قرآن کریم کا درست ترجمہ وتفسیر تمام مشکل مسائل کا بہترین حل ہے لیکن افسوس کہ غلطیوں پر غلطیاں ہیں!

Hamid Meer, Ghulam Ahmed Perwez, PDM, Molana Fazl ur Rehman, Surah Nissa

قرآن کریم کا درست ترجمہ وتفسیر تمام مشکل مسائل کا بہترین حل ہے لیکن افسوس کہ غلطیوں پر غلطیاں ہیں!

تحریر: سید عتیق الرحمن گیلانی

سورۂ النساء کی آیت اُنیس (19)کا ترجمہ وتفسیر بہت واضح ہے لیکن علماء نے اس میں خیانت کی

پھر غلام احمد پرویز کی فکر سے متأثر ہونے والوں نے مزید موشگافی سے معاملہ خراب کیا!

اب انصار عباسی جیسے لوگوں نے اپنے مخصوص مقاصد کی خاطر قرآن و فطرت پر حملہ کردیا!

ےٰایھا الذین اٰمنوالا ترثوا النسآء کرھًا ولا تعضلوھن لتذھبوا ببعض مآ اتیتموھن الا ان یأتین بفاحشةٍ مبےّنةٍوعاشروھن بمعروفٍ فان کرھتموھن فعسٰی ان تکرھوا شیئًاویجعل اللہ فیہ خیرًا کثیرًاO
ترجمہ ” اے ایمان والو! عورتوں کے زبردستی سے مالک مت بن بیٹھو۔ اور نہ اسلئے ان کو جانے سے روکو کہ جو کچھ بھی تم نے ان کو دیا ہے اس میں سے بعض واپس لے لو مگر جب وہ کھلی فحاشی کے مرتکب ہوں۔ اور ان سے حسن سلوک کا برتاؤ کرو۔ اگر وہ آپ کو بری لگتی ہیں تو ہوسکتا ہے کہ کوئی چیز بری لگے اور اس میں اللہ بہت سار ا خیر بنا دے”۔ (سورہ ٔ النساء آیت19)
سورۂ النساء (آیت19) میں عورتوں کے خلع کا حق اور آیات (20) اور (21) میںطلاق کے بعد عورتوں کے حقوق بیان کئے گئے ہیں۔ افسوس یہ ہے کہ سورۂ بقرہ کی آیت(229)میں طلاق کے بعد عورتوں کے حقوق بیان کئے گئے ہیں مگر وہاں ناممکن انتہائی غلط طور پر خلع مراد لیا گیا۔ اگر قرآن کا ترجمہ وتفسیر درست طور پر سامنے رکھا جائے تو پوری دنیا سمیت تمام فرقے اورمسلک اس کو قبول کرنے میں لمحہ بھر دیر نہیں لگائیں گے۔
سورۂ النساء کی آیت(19)میں مردوں پر عورتوں کے خلع کا حق واضح کرکے فرمایا گیا ہے کہ ” اے ایمان والو! تم عورتوں کے زبردستی سے مالک مت بن بیٹھو اور نہ اسلئے ان کو روکو کہ جو کچھ بھی ان کو دیا ہے اس میں بعض ان سے واپس لے لو مگر یہ کہ وہ کھلی ہوئی فحاشی کی مرتکب ہوں”۔ شوہر زبردستی سے بیوی کا مالک نہ بنے اور وہ ان چیزوں کو بھی اپنے ساتھ لے جانے کا حق رکھے جو شوہر نے دی ہیں اور شوہر بعض چیزوں کو بھی واپس نہ لے سکے مگر یہ کہ جب عورت کھلی فحاشی کرے تو اس سے زیادہ عورت کو حق اور کیا چاہیے؟۔
جب کوئی عورت شوہر اور اپنے بچوں کا گھر اُجاڑ ے توپھر خدشہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ اسکے ساتھ بدسلوکی کا برتاؤ کیا جائے۔ لیکن اللہ نے واضح حکم دیا کہ ” ان کیساتھ حسنِ سلوک کا برتاؤ رکھو، اگر وہ تمہیں بری لگتی ہوں توہوسکتا ہے کہ کوئی چیز تمہیں بری لگے اور اس میں اللہ بہت سارا خیر بنادے”۔ جب عورت کو زبردستی سے گھر میں روکا جائے تو وہ اپنی عزت اور شوہر کے ناموس کا ستیاناس کرسکتی ہے۔ خود کشی اور خود سوزی کرسکتی ہے۔ بچوں وگھر کے افراد کو زہر کھلا کر مار سکتی ہے ۔ کئی واقعات اخبارات کی زینت بنتے ہیں۔ عورت جانور نہیں ہے کہ اس کی مرضی کے بغیر شوہر خود کو اس کا مالک تصور کرنے لگ جائے اور اس کی وجہ سے معاشرے کو بہت سنگین واقعات اور لڑائی جھگڑوں اور قتل وغارتگری کا سامنا کرنا پڑتا ہے اسلئے اللہ کے اس حکم میں بہت سارا خیر یقینی طور پر اللہ نے رکھا ہے۔ عورت خلع لے یا اس کو طلاق ہو ،بہرحال حسنِ سلوک کے ساتھ اس کی رخصتی کا عمل معاشرے کے بہترین مفاد میں ہے۔ قرآن کی اس آیت میں کسی قسم کا کوئی ابہام نہیں ہے۔
آیت پر پہلا حملہ مفسرین نے کیا ہے کہ قرآن کے جملوں کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے مسل کر رکھ دیا ہے اور وہ اس طرح سے کہ ” عورتوں کے زبردستی سے مالک بن بیٹھو اور نہ ان کو اسلئے روکو کہ بعض چیزوں کو ان سے واپس لے لو”۔ میں دو الگ الگ طرح کی عورتیں مراد لیں۔ دوسرا حملہ پرویزیوں نے کیا کہ فحاشی کے باوجود بھی عورت کو حسنِ سلوک کیساتھ اپنے ساتھ رکھو ہوسکتا ہے کہ تمہارے لئے اس میں اللہ خیر بنادے۔علماء نے اپنی خود ساختہ شریعت میں قرآن وسنت کے بالکل برعکس عورتوں کے حقوق بالکل اتنے سلب کرلئے ہیں کہ کوئی انسانی اور فطری معاشرہ اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا ہے اسلئے اللہ نے بعض انسانوں کو جانوروں سے بھی بدتر قرار دیا مگر جنہوں نے جہالت سے ایسا کیااوراس پر اصرار نہ کریں اور توبہ کریں تو پھر وہ اچھے لوگ ہیں۔

جواب دیں

Back to top button