قرآن میں اہم ترین معاشرتی مسائل کا حل اور امت کا اس سے کھل کر انحراف

1495
0

دنیا میں ایک طرف امریکہ اور اتحادی ریاستیں ہیں جو دہشت گردی کی روک تھام کیلئے ایک ہی نعرہ لگارہی ہیں تودوسری طرف دہشت گردی ختم نہیں ہورہی ہے بلکہ پھیل رہی ہے۔ ریاستوں کی منافقت یا مجبوری کی یہ حالت ہے کہ سب ایک دوسرے پر الزامات بھی لگارہے ہیں، اچھے اور برے دہشت گردوں کے بھی تصورات موجودہیں اور دہشت گردوں کی شر سے بچنے کیلئے دہشت گردوں کا ہی سہارا لیا جاتا ہے۔اس گھناؤنے کھیل میں ہیروئن اور اسلحہ کا کاروبار کرنے والے جو فائدہ حاصل کررہے ہیں انہوں نے اس کو جاری وساری رکھنا ہے۔ امریکہ ڈرون حملے سے ایران سے آنے والے طالبان کے امیر ملااختر منصور شہید کرتا ہے یا ہلاک کردیتا ہے، جہنم رسید یا جنت کو پارسل کردیتا ہے؟۔ یہ فیصلہ کرایہ کے جہادکے بانی امریکہ کے ایماء پر ہمارے ریاستی اداروں اور میڈیا کے کرتا دھرتا لوگوں نے کرنا ہے۔ جنرل راحیل شریف نے کہا کہ ’’ پاکستان کی سرزمین پر یہ ڈرون حملہ قبول نہیں اور اس کیلئے مذمت کے الفاظ بہت معمولی ہیں‘‘۔ اگر ہمارے پاس قیادت کا فقدان نہ ہوتا تو جنرل راحیل شریف کو اس طرح کے بیان کی ضرورت نہ پڑتی۔ ضربِ عضب کے دوران بھی شمالی وزیرستان میں ڈرون ہوتے تھے، ایران پاکستان کی طرح امریکہ کا نہیں کھاتا۔
جنرل راحیل شریف نے شمالی وزیرستان سے دہشت گردوں کے بڑے اڈے کو ختم کرکے دنیا کو دکھا دیا کہ اسکے پیچھے ہم نہیں افغانستان میں موجود نیٹوکی افواج دہشت گردوں کو پال کر اپنے مقاصد حاصل کررہی ہیں۔ میڈیا کو سوال کرنا تھا کہ نیٹو افغانستان کی سرزمین پر کیا کررہا ہے؟۔ دہشت گردوں کو پال رہا ہے، ہیروئن کی اسمگلنگ کررہا ہے یا اس خطہ میں حالتِ جنگ کو دوام دیکر دنیا بھر کی طرح یہاں امریکہ کو اسلحہ فروخت کرنے کا ریکارڈ توڑنے کا موقع فراہم کررہا ہے؟۔ اسلام امن وسلامتی کا دین ہے اور دنیا بھر میں دہشت گردی کا فلسفہ امریکی سی آئی اے کی سرپرستی میں ہمارے ریاستی ڈھانچوں کے ذریعہ سے عام کیا گیا ۔ عوام کے جذبات کو امریکہ بھڑکارہا ہے اور اس کی آلۂ کار قوتیں دہشت گردی کی آبیاری کررہی ہیں۔یہ اتفاق نہیں کہ ملامنصور کو امریکہ نے ڈرون حملے سے مارا اور افغانی عمر متین کو امریکیوں سے بدلہ لینے کا موقع ملا بلکہ یہ اس جنگ کو جاری رکھنے کا سوچا سمجھا منصوبہ ہے۔شیطان خوفزدہ ہے بقول علامہ اقبالؒ کے
الحذر آئینِ پیغمبرؐ سے سوبار الحذر حافظِ ناموسِ زن مرد آزما مرد آفرین
اگر یہ آشکارا ہوا تو سب کچھ دھرا کا دھرا رہ جائیگا۔ اسلئے اس امت کو ذکر صبح گاہی میں مست رکھو اور مزاج خانقاہی میں پختہ تر کردو‘‘۔( شیطان کا اپنی مجلسِ شوریٰ سے خطاب: علامہ اقبالؒ )۔
