ڈاکٹر عافیہ کو امریکہ نے مانگا مگر مولانا مسعود اظہر کو نہیں کیوں؟ حقائق کیا ہیں؟

987
0

rabita-alam-e-islami-makkah-dr-aafia-siddiqui-molana-masood-azhar-mufti-jameel-khan-haji-usman-muhammad-binori-shaheed

rabita-alam-e-islami-makkah-dr-aafia-siddiqui-molana-masood-azhar-mufti-jameel-khan-haji-usman-muhammad-binori-shaheed-mulla-mansoor

مولانا مسعود اظہر کوجامعہ بنوری ٹاؤن کی طالب علمی سے جانتا ہوں، مخلص ،باصلاحیت و فاشعاراورتابعدارمگران میں بغاوت ایڈونچر رسک لینے کا شائبہ تک نہ تھا۔وکیل کیس لڑتا ہے اورخطیب فن کا جادو جگاتاہے،مقابلے کی تقریر وں میں مسعوداظہر اوّل انعام جیتا تھا۔
ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو امریکہ نے پاکستان سے لیجاکر 80سال قید کیا۔ ڈاکٹر عافیہ نے رسک لیا ہوگا، تب ہی امریکہ نے سزا دیدی ۔ جبکہ مولانا مسعود اظہر رسک لینے والے نہ تھے اسلئے امریکہ نے طلب کیا نہ کوئی سزا دی، یہ حقائق ہیں جو عوام وخواص نہیں سمجھتے ہونگے۔ مولانا بھاری جسامت، نرم ونازک شخصیت کا مالک ہے ، اچھے خطیب مگر مردِ میدان نہیں۔
مدرسہ میں پڑھتا تھا تو ان کی وفاداری اور تابعداری پر حاسدین کو چمچہ گیری کاگمان تھا ۔ میں اسے اور وہ مجھے قدر کی نگاہ سے دیکھتا۔ ہونا یہ چاہیے تھا کہ میں اس کے راستے پر ایک مجاہد اور وہی میری جگہ ایک محقق ہوتا۔ اتفاق سے دونوں نے بالکل رانگ روٹ اختیار کیا۔ مجھے منزل ملی اور نہ اسے۔ میری تحقیق اگر وہ حسنِ تکلم سے پیش کرتا تو مدارس میں انقلاب آجاتا اور میں جہاد کی راہ پر چلتا تو دنیا کو فتح نہ بھی کرتا مگرجان لڑا دیتا، مدارس میں انقلاب نہ جہاد میں سرخروئی، البتہ تحقیق بغاوت ، ایڈونچر اوررسک بھی ہے، مجاہد کیلئے اطاعت شعاری لازمی ہے۔ سکھ فوجی نے افسر کو رائے دی کہ تہبند اور کرتہ فوجی وردی ہونی چاہیے، سب نے قہقہ لگایا۔ پوچھا سردار جی کیوں؟، پنجابی میں کہا:’’جس نے نوکری کرنی ہو تو پیچھے سے اٹھائے گرنہیں کرنی تو آگے سے اٹھائے‘‘۔ مجاہد کیلئے رعایت اور ڈسپلن کا پابندی ضروری ہے، صلح حدیبیہ اور پرویز مشرف کا امریکہ سے معاہدہ فوجی ڈسپلن کی مثالیں ہیں، حضرت خالد بن ولیدؓ سے نبیﷺ نے برأت ،حضرت ابوبکرؓ نے درگزر کی اورحضرت عمرؓ نے برطرف کیاتھا۔ سیاسی اختلاف کیلئے بدری قیدی پر فدیہ وحدیثِ قرطاس ، مذہبی فتویٰ میں تحقیق اور ایڈونچر کیلئے سورۂ مجادلہ اور سورۂ احزاب کھلے ثبوت ہیں۔
