قرآن و حدیث کو متصادم قرار دیکر علماء نے حلالہ اور کورٹ میرج کا راستہ ہموار کیا. عتیق گیلانی

707
0

quran-o-hadees-ko-mutasadim-qarar-de-kr-ulama-ne-halalah-aur-court-marriage-ka-rasta-hamwar-kia-Ateeq-Gilani

عتیق گیلانی نے اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کورٹ میرج و خفیہ نکاح سے شادی دوخاندانوں میں دوستی کے بجائے دشمنی میں بدل جاتی ہے۔ اسکے پیچھے مدارس کا غلط تعلیمی نصاب کارفرماہے۔ قرآن و حدیث میں کوئی ٹکراؤ نہیں۔ حدیث قرآن کیمطابق ہے، حدیث کوقرآن کیخلاف نا قابلِ عمل قرار دیکر سازش کی بنیاد رکھ دی گئی ہے۔ قرآن کی آیت کا واضح مقصد حلالہ نہیں بلکہ جب شوہر عورت کو بسانا نہیں چاہتا ہوتووہ دوسرے شوہر سے نکاح کرنے پر بھی پابندی لگاتاہے۔ اللہ نے اس کو اس باطل طرزِ عمل سے روکاہے ۔ حدیث میں نکاح کیلئے دوعادل گواہ کی بات ہے، فقہ میں ہے کہ دوفاسق گواہ بھی ہیں۔یہ بات انسانی فطرت کا حصہ ہے کہ بھاگی ہوئی لڑکی کے نکاح پر گواہی کیلئے کوئی شریف آدمی تیار نہ ہونگے۔ مولوی نے آخری حدتک راہ ہموارکی ،نبی ﷺ نے فرمایا: ’’دف بجاکر نکاح کیلئے اعلان کرو‘‘۔ فقہ میں ہے کہ ’’دو فاسق گواہوں کی خفیہ گواہی اعلان ہے‘‘اس مجرمانہ فعل کی آخری حد تک احادیث کیخلاف نصاب کے ذریعہ پشت پناہی کا مرتکب مولوی ہے۔ جس لڑکی کو پتہ ہو کہ اسکا نکاح باطل ہے توکبھی اتنا بڑا قدم نہیں اٹھائے گی۔ حرامکاری اور اولاد الزنا کیلئے بغاوت کا ارتکاب کبھی نہیں ہوسکتا۔ نبی ﷺ نے فرمایاکہ باپ بیٹی کی مرضی کے بغیر اسکا نکاح کردے تو اسکا نکاح بھی نہیں ہوا۔ عوام کو علماء نے شریعت سے آگاہ نہیں کیا ورنہ کوئی باپ کسی قیمت پر بھی اپنی بیٹی کی شادی اس کی مرضی کے بغیر نہ کرتا۔ جب باپ بیٹی کی مرضی کے بغیر اسکا نکاح نہ کرتا تو کوئی لڑکی بھاگ کرنکاح نہ کرتی اور نہ چھپ کر نکاح کرتی۔کوئی حق مہر کی لالچ میں لڑکی کا نکاح اپنی مرضی سے کراتا ہے، کوئی خاندانی یا دنیاوی وجاہت کا خیال رکھ کرلڑکی کی شادی اسکی چاہت کے باجود نہیں کرنے دیتا۔ایک باپ کو پتہ ہو کہ اس کی لڑکی کا نکاح اس طرح نہ ہوگا تو وہ کسی قیمت اور کسی خاندانی وجاہت اور دنیاداری کی لالچ پر اپنی لڑکی کی مرضی کے بغیر نکاح نہیں کرائے گا۔احادیث قرآن کے بالکل مطابق ہیں۔ سورۂ نور کی آیت میں ہے کہ اپنی طلاق شدہ وبیوہ خواتین کا نکاح کراؤ،اور اپنے نیک غلام ولونڈیوں کا وانکحوالایامیٰ منکم والصالحین من عبادکم و امائکم اور پھر اگلی آیات میں کنواری لڑکیوں کے نکاح کا ذکر ہے : ولاتکرھوا فتےٰتکم علی البغاء ان اردن تحصناً لتبتغوا عرض الحیاۃ الدنیا ومن یکرھھن فان اللہ من بعد اکراھھن لغفور رحیم ’’ اوراپنی لڑکیوں کو مجبور نہ کرو، بغاوت(بدکاری) پر جب وہ شادی کرنا چاہتے ہوں اس لئے تمام اپنی دنیاوی شان وشوکت سے تلاش کرو،اور اگر ان کو مجبور کیا گیا تواللہ ان کی مجبوری کے بعد غفور رحیم ہے‘‘۔ (النور)
اگر ہم قرآن و احادیث کو آپس میں ٹکرانے کے بجائے غور کریں گے تو معاشرے کی تمام خربیاں دور ہونگی۔ آئے روز پاکستان میں تماشا لگا رہتا ہے کہ لڑکی نے بھاگ کر شادی کی اور اس کی وجہ سے فتنہ فساد، قتل وغارت اور خواتین کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ اگر ہم نے قرآن وسنت کے ذریعے مثالی معاشرہ قائم کیا تو دنیا میں اسلام اور مسلمانوں کا بول بالا ہوگا۔

quran-o-hadees-ko-mutasadim-qarar-de-kr-ulama-ne-halalah-aur-court-marriage-ka-rasta-hamwar-kia-Ateeq-Gilani-image

عتیق گیلانی نے مدلل انداز میں علماء کرام اور عوام الناس سے مثبت انداز کی بنیاد پر انسانیت کی خدمت، مذہبی منافرت کے خاتمے پر زور دیا ہے اور آخر میں سوالات کے جوابات بھی دیے ہیں۔ ضرب حق ڈاٹ کام نیٹ ورک کے بعد ضرب حق ڈاٹ ٹی وی بھی میدان میں آگیاہے جس میں سوشل میڈیا سے بیانات کو دیکھ سکتے ہیں اور پسند آئیں تو پھیلا بھی سکتے ہیں اور مفید مشورے بھی دینے پر ہمیں بہت خوشی ہوگی۔ ازطرف انتظامیہ نوشتۂ دیوار