ہمارا حال یہ ہے کہ پرویزمشرف کے دور میں عورتوں کو جبری جنسی تشدد سے بچانے کا قانون لایا گیا کہ ’’اس کو حدود سے نکال کر تعزیرات میں شامل کیا جائے،اسلئے کہ چارمرد گواہوں کو اکٹھے لانا بہت مشکل کام ہے، جس کی وجہ سے کوئی مجرم سزا نہیں پاسکتا ‘‘۔ اس پر مفتی محمد تقی عثمانی نے مخالفت میں ایک بہت ہی بھونڈی تحریر لکھ دی جس کو جماعتِ اسلامی نے پملفٹ کی شکل میں بانٹا، اسکے جواب میں سید عتیق الرحمن گیلانی نے بہت مدلل انداز میں تردیدلکھ دی جو ہم نے شائع کردی لیکن اس کو مذہبی حلقوں، ہماری ریاستی اداروں اور حکومت واپوزیشن نے کوئی اہمیت بھی نہ دی۔
مفتی تقی عثمانی کی تحریر کا خلاصہ یہ تھا کہ’’ اللہ نے سورۂ نور میں زنا کی حد بیان کی ہے اس میں جبری زنا اور زنا برضا کی کوئی قید نہیں‘‘۔ حالانکہ یہ سراسر بکواس ہے، اللہ نے زنا برضا کی وضاحت کی ہے’’مرد یا عورت میں سے کوئی بھی زنا کا ارتکاب کرے تو اس کو 100کوڑے کی سزا ہے‘‘۔ علماء ومفتیان کا وطیرہ ،تعلیم اور تربیت ہی یہ ہوتی ہے کہ اپنی مرضی سے جہاں چاہیں وہاں کہہ دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ مطلق حکم بیان کیا ہے، اس میں کوئی قید نہیں ہے، حالانکہ وہ یہ دھوکہ منافقوں کی طرح خود کو بھی دیتے ہیں اور اپنے عقیدتمندوں اور عوام کو بھی دیتے ہیں۔
قرآن میں بالکل واضح ہے کہ جو مردیا عورت فحاشی کا ارتکاب کرے، یہ جبری نہیں بلکہ برضا ورغبت کی بات ہے۔ جہاں تک جبر کی بات ہے تو اللہ نے واضح کردیا ہے کہ جو لونڈی زبردستی سے بدکاری پر مجبور کی جائے تو اس پر اسکی پکڑ نہ ہوگی بلکہ اگر کلمۂ کفر پرکسی کو مجبور کیا جائے تو بھی اللہ نے اس کو مستثنیٰ قرار دیا ۔ البتہ اللہ تعالیٰ نے خواتین کو زبردستی سے تنگ کرنے والوں کو مدینہ سے قریب کے دور میں نکالنے کی خبر دیتے ہوئے فرمایا کہ پہلے بھی ایسے لوگ ہوا کرتے تھے، فاینما ثقفوا فقتلوا تقتیلاً ’’ پھر جہاں بھی پائے گئے،تو وہ پھر قتل کئے گئے‘‘۔خاتون نے رسول اللہﷺ کو شکایت کردی کہ ایک شخص نے زبردستی سے اس کی عزت لوٹی ہے،نبیﷺ نے اس شخص کو پکڑ لانے اور سنگسار کرنے کا حکم دیا۔ وائل ابن حجرؓ کی یہ روایت ابوداؤد کے حوالہ سے مشہور کتاب ’’موت کا منظر‘‘ میں زنا بالجبر کی سزا کے عنوان سے ہے۔بعض روایتوں میںیہ اضافہ ہے کہ ایک دوسرا شخص کھڑا ہوا کہ’’ اس نے نہیں میں نے یہ کام کیا ہے تو نبی ﷺ نے پہلے کو چھوڑ کر اس کو سزا کا حکم دیا۔ نبی کریم ﷺ کی سیرت اور قرآن سے یہ واضح ہے کہ زنا بالجبر کی سزا 100 کوڑے نہیں بلکہ قتل ہے اور یہ کہ جج یا قاضی کوچار گواہوں کی بجائے دل کا اطمینان ہونا چاہیے کہ یہ جرم ہوا ہے۔ کوئی بھی کسی عورت سے زبردستی جنسی زیادتی کی اس سزا کو فطرت کے منافی نہ قرار دیگا جو قرآن وسنت میں موجود ہے۔ علماء ومفتیان ایک طرف غیرت کے نام پر عورت کے قتل کو جائز سمجھ رہے ہیں اور معاشرے میں اس کو سپورٹ کرتے ہیں تو دوسری طرف زبردستی سے جنسی تشدد کیلئے شرعی حدود اور چار گواہوں کو لازم قرار دیتے ہیں جو قرآن وسنت کے بالکل سراسر منافی ہے۔
مفتی محمد تقی عثمانی نے پرویزمشرف کے دور میں زنا بالجبر کیلئے اسی حدیث کا حوالہ دیا جس میں ایک عورت کی ہی گواہی قبول کی گئی۔ سید عتیق گیلانی کی حق بات قبول کی جاتی توآج جنرل راحیل کو اس قدر مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑتا بلکہ دنیا بھر میں مسلمان سکون، عزت اور ایک فعال کردار کی زندگی گزارتے۔ گیلانی صاحب نے مفتی عثمانی کو حدیث کے کھلے مفہوم سے انحراف پر مرغا بننے کا مشورہ دیا تھا۔ جماعتِ اسلامی اپنی منافقانہ کردار کی وجہ سے پسِ منظر میں جارہی ہے۔ ڈاکٹر فرید پراچہ جماعتِ اسلامی کے اہم رہنما ہیں، وہ میڈیا پر قرآن کی اس آیت کو رسول اللہ ﷺ کی اذیت سے جوڑ رہے تھے جس میں خواتین کو تنگ کرنے کے حوالہ سے قتل کی وضاحت ہے۔حالانکہ نبیﷺ کی اذیت کا ذکر اس سے پہلے والے رکوع میں ہے، جس میں قتل کا کوئی حکم نہیں ہے، لعنت کا مستحق تو جھوٹے کو بھی قرار دیا گیا ہے۔ حضرت عائشہؓ پر بہتان سے بڑھ کر نبیﷺ کو کیا اذیت ہوسکتی تھی؟ مگر بہتان لگانے والے صحابہؓ حضرت حسانؓ، حضرت مسطح ؓ اور حضرت حمناؓ وغیرہ میں سے کسی کو قتل نہ کیا گیا بلکہ جب حضرت ابوبکرؓ نے قسم کھائی کہ آئندہ اس اذیت کی وجہ سے اپنے عزیز مسطح کی مالی اعانت کا احسان نہ کروں گا تو اللہ تعالیٰ نے سورۂ نور میں ایسا کرنا مؤمنوں کی شان کے منافی قرار دیتے ہوئے روکا اور حکم دیا کہ احسانات کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔
البتہ اللہ تعالیٰ نے سورۂ نور میں زناکار مرد وعورت کیلئے شادی شدہ یاغیر شادی شدہ کی قید کے بغیر 100کوڑے سزا کا حکم دیا ، جس پردل میں رحم کھانے سے روکا گیا اور مؤمنوں کے ایک گروہ کو گواہ بنانے کا حکم بھی دیا ہے۔ اسکے برعکس توراۃ میں شادی شدہ بوڑھے مردو عورت کو زنا پر سنگسار کرنے کا ذکر ہے۔ علامہ مناظر احسن گیلانی ؒ نے قرآن کے مقابلہ میں توراۃ کے تحریف شدہ حکم کو مسترد کردیا ہے اور ان کی کتاب ’’تدوین القرآن‘‘ پر بنوری ٹاؤن کراچی کے عالم نے حاشیہ لکھ دیا ہے جوبازار میں دستیاب ہے۔ توراۃ کا حکم لفظی اور معنوی اعتبار سے بہت ناقص اور ناکارہ ہے۔ اگر جوان شادی شدہ بھی زنا کریں تو اس کی زد میں نہیں آتے اور بوڑھے شادی شدہ نہ ہوں تب بھی زد میں آتے ہیں،جو بوڑھے نکاح کے قابل نہیں رہتے تو زنا کہاں سے کریں گے؟۔ صحیح بخاری میں ایک صحابیؓ سے پوچھا گیا کہ ’’سورۂ نور کی آیات کے بعد کسی زناکار کو سنگسار کیا گیا؟۔ تو جواب دیا کہ میرے علم میں نہیں کہ اسکے بعد کسی کو بھی سنگسار کیا گیا ہو‘‘۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں شادی شدہ لونڈی کیلئے آدھی سزا کا حکم دیا ہے تو سنگسار ی میں آدھی سزا نہیں ہوسکتی۔ البتہ 100 کی جگہ 50 کوڑے ہیں، امہات المؤمنین ازواج مطہراتؓ کو مخاطب کرکے دوہری سزا سے قرآن میں ڈرایا گیا ہے تو 100کا دگنا200ہیں، سنگساری میں ڈبل سزا کا تصور نہیں ہوسکتا۔
یہود کے ہاں شادی شدہ کیلئے سنگساری اور غیرشادی شدہ کیلئے 100کوڑے اور ایک سال جلاوطنی کی سزا تھی۔ قرآن میں قتل اور جلاوطنی کی سزا کا سورۂ نور میں کوئی تذکرہ نہیں بلکہ بہت تاکید کیساتھ صرف 100کوڑے کی سزا سے یہود کے ہاں رائج قتل اور جلاوطنی کی سزاؤں کی تردید ہے۔ اللہ تعالیٰ نے لونڈی کو آدھی سزا کے پسِ منظر میں ہی یہ وضاحت بھی قرآن میں کردی ہے کہ ہم نے پہلے والوں کو قتل نفس اور جلاوطنی کی کوئی سزا نہیں دی تھی۔یعنی یہ ان کی طرف سے گھڑی ہوئی سزائیں تھیں۔ اللہ تعالیٰ نے نبیﷺ سے فرمایا کہ’’ اگر یہ اہل کتاب اپنی بات کا فیصلہ کرانے کیلئے آپکے پاس آجائیں اور آپ انکے درمیان فیصلہ کرنے سے انکار کردیں تو یہ آپکو نقصان نہیں پہنچا سکتے ہیں‘‘۔ پھر فرمایاکہ ’’ انہوں نے اپنی کتاب میں تحریف کی ہے اور آپکے پاس جو حکم ہے وہ محفوظ ہے۔ ان کو فیصلہ کرکے دینا ہو تو ان کی کتاب سے نہیں اپنی کتاب کے مطابق فیصلہ کرو۔ اگر ان کو انکی کتاب سے فیصلہ کرکے دیا ،تب یہ آپ کو اپنی کتاب سے بھی فتنہ میں ڈال دیں گے‘‘۔ اور پھر اسی تناظر میں اللہ نے فرمایا کہ ’’ اے ایمان والو! یہود ونصاریٰ کو اپنے اولیاء مت بناؤ، جو انکو ولی بنائے تو وہ انہی میں سے ہے‘‘۔ ولی سے مراد عام دوستی نہیں بلکہ مذہبی معاملہ وحدود میں ان کو اختیار سپرد کرنا مراد ہے۔ جیسے حدیث میں ہے کہ ’’جس عورت نے اپنے ولی کی اجازت کے بغیر نکا ح کیا تو اس کا نکاح باطل ہے باطل ہے باطل ہے‘‘۔ علماء ومفتیان ومذہبی بہروپیوں نے مشہور کیا کہ’’ یہود ونصاریٰ سے دوستی قرآن میں منع ہے‘‘۔ پاکستان کی فوج ، حکومت، ریاست اور سعودیہ سے بڑھ کر امریکہ کے دوست بلکہ چاکری کرنے والے کون ہوسکتے ہیں؟۔ مگر مذہبی بہروپیوں نے کبھی بھی یہ فتویٰ نہیں لگایا ہے کہ یہ ان کے دوست ہیں اور انہی میں سے ہیں۔ بلکہ روس کیخلاف جہاد کے نام پر استعمال ہونے والے امریکیوں کو اہل کتاب کہتے تھے اور روس کے بارے میں کہتے تھے کہ وہ ملحد اور ماں ، بہن ، بیٹی کو نہیں پہچانتے ہیں، حالانکہ چین بھی روس ہی کا نظریہ رکھتا تھا لیکن وہ پھر امریکہ سے بھی زیادہ اچھا دوست تھا۔
