قرآن و سنت کی روشنی اور فقہ حنفی سے حلالہ کے بغیر فتوؤں کیلئے رجوع کریں

584
0

quran-o-sunnat-ki-roshni-or-fiqah-hanfi-se-halala-ke-bagair-fatwoon-ke-lie-ruju-karen

آپ کے مسائل کا حل’’ قرآن وسنت کی روشنی میں‘‘

قرآن کریم کے سامنے سمندر ہیچ ہے، جو قیامت تک کہکشاؤں کی وسعت کو ایک جملہ میں بیان کرتاہے۔ قرآن میں جگہ جگہ ’’اَیمانکم‘‘ کا ذکر ہے۔ اس سے مراد قسم بھی ہے، عہدوپیمان بھی، وہ ایگریمنٹ بھی ہے جو باقاعدہ معاہدے کرنے کے تحت ہو اور وہ بھی ہے جس میں اخلاقی طور سے ذمہ داری پڑتی ہو۔ کسی بھی لفظ کا درست مفہوم سمجھنے کیلئے ضروری ہے کہ ’’جملے کو سیاق وسباق کے مطابق دیکھا جائے اور اس پر غور فکر وتدبر کے ذریعے فیصلہ کن نتیجے پر پہنچا جائے‘‘۔
مسائل طلاق سے پہلے اللہ نے فرمایا: ولاتجعلوا اللہ عرضۃ لایمانکم ان تبروا وتتقواوتصلحوا بین الناس واللہ سمیع علیمO’’ اور نہ بناؤ اللہ کو اپنے قسموں(عہدوپیمان، حرام کہنا، ایلاء کرنا، تین طلاق، ظہاروغیرہ) کیلئے ڈھال کہ تم نیکی نہ کروگے، تقویٰ اختیار نہ کروگے اور لوگوں کے درمیان مصالحت نہ کروگے۔ اللہ سنتا اور جانتا ہے‘‘۔( البقرہ :آیت 224)۔ افسوس ہے کہ طلاق صریح، کنایہ اور مختلف بدعات کی گمراہی سے قرآن کی واضح خلاف ورزی کی گئی۔ میاں بیوی ملنا چاہتے ہیں اور مسندوں پر بیٹھ کر فتویٰ دیا جاتا ہے کہ اللہ کا یہ حکم ہے کہ تم نہیں مل سکتے ہو۔ قومی اسمبلی، سینٹ یا صوبائی اسمبلیوں میں علماء ومفتیان کو طلب کرکے حقائق کی نشاندہی کی جائے تو اللہ تعالیٰ ہم پر رحم کریگا۔ حلالہ کے نام پر گھروں کی تباہی اور عزتوں کا لوٹنا بند کرنا چاہئے۔ سعودی عرب، ایران ، بھارت، افغانستان اور دنیا بھر سے علماء وکرام کا عظیم اجتماع بلاکر مسائل نو حل کئے جائیں۔
ایک بیٹا زبردستی سے باپ کی زندگی میں ایک بار اپنا حصہ لے اور اگر پھر اس کو دوبارہ بدمعاشی کرنے دیجائے تو یہ زمین میں فساد پھیلانا ہوگا۔ پھر ہر بدمعاش بیٹا دو، دو حصے کی میراث لے گا۔ ایک باپ کی زندگی میں اور دوسرا حصہ اسکے فوت ہونے کے بعد۔ معاشرے کو بدمعاشی نہیں شریعت اور وقت کے حکمرانوں کے قوانین کے ذریعے سے ہی کنٹرول کیا جاسکتاہے۔ نبیﷺ نے صلح حدیبیہ کا معاہدہ کیا تو بھی اس کی خلاف ورزی نہیں کی،حضرت ابوجندلؓ کو دوبارہ کفارِ مکہ کے حوالے کیا۔ اللہ نے فرمایا: ولکل جعلنا موالی مما ترک الوالدٰنِ والاقربون والذین عقدت ایمانکم فاٰ تو ھم نصیبھم ’’ اور ہم نے اس مال کے وارث مقرر کئے ہیں جو والدین اور قریبی رشتہ دار چھوڑ کر جائیں۔ اور جن لوگوں نے تمہارے ساتھ ایگریمنٹ کیا ہو تو ان کو انکا حصہ دو‘‘۔(النساء : 33)۔ جس نے زبردستی باپ سے زندگی میں حصہ لیا وہ دوبارہ حصہ نہیں لے سکتا ہے۔
امریکہ اور سعودی عرب میں ایگریمنٹ اور مسیار ایک معروضی حقیقت ہے تو اس کا حل بھی قرآن میں ہے۔ الا علی ازواجہم او ماملکت ایمانہم ’’ مگر ان کی اپنی بیگمات اور جو ان کی لونڈیاں ہیں یا جن سے ان کا معاہدہ طے پایا ہو‘‘۔ موجودہ دور میں لونڈیوں کی روایت ختم ہوگئی لیکن قرآن اپنی وسعت کے لحاظ سے قیامت تک روز روز کی بنیاد پر کھڑے ہونیوالے مسائل کو حل کرنے کیلئے دعوے میں سچاہے کہ وانزلنا علیک الکتاب تبیان لکل شئی ’’ اور ہم نے (اے نبیﷺ) تجھ پر کتاب اتاری جو ہر چیز کو واضح کرنے والی ہے‘‘۔ (القرآن)اللہ نے پڑوسیوں کا ذکر کرتے ہوئے بھی ملکت ایمانہم کا ذکر کیا ہے ۔ خواتین کیلئے بھی پردہ نہ کرنے کے حوالے سے ذکر کیا ہے۔