قرآن وسنت کے دلائل سے علماء ومفتیان اور عوام برابراستفادہ کرسکتے ہیں۔

646
0

june2016(talaqBook)

1: تین مرتبہ طلاق کا تعلق صرف طہرو حیض کے مراحل سے ہے،حمل کی صورت پر اس کااطلاق نہیں ہوتا، اسلئے کہ حمل میں نہ تین مراحل ہوتے ہیں اور نہ تین مرتبہ طلاق کی عملی صورت ممکن ہوتی ہے ،یہ قرآن و احادیث سے بالکل روزِ روشن کی طرح واضح ہے۔
2:طلاق سے رجوع کا تعلق عدت سے ہے، عدت کے دوران رجوع صلح کی شرط پر ہے لیکن عورت انتظار کی پابند ہے، عدت کی تکمیل کے بعدبھی باہمی رضاسے رجوع کا دروازہ کھلا ہے۔ سورۂ طلاق ، سورۂ بقرہ اور دیگر آیات اور حدیث میں وضاحت ہے ۔ غلط فہمی کی بنیاد پر تین طلاق کی ملکیت کا سوفیصد قرآن وسنت کے منافی باطل نظریہ گھڑ لیا گیا۔
3:طلاق علیحدگی کانام اور طریقۂ کار ہے،واقع ہونے، گرنے کا معاملہ من گھڑت اور دورِ جاہلیت کی یادگار ہے۔فقہی مسالک کا لبِ باب طلاق کے واقع ہونے کے حوالہ سے انتہائی غلط ہے، حضرت عمرفاروق اعظمؒ اورحضرت ابوحنیفہ امام اعظمؒ نے قرآن وسنت کے مطابق مؤقف پیش کیا لیکن اس کو غلط رنگ دیا گیا، حنفی مسلک اقرب الی الحق ہے۔
4: اہل حق کے سلسلہ نے جو قواعد وضوابط بنائے ، مدارس نے اسے جاری رکھا ، امام ابوحنیفہؒ نے قرآن کے مقابلہ میں صحیح احادیث کو بھی قابلِ قبول نہ سمجھا، یہ حق تک پہنچنے کا درست وسیلہ تھا، امام ابوحنیفہؒ نے کہا :’’ حدیث صحیح ہو تو میری رائے غلط ہے‘‘۔ احادیث کی حفاظت بڑا کارنامہ ہے،اختلاف رحمت مگر ضد وہٹ دھرمی کفر اوربہت بڑا جرم ہے۔