جب یہود ونصاریٰ کی پاکدامن خواتین سے قرآن نے شادی کی اجازت دی ہے تو دوستی کی کیوں نہیں؟۔ کیا بیوی سے بڑھ کر دوستی کا کوئی تصور ہوسکتا ہے؟۔ جس بات سے قرآن نے منع کیا تھا کہ ان کو ولی مت بناؤ، اس کی وجہ تو صاف ظاہر تھی کہ انہوں نے اللہ کے احکام کو بدل دیا تھا، اگر ایک مؤمن اپنی بیوی یا کسی دوسرے کو سنگسار کرنا چاہتا تو اللہ کے قرآن میں اسکی اجازت نہ تھی اور توراۃ میں یہ تحریف شدہ حکم موجود تھا۔اللہ نے ان سے فیصلہ کروانے کیلئے یہودونصاریٰ کو ولی اور حاکم بنانے سے منع کردیا۔ اب تو یہودونصاریٰ کو ولی بنانے سے منع کرنے کی ضرورت ہی باقی نہ رہی ، اسلئے کہ مسلمانوں نے انہی کے نقشِ قدم پر چل کر قرآن کے حکم میں توراۃ کے ذریعہ مذہبی نصاب میں تبدیلی کردی ہے۔ مذہبی طبقات کی حکومت قائم ہوگئی تو سنگسار کرنے پر ہی عمل ہوگا۔
حالانکہ اللہ تعالیٰ نے سورۂ طلاق میں بیوی کو کھلی ہوئی فحاشی کے ارتکاب پر قتل کرنے کا حکم نہ دیا بلکہ گھر سے نکالنے اور اس کو نکلنے کی اجازت دی، اس کے خلاف گواہی دینے پر لعان کا حکم دیاتھا جس پر نبیﷺکے دور میں ایک مرتبہ عمل بھی ہوا۔ انصار کے سردار حضرت سعد بن عبادہؓ کا کھل اس آیت کے خلاف عمل کرنے کے اعلان کا بھی بخاری شریف میں ذکر ہے۔ مذہبی طبقہ کو شرم بھی نہیں آتی ہے کہ کھل کر اللہ کے حکموں سے انحراف کو عوام کے سامنے بیان کرنے سے ڈرتا ہے۔ غیرت کے نام پر قتل کی حمایت قرآن کا حکم نہیں بلکہ جاہلانہ غیرت کا نتیجہ ہے۔ مذہبی طبقہ نے پرائے گو پر پاد مارنے کے کارنامے ہمیشہ انجام دئیے ہیں۔ غیرت کے نام پر قتل کی اجازت ہو تو پھر مدارس اور مساجد میں بچوں کیساتھ جبری جنسی زیادتی پر قتل کا فتویٰ دیا جائے۔ مفتی محمدتقی عثمانی کے دوست شیخ الحدیث مفتی نذیر احمد جامعہ امدادالعلوم فیصل آباد کیخلاف کئی طلبہ نے روتے ہوئے جبری جنسی تشدد کا نشانہ بننے کا مسجد میں اعلان کیا۔ علماء وفقہاء نے یہ بکواس لکھ دی ہے کہ لواطت کی سزا کا ذکر قرآن وسنت میں نہیں، اسلئے اس پر آگ میں جلاکر مارنے یا دیوار گرانے کے ذریعہ سزا پر اختلاف ہے۔ حالانکہ قرآن میں اذیت دینے کا ذکر ہے، البتہ زبردستی سے زیادتی کی سزا تو کسی خاتون کے مقابلہ میں بچے یا مرد کیلئے بھی قتل ہی ہونی چاہیے۔ علماء ومفتیان نے اسلام کو اپنے گھر کی کھیتی سمجھ کر کھانے یا اجاڑنے کو اپنا حق سمجھ رکھا ہے،جس کی جتنی مذمت کی جائے بہت کم ہے۔
