے زمین میں ہمیشہ رہنے کو ترجیح دی اور نفسانی خواہش کا تابع بنا، اس کی مثال کتے کی سی ہے، اگر اس پر بوجھ لادو تب بھی ہانپے اور چھوڑ دے تب بھی ہانپے، ۔۔۔ جہنم کیلئے بہت جن وانس میں سے تیار کررکھے ہیں،انکے دل ہیں مگر انسے سمجھتے نہیں، آنکھیں ہیں مگر انسے دیکھتے نہیں، انکے کان ہیں مگرانسے سنتے نہیںیہ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ زیادہ بدتر(اعراف)