مسعود اظہر کو مکہ میں بزرگ نے حکم دیا کہ بھارت کا دورہ کرلو۔ نامور مجاہد صحافی جس کا جہادی رسالہ میں نام چھپ رہا تھا ، کیسے وہاں رسک لیتا ؟۔ یہ اطاعت شعاری کا قرینہ تھا۔ بڑوں کا ماننا ایڈونچر نہیں تعمیل حکم ہے۔ خانقاہ کے امیر شفیع بلوچؒ نے ادریس بھائی سے کہا: شاہ صاحب کو یثرب پلازہ پہنچادو۔ بائیک پر بیٹھا ،بڑامعجزہ لگاکہ ہانپتے کانپتے مجھے مطلوبہ مقام تک پہنچادیا۔ میں نے پوچھ لیاکہ موٹر سائیکل اچھی چلانی نہیں آتی؟۔اس نے کہا کہ آتی ہی نہیں، پہلی مرتبہ چلائی ۔ میں نے کہا کہ پھر خدا کے بندے! خود بھی مرنا تھا اور مجھے بھی مارنا تھا؟۔ کہنے لگا کہ امیر کا حکم تھا۔ یہ ایڈونچر نہیں کمالِ اطاعت ہے، مولانا مسعود اظہر بھارت حکم سمجھ کر گئے، پھر پکڑے گئے۔ تہاڑ جیل سے تازہ حالات پر ضرب مؤمن میں ہر ہفتہ سوگ بھری تحریر نشر ہوتی تو عجیب لگتا کہ بھارت میں اتنی آزادی کس طرح ہے؟۔
رہا ئی کے بعد اخبار میں بیان آیا کہ ’’انڈیا جیل میں 12سرنگیں کھود یں، میری سائز کی بھی ایک تھی‘‘۔ میں نے لکھا کہ کیا ایک سرنگ تیرے سائز کی کافی نہ تھی؟اور شبہ ظاہر کیا کہ مولانا بے خبری میں امریکہ و بھارت کیلئے استعمال نہ ہو۔ کوئٹہ میں قاضی حسینؒ سے ڈاکٹر عطاء الرحمن نے ا مین اللہ کا کہا کہ یہ اس اخبار کا نمائندہ ہے جس میں وہ آرٹیکل چھپا ۔ قاضی صاحبؒ بڑی گرم جوشی ملے مگرملی یکجہتی کونسل کا امیر شیعہ کا فر یا مسلمان پر سوال برامان گئے۔
مولانامسعود اظہر نے کہا کہ 40رضاکار بن لادن نے ذاتی بادی گارڈ قبول کرلئے۔ جنگ گروپ کا مفتی جمیل خان سرپرست تھا اورمفتی نظام الدین شامزئی نے حامد میرسے کہا کہ ایک جہادی تنظیم واشنگٹن سے براستہ رابطہ عالم اسلامی مکہ سے پیسے لیکر علماء کو خرید تی ہے باز نہ آئی تو اسکا بھانڈہ پھوڑدونگا۔ حامد میر نے لکھا: اگر باز نہ آئی تو بھانڈہ پھوڑ دینا۔
مشرف پر حملہ میں فوجی و جیش والے سزا یافتہ ہیں۔ مشرف مولانا مسعود اظہر کو پاکستان دشمن کہتاہے۔ ملاضعیف سے لیکر ڈاکٹر عافیہ تک لاتعداد کو امریکہ کے حوالہ کیا۔9/11 میں مفتی جمیل کوبرطانیہ نے پکڑ کر امریکہ کو حوالہ کیا مگر امریکہ نے چھوڑدیا ۔ افغانستان پر حملہ ہوا تو پاکستان استعمال ہوگیااور پاکستان پر حملہ ہوا تو بھارت آگے آئیگا۔مولانایوسف لد ھیانویؒ کے نام پر روزنامہ جنگ نے لکھا کہ’’ حضرت عیسیٰ ؑ کے چاچے نہیں تھے مگر پھوپھیاں تھیں‘‘ شور اٹھا تو مولانا لدھیانویؒ نے لکھا کہ’’ میری تحریر نہیں‘‘۔ پاکستانی، بھارتی، بنگلہ دیشی علماء نے مفتی اعظم مفتی ولی حسنؒ کے نام ’’شیعہ کافر‘‘ کے فتوے پر دستخط کئے۔حالانکہ جامعہ کے موجودہ پرنسپل ڈاکٹر عبدالرزاق سکندراس حق میں نہ تھے ، مولانا محمد بنوری شہیدکیا گیا۔ امریکیCIAمنصوبہ براستہ سعودیہ و بھارت پاکستان آیا ۔ حاجی عثمانؒ پر فتویٰ مولانا یوسف لدھیانویؒ نے بتایا کہ مفتی رشید و مفتی جمیل کی سازش تھی مگر حق بولنے کی جرأت نہیں۔ سب راز ٹی وی پر فاش کریں توCIAکا پتہ چلے۔