اللہ تعالیٰ نے وضاحت کردی ہے کہ طلاق کے بعد عدت میں بھی شوہر کو مشروط رجوع کا حق حاصل ہے، صلح کی شرط پر ہی رجوع ہوسکتا ہے۔ اسکے بعد کوئی کم عقل انسان بھی یہ تصور نہیں کرسکتا کہ ’’عدت کی تکمیل پر شوہر کو غیرمشروط رجوع کا حق دے‘‘۔ جہاں ایک طرف رجوع کیلئے صلح کی شرط واضح کرنے کے بعد کہاگیا ہے کہ عدت کی تکمیل پرشوہر معروف طریقہ پر رجوع کرے یا اس کومعروف طریقہ سے چھوڑدے۔ علماء ومفتیان عقل کے اندھوں بلکہ دل کے اندھوں نے کہا ہے کہ شوہر کو مطلق رجوع کا حق حاصل ہے لیکن عدت میں باہمی رضامندی سے بھی یہ مطلق رجوع کا حق ان کو اس وقت نظر نہیں آتا جب حلالہ کروانے کی بات آرہی ہو۔ لوگوں کو حقائق کا پتہ چلے تو یہ نہیں کہ دوسرے لوگ بلکہ اپنے عقیدتمند ہی قرآنی آیات کو جھٹلانے والوں سے حساب لیں گے۔
ایک عرصہ سے ہم نے طلاق کے مسئلہ پر حقائق عوام اور علماء کرام کے سامنے رکھے، بہتوں کی سمجھ میں بات بھی آئی لیکن محض ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کررہے ہیں، جو بے وقوف ،کم علم ، جاہل اور بے خبر ہیں ان کا کوئی قصور بھی نہیں ہے لیکن لگتا یہ ہے کہ بڑے بڑوں کا یومِ حساب قریب ہے، ان کو بہت ڈھیل مل چکی ہے اور درجہ بدرجہ استدراج کا عمل ان کو گرفت سے بچانے کیلئے نہیں ، اللہ کو اپنی مخلوق سے بہت محبت ہے، کافر، مشرک، ہٹ دھرم اور سب ہی لوگ اللہ کی مخلوق ہیں، ایک طبقہ کواتمامِ حجت کے بعد بھی اچھی خاصی ڈھیل دینا اللہ کی ہمیشہ سنت رہی ہے۔ اگر وہ وقت پر حق کا ساتھ دے کر خود کو بچالیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ مغفرت اور بہت رحم کرنے والا ہے۔مگر دین کے نام پر لوگوں کے گھروں کو تباہ کرنے، بلاجواز حلالہ کی لعنت پر مجبور کرنا اور قرآن وسنت کے مقابلہ میں ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرنا بہت سنگین جرم ہے، ایسے لوگوں کے چہروں سے نقاب ہٹانا ضروری ہے اور یہ ہماری مجبوری ہے، اپنی دنیا اور آخرت کو تباہ کرکے جینے سے مرجانا مہنگا سودا نہیں ہے۔
1: یہ بات ذہن نشیں بلکہ دل نشین رہے کہ اللہ تعالیٰ نے ازواجی تعلق قائم ہونے کے بعد طلاق کیلئے عدت کا لازمی تصور رکھا ہے۔ عدت کا یہ حکم صرف صلح ورجوع کی گنجائش کیلئے ہی ہے جس کی اللہ نے بار بار قرآن کی مختلف سورتوں کی بہت سی آیات میں کھل کر وضاحت فرمائی ہے۔ شوہر اور بیوی دونوں کے ایک دوسرے پر برابر حقوق کی وضاحت ہے البتہ مردوں کو ان پر ایک درجہ ہے۔ یہ درجہ بالکل واضح ہے اسلئے کہ شوہر طلاق دیتا ہے اور بیوی عدت گزارتی ہے، اس سے بڑھ کر اور کیا درجہ ہوسکتا ہے؟۔ شوہر کو صلح کی شرط پر ہی رجوع کا حق دیا گیا ہے، بیوی راضی نہ ہو تو شوہر اس کو عدت میں بھی رجوع پر مجبور نہیں کرسکتا ہے۔ عدت میں رجوع کے حق کی وضاحت اسلئے ہوئی ہے کہ عدت کے بعد عورت دوسری جگہ بھی شادی کرسکتی ہے لیکن باہمی رضامندی سے عدت کے بعد بھی رجوع اور ازدواجی تعلق کو معروف طریقہ سے قائم رکھنے کی اجازت اللہ نے واضح کردی ہے بلکہ رکاوٹ ڈالنے سے منع کیا گیا ہے اسی میں معاشرے کیلئے تزکیہ اور پاکی کا ماحول ہے۔یہ وضاحتیں قرآن کی سورۂ بقرہ اور سورۂ طلاق میں تفصیل سے دیکھی جاسکتی ہیں۔