اگر نکاح و طلاق کے درست مسائل مسلمانوں نے اپنے کرتوت سے ملیامیٹ نہ کئے ہوتے اور اسلام دنیا میں اجنبی نہ بنتا تو قرآن وسنت کے معاشرتی مسائل سے پوری دنیا استفادہ کرتی۔ ایک عورت کسی سے نکاح کرلے تو جو حق مہر مقرر ہوچکا ، اگر ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دی تو مقرر کردہ حق مہر کا آدھا دینا پڑیگا۔ اگر مغرب کے سامنے اسلامی قوانین قرآن وسنت کی روشنی میں رکھے جائیں تو پھر وہ لوگ بھی قرآن وسنت ہی کو مشعلِ راہ بنالیں۔ باقاعدہ نکاح کرنے کے بغیر یہ رویہ کہ بوائے اور گرل فرینڈز پر گزارہ کرلیں اس کی بنیادی وجہ نکاح کے وہ غیرفطری قوانین ہیں جو وہاں کی حکومتوں نے رائج کئے ہیں۔ شوہر کو طلاق اور عورت کو قرآن میں خلع کی اجازت ہے ۔ آیت 19 النساء میں پہلے خلع پھر آیت20،21 النساء میں طلاق کا ذکر ہے۔ جن میں عورت کے حقوق کو تحفظ دینے کی وضاحت ہے۔ شوہر کویہ حق اسلام نے کہیں نہیں دیا ہے کہ10بچے جنواکر ایسے دور میں بیوی کو طلاق دیکر باپ کے گھر بھیجا جائے جب اس بے چاری کا کوئی میکہ ہی نہ رہا ہو۔ ایک بیوی کو چھوڑ کر دوسری سے شادی اور طلاق کی صورت میں جو کچھ دیا ہے ، چاہے خزانے کیوں نہ ہوں اس میں سے کچھ بھی واپس نہیں لے سکتے۔
وہ خاتون جسکا شوہر فوت ہواور اس کو دنیا میں مراعات ملتی ہیں اور نکاح ثانی سے وہ پہلے کا شرفِ زوجیت کھو دیتی ہے اور مراعات بند ہوتے ہیں تو ایگریمنٹ کرسکتی ہے۔ والمحصنٰت من النساء الاماملکت ایمانکم ’’اور شادی شدہ خواتین بھی حلال نہیں مگر جن سے معاہدہ طے ہوجائے‘‘۔ اس میں ایک طرف پہلے دور کی وہ خواتین تھیں جو شادی شدہ ہوکر بھی لونڈی بن جاتی تھی، آج وہ دور ختم ہے لیکن قرآن کا حکم ہمیشہ کیلئے باقی رہتاہے اور قرآن نے خبر دی ہے کہ قیامت کے دن بھی ماں،باپ، بچوں اور بہن بھائی کی طرح بیویوں کا تعلق بھی باقی رہے گا۔مفتیانِ اعظم کی بیگمات15سال بعد بھی مر جاتی ہیں تو ان کی قبروں کے تختی پر ’’زوجہ مفتی اعظم ‘‘ لکھا ہوتاہے۔علماء ومفتیان بتائیں کہ ’’ اجنبی شخص کی زوجیت کی نسبت لگائی جاتی ہے؟‘‘۔ ایک جاہل مفتی طارق مسعود جامعۃ الرشید سوشل میڈیاپر کہتا ہے ’’شوہر اپنی بیوی کو قبر میں نہیں اُتار سکتا، البتہ اگر محرم موجود نہ ہوں تو بالکل اجنبی مردکے بجائے یہ تھوڑا بہت اجنبی اُتار سکتاہے‘‘۔ بالفرض مفتی طارق مسعود کی اَماں کو اسکا اَبا قبر میں نہیں اُتارتااور وہ قبر پر بھی باپ کی زوجہ کی تختی نہیں لگواتابلکہ اماں طارق مسعودلکھ دیتاہے تو قیامت کے دن وہ انسان بن کر اٹھے گا یا جانور ؟۔ یوم یفرالمرء من اخیہ وامہ وابیہ وصاحبتہ وبنیہ ’’ اس دن فرار ہوگا کہ آدمی اپنے بھائی سے، اپنی ماں سے، اپنے باپ سے ، اپنی بیوی سے اور اپنے بچوں سے‘‘۔ پھر اس اجنبی خاتون کی نسبت اس اجنبی شخص کی طرف کیوں کی گئی ہے؟۔
رسول اللہﷺ نے چچی حضرت علیؓ کی والدہ کو دستِ مبارک سے قبر میں اتارا، فرمایا کہ ’’یہ میری ماں ہے بیٹا جیسے پالا ہے‘‘۔ نبیﷺ نے حضرت عائشہؓ سے فرمایا ’’ اگر آپ پہلے فوت ہوئی تو ہاتھ سے غسل دوں گا‘‘۔ حضرت ابوبکرؓ کی میت کو آپؓ کی زوجہ اُم عمیسؓ نے اور حضرت علیؓ نے حضرت فاطمہؓ کی میت کو غسل دیا۔ فتویٰ اور میت کو غسل دینا مولوی نے پیشہ بنالیا تو قرآن وسنت کی تعلیمات کو چھوڑ کر دور کی گمراہی میں پڑگئے۔ عین الھدایہ میں لکھ دیا کہ ’’ میت کے عضوء تناسل کا حکم لکڑی کی طرح ہے،اگر مرد نے دبر یا عورت نے فرج میں ڈالا، توغسل نہیں‘‘۔شوہر اور بیوی ایکدوسرے کا چہرہ نہ دیکھ سکیں اور عضوء تناسل کا حکم لکڑی کا؟۔تف ہے تم پر۔