2: طلاق مرد کا حق ہے اور خلع عورت کا حق ہے۔ طلاق اور خلع دونوں میں زبردست مغالطہ مذہبی طبقات نے کھایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے سورۂ بقرہ میں صرف طلاق ہی کا ذکر کیا ہے مگر افسوس کہ مغالطہ سے وہاں خلع مراد لیا گیا۔ جس کی وجہ سے قرآن کی واضح آیات کے مفہوم کو توڑ مروڑ کر ایسا پیش کیا گیا ہے، جس کا سیاق وسباق سے معنوی اور لفظی اعتبار سے کوئی تعلق بن ہی نہیں سکتا ہے۔
سورہ بقرہ کی آیت نمبر229الطلاق مرتان فامساک بمعروف اوتسریح باحسان ، ولایحل لکم ان تأخذوا ممااتیتموھن شئی الا ان یخافا الا یقیما حدود اللہ فان خفتم الا یقیما حدوداللہ شئی فلا جناح علیھما فیمافتدت بہ تلک حدود اللہ فل تعتدوھا ومن یتعد حدوداللہ فأولئک ھم الظٰلمون
(طلاق دو مرتبہ ہے ، پھر معروف طریقہ سے روکنا یا احسان کیساتھ رخصت کرنا ہے)۔ اس آیت کا یہ حصہ اس سے قبل آیت نمبر228کی ہی تفسیر ہے، جس میں عدت کے تین مرحلوں کی وضاحت ہے۔ اللہ نے اس میں فرمایا کہ حمل کی صورت نہ ہو تو عدت کے تین مراحل ہیں، حمل کی صورت میں عدت حمل ہوتی ہے، حمل کا تین مراحل سے تعلق نہیں ۔ عدت کا تعلق حمل سے ہو یا طہر وحیض کے تین مراحل سے بہرحال اللہ تعالیٰ نے اس میں رجوع کو صلح کی شرط پر شوہر ہی کا حق قرار دیا ہے۔ بخاری کی احادیث میں رسول اللہ ﷺ کی طرف سے وضاحت ہے کہ تین مرتبہ طلاق کا تعلق طہرو حیض کی عدت میں طلاق کے عمل سے ہی ہے۔طلاق کے الفاظ اور اس میں اختلاف کا گورکھ دھندہ قرآن وسنت نہیں بعد کے ادوار کی پیداوار ہے جس میں اختلافات کے انبار ہیں۔
اگر شوہر نے عدت کے تین مراحل میں رجوع کا فیصلہ کرلیا تو مسئلہ نہیں اوراگر طلاق کا فیصلہ کیا تو پھر اس صورت میں آیت کے دوسرے حصہ میں اس کی مکمل تفصیل ہے جس کا خلع سے کوئی تعلق نہیں ۔ اللہ نے فرمایا کہ ’’ اور تمہارے لئے حلال نہیں کہ جو کچھ بھی ان کو دیا ہے، اس میں سے کچھ بھی واپس لو مگر یہ دونوں کو خوف ہو کہ اگر وہ چیز واپس نہ کی گئی تو اللہ کی حدود پر قائم نہ رہیں گے اوراگر تمہیں( اے فیصلہ کرنے والو!) یہ خوف ہو کہ وہ دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہ رہیں گے تو پھر دونوں پر کوئی حرج نہیں جو عورت کی طرف سے وہ چیز فدیہ کی جائے، یہ اللہ کی حدود ہیں،ان سے تجاوز مت کرو، جو اس سے تجاوز کرے تو وہی لوگ ظالم ہیں‘‘۔ آیت کا یہ دوسرا حصہ مقدمہ ہے اس طلاق کی صورت کیلئے جس کا ذکر اور وضاحت آیت نمبر230میں فوراً ہے کہ فان طلقہا فلاتحل لہ من بعد حتی تنکح زوجا غیرہ ’’ اگر پھر اس کو طلاق دی تو اس کیلئے اس کے بعد حلال نہیں ، یہاں تک کہ کسی دوسرے سے نکاح کرلے۔۔۔‘‘۔ شوہرایسا ظالم ہوتا ہے کہ جب ایسی طلاق ہوجائے جس میں آئندہ ملنے کی کوئی راہ نہ چھوڑی جائے تب شوہر عورت کو مرضی سے دوسرے شوہر کا حق نہیں دیتا، سعد بن عبادہؓ تو انصار کے سردار تھے،جو طلاق کے بعد بھی بیوی کو شادی نہ ہونے دیتے تھے، برطانیہ کے شہزادہ چارلس نے لیڈی ڈیانا کو قتل کروایا، جبکہ ریحام خان نے عمران خان سے طلاق کے بعد برملا کہا کہ’’ پٹھان کو جان پر کھیلناآتاہے ،پاکستان آئی ہوں‘‘۔ عمران خان نیازی ضرورہیں مگر روایتی غیرتمند نہیں، اگر ریحام کسی مخالف سے شادی کرنا چاہتی اوربنی گالہ کے محل میں عمران خان نے ایک کمرہ دیا ہوتا اور اگر عمران خان کہتا کہ میں کنگلا ہوں تو طلاق کے حتمی فیصلہ پر وہ کمرہ ریحام کی طرف سے فدیہ کرنے پر دونوں اور سب کا اتفاق ضرور ہوجاتااسلئے کہ آئندہ ملنے جلنے اور ساتھ رہنے پر دونوں اللہ کی حدود پر قائم نہ رہنے سے ڈرتے۔
3:اللہ نے سورہ النساء میں خلع کا ذکر فرمایا : لاترثوا النساء کرھا فلا تعضلوھن۔۔۔ ’’اور عورتوں کے زبردستی سے مالک مت بن بیٹھو اوران کو مت روکو(جانے سے) تاکہ بعض وہ چیزیں ان سے واپس لے لو جو تم نے ان کودی ہیں مگر یہ وہ کھلی ہوئی فحاشی کی مرتکب ہوں۔۔۔‘‘۔ اس آیت میں علماء ومفتیان جس فریب ودجل سے کام لیا ہے، اللہ کی پناہ۔النساء سے مرادیہاں اپنی بیویاں ہی ہیں، اللہ تعالیٰ نے بار بار النساء سے آیات میں بیویوں کا ذکر کیاہے، دوسری مراد ہوتی تو پھر کیونکر کہاجاتا کہ اسلئے ان کو مت روکے رکھو کہ جوتم نے ان کو دیا ہے، اس میں سے بعض واپس لو مگر اس صورت میں واپس لے سکتے ہو جب کھلی ہوئی فحاشی میں مبتلا ہوں۔خلع کے مسائل اور احادیث کو اس آیت کے ضمن میں لکھا جاتا تو قرآنی وضاحت سے معاشرتی مسئلے حل ہوتے۔
پاکستان واحد وہ نظریاتی ، اسلامی اور جمہوری ملک ہے جہاں مسلک، قرآن کی درست تعبیر اور فکر کی مکمل آزادی ہے لیکن افسوس کہ اسکا فائدہ نہیں اٹھایاگیابلکہ عوام کو دام فریب میں الجھایاگیا اور اسلام کے نام پر ریاست اور معاشرے کو دھوکہ دیاگیا، اس میں سب سے زیادہ قصور ہٹ دھرم علماء ومفتیان کا ہے۔جنرل راحیل شریف نے عوامی سطح پر اگر علماء حق کو ٹی وی اسکرین پر موقع دیا تو عوام کا ٹھاٹھے مارتا ہوا سمندر تمام سیاسی قیادتوں اور مذہبی بہروپیوں کو بہا لے جائیگا۔ پاکستان اور اُمت کی قسمت جاگے گی، سیاسی اشرافیہ سے نجات کے دن بہت ہی قریب لگتے ہیں۔ اجمل ملک